3

ماں

شام کے دھندلکے آہستہ آہستہ رات کی تاریکیوں میں تبدیل ہورہے تھے۔ بادلوں کی چلمن سے جھانکتے ہوئے ادھورے چاند کی شرارتوں پر وہ اور بھی بے خود ہوگیا۔

آہ! کیا منظر ہے پُر فریب و خوشگوار۔ ایک منظر وہ بھی تھا جس نے اسے دہلا دیا تھا۔ منظر جو بے زبان ہوتے ہوئے بھی اس کے لیے عبرت کا سامان بن گیا تھا۔ واعظ و معلم کا روپ دھارے اپنے ہی بیٹے کے ذریعہ لگا ایک تازیانہ اس کے حق میں نئی زندگی کا ضامن بن گیا۔ نئی زندگی جس میں اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آیا تھا۔

چمیلی کے سائے تلے کرسی پر راشدؔ بے سدھ سا بیٹھا رہا۔ نازک خوشبودار پھول ہواؤں کے جھونکوں سے جھوم جھوم جاتے۔ راشدؔ کبھی کرسی سے اٹھ کر اچانک ٹہلنے لگتا تو کبھی ٹہلتے ٹہلتے رک کر آسمان کر طرف نظریں اٹھائے کھڑا ہوجاتا۔ نہ وہ ہوا کی اٹھکیلیوں سے لطف اندوز ہوسکا اور نہ پھولوں کی مہک ہی اسے لمحہ بھر کے لیے مسرور کرسکی۔ بے چینی کے عالم میں ٹہلتے ہوئے اس نے نجمہؔ کی طرف دیکھا جو اس کے دل میں مچے قیامت خیز طوفان سے بے خبر سورہی تھی۔ پہلی بار راشد کی نظریں اپنی بیوی کی نرم کلائیوں اور سامان آرائش سے آزاد خالی گردن پر رک گئیں۔

’’دیکھئے! اب ہمارا ماجد بڑا ہورہا ہے، جو کچھ زر زیور تھا آپ کی نذر ہوگیا۔ مگر اب بچے کے سامنے اچھا نمونہ بھی تو پیش کرنا ہے۔‘‘ اس نے سوئے ہوئے بیٹے کو دیکھا۔ واقعی اب وہ بڑا ہوگیا تھا۔ اس کے پاؤں چٹائی سے باہر آگئے تھے۔

’’جیسے تیسے میں نے دس سال گزار دئے کیسے مصیبت کے دن تھے، یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔‘‘ نجمہ کا کہنا سچ ہی تو تھا۔ وہ عاجزی کرتی، فریاد کرتی۔ اور وہ اس کو روتا دھوتا چھوڑ کر باہر چل دیتا۔ شام کو نشے میں دھت ہوکر لوٹتا۔ پھر نجمہ کے ساتھ مارپیٹ اور گالم گلوج ہوتی۔ بارہا اس کی ان حرکتوں نے نجمہ کے جسم پر ہرے نیلے نشان چھوڑے تھے جنھیں دیکھ کر اس کا دل بھر آتا۔ مگر وہ اپنی عادت سے مجبور تھا۔ اپنی کمائی کے ساتھ ساتھ نجمہ کے پیسوں پر بھی زیادتی کربیٹھتا۔ اس کا سارا جہیز اور سارا زیور بک گیا۔

صبح جب وہ اٹھتا تو اس کی ایک ’’نجو‘‘ کی آواز پر وہ دوڑی دوڑی آتی۔ ’’نجو‘‘ ! کیسی مدھرتا تھی اس کے لیے اپنے آدھے نام میں۔ رات کی ساری تکلیف وہ بھول جاتی۔ وہ جب بحال ہوجاتا تو نجمہ پھر اپنے معمول کو دہرانے لگتی۔

’’یہ چال چلن آخر کب تک رہیں گے۔ آج کا بچہ کل کا بڑا، ماجد آخر آپ سے کیا سبق لے، سنتے ہو رات اس نے بڑا عجیب خیال ظاہر کیا۔‘‘

’’کیا کہا تھا‘‘ وہ کریدنے لگا۔

’’کہتا ہے ممی آپ روز روز ابو سے مار کیوں کھاتی ہیں۔ نانا ابا کے پاس کیوں نہیں چلی جاتیں۔‘‘ دن گزرتے رہے بات آئی گئی ہوگئی۔ ماجد اب گھر کے معاملات پر غور کرنے لگا تھا۔

’’ممی مجھے اچھے کپڑے چاہئیں۔‘‘

’’ممی مجھے گھڑی دلوادیں۔‘‘

تعلیمی سال کے آخر میں جب وہ اپنی جماعت میں کامیاب ہوتا تو نئی جماعت کے ساتھ ساتھ وہ کچھ تقاضے بھی کرنے لگتا۔ ماں کبھی سمجھا بجھا کر ٹال جاتی، کبھی کوئی چیز خرید دیتی۔ جب وہ چھ سال سال کا تھا، ٹافی، کھلونوں اور نئی کتابوں کے لیے دالان کے ستون سے لٹک لٹک کر ضد کرنے لگتا۔ غصے میں آکر گھر کی چیزیں اٹھا کر پھینکنے لگتا۔ مگر ماں نے اسے کبھی سزا نہیں دی۔ کتنا فرق تھا اس کی ممی اور ابو میں۔ ممی جتنی مہربان تھیں ابو اتنے ہی سخت۔ اس کی ہر ضد ماں ہی پوری کرتی اور وہ سوچنے لگتا۔ اظہر، امجد، اور شاکر کے بھی تو ابو ہیں، کتنے اچھے اور پیارے۔ اس کے ہر دوست کے پاس اچھے اور قیمتی کپڑے ہیں۔ اور وہ ہے کہ دو تین ہی جوڑوں میں سال پورا کردیتا ہے۔ پھر ایسے میں جب وہ کلاس میں اول آتا تو ممی بڑی خوش ہوتیں۔ خوشی میں کبھی آنسو بہاتیں، کبھی دعائیں دینے لگتیں۔ میرا بیٹا اب بڑا ہوکر ڈاکٹر بنے گا۔ رات کو روزْانہ ایک کہانی سننے کو ملتی۔ وہ بڑے بزرگوں کے بچپن کے حالات سناتیں۔ کیسی تگ ودو تھی اس کے لیے ماں کی۔

’’ممی ! کیا آپ ابو کو کہانی نہیں سناتیں؟‘‘ کہانی سنتے سنتے وہ بڑے اچنبھے سے پوچھتا۔

’’سناتی ہوں بیٹے! مگر وہ نہیں سنتے۔‘‘

’’اچھا تو پھر وہ روز کیوں شراب پیتے ہیں؟‘‘

’’وہ نہ مانیں تو میں کیا کرسکتی ہوں بیٹے!‘‘ ان کی آواز میں بڑی حسرت ہوتی۔ جب کبھی ممی اسے نماز پڑھنے کو کہتیں تو وہ سوچ کر رہ جاتا۔ ابو نماز نہیں پڑھتے میں کیوں پڑھوں۔

’’منے جھوٹ بولنا برا ہے، اچھے بچے گالی نہیں دیتے ، بیٹے یہ ٹھیک نہیں، بیٹے وہ اچھا نہیں۔ جو کام ابو کرتے ہیں اس سے مجھے روکا جاتا ہے۔ اور جو کام میں کرتا ہوں ابو اسے نہیں کرپاتے۔ ابوگالی دیتے ہیں، ابو نماز نہیں پڑھتے، پھر میں کیوں پڑھوں۔‘‘

تب ممی اس کے سامنے دو پیالے رکھ دیتیں، ایک میں شہد ہوتا، دوسرے میں نمک کا کھارا پانی۔ لپک کر اس نے میٹھا پیالہ اٹھا لیا۔ شاباش بیٹے اچھی اور بری باتیں بھی ایسی ہی ہیں۔ اب تمہارے ابو شہد کو چھو ڑ کر کھارا پانی اٹھالیتے ہیں تو نقصان انہی کا ہوگا۔ جو جس کی خواہش کرے وہ اس کو ملتا ہے۔ تبھی وہ جان سکا، بھلے برے کی تمیز کرسکا۔

وقت گزرتا رہا۔ دن رات ہفتوں، مہینوں اور سالوں میں تبدیل ہوتے رہے۔ عمر کی ہر رہ گزر پر شعور کے ہر نئے قدم پر وہ چونک اٹھتا۔ ابو نے تو اسے کچھ نہیں سکھایا۔ کوئی اچھا سلوک بھی تو نہیں کیا جس کو وہ یاد کرسکے۔ بچپن سے اب تک ممی ہی اس کی ہر ضرورت پوری کرتی آئی ہیں۔ ابو تو خوب کماتے ہیں، مگر امی کو کچھ نہیں دیتے۔ ممی گھر کا کام کاج کرتی ہیں، سلائی کے پیسوں سے اس کی ایک ایک ضرورت اور خواہش پوری کرتی ہیں، اور شام کو ابو کی مار الگ پڑتی ہے۔ اس نے کبھی اپنی ممی کو ہنستے مسکراتے نہیں دیکھا۔ یا تو مصلے پر بیٹھی روتی گڑگڑاتی ہیں یا پھر گھنٹوں خلاؤں میں گھورے جاتی ہیں۔ اب تو اس نے بی کام کے فائنل میں قدم رکھا تھا۔ نہ ابو کی لت ہی چھوٹی اور نہ ممی کا رونا دھونا ہی کم ہوسکا۔ فیس اور کتابوں کے سارے اخراجات سلائی سے ممی ہی پورا کرتی ہیں۔ ابو کا تو نام کو بھی دخل نہیں ہوتا۔ ایک اس کے ابو تھے اور ایک سلمان کے ابو۔ اس کے تو لاڈ ہی لاڈ، پیار ہی پیار۔ اور ایک وہ جو پھٹے پرانے کپڑوں میں کالج کی منزلیں طے کرتا ہے۔ جب سے ہوش سنبھالا تھا، اچھی اور من پسند چیزوں کی طلب ہی چھوڑ دی تھی۔ بھلا ممی کرتیں بھی تو کیا، وہ تو خود دو ٹکڑوں کی ساری پہنتیں اور اسے نرم گرم نوالے کھلاتیں۔ کس قدر خوفزدہ تھیں کہ کہیں بیٹا باپ کی راہ پر نہ چل پڑے۔ اچھے برے کی تمیز اور حرام و حلال کا فرق سب کچھ اسے ممی ہی سے معلوم ہوسکا تھا۔ ورنہ باپ کے نقشِ قدم پر چلتے اسے دیر نہ لگتی۔ ماں کی قربانیاں، اس کی تکلیفیں، ابو کی سختیاں سب کچھ ایک بار پھر اس کی نظروں میں گھوم گئے۔ اسے جھرجھری سی ہوئی۔ وہ اٹھا اور بے ساختہ ماں کے پاؤں چھو لیے۔ تھکی ہاری نجمہ کے پاؤں پر کچھ رینگتا محسوس ہوا تو وہ ہڑبڑائی۔ راشد کے ساتھ حادثہ، اپنے بیٹے پر پریشانی کے تصور سے وہ لرز گئی۔

’’کیا ہوا بیٹے! اللہ خیر کرے۔‘‘ انھوں نے دیکھا تو کیا کہ بیٹا سر جھکائے آنسو بہا رہا تھا۔ مم…می آن کی آن میں ماجد کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ چہرہ آنسوؤں سے بھیگ گیا…‘‘

’’ابو نے آپ کو بہت ستایا ممی! آج آپ کے ہڈیوں بھرے وجود نے مجھے سب کچھ یاد دلایا دیا۔‘‘

بیٹے کے دل میں اپنی قدر دیکھ کر نجمہ کے آنسو دکھ سکھ کا سنگم بن گئے۔ بڑی دیر تک ماں بیٹے روتے رہے۔ آنسوؤں کا جواب آنسو ہی دے سکتے تھے۔‘‘ نا روبیٹے! اللہ نے تمہیں اتنی تو سمجھ دی کہ اپنی ماں کے دکھ سمجھ سکو، جیتے رہو، سلامت رہو، بیٹے! تمہارا یہ احساس ہی مجھے سو سال زندہ رکھے گا۔‘‘

’’ہاں ممی! آپ نے میرے لیے بڑی تکلیفیں اٹھائیں، مجھے سب کچھ یاد آیا۔ بچپن کے سارے واقعات نظروں میں گھوم گئے۔ میں اب پڑھنا چھوڑ دوں گا، ایک آپ ہی کی ذات کیوں دکھ جھیلے؟‘‘

’’نہیں بیٹے! جلد بازی اچھی نہیں۔ مستقبل بناتے ہوئے تم شریف اور بااخلاق بن گئے تو سمجھو مجھے بہت بڑی دولت ہاتھ لگ گئی۔‘‘

’’لگ جائے گی ممی! وہ وقت بھی آئے گا ان شاء اللہ‘‘

راشد نے دیکھا دن بدن بیٹے کا جھکاؤ اپنی ماں کی طرف بڑھتا ہی جارہا تھا۔ ماجد دوڑ دوڑ کر نجمہ کا ہاتھ بٹاتا۔ نل سے پانی خود بھر دیتا۔ سودا سلف لاتا اور تو اور شام ہوتی تو نجمہ کے روز پاؤں دابنے لگتا۔ اور وہ پکار کر جب ماجد سے کوئی کام کہتا تو وہ آمادگی اور چاہت نظر نہیں آتی جو ماں کے کاموں کی تکمیل میں ہوا کرتی ہے۔

نجمہ سرگوشیوں میں بیٹے کو سمجھاتی: ’’بیٹے! باپ کا ادب لازمی ہے، وہ جنت کے بیچ کا دروازہ ہیں۔‘‘

’’تو یوں ہے! وہ سوچ کر رہ جاتا، میرے کاموں کی تکمیل میں نجمہ کو توجہ دلانی پڑتی ہے۔ ماجد لپک کر کیوں نہیں کرتا؟‘‘ وہ اپنے آپ ہی سے پوچھتا۔ اس نے اپنے بیٹے کو دیا بھی کیا ہے۔ وہ خود ہی اعتراف کرنے لگتا۔ جس نے دکھ جھیلے سکھ بھی وہی اٹھائے۔ وہ ماجد کے حق میں غیروں جیسا رہا تھا۔ بچپن سے نوجوانی تک اپنی اولاد سے آپ ہی انجان سا رہا پھر وہ ماں پر کیوں نہ جائے۔ جس نے اپنا آرام و سکون سب کچھ تج دیا۔ اس کی ہر ضرورت نجمہ سے پوری ہوتی ہر غلطی کی سزا بھی نجمہ ہی دیا کرتی۔ سزا و انعام کا کتنا جاندار حربہ تھا جس نے ماجد کو جیت لیا تھا۔ شام جب کبھی راشد اتفاقاً خیریتِ ہوش و حواس کے ساتھ لوٹتا تو نجمہ اسے توجہ دلاتی۔

’’دیکھئے! میں تو جوں توں آدھی عمر کو پہنچ گئی، مگر ماجد پر غلط اثر نہ پڑے۔ میں تو اسے اب تک بچاتی رہی مگر نوجوان بیٹا آپ کے شوق سیکھ لے تو!‘‘

’’تو تم ہی سکھادو۔‘‘ وہ سنی ان سنی کرتا ہوا کہتا ’’جس بیٹے کو تم نے ولی بنادیا ہے تو کیا تم اسے شراب سے نہیں بچا سکتیں۔‘‘

’’کیسے باپ ہو میری تلقین اسے کام دے گی یا آپ کا عمل؟‘‘ نجمہ غیرت دلاتی ’’خدا کے لیے اب تو باز آجاؤ! بیٹے کے لیے سہی، اس خوشی میں میں اپنا مہر معاف کردوں گی۔‘‘ نجمہ کی ایک ایک بات اسے خون کے آنسو رلانے لگی۔ بیٹے کی خاطر اسے اپنے آپ کو بدلنا پڑا۔ راشد ایک بار پھر بے تاب ہوگیا۔ وہ دیوانہ وار ٹہلنے لگا۔ چاند سر پر آگیا تھا، نجمہ ابھی تک سورہی تھی…

بائیس تیئس سالہ ماجد اب کوئی بچہ نہیں رہا تھا۔ کبھی مسجد سے لوٹے وقت، کبھی ماں کے لیے دوائیاں لاتے ہوئے محلے والیاں دیکھ دیکھ کر رشک کرتیں،دعائیں دیتیں، اس کے دوست الگ ہنس بول لیتے۔

’’میاں زاغ کی چونچ میں دو دو انگور، ایک تم، ایک تمہاری ماں۔‘‘ ’’مذاق صرف مجھ سے ہو دوست‘‘ وہ بڑی سنجیدگی سے جواب دیتا۔ ’’میری ماں بڑی عظیم ہیں عظیم، ان کے طفیل ہی تو میں انگور بن سکا۔‘‘

وہ جب گھر آیا تو محلے والیوں کی دعائیں، دوستوں کے خیالات، ماں کے دکھ، سب کچھ اس کے لیے ایک سوال بن گئے۔ لوگ اس کے ابو کو اب بھی کبھی کبھی شرابی کہہ دیا کرتے تھے۔ ’’نمازی بیٹا، شرابی باپ‘‘ ’’دیندار بیوی خونخوار شوہر‘‘ لوگ نہ جانے اور کیا کیا کہتے وہ سب کچھ اب تک خاموشی سے سنتا رہا تھا۔ مگر ادھر چند دنوں سے اسے نفرت سی ہونے لگی کہ کوئی اس کے ابو کو برے القاب سے پکارے۔

ابو کے لیے ممی کی زندگی اجڑ گئی، زر زیور لٹ گیا، ممی کی ہر درخواست و فریاد کو دھتکار کر ابو آگے بڑھ جاتے۔ خاندان والے منع کرتے کرتے عاجز آگئے۔ دوست احباب سمجھا بجھا کر توجہ دلاتے۔ ممی سوکھ کر کانٹا ہوگئیں۔ دادا جان بیٹے کے غم میں گھل گھل کر ختم ہوگئے۔ مگر ابو کی شراب کو نہ چھوٹنا تھا نہ چھوٹ سکی۔ وہ اپنے باپ کو نمازی نہ سہی شرابی بھی نہیں سن سکتا تھا۔ اس کے ذہن میں ایک خیال کوند گیا۔ کیوں نہ وہ بھی خاموش تبلیغ کو آزمالے۔ لوہے کو لوہا اور ہیرے کو ہیرا ہی کاٹتا ہے۔ وہ اب اپنے نئے اور پہلے قدم کا ردِّ عمل دیکھنا چاہتا تھا۔

چمیلی کے پھولوں سے زمین چادر بن گئی۔ سگریٹوں کا اچھا خاص ڈھیر سے لگ گیا۔ راشد اب ٹہل ٹہل کر اور سگریٹ کے مرغولوں سے تھگ گیا تھا۔ نجمہ کی ایک ایک عاجزی پر سو سو آنسو بہاتے ہوئے اس کی آنکھیں سوج گئی تھیں۔ غم و غصہ پچھتاوا، سب کچھ ایک فیصلہ میں بدل کر رہ گیا۔

’’ستارے ماند پڑ رہے تھے، پرندے گھونسلوں سے نکل نکل کر باہر اڑ رہے تھے۔‘‘

’’نجو! نجو! ذار سنو۔‘‘ اس نے نجمہ کو جھنجھوڑ کر جگایا۔ ’’سنو نجمہ! نہیں جاؤں گا، میں اب کبھی نہیں جاؤں گا۔‘‘ راشد نے نجمہ کے سامنے کان پکڑ لیے۔

رات والا منظر ایک بار پھر اس کی آنکھوں میں گھوم گیا، جہاں شہر کے ایک مشہور کلب میں ماحول سے بے خبر اس کا بیٹا ماجد پیالے کے آگے جھکا تھا۔

شیئر کیجیے
Default image
صبیحہ عنایت، ادگیر

تبصرہ کیجیے