2

دعوت الی اللہ- مقدس فریضہ

امت مسلمہ کے امتیازات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ نبی آخر الزماں ﷺ کی جانشین ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی رسول اور نبی نہیں آئے گا اس لیے اب اسلام کی اشاعت و تبلیغ پوری امت کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے۔ گویا جو کام پچھلی امتوں میں انبیائے کرام کا تھا وہ کام امت مسلمہ کے سپرد کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن میں مسلمانوں کو امت وسط اور خیر امت یعنی بہترین جماعت قرار دیا گیا۔

قرآن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ۔

’’مسلمانو! تم تمام امتوں میں بہتر امت ہو جو لوگوں کے(ارشاد و اصلاح) لیے ظہور میں آئے ہو، تم نیکی کا حکم دینے والے، برائی سے روکنے والے اور اللہ پر سچا ایمان رکھنے والے ہو۔‘‘

آیت سے معلوم ہوا کہ امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور اللہ پر ایمان مسلمانوں کی امتیازی خصوصیات ہیں اور خیر امت ہونے کی شرط بھی۔ اگر ان شرطوں میں سے ایک شرط بھی پوری نہ ہوئی تو وہ خیر امت کہلانے کے مستحق نہیں۔ حضرت عمر ؓ کا صاف اعلان ہے: ’’اے لوگو! تم میں سے جو شخص اس خیر امت میں شامل ہونا چاہے تو اس کے لیے اللہ نے جو شرط رکھی ہے وہ پوری کرے۔‘‘

یہ امت خیر امت اسی وقت تک ہے جب تک وہ اس ذمہ داری پر قائم رہے۔ لیکن اگر وہ منکر کو بدلنے کا کام چھوڑدے تو خدا نے اسے جو تعریفی نام دیا ہے وہ اس سے چھن جائے گا اور اس کے ساتھ مذمت چپک جائے گی۔ اور یہی چیز اس کی ہلاکت کا سبب بن جائے گی۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: ’’لوگوں کو میری طرف سے پہنچاؤ خواہ ایک ہی آیت کیوں نہ ہو۔‘‘ اس حدیث کے مخاطب سارے مسلمان ہیں۔ اس طرح امت کے ہر ہر فرد پر دعوت و تبلیغ فرض ہے۔ تمام انبیاء کو مبعوث کرنے کا مقصد بھی دعوت الی اللہ ہی تھا:

وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِی کُلِّ اُمَّۃٍ رَسُوْلًا اَنِ عْبُدُوْا اللّٰہَ وَاجْتَنِبُوْا الطَّاغُوْتَ۔

اور ایک دوسری جگہ خالق کائنات نے دعوت الی اللہ کی باتوں کو دنیا کے تمام بنی نوع انسانوں کے کاموں سے دلکش اور بہتر گردانتے ہوئے ارشاد فرمایا:

وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَّقَالَ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔

’’ اس شخص سے اچھی بات کس کی ہوسکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک اعمال کرے اور زبان سے کہے کہ میں مسلمان ہوں۔‘‘

قرآن مقدس کی یہ آیات اور نبی ﷺ کا فرمان اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلام میں داخل ہر فرد پر لازم ہے اور اسی فریضہ میں امت مسلمہ کی کامیابی و کامرانی، فلاح وبہبود اور ظفر مندی اور اقبال مندی مضمر ہے۔ اور یہی وہ کار گر آلہ اور زبردست ہتھیار ہے جسے اپنا کر امت مسلمہ عزت و شرف اور فضل و کمال سے ہم کنار ہوسکتی ہے۔ لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے جب ہماری نگاہیں اپنے معاشرہ پر پڑتی ہیں کیونکہ جس نبی نے امت کے ہر ہر فرد کو داعی اور مسئول قرار دیا آج وہی امت اپنی ذمہ داری کو پس پشت ڈال کر گم کردئہ راہ ہوگئی ہے اور اپنا غلبہ و اقتدار ہی نہیں اپنا وزن اور وقار تک کھوبیٹھی ہے۔

صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد آنے والے نیک نفوس نے اپنی اس ذمہ داری کو پورے احسا س و شعور کے ساتھ انجام دیا۔ اور ان کی یہی کوششیں تو ہیں جن کے سبب اللہ کا دین محفوظ طریقے سے ہم تک پہنچا اور آج ہم اللہ کے دین کے پیروکار ہیں۔ اللہ کے دین کو لوگوں تک پہنچانے کا جذبہ اور انہیں جہنم کی آگ سے بچانے کی تڑپ ہی تو تھی کہ اسلام کے ماننے والے سخت راستوں اور مشکل حالات کے باوجود سفر کرتے اور جگہ جگہ اسلام کی دعوت لوگوں کے سامنے پیش کرتے۔

صحابہ کرامؓ اور اسلاف نے اس دین کے لیے کتنی قربانیاں دیں اور اسے لوگوں تک پہنچانے کے لیے کیا کیا مشکلات و مصائب کا سامنا کیا تاریخ ہمیں بتاتی ہے لیکن ہماری بے حسی اور ناقدری کا عالم یہ ہے کہ ہم نہ تو اس کی روشنی میں اپنی زندگیوں کی تعمیر کے خوگر ہیں اور نہ اس روشنی کو عام انسانوں تک پہنچانے کے خواہش مند ہیں۔ حالانکہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ صرف خود دراصل اسلام کی دعوت ہے بلکہ براہ راست ہمارے وجود اور ہماری ملی زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ اللہ کے رسول نے اس بات کو ایک مثال کے ذریعہ لوگوں کو بتایا کے ایک بڑا جہاز ہے جس میں کافی لوگ سفر کررہے ہیں۔ کچھ لوگ نچلی منزل پر ہیں اور کچھ اوپری منزل پر۔ نیچے والوں کو پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ اوپر جاتے ہیں۔ ان کے بار بار اوپر جانے پر اوپر والی منزل کے لوگ اعتراض کرتے ہیں، اب نیچے والے یہ کہتے ہیں کہ جہاز کی پیندی میں سوراخ کرکے ہم نیچے ہی سے پانی حاصل کرلیں گے اور تمہیں پریشان نہیں کریں گے۔ ایسے میں اوپر والے اگر انہیں نہیں روکتے تو وہ جہاز میں سوراخ کردیں گے اور پورا جہاز ڈوب جائے گا۔

اگر آج بھی مسلمان خیر امت کی تصویر بن جائے اور نیکیوں کے حکم اور برائیوں سے روکنے کا فریضہ ادا کرنے کے لیے تیار ہوجائے تو پوری دنیا میں ایک انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ مگر اس کی شروعات ہوگی اپنی ذات، اپنے گھر اور اپنے خاندان سے اور پھر یہ سلسلہ پھیلتا جائے گا اور پوری دنیا برائیوں کے طوفان سے محفوظ ہوجائے گی۔ اس کے لیے ضرورت ہے احساس ذمہ داری اور پختہ شعور کی جسے عزم محکم اور جہد مسلسل سے غذا ملے گی۔

شیئر کیجیے
Default image
عرشیہ پروین

تبصرہ کیجیے