4

اعضائے انسانی اور غذا کے اثرات

دماغ

انسان کا جسم دماغ کے بغیر نکما ہے،جان ہے تو جہان ہے دماغ ہے تو جسم و جان ہے۔ ذرا ایک لمحہ کے لیے سوچیے کون شخص ایسی زندگی پسندکرے گا جس میں دماغ خراب ہوگیا ہو۔ اس لیے دماغ کی سلامتی کا بھی بہت زیادہ خیال رہنا چاہیے۔ یقین جانیے آپ کے دماغی و اعصابی امراض اور کمزوریوں کا علاج آپ کے ہاتھ میں ہے۔ مندرجہ ذیل غذاؤں کو استعمال کریں۔

بادام روغن، بادام اور مکھن، دودھ کا استعمال دماغ کو تراوت دیتا ہے۔ گوشت اور بھینس کا دودھ دماغ کو کند کرتا ہے۔ بلکہ ہلکی اور زود ہضم غذا ہی دماغ کو روشن رکھتی ہے۔

ناک میں گائے کا خالص گھی روزانہ شام کو ڈالاجائے تو اس کا دماغ پر بہت اچھا اثر پڑتا ہے مالگنگی کا خالص تیل ۵ بوند دودھ میں ڈال کر تین ماہ تک برابر سردیوں میں پینا دماغ کو بہت طاقت دیتا ہے۔

سر اور بال

جسم کے باقی چمڑے سے سر کا چمڑا مختلف ہے۔ یہ بہت موٹا ہوتا ہے۔ اس کے اندر فاسفورس اور گندھک جیسے اجزاپائے جاتے ہیں جو کالے بالوں کی پیدائش کا باعث ہوتے ہیں۔

صحت بخش اور ہلکی غذا کے بجائے ثقیل اور مصالحہ دار غذا کھانا نیز برف، چائے اور تمباکو وغیرہ کے استعمال سے خون میں ایسا بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے کہ بال اچھی خوراک سے محروم ہوجاتے ہیں۔ بہت عرصہ نہ سردھونا، نہ ورزش، لمبے گہرے سانس نہ لینا یہ سب بالوں کے کمزور اور سفید ہوجانے یا گر جانے کا باعث ہوتا ہے۔ بالوں میں ایک مادہ ہوتا ہے جسے کولین کہتے ہیں۔ بالوں کی سیاہ رنگت اس مادے کی وجہ سے ہے اور اس مادے کے بھرپور ذرائع یہ ہیں۔ بکرے کا بھیجا یعنی مغز، آملہ، دہی، دودھ ، کلیجی وغیرہ ان چیزوں کا باقاعدہ استعمال بالوں کو جلدی، سفید نہیں ہونے دیتا۔

بالوں کو مضبوطی کے لیے سرسوں کے تیل کی سرپر مالش کریں۔ سالن سرسوں کے تیل میں پکائیں۔ بادام روغن کی سرپر مالش کریں۔

چہرہ

اگر خوراک درست ہو، ہاضمہ کا فعل درست ہو، ہم روزانہ ورزش کریں تو چہرہ ہشاش بشاش رہے گا۔ درج ذیل غذائیں استعمال کرنے سے چہرے کی رنگت نکھرتی ہے۔ اس سے کشش و جاذبیت پیدا ہوتی ہے۔

گاجریں، سلاد، ٹماٹر، سرسوں اور پالک کا ساگ، دودھ، دہی، مکھن، انڈا کھانے اور کھیرا، ککڑی، انگور، سنگترہ، مالٹا، انناس، سیب، شہد اور دودھ سے چہرہ دھونے سے رنگت نکھرتی ہے۔ چہرے پر چھائیاں پڑجائیں تو ان پر لیمو کارس ملیں۔

آنکھیں

آنکھیں بڑی نعمت ہیں۔ اندھا انسان کس کام کا۔ دنیا کی ساری رونق آنکھوں سے ہے۔ آنکھوں کی بینائی کمزور ہوجائے تو عینک لگانا پڑتی ہے۔ آنکھوں کا خاصا خیال رکھنا چاہیے۔ آنکھیں بڑی دولت ہیں۔ بینائی کو طاقت دینے والی غذائیں درج ہیں۔

گھی، دودھ، دہی، تازہ پھل خصوصاً جن میں فولاد ہو۔ ہرے چنے، ہری مٹر، گیہوں کا دلیا وغیرہ زیادہ استعمال کیا جائے، کھٹائی، تیل، لال مرچ، چائے، برف، تمباکو اور منشیات سے پرہیز کیا جائے۔

دانت

ہمارے جسم میں گوشت پوست، ہڈی، چرم، طاقت اورحرکت وغیرہ جو کچھ بھی ہے وہ سب اسی خوراک سے بنتے ہیں جو ہم کھاتے ہیں۔ کھانے کا یہ فعل دانتوں ہی سے شروع ہوتا ہے۔ اس لیے دانتوں پر بہت کچھ منحصر ہے، لیکن دانتوں کی صحت کا انحصار بھی بہت کچھ غذا پر ہے۔

جو سبزیاں کم کھاتے ہیں ان کے دانت کمزور ہوتے ہیں۔ ان کو ماسخورہ لگ جاتا ہے، دودھ، دہی، لونگ، انار، سنگترہ، ٹماٹر، سلاد، مچھلی کا تیل، انڈا، مکھن، سیب، انگور وغیرہ کھانے سے دانت مضبوط ہوتے ہیں۔ ہر غذا کھانے کے بعد دانتوں کو اچھی طرح صاف کرنا چاہیے۔

دل

انسان کی زندگی بلکہ ساری دنیا دل ہی تو ہے، لہذا دل کی دیکھ بھال رکھنا بھی بہت ضروری ہے، دل کو طاقت دینے والی غذائیں درج ذیل ہیں۔ دودھ، دہی، مکھن، یخنی، بادام، سیب، انگور، انناس، الائچی، سبز الائچی، کیسر، کستوری،گوشت، ہری سبزیاں، خشک میوے وغیرہ۔

معدہ

یہ بھی ایک ایسا عضو ہے جس پر انسان کی زندگی کا دارومدار ہے۔ اگر معدہ خراب ہوگا تو کچھ بھی کھانے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ معدہ کو تقویت دینے والی غذائیں درج ذیل ہیں۔

دہی، دودھ، کچی سبزیاں، پکی ہوئی سبزیاں، پھل مثلاً انگور، سیب، سنگترہ، مالٹا،گریپ فروٹ، قندھاری انار، انجیر، انناس وغیرہ۔

شیئر کیجیے
Default image
افضال احمد

تبصرہ کیجیے