6

امت مسلمہ کی ذمہ داری

امت مسلمہ رسول کی جانشین ہے اور اس کو بھی وہی کام انجام دینا ہے جو رسول نے انجام دیا۔ دعوت دین اور شہادت حق کا وہی فریضہ انجام دینا ہے جو اللہ کے نبی انجام دیتے رہے۔

جس طرح اللہ کے رسول ﷺ نے اپنے قول و عمل اور شب و روز کی تگ و دو سے خدا کے دین کو واضح کرنے کا حق ادا کردیاٹھیک اسی طرح اس امت کو بھی دنیا کے سارے لوگوں کے سامنے خدا کے دین کو واضح کرنا ہے اور اسی احساس فرض اور داعیانہ تڑپ کے ساتھ دین حق کی شہادت بن کر زندہ رہنا ہے۔

اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: ترجمہ ’’اور اسی طرح ہم نے تم کو ایک ’’امت وسط‘‘ بنایا ہے تاکہ تم سارے انسانوں کے لیے دین حق کے گواہ بنو اور ہمارے رسولﷺ تمہارے لیے گواہ ہوں۔‘‘

اسی طرح امت کے بارے میں پیارے نبی ﷺ فرماتے ہیں: ’’تم زمین میں خدا کے گواہ ہو‘‘ (مسلم)اس سے معلوم ہوا کہ یہ امت خدا کی طرف سے حق کی شاہد بناکر بھیجی گئی ہے۔ دنیا میں یہ تنہا اسی کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو یہ بتاسکے کہ کون سی راہ خدا تک پہنچانے والی ہے اور کون سی راہ خدا سے دور کرنے والی ہے، حق کیا ہے اورباطل کیا ہے، نیک کے کام کون سے ہیں اور گناہ کے کام کون سے ہیں۔ یہ امت خدا کے دین کی امین ہے کیونکہ خدا کے آخری رسول نے اس کے دین کو اسی امت کے حوالہ کیا ہے۔

اب یہ سارے مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کامل یکسوئی اور اخلاص کے ساتھ پورے دین کو زندگی کا دستور بنائیں۔ زندگی کے تمام معاملات میں اس سے رہنمائی حاصل کریں اور عملا اسے نافذ و جاری کریں، اس کے لیے جدوجہد کریں اور اپنی طاقت و قوت ، وقت اور صلاحیت کو اللہ کے دین کو پھیلانے اور سر بلند کرنے میں لگادیں۔

اللہ تعالی نے قرآن مجید میں مؤمنین کی تعریف یوں بیان فرمائی ہے: ’’ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ معروف کا حکم دیتے ہیں اور منکر سے منع کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ ضرور رحم فرمائے گا۔ بے شک اللہ غالب اور حکمت والا ہے‘‘ (التوبہ)

خدا کا پیغام پہنچانے اور اللہ کے بندوں کو جہنم کے ہولناک عذاب سے بچانے کے لیے ہمیں اپنے اندر داعیانہ تڑپ اور سوز پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ نبی ﷺ کی بے مثال تڑپ اور بے پایاں درد کا اعتراف قرآن نے ان الفاظ میں فرمایا ہے: ’’شاید آپ ﷺ ان لوگوں کے پیچھے اپنی جان ہلاک ہی کرڈالیں گے اگر یہ لوگ اس کلام ہدایت پر ایمان نہ لائیں۔‘‘ (الکہف)

اللہ کے پیارے رسول ﷺ نے اپنی اس کیفیت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔

’’میری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی اور جب آس پاس کا ماحول آگ کی روشنی سے چمک اٹھا تو یہ کیڑے اور پتنگے اس پہ گرنے لگے اور وہ شخص پوری قوت سے ان کیڑوں و پتنگوں کو روک رہا ہے، لیکن پتنگے ہیں کہ اس کی کوشش کو ناکام بنائے دیتے ہیں اور آگ میں گرے پڑرہے ہیں (اسی طرح) میں تمہیں کمرسے پکڑ پکڑ کر آگ سے روک رہا ہوں اور تم ہو کہ آگ میں گرے پڑ رہے ہو۔‘‘ (مشکوۃ)

برائیوں کو مٹانے اور نیکیوں کو پھیلانے کے لیے ہمیں ہمہ وقت کمر بستہ رہنا ہے۔ ہر وقت، ہر جگہ، ہر طرح سے یہ کام ہمیں انجام دیتے رہنا ہے کیونکہ یہی ہمارے ایمان کاتقاضا ہے۔گھر میں، محلے میں، اسکول و کالج میں، بازار و دفتر میں ہر لمحہ یہی کام کرتے رہنا ہے۔ کیونکہ اسی کام کو انجام دینے کے لیے اللہ نے ہمیں ’’خیر امت‘‘ کے عظیم لقب سے سرفراز فرمایا ہے۔

ارشاد ربانی ہے۔ ’’تم خیر امت (بہترین امت) ہو جو سارے انسانوں کے لیے وجود میں لائی گئی ہے۔ تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور خدا پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔‘‘

پیارے رسول ﷺ نے امت مسلمہ کو اس ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کے لیے بڑی سخت تاکید فرمائی ہے اور اس فرض کی ادائیگی میں غفلت اور سستی برتنے کے برے انجام سے آگاہ کیا ہے۔ آپ کا ارشاد ہے: ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے (اے امت مسلمہ) تم ضرور لوگوں کو نیکی کا حکم دوگے اور برائی سے روکوگے ورنہ اللہ تعالی تمہیں ایک ایسے (خطرناک) عذاب میں مبتلا کردے گا کہ (اس سے بچنے کے لیے) تم اللہ سے دعا کروگے مگر وہ تمہاری دعاؤں کو قبول نہیں کرے گا۔‘‘

سماج میں اگر کچھ لوگ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حدوں کو توڑ رہے ہوں اور دوسرے لوگ اس پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں تو اس برائی کے اثرات سے وہ خود کو محفوظ نہیں رکھ سکتے۔ اگر سماج میںبرائیاں پھیلنے لگیں اور لوگ انہیں روکنا اور برائی کرنے والوں کو ٹوکنا چھوڑدیں تو پورا سماج برائیوں سے بھرجائے گا اور کسی کے لیے بھی امن و اطاعت کی زندگی گزارنا ممکن نہ رہ سکے گا۔ یہ تو اس عمل کے سماجی و معاشرتی اثرات ہوں گے۔ لیکن جب ان برائیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالی کا غضب نازل ہوگا تو اس گرفت میں وہ تمام لوگ آجائیں گے جو براہ راست برائیوں میں شریک نہیں ہیں مگر وہ برائی کرنے والوں کو روکتے نہیں۔ جیسا کہ قرآن کی اوپر مذکور آیت میں اللہ تعالی فرماتا ہے۔لہذا امت کے لیے نجات کی واحد راہ یہی ہے کہ وہ دین حق پر عمل پیرا ہوکر بندگان خدا تک اس کو پہنچائے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو اللہ کا عذاب اس پر نازل ہوگا اور وہ اس وقت دعائیں کرے گی مگر اس کی دعائیں مقبول نہ ہوسکیں گی۔

شیئر کیجیے
Default image
ساجدہ فرزانہ صادق

تبصرہ کیجیے