4

والدین کے ساتھ حسن سلوک

وَقَضَی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اِیَّاہٗ، وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَاناً۔ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُہُمَا اَوْ کِلَاہُمَا فَلَا تَقُلْ لَہُمَا اُفٍّ وَ لَاتَنْہَرْہُمَا وَقُلْ لَہُمَا قَوْلاً کَرِیْماً۔ وَاخْفِضْ لَہُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَ قُلْ رَّبِّ اِرْحَمْہُمَا کَمَا رَبِّیانِی صَغِیْراً۔ (بنی اسرائیل- ۲۴،۲۳)

’’اور تیرے پروردگار نے فیصلہ فرمادیا ہے کہ تم لوگ اس کے علاوہ کسی دوسرے کی عبادت نہ کرو اور اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یادونوں تمہاری سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف تک نہ کہو، نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے ادب و احترام کے ساتھ بات کرو اور عجزو انکساری سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرتے رہو کہ اے میرے پروردگار! جس طرح انہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ بچپن میں میری پرورش کی ہے (اسی طرح) تو بھی ان کے حال پر رحم فرما۔‘‘

ان آیات میں اللہ ہی کی عبادت و بندگی پر زور دینے کے فوراً بعد والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ سب سے مقدس اور سب سے بڑھ کر حق تو اللہ تعالی کا ہے اس کے بعد ماں باپ کا درجہ ہے یعنی انسان پر اللہ کے حق کے بعد والدین سے زیادہ کسی کا بھی حق نہیں ہے اسی لیے اللہ نے اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کا حق ادا کرنے اور ان کے ساتھ احسان کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔

ماں باپ کے ساتھ احسان کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اولاد اپنے والدین کا ادب و احترام کرے، ان کی تعظیم و تکریم کرے، ان کے ساتھ نیک سلوک کرے، تن من دھن سے ان کی خدمت کرے، خوشی خوشی ان کی اطاعت اور فرماں برداری کرے، ان کی رضا جوئی اور ان کی خوشی اور ناخوشی کا خیال رکھے اور ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کرے جو خدا کو پسند ہے۔

ماں باپ جب بوڑھے ہوجائیں، کمزور اور ضعیف ہوجائیں، کام کاج کرنے یا روزی کمانے کے قابل نہ رہیں تو ان کا خیال رکھنا اور بھی زیادہ ضروری اور جان و مال سے ان کی خدمت کرنا اور بھی زیادہ واجب ہوجاتا ہے… زیادہ پیرانہ سالی اور سٹھیا جانے کی عمر میں اکثر ماں باپ کے ہوش ٹھکانے نہیں رہتے یا ان کے مزاج میں چڑچڑا پن پیدا ہوجاتا ہے ایسے عالم میں اولاد کا فرض ہے کہ وہ ان کی کسی بات کا برانہ مانے بلکہ خوش دلی کے ساتھ ان کی خدمت گزاری اور فرماں برداری میں لگارہتے ہیں۔ قرآن کریم نے تنبیہ کی ہے کہ خبردار! ماں باپ کو ڈانٹنا پھٹکارنا اور جھڑکنا تو دور رہا، ان کی کسی بات پر اف بھی نہ کہو، بلکہ پورے ادب و احترام کے ساتھ ان سے بات کرو اور ان کے لیے دعائے خیر کرتے رہو کہ

رَبِّ اِرْحَمْہُمَا کَمَا رَبِّیانِی صَغِیْراً۔

’’اے میرے پروردگار میرے ماں باپ نے جس طرح رحمت و شفقت، محبت اور مامتا کے ساتھ بچپن میں میری پرورش کی ہے اسی طرح اس بڑھاپے میں تو ان پر رحم فرما۔‘‘

علماء نے لکھا ہے کہ نفل نماز میں ماں یا باپ پکاریں اور انہیں معلوم نہ ہو کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے تو نماز توڑ کر جواب دینا واجب ہوجاتا ہے۔ (طحطاوی)

والدین کے علاوہ اور کسی بڑے آدمی کے پکارنے سے نماز توڑنا جائز نہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں ماں باپ کا مرتبہ کتنا بلند اور ان کے حقوق کی کتنی زبردست اور غیر معمولی اہمیت ہے۔

وہ لوگ (لڑکے لڑکیاں) بڑے خوش نصیب اور سعادت مند ہیں جو ماں باپ کے حقوق ادا کرتے ہیں اور دل و جان سے ان کی خدمت و اطاعت کرکے اپنی دنیا اور آخرت بناتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ابوالمجاہد زاہد