BOOST

عورت کی امامت اور شریعت کا مزاج

گزشتہ ۱۸/ مارچ کو امریکی شہر نیویارک میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ نسوانی آزادی کی علم بردار کچھ خواتین نے جمعہ کی نماز کے موقعہ سے تقریباً ایک سو مرد وں اور عورتوں کو جمع کیا۔ ایک بے حجاب خاتون سہیلہ العطار نے اذان دی۔ جب کہ ورجنیا یونیورسٹی کی ایک اسسٹنٹ پروفیسر، ڈاکٹر آمنہ ودود نے جمعہ کا خطبہ دیا اور نماز پڑھائی۔ آمنہ نے اس عمل کو ایک ’’انقلابی اقدام‘‘ قرار دیا اور دعوی کیا کہ اس کے ذریعہ انہوں نے ان ’لامحدود امکانات‘ کا مظاہرہ کیا ہے جو اسلام میں عورتوں کو حاصل ہیں۔ اس پورے واقعہ کی منتظمہ ہندوستان کے ایک بڑے معروف علمی خانوادے کی دختر نیک اختر محترمہ اسری نعمانی تھیں جو اس سے قبل بھی ’’مساواتِ مرد و زن‘‘ کے اس قبیل کے مظاہرے کرتی رہی ہیں۔ آمنہ کا خطبہ بھی بڑا دلچسپ تھا۔ انہوں نے خدائے تعالی کے لیے مؤنث کا صیغہ ‘She’استعمال کیا۔ کہا کہ ’’قرآن کے خلاف جانے کی اجازت انہیں خود قرآن دیتا ہے‘‘۔ وعلی ذلک

ہمیں آمنہ اور ان کے ساتھیوں کی نیتوں سے بحث نہیں۔ بعض امریکی مسلمانوں کے اس خیال سے بھی ہمیں فی الحال بحث نہیں کہ آمنہ، قرآن و سنت کا گہرا علم رکھتی ہیں اور اس پر عامل بھی ہیں۔ فی الحال صرف اس واقعہ اور اس کے اثرات و عواقب پر گفتگو پیش نظر ہے۔

’’کیا خواتین نماز پڑھاسکتی ہیں‘‘؟ اس سوال پر اسلامی تاریخ میں شاید کبھی بھی اختلاف رائے نہیں رہا۔ ہمیشہ اس بات پر امت متفق رہی کہ خواتین، مردوں، یامرد و خواتین کی مشترکہ جماعت کی امامت نہیں کرسکتیں،۔ گرچہ اس ممانعت کی واضح صراحت کسی نص سے نہیں ہوتی لیکن چودہ صدیوں میں امت کا اس پر اتفاق اور متواتر عمل خود ایک بہت مضبوط دلیل ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے نصوص سے ایسے اشارے ملتے ہیں جن سے یہ ممانعت ثابت ہوتی ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی نے اس مسئلہ پر اپنے بیان میں ان نصوص کو یکجا کردیا ہے۔

مصر کے مفتی اعظم شیخ علی جمعہ نے خبروں کے مطابق اس رائے سے اختلاف کیا ہے۔ العربیہ چینل پر ان کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے اخباروں نے لکھا ہے کہ ان کے مطابق، اگر مقتدی راضی ہوں تو عورت امامت کرسکتی ہے۔

مفتی اعظم کا یہ بیان درست بھی ہوتو یہ ان کی شاذ رائے ہے۔ورنہ عالم اسلام کے تمام گوشوں سے علماء نے عورت کی امامت کو نا درست قرار دیا ہے۔

آمنہ اور ان کے ساتھی ام ورقہ کی روایت کا حوالہ دیتی ہیں۔ سنن ابی داؤد اور مسند احمد کی روایت کے مطابق ام ورقہؓ کو رسو ل اللہ ﷺ نے اپنے خاندان کے لوگوں کے لیے امام مقرر کیا تھا اور ایک مرد کو ان کا موذن بنایا تھا۔ اور حضرت عمرؓ کے زمانہ تک وہ امامت کا یہ فریضہ انجام دیتی رہیں۔

اس روایت پر علمانے مختلف خیالات ظاہر کیے ہیں ۔ شیخ قرضاوی نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے جب کہ بعض علماء نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ام ورقہ کو صرف عورتوں کا امام بنایا گیا تھا۔

اس حدیث پر بہت متوازن نقطۂ نظر ڈاکڑ حمید اللہ ؒ کا معلوم ہوتا ہے۔ خطبات بھاولپور میں ڈاکٹر صاحب نے اس حدیث کے متعلق لکھا ہے کہ ایسی استثنائی صورتیں جو کبھی کبھی امت کو پیش آسکتی ہیں ان کی پیش بندی کے لیے رسول اللہ ﷺ نے یہ انتخاب فرمایا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ خود انہوں نے ایک افغان طالب علم لڑکی کو اس کے نو مسلم شوہر کی امامت کی اجازت دی تھی۔ گویا ام ورقہ کا واقعہ ایک استثنائی صورت ہے جسے عمومی قاعدہ نہیں بنایا جاسکتا۔

عورتوں کی امامت کی ممانعت کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کم تر درجہ کی مالک ہے۔ یا اس کا مقام پست تر ہے۔ یہ محض تقسیم کار کا اسلامی اصول ہے۔ اس مسئلہ پر بی بی سی پر بحث کرتے ہوئے ایک ترک مسلمان احمد نے سچ کہا کہ ’’یہ ایسا ہی ہے جیسے مرد و زن کی مساوات کے چکر میں میں اپنے نومولود شیر خوار کو دودھ پلانے کی کوشش کروں۔‘‘ جس طرح احمد کو مرد ہونے کی حیثیت سے اپنے بچہ کودودھ پلانے کاموقع حاصل نہیں اور اس محرومی کی وجہ سے اس کا درجہ کم تر نہیں ہوجاتا اسی طرح اس کی بیوی کو نماز پڑھانے کا موقع حاصل نہیں۔ اور یہ بھی اس کے مقام و مرتبہ میں کم تری کا ذریعہ نہیں ہے۔

مغربی میڈیا اس خبر کو خوب اچھالنے کی کوشش کررہا ہے اور یہ تاثر دے رہا ہے کہ اسلام نے عورتوں کے ساتھ گویا ناانصافی کی ہے۔ جب کہ یہ معاملہ صرف اسلام تک محدود نہیں ہے۔ ایک عیسائی خاتون سینٹ بن سکتی ہے، پوپ نہیں بن سکتی۔ وہ چرچ میں وعظ بھی نہیں کہہ سکتی ہے۔ نہ کوئی خاتون یہودی ربی ہوسکتی ہے۔ گویا یہ مسئلہ مذاہب عالم کے درمیان متفق علیہ مسئلہ ہے۔

اسلام نے عورتوں کو سماجی زندگی میں مساویانہ حق دیا ہے۔ وہ تعلیم دے سکتی ہے اسلامی تاریخ میں خواتین نے فقیہ، محدث، مفسر، مفتی، استاذ، سپہ سالار و غیرہ سارے رول ادا کیے ہیں۔ خلافت اسلامیہ کے امور و معاملات میں حضرت عائشہؓ کی دلچسپی اور ان کا عمل دخل سب پر واضح ہے۔ مساجد میں بھی اسلام خواتین کو آنے، مساجد کے معاملات میں دلچسپی لینے، اور تعلیم و تربیت کے عمل میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے۔ عیدین و جمعہ کے موقعوں پر خواتین کو مسجد میں جانے کی خصوصی ہدایات بھی ملتی ہیں۔ رسول اللہﷺ کے عہد میں حائضہ عورتیں تک عیدگاہ میں جایا کرتی تھیں۔

امامت کے مسئلہ کا تعلق شرم و حیاء اور اختلاط مرد و زن سے متعلق اسلامی تصورات سے ہے۔ اسلام مردوں اور عورتوں کے سماجی اختلاط میں کچھ حدود کی تعیین ضروری سمجھتا ہے۔عام سماجی زندکی میں بھی خواتین اور مردوں کا ایسا اختلاط کہ جسم سے جسم مس کریں، یا ایسی قربت کہ دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوجائیں، اسلام میں سخت ناپسندیدہ اور اخلاقی اعتبار سے نہایت درجہ معیوب ہے۔ اس لیے کہ یہ اخلاقی برائیوں، بے راہ روی، جنسی آوارگی اور اس کے نتیجہ میں خاندانی نظام کے انتشار کا نقطۂ آغاز ہے۔ نماز تو پاکیزگی، روحانی بلندی اور نفس کے تزکیہ کا ذریعہ ہے۔ یہ مقصد کسی ایسی جماعت میں قطعاً حاصل نہیں ہوسکتا جہاں مردوخواتین کاندھے سے کاندھا اور ٹخنہ سے ٹخنہ ملائے کھڑے ہوں یا اگلی صف خواتین کی ہو۔ اس لیے باجماعت نمازمیں خواتین کو شرکت کی اجازت دینے کے ساتھ اسلام نے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ خواتین کی صفیں مردوں کی صفوں کے پیچھے ہوں اور دونوں کے درمیان بچوں کی صفیں ہوں۔ حیاء کے نسوانی تقاضے، فطری طور پر مردانہ تقاضوں کے مقابلہ میں زیادہ شدید تر ہیں۔ اس لیے یہ پسند نہیں کیا گیا کہ امامت کرتے ہوئے کوئی خاتون مردوں کی صف کے سامنے جھکے۔ اور رکوع و سجود کے دوران اس کے اعضا ء نمایاں ہوں۔

اس واقعہ نے اس زوال پذیر اور ستم رسیدہ امت کے کئی مسائل کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے۔ اس واقعہ سے متعلق فقہی مباحث سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم ان مسائل پر توجہ دیں۔

زوال پذیر قوموں کی ایک بڑی خصوصیت ذہنی مرعوبیت اور نفسیاتی شکست ہے۔ آمنہ ودود اور ان کی ساتھیوں کی نیتوں سے متعلق کوئی بدگمانی کیے بغیر ہم کم سے کم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ وہ مغرب اور بالخصوص امریکی تصورات سے حد درجہ مرعوب ہیں۔ ’انتہا پسندی‘ اور ’دقیانوسیت‘ ایسی خطرناک گالیاں بن گئی ہیں کہ ہمارے روشن خیال، اصحاب نظر اس گالی سے اپنے دامن کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ اسلامی اقدار سے ان کی اصل حیثیت میں وابستگی اور پورے اعتماد کے ساتھ ان کی طرف دعوت، اب بہت کم لوگوں کا شعار رہ گیا ہے۔ غالب مشغلہ یہ ہے کہ ان اقدار کو امریکی آہنگ دیا جائے اور امریکیوں کے سلسلہ میں یہ مان کر کہ ’تم انسان کامل ہو۔‘‘ یہ ثابت کیا جائے کہ انسان کامل کی ہر سنت اور ان کا ہر قول فیصل ہماری روایات میں موجود ہے۔

آمنہ ودود کو اس بات پر شرمندگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ انہیں خطبہ دینے اور نماز پڑھانے کی اجازت نہیں ہے۔ وہ امریکیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتی ہیں کہ تم نے عورتوں کو اتنا ذلیل و رسوا کیا ہے کہ وہ سیکڑوں کی تعداد میں تمہارے تمدن کے جہنم سے چھٹکارا پاکر اسلام کی آغوش رحمت میں پناہ لے رہی ہیں۔ تم نے اس کا لباس چھینا، اس کا وقار اور اس کی نسائیت چھینی۔ اسے اپنی فطرت سے جنگ پر مجبور کیا۔ تم نے مساوات کے نام پر، دہرے بوجھ ڈال کر اس کی کمر تو ضرور توڑی ہے لیکن آج تک تمہاری کوئی عورت صدر نہیں گزری۔

ایک حقیقت پسند آدمی پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ اسلام نے عورت کو جو مقام و عزت عطا کی ہے۔ جدید معاشروں میں اسے اس کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں ہے۔ لیکن اسے کیا کہا جائے کہ زوال و شکست آنکھوں پر ایسے پردے ڈالتی ہے کہ آدمی اپنے وجود ہی پر شرمندہ شرمندہ سا رہتا ہے۔ چہ جائیکہ اپنی اقدار اور تہذیب کی خوبیوں پر فخر کرسکے۔

دوسری طرف یہ بھی زوال پذیر معاشروں کا شیوہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی روایات کو وحی الہی کا درجہ دے دیتے ہیں۔ نامعقول سے نامعقول رواج ان کے ہاں اتنا مقدس و محترم ہوجاتا ہے کہ اس پر سوال اٹھانا بھی بے ادبی و گستاخی سمجھا جاتا ہے۔ بے شک عورت امامت نہیں کرسکتی۔ لیکن کیا احادیث نبوی میں جمعہ و عیدین میں عورتوں کی شرکت کی مستحکم اور متفق علیہ روایات موجود نہیں ہیں؟ آمنہ ودود کے معاملہ میں ہماری مذہبی قیادت نے جس چابکدستی اور سرعت عمل کا مظاہرہ کیا، اس کا مظاہرہ مثلاً عورتوں کو وراثت میں ان کا جائز حق دلانے کے لیے کیوں نہیں کیا جاتا؟ خود ہمارے ملک میں بلا مبالغہ لاکھوں عورتیں ظالم شوہروں سے نجات کے لیے پریشان ہیں کیوں ہمارے نظام قضا کو مستحکم نہیں کیا جاتا؟ کیوں عورت کی کمائی پر بھی شوہر کا بلکہ ساس و خسر کا ناجائز قبضہ و تسلط رہتا ہے؟ کیوں تعلیم کے معاملہ میں لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ پیمانے اور معیارات ہوتے ہیں؟ کیوں آج بھی مساجد کے دروازے عورتوں کے لیے بند ہیں۔کیوں مسلم تنظیموں میں فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کو کوئی مقام حاصل نہیں ہے؟

بلاشبہ آمنہ ودود کی طرح کی خواتین فوری مرکز توجہ اس لیے بن جاتی ہیں کہ بین الاقوامی میڈیا روایتی طور پر اسلام دشمن ہے، لیکن یہ واحد سبب نہیں ہے۔ بہت سے معتدل مزاج اور معقول لوگ بھی اس لیے ان واقعات کو اہمیت دیتے نظر آتے ہیں کہ وہ انہیں مسلم خواتین کی مظلومیت و پسماندگی کی عمومی صورت حال کے پس منظر میں دیکھتے ہیں۔ اگر مسلم معاشرہ اپنی خواتین کو ان کے جائز حقوق دے اور خواتین اسلام کی تعلیمات کے مطابق اور قرآن و سنت کے حدود میں ترقی کرتی نظر آئیں تو نہ اس طرح کی آمناؤں کو ایسے مذاق کے مواقع ملیں گے اور نہ ان کی بات کو کوئی عمومی سنوائی حاصل ہوگی۔

قرآن و سنت کی واضح تعلیمات کو نظر انداز کرکے خواتین کو جہالت و لاعلمی کے حبس میں قید کرنے ہی کا نتیجہ ہے کہ آج علم و عمل کے مختلف محاذوں پر مسلم خواتین کی نمائندگی مغرب زدہ خواتین کرتی نظر آتی ہیں۔ اسلام پسند خواتین اگر تعلیم یافتہ بھی ہوں تو انہیں بیرونی دنیا سے ربط و تعلق کے اتنے کم مواقع ملتے ہیں کہ اونچی ڈگریاں رکھنے کے باوجود وہ ملک و ملت کے احوال سے ناواقف، عصری تقاضوں سے لاعلم اور دور جدید میں عملی کام کی صلاحیتوں سے محروم ہوتی ہیں۔چند دنوں قبل دلی میں مسلم خواتین کے مسائل پر ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ مباحثہ میں برقع پوش خواتین خاصی تعداد میں موجود تھیں لیکن نہ وہ انگریزی بول سکتی تھیں، نہ مباحثہ کے موضوعات کو سمجھنے اور ان پر رائے قائم کرنے کا ملکہ رکھتی تھیں۔نتیجتاً وہ محض خاموش تماشائی تھیں اور مغرب زدہ خواتین پوری طرح مباحثہ پر غالب تھیں۔

اس کیفیت کو ملک میں ہر جگہ دیکھا جاسکتا ہے۔ مسلم خواتین میں اگر کہیں کہیں حرکیت Activismاور سرگرمی نظر بھی آتی ہے تو وہ محض وعظ و تقریر تک محدود ہے۔ لڑکے لڑکیاں ایک ہی خاندان میں پرورش پاتے ہیں۔ ایک ہی کالج میں یکساں ڈگریاں حاصل کرتے ہیں، اس کے باوجود لڑکے اس تیز طرار دنیا میں اپنی حیثیت منوالیتے ہیں جب کہ لڑکیوں کو اس دنیا کی ہوا تک نہیں لگتی۔

آمنہ ودود کے واقعہ کو اسی پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ ہوسکتا ہے یہ اسلام دشمنوں کی سازش ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اس بات کا رد عمل ہو کہ مسلم معاشرہ میں عورتوں کو ان کے بہت سے جائز حقوق سے بھی محروم رکھا گیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ ہماری سادہ لوح بہنوں کی مخلصانہ غلطی ہو۔ چاہے جو بھی ہو، واقعہ کا اصل سبق یہ ہے کہ مسلم خواتین بیدار ہوں۔ ہماری مذہبی قیادت رسوم و روایات پر اصرار کرنا چھوڑدے۔خواتین کو ان کے جائز حقوق ملیں۔ عائشہؓ اور اسماءؓ کی طرح وہ بھی سماجی زندگی میں اپنا رول ادا کریں۔ اپنی صلاحیتوں سے امت مسلمہ کو مستفید کریں۔ خاتون علمائے کرام، خاتون فقہا اور خاتون اسلامی دانشوران، مسلم معاشرہ میں پیدا ہونے لگیں۔ عورت کو اس کے معاشی حقوق ملیں۔ وہ اپنی مرضی سے اپنی دولت کا استعمال کرسکے۔ ظالم شوہر سے نجات کا قانونی حق اسے حاصل ہو۔

آمنہ ودود کی طرح تعلیم یافتہ، متحرک اور جرأت مند خواتین اسلام پسند حلقوں میں بھی پیدا ہوں۔مسلم نسائی تحریکات کی قیادت اسلام پسند خواتین کے ہاتھوں میں ہو۔ اور وہ ان تحریکات کو مرد و زن کی کشمکش کے بجائے خواتین کی ترقی و تربیت کے عمل کی طرف موڑیں۔ جب تک یہ نہیں ہوگا آمنائیں اور اسرائیں ہی مسلم خواتین اور ان کے مسائل کی نمائندگی کرتی رہیں گی اور جواباً ہم اُسی طرح کے معذرت خواہانہ دفاع پر مجبور ہوں گے کہ جس کا مظاہرہ اس وقت ساری دنیا میں ہورہا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
سید سعادت اللہ حسینی

تبصرہ کیجیے