خطوط

حجاب کے نام!

ماہنامہ حجاب اسلامی کے اس خصوصی نمبر کے موضوع اور مشمولات میں بڑی ندرت ہے۔ یہ ہمارے بدلتے ہوئے معاشرتی حالات میں خاندانوں اور افراد خاندان کی ضرورتوں کے عین مطابق ہیں۔ معاشرے میں لوگوں کو انفرادی اور اجتماعی مسائل ہمیشہ درپیش ہوتے ہیں۔ ان میں الجھنیں اور پیچیدگیاں بھی ہوتی ہیں، جنھیں سلجھانے کی کوششوں میں کامیابیاں اور ناکامیاں ہوتی رہتی ہیں لیکن بدلتے ہوئے معاشرتی حالات میں یہ چیزیں بھی وقت اور ضرورت کے مطابق بدلتی رہتی ہیں۔ ہمارا روایتی سماج جو کئی اعتبار سے بستہ اور پیوستہ ہوا کرتا تھا ہمارے دیکھتے دیکھتے یکسر موہوم ہوگیا، وہ ایک طرح کی شہریت میں بدلتا جارہا ہے۔

اس روایتی سماج کا خاصہ یہ تھا کہ خاندان کو بنیادی حیثیت حاصل تھی یعنی خاندان ہی معاشرے کی بنیادی اینٹ تھا۔ اس میں چھوٹے بڑے سب ایک ان کہے ضابطے کے پابند تھے۔ خاندان کے بزرگ کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوتی تھی۔ اس کا احترام سب پر واجب تھا اور خود اس بزرگ پر سب کی سرپرستی اور سب کی بہی خواہی لازم تھی۔ خاندان کے اندر ذمہ داریوں کی ایک ان کہی تقسیم تھی لیکن حالات کے تغیرات نے اس ڈھانچے کے تاروپود بکھیردیے۔معاشی اور اقتصادی ضرورتوں اور ان ضرورتوں کی تکمیل کے لیے ضروری تگ و دو نے لوگوں کو گاؤں سے قصبات اور شہروں کی طرف اور وہاں سے بڑے شہروں کی طرف بلکہ بیرون ملک تک ہجرتوں پر مجبور کردیا۔ ان ہجرتوں کے نتیجے میں بزرگ پیچھے رہ گئے اور بے سہارا بھی ہوگئے۔ نئی نسلوں کو نہ ان بزرگوں کی ضرورت رہ گئی اور نہ ان سے کوئی لگاؤ رہ گیا۔ لیکن معاشرے میں پیدا ہونے والے مسائل نے تو لوگوں کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ ان میں کوئی کمی آنے کے بجائے وہ بڑھتے ہی گئے۔ ان کی پیچیدگیاں بڑھتی گئیں۔ ان کی گتھیاں الجھتی گئیں۔

ظاہر ہے ہر مسئلہ حل کا طالب ہوتا ہے اور اسے حل کرنے والوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ روایتی سماج میں اس مرض کا معالج بھی اسی جگہ موجود ہوتا تھا، یعنی خاندان کا بزرگ اور سرپرست۔ نئے معاشرتی حالات میں جہاں ضرورتوں کی تکمیل کے لیے بیشمار چیزیں ایجاد کی گئیںاور حکمتیں دریافت کی گئیں، اسی طرح معاشرتی امراض کے لیے علاج معالجے بھی دریافت کیے گئے وہ ہیں ماہرین نفسیات، تحلیل نفسی کے ماہرین اس طرح کے افراد اور ادارے۔ اس نئی طرح کی مشاورت کو نصیحت اور ہدایت کے بجائے کونسلنگ یا کنسلٹیشن کا نام دیا گیا۔ موجودہ دور اسیشلائزیشن یا تخصیصیت کا بھی ہے۔ چنانچہ معاشرتی امراض کے معالجوں نے بھی اپنے فن میں تخصیصیت کو راہ دی۔ لیکن یہ طریقہ علاج مریض اور معالج دونوں سے بڑے صبر و استقلال کا تقاضہ کرتا ہے۔ یوں دیگر علاج معالجوں میں بھی ہم اسی طوالت اور تردد کا مشاہدہ کررہے ہیں جو معالج سے مریض کے روبرو ہونے کے بعد طرح طرح کے ٹیسٹ اور دوائیوں کے استعمال اور ان کے مفید اور منفی اثرات اور کیفیات ما بعد کی ضرورت میں نظر آتے ہیں۔ بہرحال معاشرتی علائق کے اس جنجال سے نجات کی اس نئی راہ سے لوگ بالعموم واقف نہیں ہیں۔ ہسپتالوں کی راہداری سے گزرتے ہوئے کچھ لوگ وہاں تک پہنچتے ہیں، معلوم نہیں اس علاج کے ذریعہ شفایاب ہونے والوں کی شرح کیا ہے۔

ان دنیاوی کارروائیوں اور ان کے اثرات سے قطع نظر اگر ہم اپنے دین کی طرف رجوع کریں تو ہمیں ان معاشرتی امراض کا خواہ وہ انفرادی ہوں، باہمی ہوں یا اجتماعی سب کا علاج موجود ملتا ہے جو روایتی اور نئے معاشروں میں یکساں قابل عمل ہے اور اس کی اثر آفرینی کا مشاہدہ بھی ممکن ہے۔ مصالحت اور مفاہمت کی راہ اختیا رکرنے کی ہدایت قرآن حکیم میں بھی موجود ہے اور نبی اکرم ﷺ کے اسوئہ حسنہ میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ ان کی روشنی میں معاشرتی مسائل کو حل کرنے میں علمائے کرام اور مفتیان عظام سے رجوع کرکے ان کی رہنمائی میں ضروری اقدامات کرنا افضل ہے اور آسان بھی۔ اپنے معاملات کو عدالتوں میں لے جانا زندگی بھر کی مصیبت مول لینے اور زندگی برباد کرنے کے مترادف ہے۔ اس سے بہتر تو کونسلنگ کی راہ ہے۔ اس کا انجام جو بھی ہو لیکن قانونی الجھنوں میں پڑ کر زندگی کو جہنم بنانے سے تو بہترہے۔

حجاب اسلامی کے زیر نظر شمارہ میں کونسلنگ کے طور طریقے اور اس کی افادیت کو اچھی طرح سمجھانے کی کئی مضامین میں کوشش کی گئی ہے۔ ان کے علاوہ کئی مضامین میں خاندانی مسائل اور انھیں حل کرنے کے طور طریقے بیان کیے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں اسلامی راہ عمل کی وضاحت کرنے والے مضامین بھی اس شمارے میں شامل ہیں۔ اس زاویہ سے دیکھا جائے تو اس شمارے کو بیحد مفید کہا جاسکتا ہے۔ قاری کو درپیش مسائل کو حل کرنے میں اس کی رہنمائی خود جریدے کی افادیت اور اس کی مقبولیت میں اضافے کا موجب ہوتی ہے۔

دراصل قارئین اور ناظرین کی رہنمائی صحافت کے اولین فرائض میں سے ہے۔ صحافت نے اب نئے نئے روپ اختیار کرلیے ہیں اور اسے میڈیا کا نام دیا گیا ہے۔ با ایں ہمہ اس کے ان فرائض کے تلازم میں کوئی فرق نہیں آتا۔ حجاب اسلامی نے معاشرتی امور کو اپنے دائرئہ کار کے طور پر اختیار کیا اس کے موجودہ اور سابقہ شماروں کو دیکھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے ایڈیٹر اور ان کے شرکائے کار اس کارِخیر کو نہایت خلوص کے ساتھ بحسن و خوبی انجام دے رہے ہیں۔ اس طرح کی ساری فلاحی اور اصلاحی تحریکوں کو دیکھنے اور سننے کے بعد ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ اب معاملہ پرنٹ میڈیا کی حدوں سے بہت آگے بڑھ چکا ہے اس لیے اگر واقعی عوام تک رسائی حاصل کرنی ہے تو الیکٹرانک میڈیا کا دامن پکڑنا ضروری ہے۔ سوشل میڈیا نام کی جو آندھی چل رہی ہے اس میں اپنے مرغولوں کا بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ مطبوعات کو اپنا چینل بھی چلانا چاہیے اور غالباً چل رہے ہوں گے اس طرح ان کے اصل مقصد کی تکمیل کے ساتھ ہی ان کی تشہیر بھی ہوگی۔

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

تبصرہ کیجیے