6

گڈو کی ماں

’’چٹ ،چٹ،چٹ… چٹاپٹ!‘‘

گال پر پانچوں انگلیوں کے نشان دور سے ہی دیکھے جاسکتے تھے شاید اس بہن کا ہاتھ کراہ رہا تھا اور دماغ غرارہا تھا۔

’’بہن!کیوں مارتی ہو اس بچے کو؟‘‘

’’ماروں نہیں، تو کیا کروں بھیا؟ یہ آج کل بہت ضد کرتا ہے۔ اتنا پٹتا ہے۔ پھر بھی اپنی ضد نہیں چھوڑتا۔‘‘

بچہ زور زور سے رورہا تھا اور اس کی ماں اپنی صفائی دے رہی تھی۔جونہی ماں نے اپنی صفائی دینا بند کیا، اس کا ہاتھ پھر اٹھا ایک دھم کی آواز ہوئی اور اس کا منہ کھلا… چپ!‘‘

اب بچہ رونا چھوڑ کر سسکنے لگا اور ماں نے پھر کہنا شروع کیا… یوں تو روز ہی میرا دن چلاتے گزرتا ہے بھیا اور اس کا پٹتے۔ مگر آج بہت دنوں بعد اسے اچھی طرح کوٹا ہے۔ اب دیکھتی ہوں، کیسے یہ ضد کرتا ہے۔

بچہ سسک رہا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی دھار بہہ رہی تھی۔ ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمک آئی تھیں، گالوں پر خون ابھر آیا تھا اور چوٹ کھاکر وہ نیلا ہوجانا چاہتا تھا۔ گالوں کی ٹیس، گلے کا رونا بن کر نکل جانا چاہتی تھی، لیکن آواز کو چپ رہنے کا حکم تھا، اس لیے وہ گلابی بچہ نمکین آنسو پی رہا تھا۔ کبھی کبھی اس کے ہاتھ آنسو روکنے کے لیے آنکھوں کو مسل دیتے تھے اور اس طرح وہ لال ہوگئی تھیں۔

میرا دل بھر آیا تھا، میری آنکھیں چھلک آئی تھیں۔ میراجی رورہا تھا۔ اور میرا ضمیر کہہ رہا تھا کہ، اٹھالے اس بچہ کو یہ خدا کا تحفہ ہے، یہ ایک گلاب کی کلی ہے۔ لیکن ابھی بھی ماں کا چہرہ غصے سے تمتمارہا تھا وہ کہے جارہی تھی۔

’’مجھے اتنی ضد اچھی نہیں لگتی۔ میں اسے اچھا کھلانا چاہتی ہوں، اچھاپہنانا چاہتی ہوں، ممکن ہو تو سب طرح کا لاڈ پیار کرنا چاہتی ہوں، لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے اس کی ضد میں نہیں برداشت کرسکتی۔‘‘

بچہ اب بھی سسکیاں بھر رہا تھا۔ اس کے آنسوؤں کی دھارا بھی ٹوٹی نہ تھی۔ اس کے گالوں کا رنگ نیلا ہوتا جارہاتھا۔ میں سمجھ نہیں پارہا تھا کہ کیا کروں؟ کیسے بچاؤں اس ننھے سے لال کو۔ کہیں بچہ کے ساتھ وہ مجھ پر بھی برس نہ پڑے۔آہستہ آہستہ میرے قدم اس بچہ کی طرف بڑھے، میں اس کے قریب پہنچ گیا اور اس کو پچکارتے ہوئے میں نے پوچھا… ’’بیٹا! تم اتنی ضد کیوں کرتے ہو؟‘‘

جواب میں بچہ کا بدن کانپ اٹھا۔ اس نے زور کی سسکی بھری۔ اس سسکی نے گویا ماں کے غصے کے لیے آگ میں گھی کا کام کیا۔ وہ ابل پڑی اور پھر بچہ پر جھپٹی ہوتی اگر درمیان میں میں نہ ہوتا۔

میری آتما اب زیادہ برداشت نہ کرسکتی تھی۔ میری نگاہ میں اب سختی تھی۔ میری زبان اب برس جانا چاہتی تھی۔ میری آتما کہہ رہی تھی، کہ اس بچہ کا بچاؤ ضروری ہے۔ ماں کو زبردستی روکنا بھی دھرم ہے۔ میں اپنی آنکھوں کے سامنے اس بچہ کو اس طرح پٹتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔ میں سوچ رہا تھا… یہ ماں ہے یا ڈائن؟

ذرا روکھا پن اختیار کرکے میں نے پوچھا… ’’بہن! کیوں مارتی ہو اس بچہ کو تم اس طرح؟‘‘

سوچ رہا تھا کہ وہ پھر یہی کہے گی کہ ضدکرتا ہے، مچلتا ہے، روتا ہے اور اسی لیے پٹتا ہے۔ مگر اس بار وہ بول نہ سکی، صفائی بھی نہ دے سکی بچہ کا قصور بتاتے بتاتے خود قصور وار بن گئی۔ اس کادل بھر آیا۔ اس کا چہرہ شرمندگی سے پیلا ہوگیا۔ اس نے سرجھکالیا میں نے محسوس کیا کہ میرے اس سوال نے اسے اس بار ایک زبردست جھٹکادیا ہے۔ میں پل بھر میں ہی بچہ اور ماں کے درمیان سے الگ ہوگیا۔

ماں نے لپک کر بچہ کو گود میں اٹھالیا، گلے لگایا، چھاتی سے چپٹالیا اور تب وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی، بچہ اب بھی اس کی گود میں تھا۔ اس کی پیشانی بار بار چومنے لگی۔ اسکے گالوں پر بنے انگلیوں کے نیلے نشانوں کو دیکھ کر اس کی آنکھوں کا بند ٹوٹ گیا۔ آنسوؤں کی دھار گالوں پر بہتی ہوئی کبھی بچہ کی پیشانی پر اور کبھی ماں کی ساڑھی کے آنچل پر گرنے لگی۔ وہ خوب روئی۔ اس کا روم روم سحراٹھا تھا۔

اور میں یہ سب دیکھ رہا تھا۔ ساتھ ہی سوچ رہا تھا… یہ اسے مارنے پیٹنے میں جتنا وقت اور محنت خرچ کرتی ہے، اس سے آدھا بھی سمجھانے بجھانے میں خرچ کرے، تو کیا بچہ ضد چھوڑ نہیں سکتا؟ اس بے وقوف نے مار مار کر اسے اور بھی کھودیا ہے! یہ پہلے بچے کا جسم کوٹتی ہے۔ پھر اپنا دل مسوستی ہے۔

سچ کہا ہے کسی نے کہ ’’تعلیم یافتہ عورت نسلوں کے مستقبل کو روشن بناتی ہے جبکہ جاہل ماں معاشرے کی قسمت کو تاریکی میں ڈھکیلنے کے لیے کافی ہے۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے