دہلی کا حالیہ فساد

گذشتہ ماہ دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں ہونے والے منظم فساد نے ۲۰۰۲ کے گجرات قتل عام کا منظر ایک بار پھر ملک اور دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ ان فسادات کی اہم صفت یہ ہے کہ گجرات کی طرح یہاں بھی پولیس نہ صرف تماشائی بنی رہی بلکہ اس نے فسادیوں کا پورا تعاون کیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز تو یہاں تک بیان کرتے ہیں کہ دہلی پولیس نے دنگائیوں کی قیادت کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر داخلہ جو براہ راست دہلی پولیس کو کنٹرول کرتے ہیں وہ بھی اس فساد کو منظم اور منصوبہ بند قرار دیتے یں اور اپوزیشن بھی یہی بات کہہ رہی ہے۔ مگر یہ بات سمجھنا آسان نہیں کہ وزارت داخلہ کے نزدیک ان فسادات کا ’منظم‘ ہونا کیا معنی رکھتا ہے، جب کہ اپوزیشن کا ’منظم‘ فساد کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ فسادات مرکز میں برسر اقتدار گروہ کی منصوبہ بند کوششوں کا نتیجہ تھا۔ اگر وزارت داخلہ کے منظم ہونے کا مطلب سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہی بات سامنے آتی ہے کہ وہ مسلمانوں کو بالفاظ دیگر اپوزیشن کو اس منصوبہ بندی کا ذمے دار قرار دیتے ہیں جو ان کے مطابق لوگوں میں CAA، این آر سی اور این پی آر کے سلسلے میں ’’بھرم‘‘ پھیلا رہی ہے۔ اب ملک اس بھرم کی حقیقت سے بھی آگاہ ہو رہا ہے اور ملک کے عوام ہی نہیں دنیا بھر کے لوگ اس کی حقیقت کو سمجھ رہے ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ اس قانون کی دنیا بھر میں مذمت ہو رہی ہے اور اسی طرح ان فسادات کی گونج بھی دنیا بھر میں سننے کو ملی۔

سی اے اے اور این آرسی و این پی آر کے خلاف تین ماہ سے جاری پرامن احتجاجات، جو اپنے آپ میں تاریخ بن رہے ہیں، واضح طور پر یہ بتا رہے ہیں کہ کہیں بھی ان احتجاجیوں نے تشدد کا سہارا نہیں لیا اور جہاں کہیں بھی تشدد ہوا وہ اقتدار کی جانب سے ہوا یا اقتدار کے حامی گروہ کی طرف سے کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد وہیں ہوا جہاں برسراقتدار گروہ نے اسے طاقت کے بل پر کچلنے کی کوشش کی چاہے وہ اترپردیش ہو یا کرناٹک۔ دہلی میں تو یہاں تک لوگوں نے دیکھا کہ ایک نوجوان احتجاجیوں کی بھیڑ میں پولیس کی موجودگی کے باوجود داخل ہوا، اس نے گولی چلائی اور پھر پستول لہراتا ہوا نکل گیا۔ اسے کیا کہا جائے یہ تو قانون اور انتظام کے ذمہ دار ہی بتا سکتے ہیں۔

مشرقی دہلی کے فسادات کا ایک اور تاریک پہلو یہ ہے کہ یہ سب سی سی ٹی وی کیمروں کی نگرانی میں انجام پایا مگر پتہ نہیں ان کیمروں نے فسادیوں کو کیوں نہ دیکھا؟ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پولیس دنگائیوں کا پتہ لگانے اور گرفتار کرنے کے بجائے الٹا متاثرین اور مظلومین ہی کو گرفتار کرنے میں لگی ہے۔وہ لوگ جو فساد بھڑکانے کے کھلے عام ذمے دار ہیں ان تک پولیس پہنچنا ہی نہیں چاہتی شاید اس لیے کہ وہ اقتدار کی ’چھتر چھایا‘ میں جیتے ہیں۔ دنیا خوب اچھی طرح جانتی ہے کہ یہ لوگ کون کون ہیں۔ وہ تو ان کے ناموں اور پروفائل تک سے خوب اچھی طرح آگاہ ہے مگر ان کے خلاف ایف آئی آر تک کرنے سے قاصر ہے۔ یہ سب طاقت و اقتدار کا کھیل ہے۔ دوسری طرف یہ بات بھی حیرت انگیز بلکہ افسوس ناک ہے کہ ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دینے والے ہائی کورٹ کے جج کا راتوں رات تبادلہ ہو جاتا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کسی بھی برسر اقتدار گروہ کے لیے قانون و انتظام کو یرغمال بنانا دشوار نہیں اور جب یہ کام اتنا آسان ہوجائے تو امن و قانون اور عدل و انصاف محض خیال بن کر رہ جاتے ہیں۔

ملک میں فسادات کی قدیم تاریخ ہے۔ یہ تاریخ بتاتی ہے کہ نفرت کی سیاست کرنے والے اور ملک کو مذہبی طبقوں میں بانٹنے کا نظریہ رکھنے والوں کے لیے یہ اسٹریٹجی کافی کامیاب رہی ہے۔ اس میں کسی خاص سیاسی پارٹی کو ہی ذمے دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سیکولر تصور کی جانے والی اور آج کے دور میں سیکولرزم کی دہائی دینے والی سیاسی پارٹیاں بھی شامل ہیں۔ اس دور میں بھی فرقہ وارانہ فسادات ہوتے تھے، مسلمان ہی جانی و مالی نقصان اٹھاتے تھے اور پولیس و پی اے سی کا بھی وہی رول ہوتا تھا جو دہلی میں رہا، مگر صرف ایک بات نہیں تھی اور وہ یہ کہ اس طرح کے بھڑکاؤ بھاشن نہیں ہوتے تھے اور اگر ہوتے تھے تو ان پر ضروری قانونی کاروائی ہوتی تھی۔

اس کا کیایہ مطلب ہے کہ امن و قانون اب کوئی ایسی چیز نہیں رہا جس سے لوگ خوف کھائیں اور جس کا احترام کریں؟ یہ سب سے تکلیف دہ پہلو ہے۔ آج تو یہ نظر آرہا ہے کہ اس اندھی نفرت کا شکار صرف مسلمان ہیں مگر جب یہ اندھی نفرت حد سے بڑھے گی تو کیا مسلمان اور دوسرے کسی گروہ کے درمیان فرق کر پائے گی؟ ہمارا خیال ہے کہ نفرت جب تشدد پر آمادہ کرتی ہے تو وہ اندھی ہوجاتی ہے اور جب یہ اندھی ہوجاتی ہے تو کسی کو نہیں دیکھتی پھر ہر اس فرد اور گروہ کے خلاف ابلتی ہے جو کسی بھی وجہ سے اس کا ہم خیال اور ہم فکر نہ ہو۔

اگر اس حقیقت سے ہم آگاہ ہیں تو پھر ملک کو یہ بات سمجھانا بھی ہماری ذمے داری ہے کہ وہ اس نفرت کے دور رس اثرات، خطرات اور تباہ کاریوں کو سمجھے اور اس کے سامنے بند باھنے کے لیے تیار ہو اس لیے کہ آج نفرت کی آگ میں صرف مسلمان کا گھر جل رہا ہے مگر کل کسی بھی ایسے فرد کا گھر جلایا جاسکتا ہے جو نفرت کے تاجروں کی رائے اور فکر سے اتفاق نہ رکھتا ہو۔lll

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی