3

موت کی فصل

ابھی صبح کا اجالا پھیلا نہ تھا کہ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۱۸ سالہ بیٹا، ۱۶ اور ۱۳ سالہ بیٹیاں گہری نیند سورہی تھیں۔ بچپن کی نیند بھی عجیب چیز ہوتی ہے۔ وہ صبح کے وقت انھیں اٹھااٹھاکر تنگ آجاتی، تب کہیں جاکر ان کی آنکھ کھلتی۔ لیکن اب تو کتنے مہینے گزرگئے، بچوں نے ایسا کوئی نخرہ نہ دکھایا تھا۔ گزرتے وقت کی گرد کی طرح یہ ناز نخرے بھی پیچھے رہ گئے تھے۔ وہ چپ چاپ ہر بات مانتے چلے جاتے تھے۔ ماں کے ایک حکم پر سوجاتے اور ایک آواز پر اٹھ کھڑے ہوتے۔ راتوں کو سو سو دفعہ تو خوفناک آوازوں، دھماکوں اور بھیانک خوابوں سے آنکھ کھلتی سکون کی نیند سوئے ہوئے بھی ایک مدت گزرچکی تھی۔ ان کے شہر میں بڑی تباہی آئی تھی۔ بچپن سے کہانیاں سنتے تھے کہ بہت دن گزرے جب ایک شہر کا نام فلاں فلاں تھا۔اس شہر میں ایک دن ایک شہزادہ راستہ بھٹک کر آنکلا۔ اس نے دیکھا کہ لوگ سخت پریشان اور بے حد چپ چاپ ہیں۔ اس کے استفسار پر بتایاگیا کہ اس شہر میں ہر سال ایک بلا آتی ہے اور پورے شہر میں تباہی مچاکر چلی جاتی ہے۔ یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ وہ بلا جسے شہزادے نے بہت بڑا آئینہ رکھ کر ختم کردیا تھا، ابھی تک زندہ تھی۔ آج کل وہ اس شہر پر نازل ہوچکی تھی۔ اس کی پھنکار اور سانس کے شعلوں سے پوری آبادی آگ میں جل رہی تھی۔یہ محلہ ابھی تک محفوظ تھا جو لوگ بچ گئے تھے ان میں سے بہت سے لوگ تو جہازوں میں بھر بھر کے ملک سے باہر بھجوادیے گئے اور بہت سے لوگوں کے لیے یہاں ایک کیمپ بنادیا گیا تھا۔ وہ بے شمار بچے، بوڑھے، عورتیں اور بیمار لوگ، دکھ،خوف اور پریشانی میں مبتلا پڑے ہوئے تھے۔ یہ محلہ مکمل طور پر مسلمانوں کا تھا۔ یہاں بھی لوگ بے یقینی اور موت کا شکار تھے۔ وہ کسی بھی وقت گولیوں اور بموں کا نشانہ بن سکتے تھے۔

یوں تو ہر صبح کا آغاز وسوسوں اور اندیشوں سے ہی ہوتا تھا لیکن اس دن جب اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا تو اسے دور سے کچھ گرد سی اڑتی نظر آئی۔حالانکہ یہ گرد عام گاڑیوں کی بھی ہوسکتی تھی لیکن وہ ایک دم ڈر گئی۔ اس نے سوچا کہیں یہ ٹینک تو نہیں آرہے ؟ پھر اپنے اوپر لاحول پڑھ کر اس نے اپنے سرکو جھٹکا اور اپنے کاموں میں لگ گئی۔

دن کافی چڑھ آیا تھا۔ اس نے سب بچوں کو جگایا۔ وہ چیزیں جو پہلے زندگی کا لازمہ سمجھی جاتی تھیں اب یکسر بے کار اور فضول لگنے لگی تھیں۔ کئی کئی دن تک کپڑے بدلنے کا خیال نہ آتا۔

دن کو جو لباس پہنا جاتا۔ اسی میں رات بھی گزرجاتی۔زندگی برقرار رکھنے کو کھانا یوں ہی زہر مارکیا جاتا اور کوئی یہ نہ کہتا کہ آج کھانا بد مزہ ہے یا لذیذ ہے۔ باہر پھیلی ہوئی دھوپ کو دیکھ کر اس نے اپنے بیٹے خالد کو جگایا تاکہ وہ ناشتہ کرکے کچھ روزی رزق کا بندوبست کرے اور رراشن لاکر گھر میں رکھ لے۔ بے یقینی کے اس زمانے میں کون جانے کل کیا ہونے والا ہے؟

بھائی کی آوازیں سن کر دونوں لڑکیاں بھی اٹھ بیٹھیں۔چھوٹی لڑکی لیلیٰ نے چھوٹی سی فراک پہنی ہوئی تھی۔ اس کی آستینیں نہیں تھیں۔سنہرے اور گھونگھریالے بال گردن سے اوپر تھے۔ لمبی لمبی ٹانگیں کسی پیرہن سے بے نیاز تھیں۔ اس نے اٹھ کر بے دلی سے منہ پر دوچھینٹے مارے۔دانتوں کو یوں ہی انگلی سے صاف کیا اور بھوک سے بیتاب جلدی جلدی باورچی خانے کو چل دی۔بڑی لڑکی کا نام شیبا تھا۔ وہ آدھی آستین کا بلاؤزاور منی اسکرٹ پہنے ہوئے تھی۔ٹانگیں اس کی بھی برہنہ تھیں۔ماں نے ایک رنگین اور چھپی ہوئی امریکن شرٹ اور جینز پہن رکھی تھی۔وہ چولہے کے پاس کھڑی ناشتہ بنارہی تھی۔وہ بے حد خاموش اور کھوئے کھوئے کچھ سوچے جارہی تھی۔بچوں نے وہیں کھڑے کھڑے ناشتہ کیا۔کافی کا ایک ایک کپ پیا اور ماں کے ساتھ مل کر باورچی خانہ صاف کرنے لگے۔ماں نے کہا۔

’’شیبا!گھر میں کھانے کا اکثر سامان ختم ہوچکا ہے۔تم ذرا سب جگہ دیکھ لو کہ گھر میں کون کون سی چیز ختم ہے اور ایک لسٹ بنادو تاکہ خالد یہ چیزیں بازار سے لے آئے۔‘‘ پھر وہ ٹھنڈی سانس بھر کے بولی۔ ’’کیا معلوم کل کیا ہوجائے؟‘‘شیبا بولی۔

’’ماں تم خالد کو باہر کیوں بھیج رہی ہو؟ تمہیں پتا نہیں آج کل شہر کے حالات اچھے نہیں ہیں۔‘‘

آخری لفظ ابھی اس کے منہ میں ہی تھا کہ ایک دھماکے کی آواز آئی۔وہ اس آواز سے بخوبی واقف تھے۔ یہ بم کا دھماکہ تھا۔پھرگولیاں چلنا شروع ہوگئیں۔وہ سہم کر ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ماں نے کانپتے ہوئے لہجے میں کہا۔

’’سب کھڑکیاں دروازے بند کردو۔وہ آگئے۔وہ درندے آگئے۔جلدی کرو۔شاید ہم کسی طرح بچ جائیں۔ یااللہ ہمیں بچالے۔یا اللہ!‘‘کوئی بچہ اس سے جدا ہونے کو تیار نہ تھا۔آخر وہ سب مل کر ایک ایک کھڑکی اور دروازے تک جاتے اور اسے اچھی طرح بند کرکے پردے آگے کردیتے تاکہ باہر سے کچھ دکھائی نہ دے اور باہر کی آوازیں ان تک کم سے کم پہنچیں۔

گولیوں اور بموں کی آوازیں وقفہ وقفہ سے آرہی تھیں۔بموں کے دھماکوں سے اور عمارات کے گرنے سے ان کا گھر بھی ہل رہا تھا۔ان کو کوئی محفوظ جائے پناہ نہ مل پارہی تھی۔ یہ ایک عام سا گھر تھا۔ اس میں کوئی تہ خانہ بھی نہ تھا۔ کوئی خندق نہ تھی۔بالکل چھوٹا سا گھر تھا البتہ پچھلی طرف ایک کمرہ تھا جو نسبتاً محفوظ تھا۔ اس میں ایک روشن دان کھلا ہوا تھا۔ وہاں سے باہر کے حالات کا خاصا اندازہ ہورہا تھا۔اتنی کھلی اور سنہری دھوپ میں بھی دن کی روشنی سنولا رہی تھی۔ یہ سنولاہٹ گھروں سے اٹھنے والے دھوئیں کی تھی۔

بچے اب کوئی کام کرنے کو تیار نہ تھے۔ماں کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔اس کو معلوم نہ تھا کہ باہر کیا ہورہا ہے اور کون کسے مار رہا ہے لیکن دھماکوں کا اس قدر قریب ہونا یہی ظاہر کررہا تھا کہ اس دفعہ تختہ مشق اس کا محلہ ہی ہے۔ اس لیے خوفزدہ ہونا یقینی بات تھی۔ وہ اپنا خدشہ بچوں پر بھی ظاہر نہ کرسکتی تھی۔ ان کے چہرے تو پہلے ہی سے فق تھے۔ وہ خاموشی سے ایک کرسی پر جابیٹھی اور جتنی دعائیں اسے یاد تھیں، دہرانے لگی۔اس نے سوچا کہ بچوں کو بھی دعا مانگنے کو کہے لیکن اس نے ان کو کب نماز سکھائی اور دعائیں یاد کرائی تھیں۔اس کسمپرسی کے عالم میں اس کے بچے دعا جیسے ہتھیار سے بھی تہی دست تھے۔ لیلیٰ نے پوچھا۔

’’ماں تم کیا بول رہی ہو؟ سنائی نہیں دے رہا۔‘‘

’’بیٹے!میں اللہ سے امن و سلامتی کی دعا مانگ رہی ہوں۔تم بھی اللہ تعالی سے دعا مانگو۔‘‘

لیلیٰ کچھ نہ بولی اور سوچتی رہی۔اس کادل اندر ہی اندر خوف سے کانپ رہا تھا۔ اس وقت اس کا دل چاہا کہ کسی عظیم نادیدہ ہستی کو پکارے۔اپنا دکھ کہے اور مدد کی التجا کرے۔ اس نے ماں سے پوچھا۔

’’کیسے دعا مانگوں؟‘‘

’’بولو!اے پروردگار ہمیں اس اذیب اور کرب سے نجات دے۔ہمیں زندگی عطا فرما۔ ہمیں موت سے بچالے۔‘‘ وہ سب آہستہ آہستہ یہی الفاظ دہرانے لگے۔

باہر وقفہ وقفہ سے گولہ باری اور فائرنگ ہورہی تھی۔انسانی چیخوں کا شور بھی سنائی دے رہا تھا۔خالد کو ایک جھرجھری سی آگئی اور اس نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔

کافی دیر تک انہیں کوئی دھماکہ سنائی نہ دیا۔ غالباً حملہ آور چلے گئے تھے۔ ماں نے سوچا کسی کھڑکی یا دروازہ سے باہر دیکھنا چاہیے کہ کیا ہورہا ہے لیکن سہمے ہوئے بچے گھٹی گھٹی آواز میں چیخ پڑے۔

’’ماں کوئی کھڑ کی نہ کھولو۔کوئی دروازہ نہ کھولو۔ وہ ہمیں دیکھتے ہی مار ڈالیں گے۔‘‘

’’ماں!یہ ہمیں کیوں مار ہے ہیں؟‘‘شیبا نے پریشان ہوکر سوچا اور بول پڑی۔

’’ہم مسلمان ہیں اس لیے انہیں مسلمانوں سے دشمنی ہے۔‘‘

یہ بات اس بے چینی اور خوف کے عالم میں بچوں کی سمجھ میں نہ آئی۔ شیبا کے منہ سے نکلا۔

’’مسلمان ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ہم سب ایک ہی جیسے ہیںنا۔ چاہے مسلمان کہہ دو چاہے عیسائی۔‘‘

خالد نے کہا:’’اور کیا! ہم نے بھلا کیا قصور کیا ہے؟ کسی کا کیا نقصان کیا ہے؟ جو یہودی اور عیسائی مل کر مسلمانوں کو قتل کررہے ہیں۔‘‘

ماں چپ ہوگئی۔لیکن یہ اذیت ناک خاموشی اور طویل اور صبر آزما انتظار سخت تکلیف دہ تھا۔ کچھ دیر بعد ماں نے پھر اپنا ارادہ ظاہر کیا۔

’’دیکھو بیٹے! حالات کا اندازہ کرنا بھی تو ضروری ہے نا! آخر ہم کب تک یوں اندھوں کی طرح بے خبر اور غیبی موت کے انتظار میں خوفزدہ بیٹھے رہیں گے۔اچھا دیکھو! ہم دروازہ نہیں کھولتے۔ لیکن کھڑکی کی ذراسی جھری بناکر تو دیکھیں کہ باہر کیا ہورہا ہے؟‘‘

تینوں چپ رہے۔

’’اچھا اب گھبراؤ نہیں۔اٹھو اور آؤ میرے ساتھ۔ بالکل چپکے سے۔ جوتے اتاردو۔بے آواز چلنا۔کوئی چھینکنے یا کھانسنے کی آواز نہ آنے پائے۔ ہم بے حد خاموشی سے سب کام کریں گے۔‘‘

خالد نے بے بسی سے بہنوں کی جانب دیکھا پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ لیلیٰ اور شیبا بھی اٹھیں جوتے اتار کر ایک طرف رکھے اور خاموشی سے ماں کے ہمراہ ہولیں۔ بلی کی طرح دبے پاؤں چلتے ہوئے وہ باہر کے کمرے کی طرف آئے۔ اس کی ایک کھڑکی گلی میں کھلتی تھی۔ ماں نے بڑے آہستگی سے اس کی چٹخنی گرائی اور ذرا سا پٹ کھولا۔گلی دور تک ویران اور سنسان نظر آرہی تھی۔اچانک انہوں نے اپنے دم سادھ لیے۔ گلی کا ایک کونہ، جو انہیں بخوبی نظر آرہا تھا۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ بہت سے سپاہی کئی گھروں کے تالے تعوڑ کر اندر داخل ہوگئے اور ان کے ہاتھوں میں سنگینیں اور مشین گنیں تھیں۔ اسی لمحے ایک بوڑھا شخص چھپتے چھپاتے گلی میں نمودار ہوا۔ ایک اور سپاہی جو دوسری طرف کھڑا تھا، اس پر جھپٹ پڑا اور بڑے پھل کے لمبے خنجر کے پے درپے واروں سے اس کا کام تمام کردیا۔

ماں نے ایک سسکی لی۔ ہونٹوں کو دانتوں میں دباتے ہوئے کھڑکی کو بند کردیا۔وہ پلٹی تو تینوں بچوں کی آنکھوں میں بے پناہ خوف، ڈر اور آنسو تھے۔ اس نے اپنے آنسو پونچھ کر ان تینوں کو اپنے ساتھ چمٹا لیا۔

’’چلو اندر۔‘‘ اس نے سرگوشی میں کہا۔’’جلدی کرو۔اندر چلو۔وہ ایک ایک گھر میں گھس کے لوگوں کو مار رہے ہیں۔ یا اللہ ہماری مدد کر۔ خدایا ہمیں بچالے۔‘‘

کمرے میں پہنچ کر چند لمحے وہ یوں ہی چپ چاپ کھڑے رہے پھرماں نے کہا۔

’’ وہ ہمیں پورے گھر میں تلاش کریں گے۔ ایک ایک کمرہ دیکھیں گے۔ ہم کہاں جائیں۔ کہاں چھپیں؟‘‘

بچوں کی زبانیں شدتِ خوف سے گنگ ہوچکی تھیں۔بس وہ پھٹی پھٹی نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔موت سے فرار اور زندگی کے حصول کے لیے بھی ان میں کچھ سوچنے کی صلاحیت نہ رہی تھی۔ ماں نے کمرے میں نظر دوڑائی۔ ایک کونے میں ایک پلنگ پر بے شمار چیزیں پڑی تھیں۔ فالتو بستر، میلے کپڑے، چادریں، تکیے، کتابیں اور بہت کچھ۔بے یقینی،خوف اور پریشانی کے گزشتہ دنوں میں وہ گھر کی صفائی ستھرائی سے بھی لاپرواہوگئی تھی۔ یہ کاٹھ کباڑ اسی لیے یہاں جمع ہوگیا تھا۔ یکایک اس کے ذہن میں ایک کوندا سا لپکا۔

’’ہاں یہ ٹھیک ہے۔ خالد!شیبا!لیلیٰ!آؤ ہم سب ان بستروں کے نیچے چھپ جاتے ہیں۔ وہ لوگ آئیں گے، سارے کمرے دیکھ کر چلے جائیں گے۔ میرا خیال ہے کہ وہ اس کاٹھ کباڑ میں الجھنا پسند نہیں کریں گے۔‘‘

سب کو یہ تجویز پسند آئی۔ فوراً ان کپڑوں اور بستروں کے ڈھر میں گھس گئے۔ جب وہ تینوں اچھی طرح چھپ گئے تو ماں کو اطمینان ہوگیا اور وہ بھی چھپنے لگی۔

’’ماں‘‘ خالد نے ہولے سے پکارا۔ ’’دروازہ تو بند کردو۔‘‘

ماں نے ایک لمحہ کو سوچا پھر بولی۔

’’نہیں بیٹے، کھلا رہنے دو۔انھیں کسی حفاظت اور انتظام کا شبہ نہ ہی ہو تو اچھا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ بھی اندر گھس گئی اور اپنے آپ کو اچھی طرح چھپالیا۔

’’کسی کی کوئی آواز نہ نکلے۔ بالکل خاموش!‘‘ اس نے ایک دفعہ پھر ہدایت دی۔

انتظار کا آدھا گھنٹہ قیامت کی آدھی صدی بن کر گزرا۔ اچانک انہیں باہر والے دروازے کو کھٹکھٹانے کی آواز سنائی دی۔ پھر چند لمحوں کے بعد دروازہ کھلا اور بہت سے فوجی بوٹوں کی دھمادھم کی آواز آئی۔ کلیجے اچھل کر حلق میں آگئے۔موت کا خوف گلا گھونٹنے لگا۔ وہ دم سادھے ہوئے پڑے تھے۔ فوجیوں نے سب کمرے دیکھے۔ آخر میں وہاں بھی آئے۔ کمرے میں داخل ہونے کی آواز آئی تو ان کی جانیں خوف کے مارے نکلنے لگیں۔ دل ایسی تیزی سے دھڑکے کہ گویا ابھی وہ پسلیاں توڑکر باہر آگریں گے۔ تینوں بچوں اور ماں کی آنکھوں سے روئے بغیر آنسو تیزی سے بہنے لگے۔ انہوں نے اپنے مونہوں میں کپڑے ٹھونس لیے تاکہ کوئی آواز نہ نکلے۔ لیکن کان تو کھلے ہوئے تھے انہوں نے سنا فوجی آپس میں کہہ رہے تھے۔

’’یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے۔ پتا نہیں کہاں گئے سب لوگ۔‘‘

’’چلو بھئی چلیں۔خواہ مخواہ اتنا وقت ضائع ہوا۔ اتنی دیر میں ہم ایک گھر اور نمٹالیتے ہیں۔‘‘

’’چلو آؤ چلیں۔‘‘

پھر واپسی کی آوازیں آئیں۔باہر کا دروازہ دھڑ سے بند ہوا۔ ماں نے ڈرتے ڈرتے گردن باہر نکالی۔ آہستہ سے باہر نکل کر بیرونی دروازہ دوبارہ بند کیا اور کمرے میں واپس آئی تو نڈھال ہوکر دہلیز پر ہی بیٹھ گئی اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ وہ جس اذیت ناک انتظار اور کرب سے گزر کر آئی تھی، اس نے اس کی ہڈیوں کا سرمہ بنادیا تھا۔ اسے یوں لگ رہا تھا کہ اس میں اب جان باقی نہیں رہی۔ بچے بھی آہستہ آہستہ نکل کر باہر آگئے اور ماں سے لپٹ کر رونے لگ گئے۔ زندگی بچ جانے کی خوشی تو ضرور تھی لیکن یہ ادھوری اور غیر یقینی خوشی تھی۔ کچھ پتا نہ تھا کہ کوئی دوسرا گروہ آجائے اور بچائی ہوئی زندگی چھین کرلے جائے۔

شام تک انہوں نے نہ کچھ کھایا نہ پیا اور نہ ہی آپس میں کچھ بات چیت کی۔ یوں لگتا تھا کہ سب ضرور تیں ختم ہوگئیں۔زندگی بچ گئی، بس یہی کافی ہے۔ نیند آئی تو وہیں بیٹھے بیٹھے ایک دوسرے کے ساتھ لگے ہوئے، سوگئے۔ سونے سے پہلے ماں نے ایک مرتبہ پھر سوچا۔

’’پتا نہیں ہم یہاں سے کیسے نکلیں گے؟ کون جانے باہر کیا کیا بلائیں ہماری منتظر ہیں۔‘‘

صبح جب سورج نے لبنان کی پہاڑیوں سے سر نکال کر بیروت کے ساحلوں کو جھانکا تو زمین سے اٹھنے والے دھوئیں نے اس کی کرنوں کا راستہ روک لیا۔ اس کی ملگجی اور دھواں دھواں کرنیں روشندان کے راستے ان کے چہروں پر پڑیں تو وہ جاگ اٹھے۔ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور زندہ دیکھ کر مسکرادیے۔ یہ لوگ کل سے بھوکے تھے۔ چوبیس گھنٹے ہوچکے تھے، انھیں بھوک اور شدید خوف برداشت کرتے ہوئے۔ باہر دھوئیں کے بادل یہ بتارہے تھے کہ حملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ گاہے گاہے سٹین گنوں کی آوازیں بھی آجاتی تھیں۔ خالد نے ماں سے پوچھا: ’’ماں جنگ تو فوجوں کے درمیان ہوتی ہے میدانِ جنگ میں۔ یہ فوجی شہر میں کیوں گھس آئے؟‘‘

’’ہماری شامتِ اعمال ہے اور کیا ہے۔ ہم نے اسی دن کے ڈر سے اپنے سارے طریقے بدل ڈالے ہیں۔ بالکل ان کے رنگ میں رنگ گئے۔ لیکن ان کے دل سے دشمنی کی آگ نہیں بجھی۔ ان کو جب موقع ملتا ہے اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈا کرنے کو مسلمانوں کا خون بہاتے ہیں۔‘‘

’’مگر یہ کون سی بہادری ہے۔ گھروں میں گھس کے بچوں کو مارنا۔ اس طرح سے تو کوئی بھی نہیں مارتا۔‘‘

’’مارتے ہیں بیٹے مارتے ہیں۔جب انسان وحشی درندہ، شیطان بن جائے تو وہ سب کجھ کر گزرتا ہے۔ تم نے تاریخ عالم نہیں پڑھی؟ تمہیں غرناطہ کا انجام نہیں یاد؟ ہلاکو خان کی تباہ کاریاں بھول گئے؟‘‘ وہ چپ ہوگیا۔ پھر بولا: ’’ہاں! یہ نئے زمانے کے ہلاکو خان ہیں۔ جدید ترین ہتھیاروں، چالاکیوں اور دھوکہ بازیوں سے مسلح!‘‘

ماں خاموش رہی۔اس کے ذہن میں ایک دھماکا سا ہوا۔ ان کو ہلاکو، چنگیز خان بتارہی ہے۔ خود کیا ہے؟ شامتِ اعمال میں گھرے ہوئی خدا کے نافرمان! انہوں نے خدا کو بھلایا۔ اللہ نے ان کو بھلادیا۔ انہوں نے اپنی پہچان گم کی خدا نے ان سے غلبہ و برتری واپس لے لی۔ خدا کے راندہ درگاہ، ناپاک و ہوس کار۔ زمین کے ناسور اور کینسر۔ ناکارہ اور تکلیف دہ چیز کاٹ کر پھینک دی جاتی ہے۔ پاک زمین کی صفائی کے لیے یہ آپریشن ہورہا ہے۔ ہمیشہ ہوا ہے۔ آج بھی ہورہا ہے۔ عیسائی ملیشیا ان پر خدا کا قہر اور عذاب کا کوڑا بن کر برس رہی ہے۔ ’’اے اللہ مجھے معاف کر دے۔‘‘ اس نے دل ہی دل میں دعا مانگی۔ ’’میں نے اپنی شناخت کی چادر اتار کر عیسائیوں کا چولا پہنا۔ آج وہی عیسائی اس چولے کی سزادینے آرہے ہیں۔ اس چولا بدلنے نے عذاب ٹالنے کی جگہ عذاب کا مستحق بنادیا۔‘‘ آنسوؤں سے حلق کڑواہورہا تھا اور ہوٹ نمکین۔ پچھتاوے دل کا قیمہ بنارہے تھے۔ وہ صدیوں پیچھے کی سوچوں میں گم تھی۔

لیلیٰ سب سے چھوٹی تھی اور خوفزدہ بھی سب سے زیادہ تھی لیکن بھوک کا اظہار بھی سب سے پہلے اسی نے کیا۔ وہ چاروں چپکے چپکے چلتے ہوئے باورچی خانے میں آئے۔ کھانے پینے کی اکثر چیزیں ختم تھیں۔ تھوڑا سا خشک دودھ اور کافی تھی۔ کچھ بسکٹ پڑے ہوئے تھے اور ڈبل روٹی کے چند ٹکرے۔ پانی کے لیے نل کھولا تو اس میں سے پانی نہ آیا۔ ماں نے حیرانی سے اسے دیکھا اور پھر بے بسی سے رودی۔ شیبا نے فرج کھول کر دیکھا۔ ایک بوتل پانی سے بھری ہوئی رکھی تھی۔ اس سے انہوں نے کافی بناکر پی اور ساتھ ایک ایک سوکھا توس کھالیا۔ برتن وہیں رہنے دیے۔ پانی تو تھا نہیں، دھوتے کس سے؟

آج تیسرا دن تھا اور وہ یوں ہی اپنے گھر میں محصور تھے۔ کل سے کھانے کو بھی کچھ نہ تھا۔ پانی کی بوتل کب کی ختم ہوچکی تھی۔ بمشکل تمام غسل خانے سے تھوڑا سا پانی مزید میسر آیا تھا۔ اب وہ بھی ختم تھا۔ سب بھوک اور پیاس سے نڈھال پڑے تھے۔ خوف اور دہشت اس پر مستزادتھی۔ گولیوں اور بموں کی آوازیں اب بھی آرہی تھیں۔ انہوں نے کئی دفعہ ایک دوسرے سے پوچھا۔

’’یہ حملہ کب ختم ہوگا؟‘‘

’’بھاری گاڑیوں کے گزرنے کی آوازیں بھی آتی تھیں جو یقینا فوجی گاڑیاں تھیں اور ٹینک تھے۔ آج ان مخصوص آوازوں سے مختلف آواز اور بھی آرہی تھی۔ اس قیدوبند میں ان کے سننے کی اور محسوس کرنے کی صلاحیت نہایت لطیف اور حساس ہوگئی تھی۔ مختلف آوازیں پہچان لیتے تھے۔ ماں نے دہشت زدہ انداز میں کہا۔

’’یہ تو بلڈوزر کی آواز لگ رہی ہے۔‘‘

کچھ عرصہ قبل اس نے ایک بلڈوزر ڈرائیور کی حیثیت سے کئی ماہ کام کیا تھا۔ اس لیے اسے اپنے خیال کے بارے میں قطعی کوئی شک نہ تھا۔ وہ بخوبی یہ آواز پہچان سکتی تھی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور زاروقطار رونے لگی۔ تین دن سے وہ سولی پر لٹکے ہوئے تھے اور موت تھی کہ آہی نہ چکتی تھی۔ انتظار کرتے کرتے اعصاب ریزہ ریزہ ہوچکے تھے۔ دل اتنا کمزور ہوگیا تھا کہ ہلکی سی آواز پہ بھی رونا آجاتا۔ آزمائش کی گھڑیاں بہت طویل تھیں۔

بلڈوزر کی آواز وقفے وقفے سے آتی اور پھر رک جاتی۔ کبھی قریب سے آتی اور پھر دور ہوجاتی۔ ان کا گھر محلے کے بیچ میں تھا اگر کنارے پر ہوتا تو اب تک اس کرب و اذیت سے آزاد ہوچکے ہوتے۔ لیکن ان کے مقدر میں خوف، اذیت، انتظار اور زندگی لگی ہوئی تھی۔ خدا کی ذات نے معجزہ دکھایا کہ اس بستی میں سے جہاں اب ایک بھی ذی نفس زندہ نہ تھا۔ اس خاندان کو بچالیا۔

اگلے دن سورج چڑھے، جب وہ بھوکے پیاسیے نڈھال زمین پر پڑے تھے تو کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ ماں ایک دم روپڑی۔ بچے بھی رونے لگے۔

’’وہ آگئے ہیں۔وہ پھر آگئے ہیں۔ اب کے وہ ہمیں زندہ نہ چھوڑیں گے۔ اف ہم کیا کریں۔ اب کیا کریں۔ چلو آؤ ہم پھر چھپ جاتے ہیں۔ چلو جلدی کرو۔‘‘مارے نقاہت کے کسی سے اٹھا نہ گیا۔ پھر بھی زندگی کی محبت انہیں حرکت پر مجبور کررہی تھی۔ اتنے میں دروازہ کھول لیا گیا اور چند آدمی ماسک پہنے ہوئے اندر آگئے۔ وہ چاروں بری طرح سے چینخ پڑے۔روتے روتے جو کچھ ان کے ہاتھ میں آیا، انہوں نے اٹھاکر نوواردوں پر پھینکنا شروع کردیا۔آنے والوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پھر ہاتھ اٹھاکر انہیں روکا۔ایک آدمی نے زور سے کہا۔

’’ہم تمہارے دشمن نہیں ہیں۔ ہم تمہاری جان بچانے آئے ہیں۔‘‘ ماں نے دیکھا ان کی وردیوں پر ریڈ کراس کا نشان تھا۔ اس کا ہاتھ یکدم رک گیا۔ آنسو پونچھتے ہوئے اس نے بچوں کو روکا اور حیرت سے پوچھا۔

’’کیا واقعی آپ ہمیں بچانے آئے ہیں؟‘‘

’’جی ہاں محترمہ۔ اب آپ خوفزدہ نہ ہوں۔ آپ ہماری حفاظت میں ہیں۔‘‘

’’اوہ؟‘‘ خالد نے سہمی ہوئی آواز میں پوچھا۔ ’’وہ کہاں ہیں؟ وہ جو ہمیں مارنے آئے تھے للہ ہمیں بچالیجیے۔ وہ ہمیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔‘‘

اس آدمی نے اسے اپنے ساتھ لگالیا۔ کمر پر تھپکی دیتے ہوئے بولا۔

’’حوصلہ رکھو۔اب کوئی تمہیں کچھ نہیں کرسکتا۔ آئیے محترمہ! آؤ بچو! چلیں، ہم آپ کو محفوظ جگہ پر پہنچادیں گے۔‘‘

ان چاروں پر تو عجب کیفیت طاری تھی۔ شیبا نے پوچھا۔

’’اور کون کون لوگ بچ گئے؟‘‘

آدمی نے غم اور مایوسی سے سرہلایا اور بولا۔

’’ابھی کچھ پتا نہیں۔آپ لوگوں کے سوا ابھی ہم نے اور کسی کو زندہ نہیں دیکھا۔‘‘

’’واقعی!‘‘ دوسرا آدمی بولا۔ ’’بلکہ ہم تو آپ کو زندہ سلامت دیکھ کر متعجب ہیں۔‘‘

پہلے آدمی نے ہدایت کی۔

اپنے ساتھ بڑے رومال لے لیں اور ناک پہ رکھ کے ہمارے ساتھ چلیں۔ باہر لاشیں گل سڑرہی ہیں۔جراثیم سے بچاؤ کے لیے ایسا کرنا ضروری ہے۔‘‘

حالات کا پتا چلا تو ان کی آنکھیں پھر سے برسنے لگیں پہلے صرف اپنی فکر تھی۔ اب دوسروں کے درد سے دل پھٹے جارہے تھے۔ راستوں سے گزرتے ہوئے انہوں نے ہر جگہ لاشیں دیکھیں ریڈ کراس کے رضاکار انہیں سمیٹ رہے تھے۔ جگہ جگہ لاشوں کے ڈھیر لگ چکے تھے۔ جیسے کسان فصل کاٹ کر ڈھیر لگاتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں موت کی فصل کاٹ کر کھلیان لگائے تھے۔

شیئر کیجیے
Default image
سمیعہ سالم

تبصرہ کیجیے