3

جب ماں تھک جائے

تھکی ماندی ماں نہ صرف اپنے لیے ہی بلکہ اپنے لواحقین اور اپنے خاندان کے لیے بھی وبال جان ہے۔ لیکن فی زمانہ تھکی ہوئی مائیں بے شمار ہیں۔ تمام دن کے کام کاج کے بعد تکان محسوس کرنا قدرتی امر ہے۔ لیکن وہ تکان جو صبح ہوتے ہی ماں کا تعاقب کرنے لگتی ہے اور سارا دن اسے گھیرے رکھتی ہے، نہایت مذموم اور تلخ نتائج کی حامل ہوتی ہے۔

ایسی مائیں بر وقت آرام کرنے سے تکان کی صعوبت سے بچ سکتی ہیں وہ اس طرح کہ دوپہر کے وقت تھوڑی نیند لے لیں یا سارے دن میں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد کچھ دیر کے لیے کئی مرتبہ آرام کیا کریں۔ تھوڑی دیر سے مراد دس پندرہ منٹ ہے اور یہ آرام اتنی مرتبہ کیا جائے جتنی مرتبہ کوئی اس کی ضرورت محسوس کرے۔ دو مرتبہ صبح کے وقت دو مرتبہ بعد دوپہر اور ایک مرتبہ رات کے کھانے کے بعد آرام کرنا تکان کو دور رکھ سکتا ہے۔

آرام کرنے کا بہترین طریقہ بستر پر دراز ہونا ہے۔اگرہوسکے تو منہ کے بل لیٹا جائے کیونکہ چت لیٹنے سے پشت کے پٹھے لمبے ہوجاتے ہیں اور سامنے کے پٹھے سکڑے رہتے ہیں اگر ایسا کرنا ممکن نہ ہو تو آرام کرسی پر اوٹ لگاکر بیٹھے رہنے سے ہی مقصد پورا ہوسکتا ہے۔

اپنی آنکھوں کو بند کرکے چپ چاپ بیٹھے رہنا بھی فائدہ مند ہے اس وقت کسی قسم کا کوئی بھی خیال دل میں نہ لایا جائے اور نہ ہی کسی معاملہ کے متعلق سوچاجائے بلکہ اگر نیند نہ آتی ہو تو سونے کی کوشش بھی نہ کریں۔حقیقی معنوں میں آرام وہی ہے جس کے لیے کسی قسم کی کوشش نہ کرنی پڑے۔ آرام کوشش کرنے سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ ممکن ہے جب آپ پہلے پہل اس قسم کی کوشش کریں تو آپ کو کوئی تکلیف محسوس نہ ہو، بلکہ آپ کو نیند بھی آجائے۔ لیکن ایساکرنے سے جب دس پندرہ منٹ کے بعد جاگیں گی تو اپنی طبیعت کو نڈھال اور پژمردہ محسوس کریں گی۔ پھر بھی اس کی چنداں پرواہ نہ کریں۔ جب فرصت ہو پھر آرام کریں۔ آرام کرنا بھی ایک ہنر ہے، جو سیکھے بغیر آنہیں سکتا۔تھکاوٹ محسوس کرنے سے پہلے ہی آرام کرنا زیادہ آرام دہ ثابت ہوگا۔ طبیعت کا اکتاجانا اور معمولی سی بات پر برہم ہوجانا تھکاوٹ کی علامتیں ہیں۔ تکان سے پہلے ہی دس منٹ کے لیے آرام کرلینا تکان کے بعد ایک گھنٹہ آرام کرنے کے برابر ہے۔ ماں کو آرام کرنے کے اوقات کو بھی اپنے دن بھرکے پروگرام میں شامل کرلینا چاہیے۔دن بھر میں کئی ایسے موقعے ہوتے ہیں جب بآسانی آرام کیا جاسکتا ہے، جب گھر کی صفائی کرنے کے بعد دوسرا کام شروع کرنا ہو یا جب بچے کسی کام سے باہر چلے گئے ہوں یا جب ایک کام سے فارغ ہوکر اپنے آپ سے سوال کرتی ہوں۔ ’’اب کیا کام کرنا ہوگا؟‘‘ یہ اوقات تھوڑا آرام کرنے کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ ایسا کرنے کے بعد ایک ہی ہفتہ کے اندر آپ محسوس کرنے لگیں گی کہ دن کے کاموں کی تکان بہت حد تک کم ہوگئی ہے۔ آرام کرنے کے بعد ماں خود ہی اپنے اندر ایک خوشگوار تازگی محسوس کرے گی اور اپنے پرانے جسمانی انجن میں وہ طاقت پائے گی جس کا اسے کبھی شان و گمان بھی نہ تھا۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے