2

اندھیری راہ کی مسافر

حنا حسب معمول دفتر آکر اداس اور پریشان سی اپنی نشست پر بیٹھ گئی۔ آج پھر کسی بات پربلال کے ساتھ تلخی ہوگئی تھی۔ ان دونوں میاں بیوی کی تکرار سن کر ان کی معصوم بیٹی نمرہ رونے لگی۔ اب حنا کو رہ رہ کر اپنی بیٹی کے آنسو یاد آرہے تھے۔ وہ کبھی خود کو کوستی اور کبھی بلال کی چڑچڑی عادت کو قصوروار ٹھہراکر مطمئن ہونے کی کوشش کرتی لیکن اسے کسی پل چین نہیں مل رہاتھا۔ حنا کی سسکیاں اور بہتے آنسو اس کا ہر احساس زخمی کررہے تھے اور ذہن کسی کام میں نہیں لگ رہا تھا۔ وہ بے چینی سے اس وقت کا انتظار کرنے لگی جب وہ بیٹی سے مل کر اس سے اپنی غلطی کی معافی مانگے گی۔ اچانک گھنٹی بجی، حنا کے افسر عدیل صاحب کا فون تھا۔ انہوں نے اسے اپنے کمرے میں بلایاتھا۔ حنا نے اپنی حالت درست کی اور فائل اٹھاکر ان کے کمرے میں چلی گئ۔

چند لمحے دفتری معاملات پر بات ہوتی رہی۔ خلاف معمول اس روز حنا کام میں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہی تھی، کیونکہ اس کا ذہن بھٹکا ہوا تھا۔ عدیل صاحب نے اس کی ذہنی کیفیت بھانپ کر ہمدردانہ لہجے میں پوچھا:

’’حنا! کیا بات ہے، آج تم پریشان سی لگ رہی ہو۔‘‘

حنا کو ایسا لگا جیسے کسی نے چلچلاتی دھوپ میں اسے گھناسایہ فراہم کردیا ہو۔ پریشان اور تنہا انسان کے لیے ہمدردی کے دو بول بھی صحرا میں بارش کے مانند ہوتے ہیں۔ حنا گزشتہ کئی مہینوں سے احساس تنہائی کا شکار تھی۔ میاں بیوی کی کشیدگی نے دونوں کی زندگی اجیرن بنادی تھی۔ یہ شادی دراصل ایک سمجھوتہ تھی جو ایک ہی سال بعد محض کاغذی کاروائی بن کر رہ گئی۔ حنا بلال سے شادی کرنے پر آمادہ نہیں تھی لیکن ماں کی شدید بیماری کے باعث خاندان والوں کے دباؤ میں آکر اسے اپنے پھوپھی زاد بھائی بلال سے شادی کرنا پڑی۔ اس کے والد بچپن ہی میں انتقال کرگئے تھے لہذا ماں نے اسے پالا پوسا۔ اس نے بھی اپنی ماں کی خاطر اپنے تمام خواب قربان کردیے … وہ پر تعیش زندگی کے خواب دیکھتی اور متوسط طبقے کی چھوٹی چھوٹی الجھنوں سے نکلنے کی خاطر زندگی میں کچھ کر گزرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔

اسی غرض سے اس نے اعلی تعلیم حاصل کی اور ایک نجی ادارے میں ملازمت کرنے لگی۔ محنت اور لگن سے کام کرتی رہی لہذا ترقی کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ دفتر کی انتظامیہ اور عملہ سب اس کی کارکردگی سے خوش تھے۔ مگر وہ مزید آگے جانے کی خواہاں تھی۔ جب بھی ماں شادی پر اصرار کرتی وہ یہ کہہ کر ٹال دیتی کہ ابھی اسے اپنا مستقبل بنانا ہے۔ي پھر اچانک ایک روز خبر ملی کہ اس کی ماں کینسر میں مبتلا ہے۔ اب اس کی یہی خواہش تھی کہ اپنی ماں کو ہر خوشی اور ہر اطمینان دے۔ والد کے انتقال کے بعد ماں ہی اس کا واحد سہارا تھی، اس نے اسے ماں کا پیار بھی دیا اور باپ کی شفقت بھی! اب حنا چاہتی تھی کہ اپنی ماں کی ہر امنگ کو اسی طرح پورا کرے جس طرح اس نے بچپن سے جوانی تک اس کی ہر چھوٹی بڑی خواہش کو خود تکلیف اٹھاکر پورا کیا تھا۔ حنا کے ارادے قربانی دینے کے جذبے تک پہنچے ہی تھے کہ ماں کے لبوں تک اپنی انمٹ خواہش آگئی:

’’حنا بیٹی! میں چاہتی ہوں کہ تم بلال کے ساتھ شادی کے لیے ہاں کہہ دو۔ اس ذمہ داری سے فارغ ہوکر میں مطمئین ہوجاؤں گی۔ میری زندگی کا کچھ بھروسا نہیں اور میں اپنے رب کے حضور سرخرو ہوکر جانا چاہتی ہوں۔‘‘

’’مگر امی…‘‘

’’اگر مگر کچھ نہیں، تمہاری پھوپھوکا اصرار بڑھ گیا ہے۔ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اگلے مہینے شادی کروں۔‘‘

’’امی اللہ آپ کی عمر دراز کرے۔ ابھی مجھے بہت کچھ کرنا ہے، میں اپنے پیروں پر کھڑی ہوجاؤں تب شادی کرلوں گی۔‘‘

’’حنا بیٹی! شادی کے بعد اپنے پیروں پر کھڑی ہوتی رہنا، مجھ سے اب مزید تمہاری ذمہ داری نہیں نبھائی جاتی۔بلال روشن خیال لڑکا ہے، تمہیں ہر طرح کی آزادی دے گا۔ میں نے اس سے بات کرلی ہے کہ تمہیں گھر میں قید نہ کرے۔‘‘

حنا نے ہزار عذر پیش کیے مگر ماں نے اس کی ایک نہ سنی اور یوں شادی ہوگئی۔ بلال کی شکل و صورت تو عام سی تھی لیکن اس نے حنا کو اتنی زیادہ محبت دی کہ حنا کو بھی اس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کی ترغیب ملی۔حنا کے لیے یہ بات بڑی اہم تھی کہ بلال نے اسے ملازمت کرنے کی نہ صرف اجازت دی بلکہ ہر طرح سے معاونت بھی کی۔ ایک سال بعد اللہ تعالی نے انہیں ایک چاند سی بیٹی دی جس کا نام انہوں نے نمرہ رکھا۔ اس وقت سے دونوں کے مابین ناچاقی کا آغاز ہوا۔ بلال کا خیال تھا کہ نمرہ کی پیدائش کے بعد حنا کی پہلی ترجیح نمرہ ہوگی لیکن وہ تو پر تعیش زندگی گزارنے کے خیال سے جنون کی حد تک وابستہ تھی اور زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا اس کا مطمع نظر تھا۔

اسے نمرہ سے بے حد محبت تھی لیکن وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہتی تھی۔ نمرہ کی پیدائش کے چند ماہ بعد ہی اس کی ترقی ہوگئی اور اس کی مصروفیات مزید بڑھ گئیں۔ اب وہ نمرہ اور بلال کو بہت کم وقت دیتی۔ اس سے بلال کوفت میں مبتلا ہوگیا۔ رات گئے تک حنا کا باہر رہنا اور دوسرے شہروں کا سفرکرنا اسے ایک آنکھ نہ بھاتا مگر اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ حنا کو گھر کس طرح واپس لائے؟ وہ اسی شش و پنج میں تھا کہ حنا کی والدہ ایک روز اس کے یہاں آگئیں۔ بلال نے موضوع کو غنیمت جان کر مسئلے کا ہر پہلو تفصیل سے انہیں بتایاکہ وہ حنا کو سمجھاسکیں۔ چنانچہ ایک دن وہ اپنی بیٹی کو لے کر بیٹھ گئیں:

’’حنا! نمرہ کو تمہاری توجہ کی ضرورت ہے۔ تم اپنی باہر کی مصروفیات کم کرو اور گھر اور بچی کو زیادہ وقت دو۔‘‘

حنا نے حیرت سے کہا ’’امی! آپ بھی کمال کرتی ہیں۔ دنیا میں نمرہ مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے، مگر اس کی دیکھ بھال کے لیے ملازمہ موجود ہے اور پھر میں تمام تر محنت اس کا مستقبل بہتر بنانے کے لیے ہی کررہی ہوں۔‘‘

’’بیٹی! بچوں کی بہترین پرورش ماں ہی کرسکتی ہے مگر تم ملازموں کے ذمہ ہر کام چھوڑ کر خود ملازمت کے پیچھے پڑی ہو۔ آخر ایسی کیا مجبوری ہے؟ بلال اتنا تو کما ہی لیتا ہے کہ تم دونوں کی گزر بسر آسانی سے ہوسکے۔‘‘ اس بات میں بڑا وزن تھا مگر حنا ماننے والوں میں نہیں تھی۔

’’امی! مجھے اچھی طرح وہ وقت یاد ہے جب میری فیس کا انتظام کرنے کے لیے آپ کو ہمیشہ کسی نہ کسی سے قرض لینا پڑا۔ میرے کپڑے ہمیشہ سب سے پرانے ہوتے۔ ہمیں اکثر فاقے بھی کاٹنے پڑے۔ میں نمرہ کو ان محرومیوں سے دور رکھنا اور اسے زندگی کی ہر سہولت دینا چاہتی ہوں۔‘‘

’’حنا! تم بھول رہی ہو کہ معصوم بچی کی سب سے بڑی ضرورت ممتا ہے جس سے و ہ محروم ہے۔ فیس اور کپڑوں وغیرہ کا مرحلہ تو بعد میں آتا ہے۔‘‘

’’میں سمجھتی ہوں کہ زندگی پر آسائش طریقے سے بسر ہونی چاہیے۔ بڑی ہوکر نمرہ بھی میرے اس خیال سے اتفاق کرے گی جب اسے پتا چلے گا کہ اس کے تابناک مستقبل کی خاطر میں نے دن رات محنت کی۔‘‘

حنا کسی طرح اپنے موقف سے ہٹنے کو تیار نہ تھی۔ اس کی ماں نے اسے قائل کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہیں۔ بلال نے بھی اپنی ہر کوشش کردیکھی لیکن حنا کو نوکری چھوڑنے پر آمادہ نہ کرسکا۔وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنے پیشے میں کامیابیاں حاصل کرتی چلی گئی لیکن اس کے گھر کی بنیادیں کمزور پڑتی گئیں۔ بلال اس سے کھنچا کھنچا سارہتا۔ وہ اپنی ضد پر قائم تھی لیکن ندامت اثر جلی بھی رہتی۔ ایسے تناؤ والے ماحول میں دو سال گزرگئے۔ دونوں میاں بیوی تھے لیکن ان کے مابین وہ چاہت بھرا تعلق عنقا تھا جو پیار کرنے والے جوڑے کی خاصیت ہے۔ ایک دن اچانک حنا کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔چند روز اسے اپنی ماں کی بات نہ ماننے کا ملال ہوا لیکن پھر یہ سوچ کر مطمئین ہوگئی کہ اس نے اپنی ماں کا حکم مان کر شادی جیسے بندھن کو قبول کیا تھا، اس کے نزدیک یہی بہت بڑی قربانی تھی۔

رفتہ رفتہ معمولی سی بات پر دونوں کے طویل جھگڑے ہونے لگے۔ ان کی روز روز کی نوک جھونک سے نمرہ کا معصوم ذہن متاثر ہوگیا۔ ایک روز اس کی استانی نے حنا اور بلال کو بلاکر نمرہ کی کاپی دکھائی جس میں اس نے جلتی آگ، ٹوٹے برتن اور مردہ پرندوں کی تصویریں بنارکھی تھیں۔ نمرہ کی استانی نے بتایا کہ نمرہ ہر وقت سہمی ہوئی اور الگ تھلگ رہ کر اس قسم کی خوفناک تصاویر بناتی رہتی ہے۔ ماہر نفسیات سے مشورہ کرنے پر پتہ چلا کہ نمرہ کے غیر فطری رویے کی وجہ اس کے والدین کی ناچاقی ہے۔ وہ اپنے اردگرد کے وحشت ناک ماحول کو محسوس کرکے اپنا خوف کاغذ پر منتقل کرتی ہے۔ اس واقعے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حنا اوربلال اپنی لاڈلی کی خاطر گھر میں خوشگوار فضا قائم کرتے لیکن اس کے بجائے دونوں کے رویوں میں لچک نہ ہونے کے باعث حالات ابتر ہوتے چلے گئے۔

ایک دفعہ حنا کو دفتر کے کسی کام کے سلسلے میں ایک ہفتے کے لیے شہر سے باہر جانا تھا، اس دورے کے بعد حنا کی ترقی متوقع تھی۔ بلال نے اسے کہا کہ وہ نہ جائے کیونکہ نمرہ کے امتحان قریب ہیں ہیں۔ وہ کہنے لگی:

’’نمرہ کا معمولی سا امتحان ہے۔ اس کی استانی نے مکمل تیاری کرادی ہے اور آیا بھی پڑھی لکھی ہے، اسے دہرائی کراتی رہے گی لیکن اس دورے پر میرے سنہرے مستقبل کا انحصار ہے۔‘‘

’’میں کچھ نہیں جانتا، اس دفعہ اگر تم گئیں تو میرے گھر کے دروازے تم پر بند ہوجائیں گے۔‘‘ بلال نے غصے سے کہا اور دفتر روانہ ہوگیا۔

حنا پریشان ہوگئی، وہ دورے پر ہر صورت جانا چاہتی تھی لیکن ساتھ ساتھ اسے بلال کی دھمکی نے بھی ڈرادیا۔ اسی شش و پنج میں اس نے اپنے افسر کو فون کیا اور ساری صورت حال بتاکر جانے سے معذوری ظاہر کردی مگر عدیل نے خشک لکڑی کو جلتی تیلی دکھاتے ہوئے کہا ’’حنا! تم بھی کمال کرتی ہو۔ ایسے مواقع بار بار نہیں آتے۔ رہی تمہارے شوہر کی دھمکی کی بات تو وہ ایسی دھمکیاں پہلے بھی کئی بار دے چکے ہیں۔‘‘

’’مگر انہوں نے واقعی مجھ پر اپنے گھر کے دروازے بند کردیے تو کیا ہوگا؟‘‘

’’حنا! گھر تمہارا ہے۔ شاید تم بھول گئی ہو کہ اس کا کرایہ تمہارے دفتر والے دیتے ہیں اور گھر میں اکثر اشیا بھی تمہاری آمدنی سے خریدی گئی ہیں۔ بلال تمہیں کس طرح نکال سکتا ہے؟‘‘

یوں عدیل کی شہ سے حنا کے ذہن میں بغاوت نے جنم لیا، وہ پر آسائش زندگی کے سپنے میں کھوکر جلدی سے بولی ’’آپ درست کہہ رہے ہیں۔ میرا انتظار کریں، بس میں تھوڑی ہی دیر میں پہنچتی ہوں۔‘‘

ایک ہفتے کے دورے کے بعد جب حنا واپس آئی تو گھر کے دروازے پر تالا لگا تھا، وہ ٹھٹک کر رہ گئی۔ اس کے کانوں میں بلال کا یہ جملہ گونجنے لگا ’’اس دفعہ اگر تم گئیں تو میرے گھر کے دروازے تم پر بند ہوجائیں گے۔‘‘ اس نے متبادل چابی نکال کر تالا کھولا اور اندر چلی گئی۔ سامنے میز پر کاغذ کا ایک ٹکڑا دیکھ کر وہ رک گئی، یہ بلال کا خط تھا۔

حنا!

میں نے بہت کوشش کی کہ تمہارے ساتھ چل سکوں لیکن تم جس تیز رفتاری سے مخالف سمت سفر کررہی ہو اس سے ہمارے درمیان فاصلے بڑھتے جارہے ہیں اور اب ہمارے درمیان ہماری معصوم بیٹی بھی کھلونا بن کر رہ گئی ہے۔ اسے ہم دونوں کا مشترکہ پیار تو کیاملتا، ہمارے اختلافات اور لڑائی جھگڑے اس کا ذہن بگاڑ رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہم دونوں اکٹھے رہکر اس کے ذہن پر منفی اثرات ڈالیں گے جب کہ ہماری علاحدگی سے وہ صرف کسی ایک کی محبت سے محروم رہے گی۔ میں نمرہ کو اپنے ساتھ امی کے گھر لے جارہا ہوں۔ اگر تمہیں مصروفیات میں سیوقت ملے تو اپنی بیٹی سے ملنے آسکتی ہو۔

والسلام

بلال

خط پڑھ کر حنا بے سدھ ہوگئی۔ جسم جیسے بے جان سا ہوگیا، بے اختیار اس کے آنسو نکل آئے مگر وہاں کوئی نہیں تھا جو تنہائی کے گھپ اندھیرے میں اسے راستہ دکھاتا۔ وہ نہ جانے کتنی دیر اکیلی بیٹھی آنسو بہاتی رہی۔ بعض حادثے وقت گزرنے کے احساس تک سے بے خبر کردیتے ہیں۔ وہ رات گئے تک ایک ہی زاویے میں ایک ہی کرسی پر بیٹھی رہی۔ اچانک ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے لپک کر فون اٹھایا اور دھیمے لہجے سے سلام کیا۔

’’وعلیکم السلام، عدیل بول رہا ہوں۔‘‘

’’جی سر! آپ۔‘‘ حنا فوراً سیدھی ہوکر بیٹھ گئی جیسے عدیل اس کے سامنے کھڑا ہو۔

’’کیسی ہیں آپ؟‘‘

’’در اصل مجھے پوچھنا تھا کہ فائل نمبر دو سو چودہ آپ کے پاس ہے؟‘‘

’’جی! میرے پاس ہے، آپ نے خود ہی تو گاڑی میں فائل میرے حوالے کی تھی۔‘‘

’’مجھے یاد تو تھا پھر بھی سوچا تسلی کرلوں۔‘‘

’’جی اچھا۔‘‘ حنا نے مختصر جواب دیا۔

’’حنا، خیریت ہے نا! تم پریشان لگ رہی ہو، تمہاری آواز میں پہلے جیسی کھنک نہیں۔‘‘

حنا کے اداس لہجے کو محسوس کرتے ہوئے عدیل نے اپنائیت سے کہا۔

’’نہیں نہیں، ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ حنا نے پر تکلف جملہ بولا حالانکہ وہ چاہتی تھی کہ کوئی اس کے زخموں کو چھیڑے اور وہ اپنے سارے دکھ اس کے سامنے کھول کر رکھ دے۔

’’حنا! تم مجھ سے کچھ چھپارہی ہو، بھئی میں تمہارا باس ہی نہیں، ہم دونوں اچھے دوست بھی ہیں۔ اگر تم اپنا مسئلہ مجھے بتاؤگی تو مجھے خوشی ہوگی۔‘‘

’’مگر جناب …‘‘

’’اگر مگر نہ کرو، میں بیس منٹ میں تمہارے پاس آرہا ہوں۔ ہم کسی ہوٹل میں کھانا بھی کھائیں گے اور تمہارے ساتھ بات بھی ہوجائے گی۔‘‘ عدیل نے یہ کہہ کر فون بندکردیا۔

٭٭٭

حنا اور عدیل عالی شان ہوٹل کی میز پر بیٹھے تھے۔حنا کی آنکھوں سے زاروقطار آنسو بہہ رہے تھے۔ عدیل نے اپنی جیب سے رومال نکال کر اسے دیا۔ پہلے حنا کو تھوڑی سی جھجک محسوس ہوئی لیکن عدیل نے اصرار کیا تو اس نے رومال لے لیا۔ عین اسی لمحے بلال اور نمرہ بھی ہوٹل میں داخل ہوئے۔ بلال نے دونوں کو ایک ساتھ ہوٹل میں دیکھا تو سخت طیش میں آگیا۔ اسی لمحے اس کے دل سے وہ نرم گوشے ختم ہوگئے جو دونوں کو پھر ایک کرسکتے تھے۔ اس نے قہر آلود نظر حنا پر ڈالی اور نمرہ کو بازو سے پکڑ کر واپس لے گیا۔

’’ابو! آپ مجھے واپس کیوں لے آئے؟ میں تو امی سے ملنا چاہتی تھی۔‘‘ نمرہ نے بلال سے سوال کیا۔

’’بیٹی! اب ہم کبھی آپ کی امی سے نہیں ملیں گے کیونکہ وہ بھی ہمارے ساتھ نہیں رہنا چاہتیں۔‘‘ بلال نے گاڑی چلاتے ہوئے کہا۔

’’ابو! امی اب کہاں رہیں گی؟‘‘ نمرہ نے توتلی زبان میں سوال کیا۔

’’بیٹی وہ جو صاحب ہوٹل میں ان کے ساتھ بیٹھے تھے نا! ان کے ساتھ۔‘‘ بلال نے جذبات میں آکر بے اختیار کہہ دیا اور نمرہ کے نوخیز ذہن میں یہ بات ہمیشہ کے لیے نقش ہوگئی۔

٭٭٭

عدیل کی پہلی بیوی شائستہ نے حنا کا محبت سے استقبال کیا اور اسے اپنے گھر میں بڑی عزت کے ساتھ رکھا۔ شائستہ چاہتی تھی کہ اس کا شوہر اولاد کی نعمت سے محروم نہ رہے، لہذا اس نے اپنی سوت کے ساتھ بھی سمجھوتہ کرلیا۔ حنا ہر روز عدیل کے ساتھ دفتر جاتی اور شائستہ ان کی واپسی پر دونوں کا استقبال کرتی۔ شائستہ کو حقیقی معنوں میں اپنے گھر سے محبت تھی، وہ ہر چیز کو سلیقے قرینے سے رکھتی اور ہمیشہ مسکراتی ہوئی نظر آتی۔ شوہر کی خوشی کی خاطر وہ حنا سے بھی خوش دلی سے ملتی۔

حنا کم سن اور خوبصورت تھی اس لیے عدیل بھی اس کا دیوانہ تھا اور اولاد کی خوشی پانے کی خاطر ہر طرح سے حنا کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا۔ پہلے پہل تو دونوں کے تعلقات بہت خوشگوار رہے لیکن جوں جوں وقت گزرا عدیل کی اولاد کی خواہش تقاضا بننے لگی۔ شادی کو تین برس ہوگئے لیکن حنا عدیل اور شائستہ کی خواہش پوری نہ کرپائی۔ یہاں تک کہ نوبت تعویذ گنڈے اور طبی علاج تک آپہنچی۔ اس بگڑتی صورت حال میں حنا کو اپنے غیر اہم ہونے کا احساس ہونے لگا۔ اسے احساس تھا کہ عدیل کی محبت اور تعاون کے پیچھے اس کی اولاد کی خواہش کار فرما تھی۔وہ رو رو کر اپنے رب سے دعامانگتی ’’اے اللہ! مجھے اپنے شوہر کی خواہش پوری کرنے کی توفیق دے۔‘‘ اس موقع پر اسے اپنی نمرہ بہت یاد آتی لیکن وہ باپ کے ہمراہ چند برس پہلے دبئی منتقل ہوگئی تھی۔ وہ نمرہ کو صرف یاد کرسکتی تھی، اس سے ملنا اب اس کے بس میں نہیں تھا۔

خلاف معمول ایک روز عدیل گھر آیا تو بہت خوش تھا۔حنا نے طویل عرصے کے بعد اس کے چہرے پرایسی مسرت دیکھی تھی۔پوچھنے پر عدیل نے بتایا:

’’حنا! تم اندازہ نہیں کرسکتی کہ آج میں کس قدر خوش ہوں۔ میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری ہونے والی ہے۔ زندگی میں صرف ایک ہی کمی تھی جسے میرے رب نے پورا کردیا۔‘‘

حنا کا دھیان فوراً اپنے طبی معائنے کی طرف چلا گیا۔ چند روز قبل اس نے اپنا معائنہ کرایا تھا اور ڈاکٹر نے ان دونوں میاں بیوی کو بہت تسلی دی تھی۔

’’عدیل! کیا رپورٹ آگئی ہے؟‘‘ حنا نے بے چینی سے پوچھا۔

’’ہاں آگئی ہے۔‘‘ عدیل بچوں کی طرح کھلکھلاتے ہوئے بولا ’’میں باپ بننے والا ہوں۔ میری دیرینہ خواہش پوری ہونے والی ہے۔‘‘

حنا کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی، وہ خود کو سنبھالتے ہوئے بے قراری سے بولی:

’’عدیل مجھے تفصیل سے بتاؤ! ڈاکٹر نے کیا کہا ہے؟‘‘

اسی وقت شائستہ بھی کمرے میں داخل ہوئی، عدیل ایک دم اپنی نشست سے اٹھا اور شائستہ کے قریب جاکر بولا:

’’شائستہ تمہارا شکریہ! تم نے میری زندگی کا سب سے بڑا خلا پر کردیا۔ ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ تم ماں بننے والی ہو۔ یہ ایک غیر معمولی معجزہ ہے۔‘‘

یہ سن کر حنا کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی اور اس کا سر چکرانے لگا۔ شادی کے بیس برس بعد اللہ تعالی نے شائستہ پر اپنا کرم کیا تھا۔ رپورٹ مثبت تو آئی تھی لیکن حنا کی نہیں شائستہ کی! عدیل کی اولاد کی خواہش پوری ہونے والی تھی لیکن حنا کی نہیں شائستہ کی کوکھ سے…

عدیل اور شائستہ کے لیے یہ بے حد خوشی کا موقع تھا لیکن حنا کو اپنی بے وقعتی کا احساس ہونے لگا۔ اب عدیل کی تمام تر توجہ شائستہ کی جانب مرکوز ہوگئی، وہ اٹھتے بیٹھتے اس کے گن گانے لگا۔ وہ اکثر دفتر سے چھٹی کرتا اور حنا اس کی جگہ فرائض نبھاتی۔ ایک دو دفعہ حنا نے شکوہ کیا تو اس نے کہا:

’’شائستہ نے تین سال تمہاری خدمت کی ہے اب وہ ماں بننے والی ہے تو تمہیں اس کی خدمت کرنی چاہیے۔‘‘

ایک دن شائستہ بیٹے کی ماں بن گئی، یوں اس کی ذات اس طرح مکمل ہوئی کہ مسکراہٹ تک میں جاذبیت آگئی۔عدیل اس کا ممنون احسان تھا، دونوں ایک بار پھر ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے۔ بیٹے کی پیدائش نے ان کے ازدواجی تعلق کو بہت مضبوط کردیا۔ عدیل کو شائستہ کی قربانی اور صبروتحمل کا بھی قائل ہونا پڑا، اسے اپنی بیوی اتنی اچھی لگنے لگی کہ وہ دنیا کی تمام چیزوں سے بے خبر ہوگیا۔ ایسی صورت حال میں حنا بھی نظر انداز ہونے لگی۔ وہ سرتوڑ کوشش کے باوجود عدیل کو اپنے وجود کا احساس دلانے سے قاصر رہی۔ شوہر کی لاپرواہی اسے باربار گھسیٹ کر ماضی میں لے جاتی جب اسے اپنے بارے میں بلال کا فکر مند ہونا تک ناگوار گزرتا تھا۔ شائستہ اپنے بچے کو پیار کرتی تو اسے وہ وقت یاد آتا جب وہ نمرہ کے رونے کی آواز سنتے ہی اس کی طرف لپکنے کے بجائے آیا کو پکارنے لگتی تھی۔ شائستہ کئی ملازم ہونے کے باوجود اپنے بیٹے کی خود دیکھ بھال کرتی اور عدیل یہ دیکھ کر بہت خوش تھا۔

ان حالات نے حنا میں بیک وقت احساس جرم، احساس ندامت اور احساس کمتری کو جنم دیا۔ وہ غم غلط کرنے کے لیے دفتری معاملات میں زیادہ دلچسپی لینے لگی مگر فطری تقاضوں کو مصنوعی حیلوں سے بہلا یا نہیں جاسکتا۔ وقت تو جیسے تیسے گزرتا گیا مگر حنا ذہنی انتشار کے باعث شدیدذہنی دباؤ کا شکار ہوگئی اور اسے افسردگی کے دورے پڑنے لگے۔ آخر عدیل نے اسے ذہنی امراض کے اسپتال داخل کروادیا۔

شروع میں تو عدیل نے اس کا خیال رکھا پھر وہ اپنے کاموں اور بیوی بچے میں مگن ہوگیا۔ یوں حنا وارڈ میں بے یارومددگار پڑی رہتی۔ عدیل کبھی کبھار اس سے ملنے آجاتا اور ضرورت کی چیزیں دے کر چلا جاتا۔ شائستہ کا بیٹا اب اسکول جاتا تھا، لہذا اس کی بھی مصروفیات بڑھ گئیں، وہ بھی کبھی کبھار اس سے ملنے آتی۔ حنا گھر میں بھی رہ سکتی تھی لیکن عدیل کا خیال تھا کہ نفسیاتی امراض کی علاج گاہ میں رہنا اس کے لیے مناسب ہے۔ علاوہ ازیں وہ اپنے بیٹے کو نفسیاتی مریضہ سے دور رکھنا چاہتا تھا۔

تنہائی اور احساس جرم نے حنا کی حالت مزید بگاڑ دی۔ ہر وقت کے شدید ذہنی دباؤ سے اس کی شکل و صورت بھی بگڑگئی۔ ڈاکٹر اور نرسیس اگرچہ اس کا بہت خیال رکھتی تھیں لیکن پیشہ ورانہ ذمہ داری اس محبت اور چاہت کا بدل نہیں جو انسان کو صرف خونی رشتوں سے میسر آتی ہے۔

آج یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کی طالبات اسپتال کا دورہ کررہی تھیں۔ ہر طالبہ ایک مریضہ کے ساتھ گفتگو کرنے لگی۔ وہ نازک سی لڑکی حنا کے سرہانے آن کر بیٹھ گئی۔ حنا خلاف معمول اس روز قدرے بہتر حالت میں تھی لہذا لڑکی کے تمام سوالات کا دلجمعی سے جواب دیا۔

باتوں باتوں میں وہ طالبہ حنا کی ساری کہانی جان گئی اور اسے اس بدقسمت عورت کی بیماری کا سبب بھی معلوم ہوا۔ حنا نے ماضی کا لمحہ لمحہ اس کے آگے کھول کر رکھ دیا لیکن گفتگو ختم ہوتے ہی اس نے سرد لہجے میں حنا سے ہاتھ ملایا اور بے پروائی سے اٹھ کر چل دی حالانکہ اسے کم از کم حنا کی بدقسمتی پر افسوس ضرور کرنا چاہیے تھا۔ اس کے جانے کے بعد حنا نے وہ پمفلٹ کھول کر دیکھا جو ہر طالبہ اپنی اپنی موکل کو دے گئی تھی۔

ہر پمفلٹ پر طالبہ کی تصویر اور نام بھی لکھا تھا۔ جب حنا نے طالبہ کا نام پڑھا تو اس کی سانس اکھڑ گئی، آنکھوں کے آگے اندھیرا چھاگیا اور دل کی دھڑکن بے قابو ہوگئی۔ وہ حواس باختہ ہوکر باہر کی طرف دوڑی اور پکارنے لگی۔

نمرہ…نمرہ… میری بیٹی، میری بات سنو۔‘‘

حنا دیوانہ وار چلا رہی تھی، نمرہ نے مڑ کر اسے دیکھا، اس کی آنکھوں میں آنسو جھلملا رہے تھے مگر چہرے پر چھائی سرد مہری صاف پیغام دے رہی تھی کہ وہ اس کی ماں کیسے ہوسکتی ہے جس نے اپنی خواہشات پوری کرتے ہوئے اسے اس ممتا، چاہت، شفقت اور راہنمائی سے محروم رکھا جو ہر ماں اپنے بچوں پر نچھاور کرتی ہے۔

حنا نے ایک بار پھر پکارا:

’’نمرہ، میری بچی، میری بات تو سنو۔‘‘

لیکن نمرہ تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی باہر نکل گئی۔

حنا وہیں ساکت کھڑی رہ گئی۔ اسے تب احساس ہوا کہ پر آسائش زندگی کے حصول میں وہ ایسی محو ہوئی کہ اپنے ہاتھوں اپنا ہنستا بستا گھر تباہ کربیٹھی۔ اگر وہ اپنے شوہر کی بات مان لیتی اور تن من دھن سے بیٹی کی پرورش کرتی تو وہ خوشیاں اس کے نصیب میں ہوتیں جن کی تمنا ہر عورت کرتی ہے۔ اب تو اسے سدا اذیت میں رہنا تھا… شاید مرنے کے بعد بھی!

شیئر کیجیے
Default image
عفت بتول

تبصرہ کیجیے