3

بچوں کی دینی تعلیم کا مسئلہ

حنا ایک پندرہ سالہ خوبصورت اور دلکش شخصیت کی مالک لڑکی تھی۔ وہ پابندی سے ہفتہ وار اسلامی اجتماع میں شریک ہوتی تھی۔ شارٹ اسکرٹ اور انتہائی چست لباس زیب تن کرتی تھی۔ حنا کی معلمہ نے اس کی والدہ سے اس سلسلے میں گفتگو کی کہ انہیں اپنی بیٹی کو اسلامی لباس پہننے کی ترغیب دینی چاہیے کیونکہ جس قسم کا لباس وہ پہنتی ہے ، غیر ارادی طور پر اسکول کے لڑکوں کی توجہ اس کی طرف کھینچتا ہے۔

’’حنا! تمہیں اپنے لباس میں تبدیلی لانی چاہیے۔ یہ لباس اسلامی نہیں ہے۔ اب شارٹ اسکرٹ نہیں چلے گی اور اب تمہیں پورا لباس پہننا پڑے گا جس میں تمہاری پوری ساخت چھپی رہے۔‘‘ حنا کی والدہ نے اسے ڈانٹتے ہوئے سختی سے کہا۔

’’آپ مجھے اس طرح کی کوئی بات کہنے والی کون ہوتی ہیں؟

حنا نے غصے میں جواب دیا۔‘‘آپ خود کو تو دیکھیے، آپ کا لباس بھی گھٹنے تک ہے اور میں اس لباس میں آپ کی ہر ساخت دیکھ سکتی ہوں۔‘‘

مذہب کی بات آئی تو معلوم ہواکہ حنا کی والدہ متضاد شخصیت کی مالک ہیں۔ ایک طرف وہ نماز بھی پڑھتی ہیں اور رمضان کے روزے بھی رکھتی ہیں اور قرآن کی تلاوت بھی کرتی ہیں۔ لیکن دوسری طرف غیر مسلموں سے میل ملاپ کے دوران وہ ’’فیشن زدہ‘‘ لباس پہننا بھی پسند کرتی ہیں۔ایسی صورت میں ان کی بیٹی ان سے کیا تعلیم لیتی؟

حسین اپنے والد کے لیے کوئی اچھا لڑکا نہیں ہے۔ جس کو وہ روز ہفتہ اسلامی کلاسز میں بھی لے جاتے ہیں اور اسے یہ بھی بتاتے ہیں کہ تم اپنی تعلیم کے لیے جمعہ کی نماز بھی چھوڑ سکتے ہو کیونکہ تعلیم زیادہ ضروری ہے۔ حسن کے والد ایک مسلم کمیونٹی میں اچھے مقام پر ہیں لیکن ان کا بیٹا چھپ کر ان کی باتیں سنتا ہے اور پھر اپنے دوستوں کے سامنے شیخی بگھارتا ہے کہ کیسے انہوں نے انکم ٹیکس کے معاملہ میں دھوکہ دہی کی اور پھر بھی پکڑسے بچ بھی گئے۔

اگر والدین کی حیثیت سے ہم اسلام کے ایک پہلو کو اختیار کرلیں اور دوسرے پہلو کو اپنی زندگی سے بالکل غائب کردیں تو پھر ہم اپنی اولاد سے خالص اسلامی زندگی کی توقع کو مشکل ہی سے کرسکتے ہیں۔ اگر حنا کی والدہ وہ لباس پہنتی ہیں جو ان کی غیر مسلم دوست پہنتی ہیں تو ان کی بیٹی بھی اپنے لیے اس حق کا مطالبہ کرے گی خواہ اس کی والدہ یہ سمجھتی ہوں کہ اس کا لباس غیر ساتر اور بہت چست ہے۔

سوال یہ ہے کہ اصل ذمہ دار کون ہے اور اس بات کا فیصلہ کرنے کا حق کس کو حاصل ہے۔ اگر وہ اللہ ہے جس کو یہ حق حاصل ہے تو والدین کو کوئی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کون سا طرز عمل اختیار کرنا ہے ۔اور اگر ہر شخص انفرادی حیثیت میں یہ حق رکھتا ہے تو پھر اس کا حق جتنا والدین کو ہے اتنا ہی بالغ ہونے کے بعد اولاد کو بھی ہے۔ جو والدین متضاد نقطہ نظر رکھتے ہیں خود ان کی نوجوان اولاد اس کی نشان دہی کردے گی۔ اگر آپ یہ جانتے ہیں کہ آپ اللہ کے احکامات کی پیروی نہیں کررہے ہیں تو آپ اپنے رویے میں تبدیلی لاسکتے ہیں اور اپنی اولاد کو بھی اس کا یقین دلاکر انہیں اس پہلو سے اپنے اعتماد میں لے سکتے ہیں کہ آپ اپنے اندر تبدیلی لارہے ہیں اور ایمان کی جڑیں آپ کے اندر مضبوط ہورہی ہیں۔ پھر آپ انہیں بلاتکلف یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ ان کی صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح ان کی زندگی آسان اور بہتر انداز میں بسر ہوسکے گی۔ پھر آپ کو اس بات کی ضرورت بھی ہوگی کہ آپ یہ دیکھیں کہ اگر کبھی آپ اسلامی اقدار سے ہٹتے ہیں تو آپ کے لیے پریشانی پیدا تو نہیں ہورہی ہے۔

اگر آپ تربیت و تعلیم کے اس پہلو کو نظر انداز کریں گے تو آپ کے بچے آپ کی باتوں کو نظر انداز کریں گے۔

ہم مسجد میں اپنے بچوں کو اس توقع پر بھیجتے ہیں کہ ہمارے بچے ناظرہ قرآن کی تعلیم حاصل کرلیں لیکن وہ اس کا مطلب ، معنی و مفہوم نہ سمجھیں۔ ہم مساجد سے اس بات کی توقع تو رکھتے ہیں کہ وہاں ہمارے بچے نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا سیکھیں لیکن وہ یہ نہ سیکھیں کہ زندگی کیسے گزاریں اور ہمارا طرز عمل کیا ہو۔

بیشتر بچے یہ جانتے ہیں کہ نماز کیسے پڑھی جاتی ہے لیکن بہت کم بچے نماز کی ضرورت کو سمجھتے ہیں کیونکہ وہ اس کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں۔ اکثر بچے یہ تو جانتے ہیں کہ ناظرہ قرآن کیسے پڑھیں۔ لیکن بہت کم بچے اس کو سمجھنے یا اپنے سوالات کے جوابات جاننے کے لیے پڑھتے ہیں۔

اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ اسلامی عقیدہ کے پانچ بنیادی ستون اور سیرت نبی پاک انسان کے لیے اسی وقت مفید ہیںوہ جاننے کی کوشش کرے کہ اسے زندگی میں کیا اور کیسے کرنا ہے۔ چودہ سو برس پہلی نبی کریم تشریف لائے، یہ حقیقت ہے، یہ حقیقت بجائے خود اہم نہیں ہے اور نہ ہی یہ حقیقت کہ آپ اور اس دور کے مسلمان ایک ایسے شہر میں رہے جہاں وہ اقلیت میں اور اذیتوں سے دوچار تھے، اس وقت اہم ہے جب یہ حقیقت ہمیں اس بات کو سمجھنے میں مدد دے کہ جس طرح وہ لوگ اس ماحول میں اپنے آپ کو باقی رکھ سکتے تھے تو ہم بھی خود کو باقی رکھ سکتے ہیں۔ جب ہم اپنے بچوں کو اسلام کی تعلیم دیں تو یہ ضروری ہے کہ ہم انہیں محض حقائق زبانی یاد نہ کرادیں بلکہ انہیں یہ بتائیں خود انہیں کیا کرنا ہے۔ آپ کوئی کام کریں تو اسلامی تعلیمات سے اس کا حوالہ دیں او ر پھر اس عمل کو اپنی اولاد کے لیے مثال بنائیں۔ مثلاً آپ ایک بیمار کی عیادت کے لیے جاتے ہیں۔ آپ انہیں بتائیے کہ یہ اسلام کا مطالبہ ہے۔ ان سے اس مسئلے پر گفتگو کیجیے کہ مریض کی عیادت کرنے میں کیا کیا اچھائیاں ہیں۔ آپ اس بات کو یقینی بنائیے کہ آپ ان مریضوں کی بھی عیادت کریں جن سے آپ کا تہذیبی رشتہ نہیں ہے، جیسے غیر مسلم اور اسی طرح یہ بھی اہم ہے کہ اگر بچے کا کوئی ساتھی بیمار ہو تو آپ اس کی عیادت کی تلقین کریں یا خود اسے لے کر اس کے گھر جائیں۔ یہ آپ کے بچے کے لیے ایک بہترین سبق ہے کہ آپ اسے بتائیں کہ ہر ایک کے ساتھ اسلامی طرز عمل اختیار کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔

آپ اپنے بچوں کے ساتھ ٹی۔وی دیکھیے خاص طور سے بچوں کے پروگرام۔ اس دوران آپ بچوں کو کوئی نصیحت نہ کیجیے بلکہ پروگرام کے کردار سے متعلق ان سے بحث کریں۔ ڈیٹنگ، ڈرنکنگ یا اسموکنگ جیسے مسائل پر ان سے گفتگو اس طرح کی بات کہیں کہ ’’کیا تم اس بات پر خوشی محسوس نہیں کرتے کہ تم مسلمان ہو اور اسی لیے اس طرح کی برائیوں سے محفوظ ہو۔

بچوں سے گفتگو کرنے میں آپ پہل کیجیے۔ ان کے سامنے اس طرح کے مسائل لائیے کہ اگر تمہارا دوست بیماری کی وجہ سے اسکول سے ایک ہفتے سے غیر حاضر ہو تو تم کیا کروگے۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ آپ ان کے جواب کو سنیں۔ جب آپ ان سے ان کا خیال معلوم کریں تو ان کے جواب کو پوری توجہ سے سنیں اور پھر اس کی روشنی میں آپ اپنی اگلی بات بتائیں۔

بہت سے والدین ایسے علاقوں کے پرورش یافتہ ہوتے ہیں جہاں استعماری حکمراں اپنے زیرانتظام اسکول چلاتے ہیں۔ وہاں طلبہ کو وہی کچھ دہرانے کے لیے کہا جاتا ہے جو استاد نے بتایا ہو۔ مثال کے طور پر اگر سوال پوچھا گیا ہو کہ دانتوں کی صفائی کیوں کرنی چاہیے، تو جواب میں صرف وہی وجوہات بتانی پڑیں گی جو استاد نے اس سے پہلے انھیں بتائی ہوں۔ طالب علم کو اس بات کی اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اپنی طور پر کوئی وجہ سوچ سکے۔ اس سے یہ امید کی جاتی ہے کہ اسے جو کچھ بتایا جائے اس کو ویسے ہی تسلیم کرے۔ اکثر اپنے بچوں کو اسلام کی تعلیم دیتے ہوئے ہم بالکل یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ تم کو یہ کام کرنا ہی ہے کیونکہ اسلام ایسا کرنے کو کہتا ہے، جیسا کرنے کو میں نے کہا ہے اسی طرح کرو کیونکہ دوسرا کوئی بھی طریقہ حرام ہے۔ ہمارے بچوں کو یہ بات بتانے کی ضرورت ہے کہ علم دو طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ علم جو وحی کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے اور دوسرا وہ علم جو انسانی ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے۔ قرآن ور حدیث کے ذریعہ حاصل ہونے والا علم ناقابل تبدیل ہے اور اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ جو علم ہمیں اپنے حواس خمسہ سے حاصل ہوتا ہے یا ہمارے اپنے غوروتدبر کا نتیجہ ہوتا ہے اس میں غلطی کا امکان ہوتا ہے اس لیے اس میں سوال و اعتراض کی گنجائش ہے۔

بعض اسکول، جن میں کچھ بہترین اسلامی اسکول بھی شامل ہیں، وہاں غور تدبر پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ جو بچے یہاں تعلیم حاصل کرتے ہیں ان سے یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ تم یہ کام کرو کیونکہ میں کہہ رہا ہوں۔ آپ اپنے بچوں سے بجا طور پر یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ آپ کا احترام کریں اور آپ کی فرماں برداری کریں کیونکہ اسلام نے والدین کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ لیکن آپ کو انہیں یہ بھی بتانا پڑے گا اور ان سے گفتگو کرنی پڑے گی کہ آپ کی اطاعت و فرماں برداری کیوں ضروری ہے۔ بالغ بچوں سے نماز کا مطالبہ درست ہے، یہ ہونا چاہیے کیونکہ اللہ نے نماز کا حکم دیا ہے لیکن آپ کو اتنا وسیع الخیال بھی ہونا چاہیے اور یہ ارادہ کرنا چاہیے کہ آپ ان سے یہ گفتگو کریں کہ انہیں ایسا کرنے کے لیے کیوں کہا جارہا ہے۔ نماز کے ممکنہ فوائد کیا ہیں، اگر آپ کو محسوس ہورہا ہے کہ آپ کی نماز بے سوچے سمجھے ہورہی ہے تو آپ کو کیا کرنا چاہیے۔ ان سوالات کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ آپ کا بچہ اسلام سے پھر رہا ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا بچہ مذہب سے متعلق مسائل پر سنجیدگی سے سوچ رہا ہے۔ اسلام کے عجائب میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ اسلام دین برحق ہے اس لیے وہ سخت سے سخت سوال کا جواب بہ آسانی دے سکتا ہے۔

والدین کو یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ بچے غلطیاں بھی کرتے ہیں اور انہیں صحیح جوابات کا بھی پتہ نہیں ہے۔ بچے اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ وہ آپ سے یہ توقع کریں کہ آپ ان کے سوال کا مناسب اور دیانت دارانہ جواب دیں گے۔ جب اپنی اولاد سے یہ کہتے ہیں کہ ’’یہ بہت اہم سوال ہے، مجھے اس سوال کا جواب نہیں معلوم۔ آؤ قرآن میں دیکھتے ہیں اس نے اس کا کیا جواب دیا ہے‘‘ اس طرح آپ اپنی اولاد سے بلا تکلف اور ایمان دارانہ تبادلہ خیال کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔

اسلام کے تعلق سے اپنی اولاد سے بچپن کی عمر سے ہی گفتگو کرنی چاہیے اور مثبت اور آزادانہ ماحول میں بات کرنی چاہیے۔ آپ ان کے لیے اسلامی ماڈل بنیے۔ جب یہ بچے پریشان کن سوالات کی عمر سے ذرا بڑے ہوں گے تو ایسے بچے بنیں گے جو اسلام کو عملی طور پر قبول کیے ہوئے ہوں گے اور جو اس لیے مسلمان بن کر رہنا چاہیں گے کیونکہ وہ واقف ہوں گے کہ اسلام دنیا و آخرت میں ان کی زندگی بہتر بنائے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
محمود ترابی