2

کیسے کارآمد بنائیں چھٹیوں کو

چھٹیاں اور فرصت کے اوقات ہر آدمی کے لیے بڑی قیمتی چیز ہیں۔ اس وقت آدمی کاموں کے دباؤ اور مصروفیات کی گرفت سے آزاد ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ چھٹیوں کے ایسے استعمال کی خواہش کرتا ہے جس میں وہ زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہوسکے۔ طلبہ بھی اسی بات کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ ایک ڈیڑھ ماہ کی چھٹیوں کو آزادی اور بے فکری کے ساتھ گزاریں اور پڑھنے لکھنے کے بوجھ سے آزاد رہیں۔ اچھے طلبہ کا معاملہ بھی کیا اسی طرح ہونا چاہیے یاوہ اس سے مختلف سوچ کے ساتھ چھٹی گزاریں یہ سوال ہر طالب علم کو اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ چھٹی اورفرصت کے اوقات ایک بہترین موقع ہوتے ہیں لطف اندوز ہونے کا بھی اور اپنی صلاحیتوں کو الگ نہج پر ترقی دینے کا بھی۔ سال بھر روٹین کی پڑھائی میں مصروف رہنے کے بعد اس سے آزادی کی خواہش بڑی حد تک فطری چیز ہے مگر مکمل طور پر ترک کر دینا نقصان دہ ہے۔ سنجیدہ اور بلند فکر لوگ اس طرح نہیں سوچتے بلکہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر خود کو اور زیادہ باصلاحیت بنانے کی فکر کرتے ہیں۔ جبکہ والدین کا طرز فکروعمل بھی اسی طرح کا ہوتا ہے وہ بچوں کو گرمی کی لمبی چھٹیوں میں کوئی تعمیری اور صلاحیتوں میں اضافہ کا کام اور مواقع فراہم کرنے میں اکثر ناکام رہتے ہیں جو ان کی ذات اور شخصیت کے لیے بڑا نقصان ہے۔

ہونا یہ چاہیے کہ والدین گرمی کی چھٹیوں کی پہلے سے منصوبہ بندی کرلیں اور اپنے جگر گوشوں کی ترقی کے لیے ایسا جامع منصوبہ تیار کررکھیں جو ایک طرف انہیں چھٹیوں سے لطف اندوز ہونے کے قابل بھی بنائے دوسری طرف ان کے علم میں اضافے اور ان کی شخصیت کی تعمیر میں بھی اہم کردار ادا کرے۔ باشعور والدین کا یہ فرض بھی ہے اور بچوں کا حق بھی کہ ان کے لیے کوئی بہتر انتظام کیا جائے مگر اکثر ایسا نہیں ہوپاتا۔

والدین کیا کرسکتے ہیں

چھٹیوں کو مفید اور کامیاب بنانے میں والدین کا رول کلیدی اور اہم ہے۔ اگر وہ واقعی اپنے بچوں کے مستقبل کی تعمیر کے لیے سنجیدہ ہیں تو ان کے لیے لازمی ہے کہ وہ حسبِ حال بچوں کو مفید مشاغل اور کاموں میں لگائیں اور مسلسل اس پر نظر رکھیں کہ بچے اپنے اوقات کو یوں ہی ضائع اور برباد تو نہیں کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلااور اہم کام یہ ہے کہ وہ بچوں کے اندر وقت کے صحیح استعمال کا شعور پیدا کریں اور انہیں اس قابل بنائیں کہ وہ خود اپنے وقت کی قدر کرنا سیکھیں۔ اور ایسا اسی وقت ممکن ہے جب ان کے اندر موجودہ دور کے سخت مقابلہ کی جدوجہد کا احساس ہوجائے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آج اپنی پسند کے میدان میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخلہ کتنا مشکل ہوگیا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ بچے اسکولی تعلیم میں تو اول درجہ کے ہوں ہی اس کے علاوہ بھی ان کی شخصیت میں بہت سی خوبیوں کی ضرورت ہوگی۔ سخت محنت، زبان اور بیان کی مضبوطی، مستحکم اور ہمہ جہت شخصیت اور وسیع معلومات ہی کے ذریعہ ہم خود کو مقابلہ کی دوڑ کا شریک بناسکتے ہیں۔ یہ احساس و شعور جتنا واضح اور مضبوط ہوگا کامیابی کے امکانات اسی قدر روشن ہوں گے۔

اس کے لیے والدین درج ذیل کام انجام دے سکتے ہیں:

٭ بچوں کو مفید مشاغل میں لگانا ایک اہم ضرورت ہے۔

٭ مشاغل کی فراہمی، مطالعہ میں رہنمائی اور نگرانی اور ضروری سامان فراہم کریں۔

٭ اگر ممکن ہو تو چند روز کے لیے پکنک یا باہر سفر کا انتظام کریں۔ سفر سے انسان بہت کچھ سیکھتا ہے اور علم و عمل کی دنیا کے نئے گوشے سامنے آتے ہیں۔

٭ بچوں کو طویل چھٹیوں میں سماجی و دینی خدمات کے لیے بھی متوجہ کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً غریب اور ناخواندہ بچے بچیوں کو قرآن کریم، اردو یا مقامی زبان سکھانے کے لیے گھر میں سمر اسکول چلانا اسی طرح دینی اجتماعات میں شرکت اور دعوتی سرگرمیوں میں حصہ لینا۔

بچے خود کیا کریں

چھٹیوں کو کارآمد بنانے اور مفید کاموں میں صرف کرنے میں جو کچھ خود بچے کرسکتے ہیں وہ کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ اگر خود ان کے اندر اس چیز کا شعور نہ ہو تو کوئی لاکھ آمادہ کرنے کی کوشش کرے اور رہنمائی کرے تب بھی کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خود کو پہلے اس کام کے لیے آمادہ کیا جائے۔ ذیل میں ہم اپنے بھائی بہنوں کے لیے کچھ مفید مشاغل کی تجویز پیش کرتے ہیں جو وقت کا بہترین مصرف بھی ہیں اور معلومات میں اضافہ کا زبردست ذریعہ بھی۔

٭ اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ دیکھنی ہے کہ خود آپ کی دلچسپی کیا ہے۔ اس کے بعد اسی چیز کو اختیار کیا جائے۔ کسی طالب علم کی دلچسپی پینٹنگ اور آرٹس ورک ہوسکتا ہے ایسے میں وہ پینٹنگ کا ضروری سامان فراہم کرکے گرمی کی چھٹیوں میں کئی اعلیٰ درجہ کی پینٹنگس تیار کرسکتا ہے جو دیکھنے والوں کو خوش کردیں گی۔ گھر کی زینت بھی بنیں گی اور اسکول کے پرنسپل کے آفس کو سجا کر ہر آنے والے کو آپ کی طرف متوجہ کریں گی اور اس پر لکھا آپ کانام اس بات کی شہادت دے گا کہ آپ اسکول کے سنجیدہ اور ہونہار طالب علم ہیں۔

٭ فارغ اوقات کے لیے ایک اچھا مشغلہ مختلف ملکوں کے ڈاک ٹکٹ، نئے اور پرانے سکے، اخبارات میں شائع کارٹونس جمع کرنا اور دیگر معلومات کو باقاعدہ فائل میں جمع کرنا ہے۔ ٹکٹ اور سکے جمع کرنا مفید مشغلہ ہی نہیں ایک تجارت بھی بن گیا ہے اور ایک قدیم ٹکٹ کی قیمت کڑوروں ڈالر بھی ہوتی ہے۔ لوگ نوادرات کو جمع کرنے میں زبردست تجارت بھی کرتے ہیں۔ اس کا طالب علم کو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اس کے پاس دنیا کے بیشتر ملکوں کی معلومات کا خزانہ جمع ہوجائے گا۔ اس طرح پرانے سکے اس میدان کی زبردست معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ ہوں گے۔ آپ اپنی ان جمع شدہ معلومات کے ذریعہ بہت سے انٹر اسکول مقابلوں میں حصہ لے کر انعامات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

اس میدان کا ایک اہم کام پیڑ، پودوں، جڑی بوٹیوں اور مختلف درختوں کے پتے اور پھولوں کو بھی ایک خوبصورت فائل میں جمع کرسکتے ہیں۔ اس کی ترکیب یہ ہے کہ آپ ایک اچھی سی فائل خریدیں اور جن پتوں، پھولوں اور جڑی بوٹیوں کو آپ حاصل کریں انہیں اس فائل کے ایک ورق پر فیوی کول یا گوند سے چپکا دیں اور اسی کے ساتھ اس کے نام، (مختلف زبانوں میں کیا کیا ہیں) ان کے خواص، استعمالات اور کہاں کہاں اگتے ہیں لکھتے جائیں۔ چند ہی دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ پیڑ پودوں اور پتیوں اور پھولوں کی شناخت میں آپ کو مہارت ہوگئی ہے۔ اسی طرح کس چیز کا استعمال کس مرض میں یا کن حالات میں کیا جاسکتا ہے آپ کو معلوم ہوگا۔ اس طرح آپ اپنے آپ کو معلومات کا انسائی کلوپیڈیا محسوس کریں گے جو دوسرے لوگوں کو پتہ بھی نہ ہوگا۔

٭ چھٹیوں میں ایک اہم اور مفید کام یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ مختلف کیمپوں اور پروگراموں میں شرکت کریں۔ سمر اسلامک کورسز، این سی سی کیمپ، پرسنالٹی ڈیولپمنٹ کیمپس، کمپیوٹر نالج کیمپ، وغیرہ میں شریک ہوکر لطف اندوز بھی ہوسکتے ہیں اور اپنے شخصیت کو نکھار بھی سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ کے شہر یا محلہ میں تعلیم بالغان و بالغات کے سنٹروں میں پڑھانے کے لیے وقت دے کر سماجی خدمات اور جہالت کے خاتمہ میں حصہ داری کرکے اللہ کے بندوں کی خدمت میں شریک ہوکر خود کو ایک نئے تجربہ میں شریک کرسکتے ہیں۔ یہ کام تو آپ خود گھر میں بھی انجام دے سکتے ہیں وہ اس طرح کہ سب بہن بھائی مل کر محلہ پڑوس کی عورتوں اور ان بچیوں کو جو لکھنا پڑھنا نہیں جانتیں اپنے گھر بلا کر پڑھائیں۔ اگر ایک ماہ آپ سنجیدگی سے کوشش کریں تو کئی لوگ آپ کے ذریعہ علم دین اور علم دنیا کی عظیم نعمت سے ہم کنار ہوسکتے ہیں۔ یہ ایسی خدمت ہوگی جو اللہ کی نظر میں بھی آپ کو عظمت عطا کرے گی۔

٭ آج کل ہمارے ملک میں جو تعلیمی نظام رائج ہے اس میں دینیات کی تدریس کو کوئی مقام نہیں دیا گیا ہے۔ اور اکثر طلبہ ایسے ہی اسکولوں میں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ ان طویل چھٹیوں کو آپ اپنی دینی معلومات میں زبردست اضافے کے لیے بھی استعمال کرسکتے ہیں اور کرنا چاہیے۔ دین اسلام جو ہماری دین و دنیا کی زندگی میں کامیابی کا ضامن ہے اس کی معلومات ہمیں کتنی ہیں یہ اہم سوال ہے۔ اور اگر کوئی غیر مسلم ساتھی ہم سے اسلام کے بارے میں کچھ پوچھے تو ہم اسے کچھ بھی بتانے کے قابل نہیں ہوتے یہ عجیب بات ہے کہ ہم مسلمان ہوکر بھی اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

کیا ہی اچھا ہو کہ ہم گرمی کی چھٹیوں میں یہ طے کریں کہ ہمیں اسلام کی بنیادی معلومات حاصل کرنی ہیں۔ اس کے لیے آپ اپنے والدین یا اساتذہ سے مل کر یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ اسلام کے بنیادی عقائد، عبادات اور ہدایات کو جاننے کے لیے کون کون سی کتابوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح آپ قرآن کریم کی کچھ سورتوں کا ترجمہ و تفسیر کے ساتھ مطالعہ بھی اپنا ہدف بناسکتے ہیں اور قرآن کی کچھ صورتوں کو حفظ کرنے کے ساتھ ساتھ احادیث رسول اور سیرت نبویؐ کو پڑھنے کا پروگرام بھی بناسکتے ہیں۔

اگر اس پروگرام پر عمل کرنے میں ہم کامیاب ہوگئے تو دینی معلومات اچھی خاصی ہمارے پاس ہوں گی اور ہم ایک اچھے مسلمان کی سی زندگی گزار سکیں گے۔

٭ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ امتحان ختم ہونے کے بعد گذشتہ سال کے نصاب کو طلبہ ایک طرف پھینک دیتے ہیں اور اس پر نظر ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ صحیح بات یہ ہے کہ گرمی کی چھٹیوں میں اس نصاب پر بھی ایک نظر ڈال لینی چاہیے۔ تاکہ معلومات پختہ ہوجائیں، اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ بارہویں کے بعد جب آپ کو انٹرنس امتحان دینا ہوگا تو الگ سے ان چیزوں کو تیار کرنے کی ضرورت نہ ہوگی کیونکہ اس نصاب کی معلومات تو پہلے سے ہی آپ کے ذہن میں پختہ ہوں گی۔ یہ چیز آگے کے امتحانات میں آپ کی اعلیٰ کامیابی کو یقینی بنانے میں مدد گار ہوگی اور الگ سے تیاری کے لیے وقت درکار نہ ہوگا۔

٭ ہماری بہنیں گرمی کی چھٹیوں میں مختلف سمر کورسز جوائن کرکے نئی نئی گھریلو اور کارآمد چیزیں سیکھ سکتی ہیں۔ وہ کھانے پکانے کے کورسز ، سلائی کڑھائی اور مہندی کے کورسز کے علاوہ عام گھریلو زندگی میں کام آنے والی بہت سی چیزیں سیکھ سکتی ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے