6

مومن نما ز کے بارے میں حساس ہوتا ہے

امریکہ کی ایک مسجد میں امینہ ودود نامی ایک خاتون نے جمعہ کا خطبہ دیا اور نماز پڑھائی۔ دنیا بھر کے اخبارات ریڈیو اسٹیشن اور ٹی۔وی چینلز نے اس خبر کو دنیا بھر میں عام کیا اور یہ باور کرایا کہ گویا مسلمان عورت نے اپنا ڈیڑھ ہزار سال سے کھویا حق پالیا۔ اس واقعہ پر دنیا بھر کے مسلمانوں میں غصہ اور ناراضگی تھی۔ کسی نے اس عمل کو درست نہیں قرار دیا۔ مسلمان مردوں ہی نے نہیں عورتوں نے بھی اس عمل کو غلط سمجھا اور ناپسند کیا۔

بعض لوگ اس مسئلہ پر فقہ کی روشنی میں گفتگو کرتے ہیں۔ مگر یہاں مسئلہ فقہ کا نہیں ہے یہ تو ایک سوچی سمجھی اسکیم ہے اور ایک منصوبہ بند سازش ہے اسلام کو پارہ پارہ کرنے کی۔ امینہ ودود ایک تنہا خاتون نہیں ہے، اس کے پیچھے سلمان رشدی اور اسراء نعمانی جیسے لوگوں کی ذہنیت کارفرما ہے۔ اس کی پشت پر یہودی میڈیا اور صحافت کی پوری قوت ہے۔ اس مسئلہ پر محض فہقی نقطہ نظر سے گفتگو مسئلہ کی سنگینی کو کم کردیتی ہے۔

مومن کو اپنی عبادت کے بارے میں بہت حساس ہونا چاہیے۔ عبادت کی قبولیت بہت نازک مسئلہ ہے۔ عبادت اپنی مرضی سے نہیں کی جاسکتی ہے۔ یہ اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے طریقہ پر ہی کی جائے گی تبھی قبول ہوگی۔ اللہ کے رسول نے عورتوں کے لیے بہترین صف آخری صف کو قرار دیا ہے۔ جب کہ مردوں کی بہترین صف پہلی صف کو قرار دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ پاک عورتوں کو آخری صف میں ہونے کے باوجود مردوں کی پہلی صف کا ثواب عطا فرمائے گا کیونکہ اس کی حیثیت آخری صف کی نہیں خیر صف کی ہے۔اس کے بعد کیا جواز ہے کہ اسراء نعمانی جیسی عورتیں پہلی صف میں مردوں کے بیچ میں گھسیں۔حضرت ابومالک اشعری کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھی تو مردوں کو اپنے پیچھے کھڑا کیا ان کے پیچھے بچوں کو اور ان کے پیچھے عورتوں کو کھڑا کیا۔ دوسری حدیث ہے کہ نبی ﷺ جب صف بناتے تھے تو مردوں کو بچوں کے آگے اور عورتوں کو بچوں کے پیچھے رکھتے تھے۔ یہی کیا ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ایک گھر میں نماز پڑھائی تو انس کو اور یتیم بچے کو اپنے پیچھے کھڑا کیا اور ان کے پیچھے بوڑھی خاتون کو تنہا کھڑا کیا۔ گویا عورت کا پیچھے اکیلے کھڑا ہونا اس سے بہتر ہے کہ وہ مردوں کی صف میں کھڑی ہو۔ عورتوں کے لیے تو رسول اللہ ﷺ کی تعلیم یہ ہے کہ اگر امام بھول جائے تو وہ زبان سے سبحان اللہ کہنے کے بجائے صرف تالی بجادیں۔ امہات المؤمنین اور بطور خاص حضرت عائشہ سے زیادہ علم کس کے پاس تھا۔ مگر انہوں نے کبھی مردوں کی امامت نہیں کی۔امامت کی تو صرف عورتوں کی جماعت کی اور اس میں بھی یہ احتیاط کہ سامنے کھڑی ہونے کے بجائے درمیان میں کھڑی ہوئیں۔ حضرت ام سلمہ نے بھی صرف عورتوں کی جماعت کی امامت کی اور وہ بھی ان کے بیچ میں کھڑے ہوکر۔ صحابیات رسول اور امہات المؤمنین اپنی عبادتوں کے بارے میں کسی قدر حساس تھیں اس کا اندازہ لگائیں کہ امام کی جگہ چونکہ آپ نے مردوں کے لیے مخصوص فرمائی اس لیے امامت صرف عورتوں کی کی تو بھی ان کے بیچ میں کھڑے ہوکر۔

امامت کی ذمہ داری مردوں کے اوپر ڈالنے کے پیچھے اللہ کی کیا حکمت پوشیدہ ہے اللہ بہتر جانتا ہے۔ ہمیں تو بس اس کے رسول کی اتباع کرنا ہے۔ اپنی عبادتوں کی قبولیت کی فکر کرنا ہے۔ اللہ ہماری نمازیں قبول فرمائے۔

شیئر کیجیے
Default image
ثمینہ شاہنواز فلاحی، جامعۃ الفلاح

تبصرہ کیجیے