3

حضرت ام حکیم ؓبنت حارث

رمضان المبارک ۸ھ میں اللہ تعالی نے قریش مکہ کو مغلوب کردیا اور اہل حق مکہ معظمہ میں فاتحانہ داخل ہوئے لیکن ان کا یہ داخلہ دنیا کے دوسرے فاتحین کی طرح نہیں تھا۔ چند انتہائی شریر النفس مشرکین کو چھوڑ کر جو مباح الدم قرار دیے گئے تھے یا ان چند مشرکین کے سوا جنہوں نے حضرت خالد بن ولید کے دستے کی مزاحمت کی تھی، مکہ کے کسی اور مشرک کی نکسیر تک نہ پھوٹی۔دس ہزار نفوسِ قدسی نے رحمت عالم ﷺ کی ہم رکابی میں مکہ معظمہ میں اس طرح قدم رکھا جیسے نسیم سحری گلشن میں داخل ہوتی ہے۔ سرورِ عالم ﷺ کا ابر عفو و کرم اہل مکہ پر جھوم جھوم کر برسا، یہ وہی اہل مکہ تھے جو اہل حق کے خون کے پیاسے تھے اور جنہوں نے ان کو ستانے میں کوئی کسر اٹھانہ رکھی تھی۔ نبی رؤف و رحیم ﷺ نے سب کو معاف کردیا … کسی سے کوئی مواخذہ نہ فرمایا لیکن مکہ میں کچھ ایسے آدمی بھی تھے جن کے ضمیر کا کانٹا ان کو کسی پہلو قرار نہیں لینے دیتا تھا۔ اپنے ماضی کے پیش نظر ان کو قطعاً یہ امید نہیں تھی کہ سرور عالم ﷺ ان پر قابو پاکر ان کو زندہ چھوڑیں گے۔ انہوں نے مکہ سے بھاگ جانے ہی میں مصلحت سمجھی۔

اسی زمانے کا ذکر ہے کہ حضور کے ورود مکہ کے بعد ایک دن مکہ کی ایک خاتون بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئیں اور بڑے ذوق و شوق سے قبولِ اسلام کی سعادتِ عظمی حاصل کی پھر انہوں نے رحمتِ عالم ﷺ کی خدمت میں عرض کی:

’’یا رسول اللہ ﷺ! میرا شوہر اپنی جان کے خوف سے یمن کی طرف بھاگ گیا ہے۔ اگر اس کو امان دے دیں تو میں اس کو واپس لے آؤں۔‘‘

حضور ﷺ کا دریائے رحمت جوش میں تھا۔ آپ نے بلا تأمل فرمایا: جاؤ میں نے اس کو امان دی۔‘‘

حضور کا ارشاد سن کر خاتون کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا کیونکہ ان کے شوہر ایک ایسے شخص تھے جن کی اسلام دشمنی مسلم تھی اور جنہوں نے اہل حق کو ستانے میں کوئی موقعہ کبھی ہاتھ سے نہ جانے دیا تھا۔ اب ان کے لیے مکہ میں ایک دن گزارنا بھی مشکل تھا۔ اسی وقت اپنے رومی غلام کے ہمراہ خاوند کی تلاش میں روانہ ہوگئیں۔

یہ خاتون جن کا سیدالمرسلین ﷺ کو اس قدر پاس خاطر تھا کہ آپ ﷺ نے ان کے شوہر کے گھناؤنے ماضی کے باوجود کسی ردو قدح کے بغیر ان کی درخواست کو شرفِ پذیرائی بخشا، عکرمہ بن ابوجہل کی اہلیہ حضرت ام حکیم بنت حارث مخزومیہ تھیں۔

حضرت ام حکیم کا شمار سرور عالم ﷺ کی مشہور صحابیات میں ہوتا ہے۔ اہل سیر نے ان کا ذکر ان کی کنیت ہی سے کیا ہے اور اصل نام نہیں لکھا۔ ان کا تعلق قریش کی مشہور شاخ بنو مخزوم سے تھا۔

والدہ کا نام فاطمہ بنت ولید بن مغیرہ تھا جو حضرت خالد بن ولید (سیف اللہ) کی ہمشیرہ تھیں۔

حضرت ام حکیم نے جس گھرانے میں آنکھیں کھولیں وہ کفرو شرک کاگہوارہ تھا۔ ان کے والد ابو عبد الرحمن حارث بن ہشام، ابوجہل (عمروبن ہشام) کے حقیقی بھائی تھے اور دونوں بھائی اسلام کے سخت دشمن تھے یہی حال والدہ اور ماموں خالدبن ولید کا تھا۔ ظاہر ہے کہ اس ماحول میں ان کا اسلام کے نورِ سعادت سے بہرہ یاب ہونا محال تھا۔ شادی بھی ہوئی تو اپنے چچا ابوجہل کے فرزند عکرمہ سے جو اسلام دشمنی میں اپنے باپ کے دستِ راست تھے۔

۲ھ میں ابوجہل غزوۂ بدر میں ذلت کے ساتھ مارا گیا تو عکرمہ نے اپنے باپ کے چھوڑے ہوئے کام کی تکمیل کا بیٹرا اٹھایا اور فتح مکہ تک ہر میدان میں اہل حق کو ستانے میں بڑھ چڑھ کر قدم مارتے رہے۔ غزوۂ احد میں وہ اپنی اہلیہ (ام حکیم) کو بھی اپنے ساتھ لے گئے اور حضرت خالد بن ولید کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچایا۔ غزوۂ احزاب میں بنوکنانہ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ پر چڑھائی کی۔ ۸ھ میں مسلمانوں کے حلیف قبیلہ بنوخزاعہ کے قتل و غارت میں حصہ لیا اور صلح نامۂ حدیبیہ کو عملاً توڑ ڈالا۔ یہاں تک کہ فتح مکہ کے موقع پر بھی انہوں نے چند مشرکین کو ساتھ لے کر اس فوجی دستے کی مزاحمت کی جو حضرت خالد بن ولید کی سرکردگی میں شہر میں داخل ہورہا تھا۔ یہ وہی خالدتھے جو اہل حق کے خلاف کئی لڑائیوں میں عکرمہ کے شانہ بشانہ لڑ چکے تھے۔ وہ حضرت ام حکیم کے حقیقی ماموں تھے اور رشتہ میں عکرمہ کے بھی چچا ہوتے تھے (عکرمہ کاوالد ابو جہ اور خالد بن ولید پس میں چچا زاد بھائی تھے) فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے حضرت خالد بن ولید مشرف بہ اسلام ہوگئے تھے لیکن ان کا یہ اقدام بھی عکرمہ کو راہ راست پر نہ لاسکا تھا۔ اسلام کے خلاف عکرمہ کی یہی سرگرمیاں تھیں کہ انہیں فتح مکہ کے بعد سرورعالمﷺ کے سامنے جانے کی ہمت نہ پڑی اور وہ اپنی جان بچانے کے لیے یمن کی طرف بھاگ نکلے۔ ادھر حضرت ام حکیم، ان کے والد حارث بن ہشام اور والدہ فاطمہ بنت ولید تینوں حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور صدق دل سے اسلام قبول کرلیا۔ حضرت ام حکیم کو شوہر سے بے حد محبت تھی انہیں یہ گوارا نہ ہوا کہ عکرمہ بدستور کفروشرک کی دلدل میں پھنسے رہیں۔ چنانچہ انہوں نے بڑی دردمندی کے ساتھ رحمت عالم ﷺ سے استدعا کی کہ ان کے شوہر کو امان دی جائے۔ حضور ﷺ نے ان کی درخواست قبول فرمالی اور وہ عکرمہ کی تلاش میں ساحل بحر کی طرف روانہ ہوگئیں۔

ادھر حضرت عکرمہ مکہ سے بھاگ کر بحیرۂ قلزم کے ساحل پر پہنچے تو یمن جانے والی ایک کشتی تیار کھڑی تھی اس پر بیٹھ گئے۔ کچہ دور جاکر یہ کشتی بادِ مخالف کی لپیٹ میں آگئی۔ عکرمہ نے لات و عزیٰ کو پکارنا شروع کردیا۔ ملاحوں نے کہا، یہ اللہ کوپکارنے کا وقت ہے۔ لات و عزیٰ کشتی کو بھنور سے نہیں نکال سکتے۔ یہ بات عکرمہ کے دل پر اثر کرگئی۔ حافظ ابن حجر نے اصابہ میں لکھا ہے کہ اس موقع پر عکرمہ نے یہ دعا کی:

’’اے اللہ میں عہد کرتا ہوں کہ اگر اس طوفان نے مجھے زندہ چھوڑدیا تو میں خود کو محمد ﷺ کے سامنے پیش کردوں گا۔ وہ بڑے رحیم و کریم ہیں(امید ہے) مجھ سے مواخذہ نہ فرمائیں گے۔‘‘

خدا کی قدرت، کشتی صحیح سلامت اسی جگہ کنارے آلگی جہاں سے چلی تھی، اسی اثنا میں حضرت ام حکیم بھی شوہر کی تلاش میں ساحل پر آپہنچی تھیں انہوں نے حضرت عکرمہ کو بتایا کہ میں ایک ایسے انسان کے پاس آرہی ہوں جو سب سے زیادہ نیک اور سب سے زیادہ رحیم و شفیق اور صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔ میں نے ان سے تمہارے لیے امان حاصل کرلی ہے اب میرے ساتھ ان کی خدمت میں چلو۔ عکرمہ فورا مان گئے اور حضرت ام حکیم کے ساتھ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے۔ حضور انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور ’’مرحبا باالراکب المہاجر‘‘ (خوش آمدین اے پردیسی سوار) فرماکر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ حضرتِ عکرمہ نے بیوی (ام حکیم) کی طرف اشارہ کرکے عرض کیا:

’’اس نے مجھے بتایا ہے کہ آپ نے میری جان بخشی کردی ہے۔‘‘

حضور ﷺ نے فرمایا: ’’ہاں اس نے سچ کہا ہے تم محفوظ و مامون ہو۔‘‘

عکرمہ اس شان کرم سے اس قدر متاثر ہوئے کہ اسی وقت صدق دل سے اسلام قبول کرلیا اور عہد کیا کہ آئندہ میری دولت اور جان جہاد فی سبیل اللہ کے لیے وقف رہے گی۔ اس کے بعد ان کی زندگی میں انقلابِ عظیم پیدا ہوگیا۔ جس شدت سے انہوں نے اسلام کی مخالفت کی تھی۔ اب اس سے زیادہ جوش کے ساتھ انہوں نے اسلام کی خدمت کی۔ ۱۱ ہجری میں حضورﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق کے عہد خلافت میں فتنۂ ارتداد کا قلع قمع ہوگیا اور مسلمانوں نے شام پر چڑھائی کی تو حضرتِ عکرمہ حضرت ام حکیم کو ساتھ لے کر شام کی مہم پر جانے والے مجاہدین میں شامل ہوگئے۔ کئی معرکوں میں نہایت جانبازی سے رومیوں کے خلاف جہاد کیا اور بالآخر اجنادین کی لڑائی میں نہایت پامردی سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ اس طرح حضرت ام حکیم ؓ عالم غربت میں بیوہ ہوگئیں۔

حضرت ام حکیمؓ کے ایام عدت گزرگئے تو ان کو نکاح کے پیغام ملنے شروع ہوگئے۔ ان میں حضرت خالد بن سعید بن عاص کا پیغام بھی تھا۔ ام حکیم نے اور سب پیغام تو رد کردیے البتہ حضرت خالد بن سعید سے نکاح پر رضا مندی ظاہر کی۔ حضرت خالد بن سعید بڑے جلیل القدر صحابی تھے وہ سابقون اولون میں سے تھے۔ دو ہجرتوں (ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ) سے مشرف ہوچکے تھے اور فتح مکہ، حنین اور تبوک میں بھی سرورکائنات ﷺ کی ہم رکابی کی سعادت حاصل کرچکے تھے اسی لیے حضرت ام حکیم نے انہیں دوسروں پر ترجیح دی۔ چنانچہ چار سو دینار مہر پر ان کا نکاح حضرت خالد بن سعید کے ساتھ مرج الصفر کے مقام پر ہوگیا۔یہ جگہ دمشق کے قریب واقع ہے اس وقت اسلامی لشکر دمشق کی طرف پیش قدمی کررہا تھا۔نکاح کے بعد حضرت خالد بن سعید نے رسم عروسی ادا کیے جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ حضرت ام حکیم ؓ نے کہا ’’دشمن سر پر کھڑا ہے اور اس سے ہر وقت لڑائی کا خطرہ ہے اس لیے چند دن توقف کرکے اطمینان سے یہ رسم ادا ہوجائے تو بہتر ہوگا۔‘‘ حضرت خالدؓ بن سعید نے کہا مجھے اس معرکے میں اپنی شہادت کا یقین ہے۔ ام حکیم خاموش ہوگئیں۔ ایک پل کے پاس جواب’’قنطرہ ام حکیم‘‘ کہلاتا ہے رسم عروسی ادا ہوئی۔ صبح کو دعوت ولیمہ ہوئی۔ ابھی لوگ کھانے سے فارغ نہیں ہوئے تھے کہ رومیوں نے حملہ کردیا۔ ایک قوی ہیکل رومی سب سے آگے آگے تھا اور مسلمانوں کو للکاررہا تھا حضرت خالد بن سعید تیرکی طرح جھپٹ کر اس کے مقابلے کے لیے نکلے اور نہایت بہادری سے لڑکر اس کے ہاتھوں جام شہادت پیا۔ اس کے بعد عام لڑائی شروع ہوگئی۔ حضرت ام حکیم شوہر کی شہادت کا منظر دیکھ رہی تھیں۔ اسی وقت نہایت جوش سے اٹھیں، اپنے کپڑوں کو باندھا اور خیمہ کی چوب اکھاڑ کر لڑائی میں شریک ہوگئیں۔ زخمی شیرنی کی طرح بڑھ بڑھ کر حملے کرتی تھیں اور اپنی چوب سے رومیوں کو مار گراتی تھیں۔ اس معرکہ میں ان کے ہاتھ سے سات رومی جہنم واصل ہوئے۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ام حکیم ؓ یرموک کی ہولناک جنگ میں بھی شریک ہوئیں اور دوسری خواتین کے ساتھ مل کر رومیوں کے خلاف بڑی دلیری سے جنگ کی۔ حضرت ام حکیمؓ کے مزید حالات کتب سیر میں نہیں ملتے۔ نہ کسی نے وفات کازمانہ بتایا ہے اور نہ اولاد کے بارے میں کچھ لکھا ہے۔

رضی اللہ تعالی عنہا۔

شیئر کیجیے
Default image
طالب الہاشمی

تبصرہ کیجیے