BOOST

لمحوں کی کہانی

خدائے رب العزت نے انسان کی تخلیق اس غرض سے کی ہے کہ وہ اس کی اطاعت کرے اور اپنی نجات کی فکر کرے، لیکن اللہ کے دئے ہوئے اختیار کا غلط استعمال کرنے سے انسان کسی بھی دور میں باز نہیں آیا اور اسی اختیار کے غلط استعمال کے نتیجے میں آج ہم ہر طرح کی برائیوں و مصیبتوں میں مبتلا ہیں۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کے اسی رویے کی اصلاح کے لیے، ہر دور میں اپنی طرف سے عذاب وارننگ کی حیثیت سے نازل فرماتا رہا ہے۔ چاہے وہ عاد، ثمود یا بنی اسرائیل کا تاریخی عذاب ہو، یا امریکہ کی جانب سے مسلمانوں پر کیے جارہے مظالم، چاہے وہ افغانستان و عراق میں کی گئی بربریت ہو یا گجراتی مسلمانوں کا قتل عام یا پھر قریب میں ہوئے سوماترا کا زبردست زلزلہ، اللہ کے عذاب کی شکل بدلتی رہی ہے اور بدلتی رہتی ہے۔ ان سب کے ذریعہ اللہ یہ بار بار یاد دلاتا ہے کہ:

یٰٓاَیُّہَا الاِنْسَانُ اِنَّکَ کَادِحٌ اِلٰی رَبِّکَ کَدْحاً فَمُلٰقِیْہِ۔

’’اے انسان! تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جارہا ہے اور اس سے ملنے والا ہے۔‘‘

سوماترا کا وہ خوفناک زلزلہ جس کی وجہ سے اس سرزمین کا نقشہ بدل گیا، میری زندگی کا سب سے عبرت ناک واقعہ تھا، جس نے میری زندگی پر وہ اثرات مرتب کیے جو اب تک ضخیم سے ضخیم کتاب یا بہترین درس بھی نہ ہوسکے تھے۔ ۲۶؍دسمبر کی صبح نے مجھے یہ احساس دلایا کہ واقعی انسان بڑے خسارے میں ہے اگر اس نے اپنے روئیے کو نہ بدلا۔

یہ زلزلہ اس النبا العظیم کی چھوٹی سی جھلک تھی جس کے بارے میں ہمیشہ سے مختلف چہ میگوئیاں ہوتی رہی ہیں اور اس جھلک نے اللہ کی طاقت اور عظمت و قدرت کا جلوہ انسان کے سامنے پیش کردیا۔

اس دن صبح ہماری ایک جی آئی او کی بہن کی دادی کا انتقال ہوگیا تھا اور ہمیں اس کے گھر جنازے میں شرکت کے لیے جانا تھا۔ میری ساس و سسر صبح 5:30بجے ہی وہاں جاچکے تھے اور میری ساس تقریبا 6:25کو واپس بھی آگئیں تھیں۔ میں ناشتے کی تیاری کے بعد غسل خانے کی طرف بڑھی ہی تھی کہ ایسا لگا جیسے مجھے چکر آرہے ہیں، جس کی وجہ سے میں گر پڑوں گی۔ دوبارہ جب میں نے یہی محسوس کیا تو مجھے یاد آیا کہ انڈمان ایک ایسی جگہ ہے جہاں زلزلے اس کی تاریخ کا ایک باب ہیں۔ تبھی میرے چھوٹے دیور نے کہا کہ ’’بھابی لگتا ہے بھوکمپ ہورہا ہے‘‘۔ میرا یہ سننا تھا کہ میں سیدھی اپنے کمرے میں گئی جہاں میرا بیٹا (۴ سالہ) اور ڈیڑھ سالہ بیٹی دونوں سو رہے تھے، میں نے اپنی بیٹی کو جھولے سے اٹھایا اور اپنے دیور سے کہا کہ ’’تم ریحان کو اٹھاؤ‘‘ ۔ اس دوران زلزلے کی شدت کافی بڑھ چکی تھی میری دیورانی اور میری ساس دونوں فوراً پیچھے کے دروازے سے باہر چلی گئیں۔ ہم تمام کلمۂ طیبہ کے ورد سے اپنی ہمت کو بڑھاتے ہوئے اپنی خطا کار زندگی کی معافی مانگ رہے تھے۔

گھر کے سامنے کے دروازے سے میں اپنی بیٹی کو اٹھائے باہر کی طرف دوڑی ۔ ہماری یہ دوڑ سیدھی نہ تھی بلکہ ٹیڑھی تھی اور کسی بھی وقت گرجانے کا ڈر تھا، کیونکہ زمین کے ہلنے کی شدت میں اضافہ ہوچکا تھا۔ سنبھلتے سنبھالتے ہم تمام محلے کے لوگ روڈ پر جمع ہوگئے۔ میں نے رک کر درختوں پر نظر ڈالی، وہ جڑ سے ہل رہے تھے۔ اس ایک پل کے لیے مجھے ایسا لگا کہ اس عظیم کائنات کے اختتام کا وقت آگیا ہے اور مجھے اپنے گھر والوں سے دوری ستانے لگی۔ پھر اچانک میرے ان خیالات کی جگہ خوف خدا حاوی ہوگیا اور میں نے یہ سوچا کہ میرا نامۂ اعمال اس قابل نہیں کہ میں موت سے بے خوف ہوجاؤں اور آخرت میں معافی کی امیدکروں۔ میں نے اپنے خیالات کو روکتے ہوئے اس ’’فرش عظیم‘‘ کو دیکھا جس پر آج تک ہم لوگ بڑے اطمینان سے بے خوف ہوکر چل پھر سکتے تھے، آج یہی زمین اپنے رب کے حکم کی تعمیل کررہی تھی۔ پھر میرے منہ سے بے ساختہ قرآنی آیتیں نکلنے لگیں اور میری نظریں زمین پر جمی رہیں۔

تقریباً چار منٹ اور چند سیکنڈ کے زلزلہ کے بعد سب تھم گیا اور ایسالگ رہا تھا جیسے قدرت نے ایک عظیم کام انجام دے دیا ہو۔ اپنے گھبرائے اور دھڑکتے دل کے ساتھ ہم سب دوبارہ گھر میں داخل ہوئے تو میرا سر درد سے پھٹا جارہا تھا، جس کی تکلیف میں آج بھی محسوس کرتی ہوں، اور میرے پاؤں لڑ کھڑارہے تھے جیسے ان میں قوت باقی نہیں رہی۔ گھر کے اندر ہمارے غسل خانے کی ٹینک کا پانی زلزلے کی وجہ سے اچھل کر باہر سارے گھر میں باڑھ لا چکا تھا، بجلی کٹ گئی تھی اور فون بھی اپنا کام انجام دینے سے انکار کررہا تھا۔ سب طرف زلزلے کی باتیں ہونے لگیں۔ تبھی کسی نے خبر دی کہ ہمارے ایک رشتہ دار کا نیا گھر جس کا بہت جلد افتتاح ہونے والا تھا، پوری طرح ڈھ گیا ہے۔

چند لمحوں بعد جب ہم گھر کے پانی کو صاف کرچکے، تو یہ اطمینان ہوا کہ اب سب معمول پر لوٹ آیا ہے ہم اندر داخل ہوئے۔ بڑے زلزلے کے بعد چھوٹے چھوٹے زلزلے تھوڑے تھوڑے وقفے کیہ بعد ہورہے تھے۔ افواہوں کا بازار بھی گرم تھا، کہا گیا کہ ۱۱ بجے دوبارہ ’’زبردست زلزلہ‘‘ آنے والا ہے۔ یہ ساری خبریں بالکل غلط نکلیں۔ لیکن چھوٹے زلزلے جن کو After Shokesکہا جاتا ہے مستقل دہشت بڑھا رہے تھے۔ پھر ہم نے وہ خبر سنی جس نے ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہمارے علاقے کی Jettyجس کا نام بمبو فلیٹ ہے، جو ایک بھرا پورا بازار ہوا کرتا تھا ’’سونامی‘‘ میں برباد ہوگیا۔ چونکہ دن اتوار کا تھا ساری دکانیں بند تھیں اس لیے وہاں لوگ تو نہ تھے لیکن دکانوں کے شٹر لہروں کی قوت کو روک نہ سکے اور سونامی کی لہریں اپنی پوری طاقت کے ساتھ شٹرس کو توڑتی ہوئی اندر گھسیں۔ پچھلی دیواروں کو توڑتی ہوئی، دکانوں کے پیچھے کے علاقے کے گھروں کو برباد کرتی ہوئی واپسی میں اپنے ساتھ ہر وہ چیز لے گئیں جو ان لہروں کے راستے میں آئی۔ دوپہر ہونے تک یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ نکوبار، کچھال، کمورٹا، ہٹ نے، کیمل بے اور بہت سے چھوٹے چھوٹے جزائر کو سمندر نے نگل لیا۔ بس وہ لوگ بچ گئے جن کی حفاظت کا اللہ نے ارادہ فرمایا تھا۔

اس سارے عذابِ صغری کے دوران جماعت اسلامی، انڈمان حلقہ نے اپنے فرائض بخوبی انجام دئے۔ جماعت نے ایک ریلیف کیمپ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری یہاں کے ایل جی کی اجازت کے بعد لے لی۔ تقریباً ۹۶ خاندانوں کو جو کمورٹا میں رہتے ہیں، ضروریات زندگی فراہم کیں، ۳۰ دکانوں کا نقصان، سامان کی فراہمی اور رقم سے پورا کیا۔ متاثر شدہ ۲۶۰ خاندانوں کو ایک مہینے کا راشن فراہم کیا۔ شعبۂ خواتین بھی اس میدان میں پیچھے نہیں رہے۔ متاثر شدہ افراد کے سارے ریلیف کیمپس میں الگ الگ ٹیم بنا کر خواتین کی ضروریات کو پورا کیا۔

یہ جو کچھ ہوا سب اللہ تعالیٰ کا عذاب ہی تھا جس نے ہمیں ایک وارننگ دی کہ ’’کم از کم اب سدھر جاؤ‘‘۔ بے شک یہ اللہ کی سنت رہی ہے کہ جب بھی زمین کی سطح پر گناہ بڑھے اللہ نے اپنی زمین کو پاک کرنے کا بیڑہ خود اپنے ہاتھ میں لیا اور ایک دوسری قوم کو منصبِ امامت دیا۔ ان سارے واقعات میں ہمارے لیے عبرت ہے اگر ہم غور کریں۔ ۲۶؍دسمبر سے لے کر اب تک یہاں زلزلے ایک عام بات بن گئے ہیں، جانے کب کونسان جھٹکا حضرت اسرافیلؑ کا اعلان ہو۔ واللہ اعلم۔

یہاں جو کچھ ہوا اسے اگر میں چاہوں بھی تو الفاظ کی شکل نہیں دے سکتی۔ بس اتنا ضرور کہوں گی کہ سورئہ الزلزال کی پہلی آیات میں زمین کے شدت سے ہلائے جانے کا مطلب اب اچھی طرح سمجھ میں آگیا کیونکہ اس زلزلے کے دوران نہ صرف ہمارے جسم و گھر ہل رہے تھے بلکہ ہمارے دماغ بھی ہل رہے تھے جسم کا ایک ایک رونگٹا خوف خدا سے کانپ رہا تھا۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی دی ہوئی مہلت میں کم سے کم اتنا تو عمل کرنے کی توفیق دے کہ ہم عذاب جہنم سے بچ جائیں۔ آمین۔

شیئر کیجیے
Default image
ساجدہ زبیر، پورٹ بلیئر

تبصرہ کیجیے