4

زبان کی حفاظت

انسان کی زبان دیکھنے میں ایک گوشت کا چھوٹا سا ٹکڑا ہے مگر کار فرمائی اور اثرات میں سب سے بڑھ کر ہے۔ حدیث میں ہے کہ روزانہ صبح سویرے انسان کے سارے اعضا زبان سے کہتے ہیں کہ اے زبان تو ہمارے بارے میں اللہ سے ڈر۔ ہم سب تیرے رحم و کرم پر ہیں۔ اگر تو سیدھی رہی تو ہم سب بھی سیدھے رہیں گے اور تیری کج روی ہمیں بھی کج رو بنادے گی۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول اور خو داللہ تعالی نے بھی زبان کو بے لگام کرنے سے روکا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ’’انسان کی زبان سے کوئی بھی لفظ نہیں نکلتا مگر یہ کہ اسے لکھنے کے لیے ایک نگہبان رہتا ہے۔‘‘ یعنی انسان کا بولا ہوا کوئی بھی لفظ ہوا میں تحلیل نہیں ہوجاتاجیساکہ بہ ظاہر نظر آتا ہے بلکہ اپنے اثرات کے اعتبار سے وہ انسانوں اور معاشرے دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور اللہ تعالی کے نظام میں وہ باقاعدہ تحریر میں آتا ہے اور اسی کو قیامت کے دن سامنے رکھ دیا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء و رسل سے لے کر حکماء اور فلاسفر تک سبھی کہتے ہیں کہ زبان پر قابو رکھو، بولنے سے پہلے تولو اور آخرت کی جواب دہی اور اپنے بولنے کے نتائج پیش نظر رکھو۔

ہمارے نبی ﷺ کا ارشاد ہے ’’جو چپ رہا اس نے نجات پائی۔‘‘ بے ضرورت بولنے میں ہزاروں خطرات ہیں۔ فساد کا ڈر ہے جھگڑے کا خوف ہے، دشمنی اور رنجش کا خطرہ ہے۔ زبان کے اثرات انسان کی ذات، اس کی شخصیت اور معاشرے پر اس قدر عظیم ہیں کہ اسی کے ذریعہ ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑا جاسکتا ہے اور اسی زبان کی بے احتیاطی کے نتیجہ میں جڑے ہوئے دل ٹوٹ جاتے ہیں۔ یہ امن، محبت اور اتحاد کا پیغام بھی ہوسکتی ہے اور تباہی، نفرت اور انتشار کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ اس زبان سے ادا ہونے والے اچھے اور محبت بھرے الفاظ، نیک اور صالح خیالات انسان کی عظمت میں اضافہ بھی کرسکتے ہیں اور اس کے برخلاف غلط الفاظ، غیبت، بہتان اور دوسروں کی برائی و عیب جوئی انسان کو دنیا میں بھی ذلیل و خوار کردیتے ہیں اور آخرت میں بھی انسان کے لیے زبردست خسارہ کا سبب بن جاتے ہیں۔ جھوٹ، بہتان، غلط بیانی، فحش گوئی اور بد زبانی تباہی و ذلت کا ذریعہ ہیں جب کہ خاموشی سے دین اور دنیا کی بہت ساری آفات ٹل جاتی ہیں۔ سفیان بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضورﷺ سے عرض کیا کہ میرے لیے سب سے زیادہ خوفناک چیز کون سی تجویز فرماتے ہیں۔ آپ نے زبان مبارک کو پکڑ کر فرمایا کہ یہ سب سے خطرناک ہے۔ بلالؓ بن حارث حضورﷺ کا یہ ارشاد بیان فرماتے ہیں کہ بعض اوقات انسان اپنی زبان سے ایک ایسا برا کلمہ نکال دیتا ہے کہ قیامت تک اللہ کا غیظ و غضب بھڑکتا رہتا ہے۔

ایک مرتبہ حضرت معاذ بن جبل ؓ کے سامنے حضورﷺ نے زبان کے غلط استعمال اور اس کے نتائج کی وضاحت فرمائی تو انہوں نے حیرت سے عرض کیا کہ حضورﷺ کیا زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کی بھی ہم سے باز پرس ہوگی۔توآپ ﷺ نے فرمایا’’اے معاذ تیری ماں تجھے گم کرے! لوگوں کو اپنی بد زبانی کی وجہ سے اوندھے منہ جہنم میں پھینکا جائے گا۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ یا تو وہ بھلی بات کہے ورنہ خاموش رہے۔‘‘ حضرت عمرؓ نے ایک مرتبہ دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اپنی زبان ہاتھ سے پکڑ کر کھینچ رہے ہیں آپ نے بڑے تعجب سے پوچھا اے خلیفہ رسول ﷺ یہ کیا ہے؟ تو صدیق اکبرؓ نے فرمایا کہ عمر یہی تو میری تباہی کا باعث ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ جب منصب قضا پر فائز ہوئے تو کہنے لگے: ’’اے زبان اچھی بات کہہ تو بھلائی سے بہرورہوگی اور بری بات سے باز رہ سلامت رہے گی اور ندامت سے بچے گی۔‘‘

حقیقت میں زبان ایک درندہ ہے اسے آزاد چھوڑدو تو وہ تمہیں پھاڑ کھائے گا۔ طلحہؓ کہتے ہیں کہ ہر چیز کی روک تھام کے لیے ایک دروازہ اور دوپٹ ہوتے ہیں مگر زبان کو فضول باتوں سے روکنے کے لیے دروازہ اور چار پٹ ہیں ایک دروازہ دوپٹوں والا دانتوں کا ہے اور دوسرا دروازہ ہونٹوں کا ہے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ نادان انسان دونوں دروازے کھلے چھوڑ کر ہر وقت اسے چلاتے رہتے ہیں اور وہ اس بات کا دھیان بھی نہیں رکھتے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ جو مجھے زبان اور شرمگاہ کی حفاظت کی ضمانت دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔ ایک اور حدیث میں آپ نے فرمایا کہ میں نے عورتوں کو جہنم میں سب سے زیادہ دیکھا ہے ۔ صحابہ نے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے تو آپ نے فرمایا کہ ایسا اس وجہ سے ہوگا کہ عورتیں چرب زبان ہوتی ہیں وہ آپس میں ایک دوسرے کی غیبت کرتی ہیں اور اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی ہیں۔

اللہ کے رسول کے یہ اقوال ہمیں اس بات کی تعلیم دیتے ہیں کہ ہم اپنی زبان پر گرفت مضبوط کریں اور بولنے سے پہلے سوچ لیں کہ ہماری زبان ہمیں جنت میں لے جانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اور جہنم میں ڈھکیلنے کا سبب بھی۔

شیئر کیجیے
Default image
زریں کوثر مومناتی اکولہ، مہاراشٹر

تبصرہ کیجیے