BOOST

یہ فتویٰ نہیں سائنس کی تحقیق ہے

دنیا میں انسان کی آمد کا مقصد، انسان کا اپنے خالق ،مخلوق اور کائنات سے رشتہ نیز انسان سے رشتہ اور مرد اور عورت کا باہمی تعلق اور اس کائنات میں ان کا منصب و مقام یہ بہت اہم اور بنیادی سوالات رہے ہیں جن کا جواب تاریخ کے ہر دور میں آسمانی ہدایت کے تحت بھی دیا گیا اور خالص فلسفیانہ اور عقلی انداز میں بھی۔ موجودہ دور میں مرد و عورت کا باہمی تعلق اور عورت کا مقام و منصب اور اس کی حیثیت موضوع بحث ہے۔ مساوات مردوزن کے حسین نعرے نے اسے وقت کا اہم ترین موضوع بنادیا ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں اس موضوع پر دانشوران عالم اور خواتین کومردوں کے برابر مقام دلانے کے لیے کوشاں تحریکوں کی قائد خواتین اپنی تقریروں اور تحریروں میں زبردست قوت صرف کررہے ہیں جو نہ صرف یہ کے حقائق ارضی کو نظرانداز کرنا ہے بلکہ خواتین پر ذمہ داریوں کا اضافی بوجھ بھی ہے۔ جسے برداشت کرنے کی وہ متحمل نہیں ہوسکتیں۔

ماہ جنوری میں ایک مباحثہ کے دوران دنیا کی ۱۰۰ ٹاپ یونیورسٹیوں میں نمبر ایک کی یونیورسٹی ہارورڈ کے صدر لیری سمرس نے ایک سوال کے جواب میں یہ کہہ دیا کہ ریاضی اور انجینئرنگ جیسے مضامین میں خواتین کی کم نمائندگی کی وجہ حیاتیاتی اختلافات (جسمانی) ہوسکتے ہیں۔ یہ کہتے ہوئے انھوں نے دنیا کے مختلف ترقی یافتہ ممالک میں اس سلسلہ میں ہوئی ریسرچ کا حوالہ بھی دیا۔ امریکہ کی ایک تحقیق میں کیمیلا بینو اور ڈیوڈ لیبنسکی نے ۲۰ سال تک ذہین طلباء کے ریکارڈ کے مطالعہ سے پتہ چلایا کہ لڑکے حساب، کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ میں بہتر صلاحیت دکھاتے ہیں اور لڑکیاں بایولوجی، سماجیات اور عمرانیات میں زیادہ بہتر صلاحیت اور دلچسپی دکھاتی ہیں۔ جرمنی کی گین یونیورسٹی کے سائنسداں پیٹیرا کیمپل وغیرہ نے اس کی ایک امکانی وجہ زمانہ حمل میں نرجنین کا مردوں کے خاص ہارمون سے زیادہ فیض یاب ہونا بتایا ہے جبکہ مادہ جنین کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا۔ (وکاس سنگھ :ٹائمس آف انڈیا ۳۰؍جنوری۰۵)

لیری سمرس کے اس تعلیمی انکشاف کے بعد دنیا بھر میں اس موضوع پر بحث چھڑی ہوئی ہے۔ امریکہ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امریکی اسکولوں میں اساتذہ میں خواتین اساتذہ کی تعداد %۳۵ ہے مگر حساب اور سائنس کے میدان میں یہ تعداد ۲۰فیصد رہ جاتی ہے۔ (ٹائمس آف انڈیا :۲۸؍جنوری۰۵)

ایک اور تحقیق جو کہ ۷؍فروری ۲۰۰۵ء کو شائع ہوئی اس کے مطابق مردوں کا دماغ خواتین کے مقابلہ ۴ گنا تیز ہوتا ہے۔ تحقیق کے مطابق مردوں کے دماغ کے خلیات میں پیغامات کی ترسیل کی رفتار خواتین کی رفتار سے ۴ گنا زیادہ ہوتی ہے۔ ٹورنٹو یونیورسٹی کے پروفیسر ایڈ اور فلپ ورنان اور یونیورسٹی آف ویسٹرن اونٹاریو کے اینڈریوجانسن نے اپنی تحقیقات کی روشنی میں بتایا کہ ہم نے ۱۸۶ مرد طلبا اور ۲۰۱ طالبات پر مختلف سائنسی تجربات سے دونوں کے دماغی خلیات کی رفتار کار میں یہ فرق پایا۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ مردوں کے دماغی خلیات پر ایک حفاظتی مادہ مائلین کی پرت خواتین کے خلیات کے مقابلہ میں زیادہ موٹی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ان خلیات کے درمیان اور آپس میں خواتین کے خلیات کے مقابلہ زیادہ سرعت سے پیغامات ارسال ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں نے پایا کہ کسی شے کو دیکھنے کے بعد اس کی اطلاع کو آنکھ سے دماغ کے اس حصہ تک پہنچنے میں جہاں سے اسے یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ کیا دیکھ رہا ہے جو وقت لگتا ہے وہ مدت خواتین میں زیادہ ہے۔ (راجر ڈالسن اور آئرڈیل، سنڈے ٹائمز بحوالہ TOI۷؍فروری ۲۰۰۵ء)

ان سائنسی انکشافات کے بعد ’’جدیدیت‘‘ اور ’’سائنسی فکر‘‘ کے حاملین نے عجیب غیر سائنسی اور اڑیل رویہ اپنایا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ اختلاف یا فرق بناوٹ کا نہیں ماحول کا ہے۔ کیونکہ عرصۂ دراز سے خواتین کی حق تلفی ہوتی رہی ہے اوران کو کمتر وکم عقل اور کمزور بتایا گیا ہے تو شاید انھوں نے بھی ایسا ہی مان لیا ہے ورنہ اگر ان کو مردوں کے برابر مواقع ملیں تو وہ بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ وغیرہ۔

مگر مغرب کے یہ بڑے بڑے مفکرین اور محققین کوئی ’’دقیانوسی ملاَّ‘‘ تو نہیں ہیں جن کی باتوں کو فتویٰ کہہ کر رد کردیا جائے۔ اگر وہ تجربات کی روشنی میں کچھ رائے اور نتائج پیش کررہے ہیں تو یا تو اسے مان لینا چاہیے یا اسے رد کرنے کے لیے علمی، عقلی اور تاریخی دلائل لانے چاہیے۔ ورنہ بقول پروفیسر اسٹیون پنکر کے کہ کسی سائنسی رائے کو پیش کردینے سے ہی اتنا مشتعل ہوجانا اور کوئی دلیل نہ دینا سچائی کو جارح بتانے جیسا ہے۔ پروفیسر موصوف اسی ہارورڈ یونیورسٹی میں علم النفسیات کے پروفیسر ہیں۔

انسانی سماج میں مردو عورت کی ذمہ داریاں، حقوق اور دائرہ کار کے بارے میں جو الٰہی رہنمائی ملتی ہے اس کے برخلاف جب بھی انسانوں نے چلنے کی کوشش کی تو یا تو عورت کو دیوی بنایا یا دیوداسی۔ مگر اس کو اس کا صحیح مقام و مرتبہ اور دائرہ کار نہیں دیا۔ اس حقیقت سے کیسے انکار ممکن ہے کہ مرد اور عورت دونوں کی بناوٹ، مزاج، رجحانات، اندرونی نظام اور ہارمون کا نظام اور ان کے افعال سب انتہائی مختلف ہیں۔ اب یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک جیسے ہی کاموں کے لیے اتنی الگ مخلوق بنائی جاتی؟ اگر مرد اور عورت دونوں ایک جیسے کام کرسکتے ہیں یا ایک جیسی ذمہ داریاں اٹھا سکتے ہیں تو دونوں میں اتنا واضح بدنی و ذہنی، نفسیاتی فرق کیوں ہے؟

عورتوں کو کمزور بتاکر ان پر ظلم کرنا کسی بھی الٰہی رہنمائی کے شایان شان نہیں ہے۔ جن طاقتوں نے عورتوں کی ترقی کے نام پر انہیں ۲۴ گھنٹہ کام پر لگادیا ہے وہ ہی دراصل سب سے بڑے ظالم ہیں۔ ورنہ شریعت نے دونوں کو ان کے لیے موزوں دائرہ کار مختص کیے ہیں۔ اس لحاظ سے عائلی اور سماجی قوانین بنائے گئے ہیں۔ ترغیبات کے ذریعہ حسن سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔ اس سے بڑھ کر کیا بات ہوگی کہ آخری خطبہ میں اور آخری وصیت میں حضور اکرم ﷺ نے عورتوں سے خصوصی بہتر برتاؤ کی تلقین کی۔ جن جدید و قدیم تہذیبوں نے اس تقسیم ، دائرہ کار کو نظر انداز کیا انھوں نے مردوزن دونوں کے ساتھ ظلم کیا۔ سائنس جوں جوں ترقی کرے گی اور حقیقتوں سے پردہ اٹھائے گی اسلام کا چہرہ روشن سے روشن تر ہوتا جائے گا۔ باطل کا پروپیگنڈہ بیکار جائے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر ایم اجمل، دہرو دون

تبصرہ کیجیے