6

ہم ہوئے بیمار

جی ہاں! ہم ہوئے بیمار۔ جس کی وجہ سے شاعری کی پڑی ہم کو مار۔ بس پھر کیا تھا۔ ہم نے قلم اٹھایا اور ڈیڑھ عدد غزل کہہ دی۔ وہ ڈیڑھ کیوں تھی؟ اس سے ہمیں اور آپ کو کیا سروکار۔ بس بیٹھے بٹھائے بیمار ہوئے اور لیٹے لٹائے ذہنی روبھی بہک گئی۔ جب حالت صحت میں ہی اچھے اچھوں کی ذہنی رو بہک جاتی ہے تو حالت بیماری میں ہماری ذہنی روکا بہک جانا کیا مشکل ہے۔ اور جب ذہنی روبہک ہی گئی، تو اوروں کی طرح یعنی اس دور کے خاص ادب نوازوں کی طرح بے اختیار ہمارا بھی دل چاہا کہ ادب کی خدمت کی جائے۔ ’’خالص‘‘ سے مراد تو آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ جو لوگ ادب میں ’’اسلامی افکار و تہذیب‘‘ کی آمیزش کردیتے ہیں ان کاادب خالص نہیں رہ جاتا۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ آپ خود دیکھ سکتے ہیں کہ آج کل کے عظیم شاعروں کو بھی اسلام پسند ہونے کی وجہ سے استاذ شاعر کا درجہ نہیں مل پاتا بے چارے ’’کہنہ مشق‘‘ ہی رہ جاتے ہیں۔

بہرحال بات چل رہی تھی بیماری میں ذہنی رو بہکنے کی۔ تو جب ہمارے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا تو ہم آپ کو اپنی بیماری کی کہانی سنانے بیٹھ گئے۔

تو کہانی ہماری یہ تھی کہ جب ہم بیمار ہوئے توپھر حکیم صاحب عرف ڈاکٹر صاحب سے دوا لے کر گھر میں وارد ہوئے۔پھر سونے سے پہلے دوائیں ہاتھ میں لے کر انہیں کھانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ کوششیں یوں کہ ہم دوا کھانے سے پہلے تین چار بار سونگھتے ہیں، تو جب ہم نے دواؤں کو …… تو اس میں سے ایسی بھینی بھینی … … ارے معاف کیجیے گا۔ مطلب یہ کہ ایسیمہک آرہی تھی کہ ان کو کھانا اور بھی مشکل ہوگیا۔ بہرحال جیسے تیسے دوائیں کھاکر سوگئے۔ توخواب بھی عجیب اوٹ پٹانگ قسم کے دیکھے۔ مثلاً ہم کو دماغ کے بخار ……… نہیں بلکہ بخار پر دماغ کے … افوہ کیا کیا جائے ہم کو نسیان کی بیماری ہے۔ اور بیماری میں بڑھ جاتی ہے یہ بیماری۔ ابھی پرسوں ہی کی بات ہے کہ دھول اڑ رہی تھی۔ اور دلی میں دھول کا کیا کہنا۔ کہا جاتا ہے کہ جب … پانی کی طرح ہوا کی بھی کمی پڑگئی تو حکومت دہلی نے بصد خلوص اعلان کیا کہ’’عوام سے گزارش کی جاتی ہے کہ کیوں کہ ہوا کی کمی ہے اس وجہ سے ہوا کا کم سے کم استعمال کیا جائے اور باقی ضرورت کو دھویں اور دھول سے پورا کیا جائے‘‘ لہذا اب دہلی کی سڑکوں پر دھواں اور دھول حاصل کرنے کے مکمل انتظامات نظر آتے ہیں۔ سوال کیا جاسکتا ہے کہ یہ جو تھوڑی بہت ہوا ہے وہ کہاں سے آتی ہے۔ تو عرض ہے کہ وہ دہلی کے مضافات میں واقع میونسپلٹی کے پانی کے نلوں سے خارج ہوتی ہے۔

ارے ہم واقع اپنی بیماری نسیان کے متعلق بیان کررہے تھے کہ دھول اڑ رہی تھی۔ ہمارے ساتھ ہمارے کچھ ساتھی تھے۔ تو ہم نے ناک سکیڑ کر کہا۔ او ہو دھول میں ناک گھس رہی ہے۔ ساتھی ہنسنے لگے ہم نے اپنے جملے غور کرکے پھر کہا کہ ’’ارے مطلب یہ کہ ناک دھول میں گھس رہی ہے‘‘ اس پر ان لوگوں نے اور زور کا قہقہ لگایا۔ دیکھا آپ بھی ہماری داستان غم پڑھ کر مسکرانے لگے۔ خیر یہ تو ہمارے ساتھ ہوتا ہی رہتا ہے کہ لوگ ہمارا افسانہ درد سن کر بھی ہنستے ہی ہیں۔

قصہ بیماری کا چل رہا تھا تو خیر ہم کو بخار کے دماغ پر چڑھ جانے کا اندیشہ لاحق ہوگیا۔ اور پھر جب ہم صبح اٹھے، گزشتہ رات کی طرح پھر دوائیں ہاتھ میں لیے ہوئے تھے کہ ذہن اوٹ پٹانگ ہی شاعری کرنے لگا جسم میں تھراہٹ کی وجہ سے جب ہمارا ذہن کراٹے بازوں کی طرح قلابازیاں کھانے لگا اور …جب ہمارے حلق سے ہنہناہٹ کی سی آوازیں نکلنے لگیں۔ تو بکواس کا قائل ہونا ہی پڑا۔ لہذا ہم نے اسی سے شاعری آمیز انداز میں کہا۔ امی! جو ہمیں اوپر سے ہلکا بخار ہے تو ہمارا خیال ہے کہ ہمیں اندرونی بخار ہے۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ جب کبھی ہم وضو کرتے ہیں تو اس کے تھوڑی دیر بعد …ہمارا چہرہ تمتمانے لگتا ہے، ہمارا ہاتھ تھرتھرانے لگتاہے، ہمارا سر دھم دھمانے لگتا ہے، ہمارا کان سنسنانے لگتا ہے۔ پھر ہمارا پیٹ گڑگڑانے لگتا ہے اور ہمارا حلق ہنہنانے لگتا ہے۔ یوں فدوی بلبلانے لگتا ہے اور سب کا سر چکرانے لگتا ہے۔ امی نے ہماری بکواس پر کان نہیں دھرے۔ ویسے بھی بیماری کی حالت میں جب کبھی ہم اس قسم کی بکواس کرتے ہیں تو امی یہی کہتی ہیں۔‘‘ تو بہ ہے! اس لڑکے کو تو اللہ تعالی کبھی بیمار نہ ڈالے، اور ہم کہتے ہیں’’آمین۔ ثم آمین‘‘ اس کے بعد ہم عاصم کے پاس پہنچے اور انگلی اٹھاکر کہا۔

اے! سنو خواب کی روداد ہماری

اس میں ہے حال پٹائی کا تمہاری

اس کے بعد ہم نے عاصم کو پتہ نہیں کیا خواب سنایا جو نسیان کی وجہ سے ہمیں یاد نہیں۔ ممکن ہے یہاں نسیان اس وجہ سے ہو کہ وہ خواب ہم آپ کو نہیں سنانا چاہتے۔ ویسے بھی اس رات ہم نے اوٹ پٹانگ ہی خواب دیکھے تھے۔ بار بار دل یہی کہتا تھا کہ ’’اماں یار! یہ ٹھیک نہیں ہے کوئی دوسرا دیکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواب میں ہم نے عاصم کی پٹائی نہیں دیکھی تھی کہ ہم تو پہلے ہی سوچ بیٹھے تھے کہ یہ خواب اپنے انجام کے قریب پہنچ جائے تو ابھی خواب بدلتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے ابو کو ابھی پورا حال بھی نہیں سنایا تھا کہ خواب بدل ڈالا۔

یقینا آپ ہماری اس بکواس سے پریشان ہوگئے ہوں گے (جس طرح ہماری امی پریشان ہوجایا کرتی ہیں) اور اب اپنے وقت کے ضائع ہونے پر افسوس کررہے ہوں گے۔ تو ہماری آپ سے پرخلوص درخواس یہ ہے کہ آپ افسوس میں اپنا وقت مزید برباد نہ کریں اور ہم دعاگو ہیں کہ اللہ تعالی آپ کو اور ہمیں بھی وقت کے صحیح استعمال کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

ویسے بھی ہم یہ قصہ قلم بند کرکے اپنا قلم بند کرنے ہی والے ہیں۔ کیونکہ عصر کی اذان ہوچکی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
احمد وسیم بیگ

تبصرہ کیجیے