4

مٹی کو سونا بنانے والا

اگر شہرکی بھیڑ سے میں بہت دور نکل آیا ہوں تو ضرور ہی کوئی مقصد رہا ہوگا۔شاید خبریں لیکن خبریں تو بھیڑ میں ہی سر اٹھاتی ہیں یہاں تاحدنظر ہرے بھرے کھیتوں کا سلسلہ ہے۔یہاں کائنات بھی وجد میں ہی لگتی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ دھڑکنیں اس فضا میں پوری پاکیزگی اور احترام کے ساتھ جینا چاہتی ہیں۔کہیں کوئی ہم سفر نہیں پھر لگتا ہے کہ ہر ’’لمحہ‘‘ میرے احساس کی انگلیوں کو تھام کر جینا چاہتا ہے۔ جب میرے تنہا کمرے نے مجھے رخصت کیا تو ایسا ہی لگاتھا کہ میں خبریں لے کر دو چار دنوں میں لوٹ آؤں گا لیکن یہاں پہنچ کر نہیں کہہ سکتا کہ میں لوٹ بھی سکوں گا یا نہیں۔

کئی چھوٹے چھوٹے گاؤں سے گزرنے کے بعد میں تھک کر ایک پیڑ کے نیچے بیٹھ جاتا ہوں۔ پاس ہی شفاف پانی زمین سے پھوٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے میں اپنی پیاس بجھانا چاہ رہا تھا کہ دور سے آتے ہوئے ڈھیر سارے بچوں کو دیکھا۔میں رک گیا۔ بچے شاید اسی چشمے کی طرف آرہے تھے۔ اڑتی ہوئی دھول میں سے کچھ واضح نہیں تھا۔ ہاں ان کی کلکاریوں سے موسیقیت ضرور پیدا ہورہی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے بچے بالکل قریب آگئے۔ میں انہیں حیرت سے دیکھتا رہ گیا… اس خوبصورت کائنات میں اس طرح کے منظر کا تصور بھی نہیں کیا تھا میں نے …سبھی بچے اپاہج تھے۔ کسی کے پاؤں نہیں تو کوئی دونوں ہاتھوں سے معذور کسی کے پاس بیساکھی ہے تو کوئی زمین پر گھسٹ رہا ہے۔ کسی کا ہاتھ ہی اس کے لیے پاؤں بھی ہے۔ گرد میں اٹے ہوئے بچے۔ پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس‘ غریب اور مفلوک الحال لیکن آنکھوں میں بلا کی چمک، چہرے سے بہت آسودہ اور اپنی کائنات سے مطمئن بچے۔ میں سمجھ نہیں پارہا تھا کہ تخلیق کو اس روپ میں کیوں رکھا گیا ہے۔اپاہچ اور معذور بچے کس طرح آئے ہیں یہاں…انہیں زندہ بھی رہنا ہے اور یہ زندہ رہنا بھی چاہتے ہیں۔

بچے لوٹ جاتے ہیں۔ میں انہیں دور تک جاتے ہوئے دیکھتا ہوں پھر کچھ سوچ کر ان کے پیچھے ہولیتا ہوں…بچے ایک آشرم میں داخل ہوتے ہیں اس جھونپڑی نما آشرم کے اطراف دور دور تک ننھے ننھے پودوں کی نرسری ہے اس میں ایک بوڑھا شخص پتوں پر جمی گرد کو صاف کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میں اس شخص کے ایک دم قریب پہنچ جاتا ہوں۔ وہ مجھے دیکھ کر کھل اٹھتا ہے۔

’’کہاں سے آئے ہو بابو‘‘

’’جی میں ایک جرنلسٹ ہوں‘‘

’’اچھا…اچھا… کچھ لکھنا چاہتے ہو۔ پہلے بھی کئی لوگ یہاں آچکے ہیں سبھوں کو لگتا ہے کہ اس دور دراز علاقے میں بھلا ایسا آشرم بنانے کی کیا ضرورت تھی اور وہ بھی ایک دم غریب اور اپاہج بچوں کی پرورش کے لیے…اچھا باتیں تو ہوں گی پہلے تم اندر جاکر آرام کرلو۔‘‘

بوڑھا شخص یعنی وہاں کے اجو بابا ایک بچے کو آواز دیتے ہیں بچہ بیساکھی کے سہارے تیزی سے میرے پاس آتا ہے اور مجھے آشرم کے اندر لے جاتا ہے وہاں بچوں کو ایک ماسٹر جی پڑھانے میں لگے تھے۔ ہر بچہ مستحکم ارادے کے ساتھ محو مطالعہ تھا پھر پاس میں ہی ایک بوڑھی عورت پاؤں سے بچوں کو لکھنا سکھارہی تھی۔

ماسٹر جی کو جب فرصت ملی تو انہوں نے مجھے تفصیل سے بتایا کہ پندرہ برس پہلے اجو بابا اور ان کی بیوی سکینہ نے اپنے حصے کی زمین پر کچھ بچوں کی پرورش کے مقصد سے ایک آشرم بنایا۔ اجو بابا اور بی سکینہ کی اس کوشش کو پہلے تو ایک دم پاگل پن کہا گیا۔ اگر صحت مند یتیم اور نادار بچے ہوتے تب تو شاید لوگوں کے بیچ اس بات کو مضحکہ خیز نہیں سمجھا جاتا لیکن انہوں نے اپاہج اور وہ بھی غریب بچوں کی پرورش کا ذمہ لے لیا۔کسی سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا۔ لوگ بچے کو یہاں چھوڑ کر چلے جاتے اور پھر یہ دونوں انہیں جان سے زیادہ عزیز سمجھ کر پرورش کرتے۔ مختلف تنظیموں سے انہیں تعاون کا وعدہ ضرور ملتا لیکن عام طور پر کوئی بھی ان کی مدد فعال ڈھنگ سے نہیں کرتا۔ جب معذور بچوں کی تعداد اس آشرم میں بڑھنے لگی تو اجو بابا اور بی سکینہ کے سامنے محدود آمدنی کی وجہ سے ان کی پرورش کا مسئلہ در پیش آنے لگا۔دونوں اور بھی محنت کرنے لگے لیکن اپنے آشرم میں آئے ہوئے کسی بھی اپاہج بچے کی پرورش سے انکار نہیں کیا۔ انہیں یقین تھا کہ اللہ نے انہیں بھیجا ہے تو کوئی انتظام بھی کردے گا۔ نرسری میں اگائے گئے صحت مند پودوں کے بیچنے سے جوآمدنی ہوتی ہے اسے اجو بابا اور بی سکینہ اس آشرم میں لگادیتے ہیں۔ دھیرے دھیرے گاؤں والوں کو ان کے جنون سے ہمدردی ہونے لگی۔ ماسٹر جی نے مزید کہا کہ میں تو یہاں بس یوں ہی ایک بار ان بچوں کو دیکھنے آگیا تھا مجھے احساس ہوا کہ اجو بابا اور بی سکینہ نے اپنے لیے جینے کا جو مقصد بنالیا ہے کاش اس میں مجھے بھی شامل ہونے کا موقع مل جائے اور آج برسوں گزرگئے ہیں میں ان بچوں کو پڑھاتا ہوں لگتا ہے عبادت کررہا ہوں۔ایک آدی باسی مزدور بھی کسی زمانے میں یہاں آیا تھا، اسے بھی ان بچوں سے ہمدردی ہوگئی اور وہ اسی جگہ باورچی بن کر رہ گیا۔ اس آشرم میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی بچہ بھوکا رہ گیا ہو۔ کبھی کبھی پودے کم بکے تو بی سکینہ نے اپنے زیورات تک بیچے ہیں ان بچوں کی پرورش کے لیے۔

اس گاؤں اور خصوصی طور پر اجو بابا کے آشرم نے مجھے کئی دنوں تک وہاں روکے رکھا۔ اجو بابا فرصت کے اوقات میں مجھے فرداًفرداًہر بچے کے بارے میں بتایا کرتے تھے میرا وہاں رہنا انہیں بہت اچھا لگتا تھا میں ان سے اب سوال نہیں کیا کرتا تھا۔ بس سب کجھ پڑھنے کی کوشش کرتا۔ میں بھول گیا کہ یہاں کس مقصد کے تحت آیا تھا۔ بچوں میں گھل مل گیا۔ اور کوشش تھی کہ جب تک رہوں بچوں کو تعلیم بھی دیتا رہوں۔ میری اس بات سے اجو بابا بہت خوش تھے۔

اسی دوران ملک میں کیا کچھ نہیں ہوا۔ کرفیو، جلوس،نعرے،عبادت گاہوں کی بے حرمتی، معصوم بچوں کا قتل،لیکن اجو بابا کے آشرم میں بھلے ہی اپاہج بچوں کا ہجوم تھا، ان کے پاؤں وقت کی تیز رفتاری کا ساتھ نہیں دے پارہے تھے، چاند ستاروں کو چھونے کے لیے جسم پر نہیں اگے تھے ان کے ہاتھ، لیکن دل کی دھڑکنوں میں بس یہی دھن تھی کہ ننھا رام دین دکھی تو نہیں، سراج بھوکا تو نہیں سوگیا سائمن آج بھی اداس تو نہیں… رات گئے تک اجو بابا کی سنائی ہوئی کہانیوں میں آشرم کا ہر بچہ اپنے آپ کو جیتا ہوا محسوس کرتا تھا۔اجو بابا اور بی سکینہ کی اولادیں، رام دین سراج، سائمن ہریا، موتی، احمد، مرانڈی سبھی گہری نیند میں رہا کرتے تو دونوں دیر تک انہیں ضرور دیکھتے رہتے۔ اکثر ایک بچہ نیند میں سسکنے لگتا تو بی سکینہ اسے کلیجے سے لگالیتیں۔

لیکن نیند میں سسکنے والا بچہ کون ہے؟ وہ رام دین ہے۔ اب وہ سات سال کا ہوچکا ہے صرف دو سال کی عمر میں اس کے والدین اسے یہاں چھوڑ گئے تھے۔ ننھے رام دین کو اجو بابا چھوٹے بابا بھی کہا کرتے تھے۔ اب تو لوگ اس کا اصل نام بھول ہی گئے ہیں۔ اسے چھوٹے بابا کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔ ایک پاؤں اور ایک ہاتھ کے سہارے وہ بہت کچھ کرلیا کرتا ہے۔ بلکہ چھوٹے بابا دوسرے ساتھیوں کو بھی احساس نہیں ہونے دیتا کہ وہ اپنے آپ کو مجبور سمجھیں۔چھوٹے بابا صرف اپنے دل سے بہت مجبور ہیں۔ انہیں یاد ہے کہ ان کے پتا جی تین سال پہلے تک کبھی کبھی انہیں پوچھنے ضرور آجایا کرتے تھے۔ماں ساتھ میں آیا کرتی تھی لیکن پتہ نہیں کیا ہوا کہ تین چار برسوں سے کوئی اس کی خبر لینے کو نہیں آتا۔چھوٹے بابا نے جب اجو بابا کے سامنے یہ مسئلہ رکھا تو ان کا جواب ہوتا کہ جب ہم تمہارے بابا ہیں تو پھر کسی کی کی کیا ضرورت ہے۔ چھوٹے بابا کو اگر دو سال کی عمر میں ان کے والدین یہاں چھوڑ کر چلے جاتے اور پھر کبھی نہ لوٹتے تو شاید وہ نیند میں نہیں سسک رہا ہوتا۔ اکثر والدین اپنے بچوں کو آشرم میں دیکھنے کے لیے آجاتے ہیں، ان کے ساتھ کھیلتے، انہیں اپنے ہاتھوں سے کھلاتے اور پھر چلے جاتے۔ چھوٹے بابا ایک کونے میں بیٹھ کر یہ سب دیکھتے رہتے ایسے میں بی سکینہ ان کو بہلانے کے لیے نرسری میں لے جاتیں اور وہ وہاں بہل جاتے۔ لیکن پھر بھی دل سے مجبور ہیں چھوٹے بابا۔

نیند میں سسکنے والے بچے رام دین عرف چھوٹے بابا میں جب بی سکینہ اور اجو بابا نے میری خصوصی دلچسپی دیکھی تو پتہ نہیں کیوں انہیں دلی خوشی۔ ہوئی ایسا لگا جیسے اچانک کوئی ان کا غم بانٹنے آگیا۔میں نے محسوس کرلیا تھا کہ اس آشرم میں ہر قدم پر کہانیاں بکھری پڑی ہیںبس انہیں اپنے اندر سمیٹنے کی ضرورت تھی… اجو بابا اور بی سکینہ نے آشرم میں ہر کرب کو جھیل لیا ہے لیکن وہ نیند میں سسکنے والے رام دین عرف چھوٹے بابا کے ننھے سے دل کا کیا کریں وہ کب تک اس معصوم کو بہلائیں، ان ہی الجھنوں نے مجھے ان دونوں کے اور قریب لاکرکھڑا کردیا۔ اجو بابا نے ایک روز مجھ سے کہا۔

’’بیٹا… یوں تو مجھے سبھی بچے جان سے زیادہ عزیز ہیں۔ لیکن رام دین میں پتہ نہیں کیا بات ہے کہ میں بہت دیر تک اس کے سامنے خود کو روک نہیں پاتا میں توخود بھی چھلک پڑتا ہوں۔اس آشرم میں سبھی بچے غریبوں کے پریوار سے ہیں۔ ایسے پریوار سے جنہیں دو جون روٹی بھی میسر نہیں۔انہیں لگتا ہے کہ یہاں ان کے بچوں کو کھانا مل جائے گا۔ تھوڑا بہت پڑھ بھی لیں گے۔ ساتھ ہی انہیں میں کچھ ایسا کام سکھادیتا ہوں کہ ایمانداری سے بڑے ہوکر اپنی زندگی گزار سکیں۔کوئی کوئی پریوار تو ایسا بھی ہے جو ایک بار اپنے بچے کو یہاں چھوڑ گیا تو پھر کبھی نہیں آیا۔ میں بھی انہیں اللہ کی امانت سمجھ کر پالتا ہوں۔رام دین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ صرف دو سال کی عمر میں اس کے باپ نے اسے یہاں لاکر چھوڑاتھا۔کچھ روز تک دونوں آتے رہے پہلے ماں نے آنا کم کردیا پھر باپ نے بھی آنا بند کردیا۔ رام دین اداس رہنے لگا تو ایک بار میں خود ہی اس کے والدین کے گھر گیا۔پتہ چلا کہ رام دین کے گھر ایک نئے بھائی کا جنم ہوچکا ہے۔ یہ بچہ ہر اعتبار سے صحت مند تھا۔ رام دین کے والدین کا وقت اب اسی بچے کے ساتھ زیادہ گزراکرتاتھا۔ وہ ایک پریشان خواب کی طرح اپنے اپاہج بچے کو بھول جانا چاہتے تھے۔جب میں نے رام دین کے باپ سے ملاقات کی تو اس نے بہت سرد مہری سے کام لیا۔آشرم میں آنے کا وعدہ تو کیا لیکن دونوں میں سے کوئی بھی نہیں آیا۔ میں اور بی سکینہ رام دین کو بہلاتے رہے لیکن اس کے ننھے سے دل کوبدلنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

جب اجو بابا مجھے رام دین عرف چھوٹے بابا کے بارے میں بتارہے تھے تو سکینہ کے آنچل میں چھپ کر بہ ظاہر سوتا ہوا نظر آنے والا رام دین بغیر بیساکھی کے اٹھ کھڑا ہوا اور پھر تیزی سے کمرے میں رکھے ہوئے اپنے ٹوٹے پھوٹے بکسے سے اپنے باپ کے دیے ہوئے کھلونوں کو نکالا اور پھر پاس میں پڑی ہوئی بیساکھی سے سب کو چور چور کر ڈالا۔ بی سکینہ نے اسے ایسا کرنے سے روکنا چاہا تو اجو بابا نے منع کردیا۔پھر رام دین دیوار کی اوٹ میں جاکر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ بی سکینہ نے چاہا کہ اسے گلے سے لگا لیں لیکن اس لمحے بھی اجو بابا نے اس کے پاس نہیں جانے دیا۔ کچھ دیر بعد خود ہی رام دین بی سکینہ کے پاس آیا اور ان سے لپٹ کر رونے لگا تو اجو بابا کی آنکھیں بھی خود کو نہیں روک سکیں۔ بی سکینہ تو پھوٹ ہی پڑیں۔

شاید یہ اچھا ہی ہوا تھا نیند میں سسکنے والے اس بچے کے ساتھ کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کہ بی سکینہ ننھے رام دین عرف چھوٹے بابا کو اپنے آنچل میں چھپا کر سورہی ہیں۔ اجو بابا پاس ہی میں کھڑے انہیں بہت غور سے دیکھ رہے ہیں کچھ دیر بعد میں نے محسوس کیا کہ بچہ سکون کے ساتھ سورہا ہے لیکن بی سکینہ نیند میں سسکنے لگی ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
قاسم خورشید، پٹنہ