2

حجاب کے نام!

عورت کی موجودہ حالت

اپریل کا شمارہ دستیاب ہوا ۔بے شک حجاب کا معیار روز بروز بلند ہوتا جارہا ہے۔ مضامین و اداریے غوروفکر کو دعوت دیتے ہیں۔ اس میں وہ سب کچھ ہے جو کہ ایک عورت کے ذہن کو تعمیری اور اسلامی رخ پر ڈال سکتا ہے۔ اسی معیار کو قائم رکھیے۔ آج عورت نے اپنے آپ کو اتنا سستا اور ذلیل کرلیا ہے کہ وہ بازاروں کی شے بن کر رہ گئی ہے۔ کہیں وہ مقابلۂ حسن کے نام پر فروخت ہورہی ہے توکہیں پر وہ دل کو بہلانے والی چیز ثابت ہورہی ہے، کہیں اسے مساوات کے نعرے کے ساتھ دفتروں، تفریح گاہوں اور ہوٹلوں کی رونق بنالیا ہے۔ وہ نیلام ہورہی ہے ہوس پرست اور دولت کے پجاری اسے ہر جگہ فروخت کا ذریعہ بنائے ہوئے ہیں۔شیونگ کریم کے اشتہار ہوں یا ریزربلیڈ اور ماچس کے اشتہارات ہر جگہ اس کی تصویر ضروری ہے۔وہ نہیں جانتی کہ گھر سے باہر اس کے لیے کوئی رشتہ ہے یا نہیں۔ہر بڑے چھوٹے کی نظر میں وہ دل بستگی کا سامان ہے اگر کوئی رشتہ اسے تحفظ دیتا ہے تو وہ ہے ماں، بیٹی، بہن اور بیوی کا۔ جہاں یہ ملتا ہے وہیں پروہ محفوظ رہ سکتی ہے۔ اب یہ سوچنا اس کا کام ہے کہ اسے کیا چاہیے۔ آزادی کے نام پر بے راہ روی یا تحفظ کے طور پر سائبان۔

محمد نصیر رمضان مالیر کوٹلہ (پنجاب)

ایک مشورہ

اپریل ۲۰۰۵ء کا شمارہ ملا اور پڑھا۔ اس شمارہ میں محترمہ کنیزہ امۃ الوحید صاحبہ کا خط ’’اپنی مسلمان بہنوں کے نام‘‘ بہت ہی اہم ہے۔ ساجدہ زبیر بہن کی تخلیق ’’لمحوں کی کہانی‘‘ سنامی کی تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ مضمون پڑھا اور ۲۹ مارچ کو پھر سے انڈونیشیا میں زلزلہ آیا اور لوگ گھبرائے اور متاثر بھی ہوئے۔ اللہ تعالیٰ تمام انسانوں پر رحم کرے اور لوگ بھی گناہوں سے باز آئیں۔ مائدہ، گوشہ نوبہار گھریلو ترکیبیں اور افسانے یہ سبھی معلوماتی ہیں۔ کیریر، معاشرتی مسائل، سیرت صحابیہ قابل مطالعہ ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہر گھر کی ضرورت کو ’’حجاب‘‘ مکمل طور پر پورا کررہا ہے۔ میری ایک گزارش ہے کہ ’’لڑکیوں کے لیے مدارس‘‘ کے عنوان سے ان اداروں کا تعارف کرائیں جہاں حفظ اور عالمیت تک کی تعلیم ہوتی ہو اور لڑکیوں کے لیے تعلیم کے ساتھ ساتھ بہتر ہاسٹل اور تربیت کا انتظام ہو۔ تاکہ خواہش مندوالدین اپنی بچیوں کو اس طرح کے مدارس میں بھیج سکیں۔

مستحق الزمان خاں،محی الدین نگر، بہار

مضامین متنوع ہیں

اللہ تعالی آپ کو ایمان، صحت اور عافیت سے رکھے۔ ’’حجاب‘‘ باقاعدگی سے مل رہا ہے۔ آپ کی عنایت ہے۔ شکریہ!

ماشاء اللہ! خوب سے خوب تر ہے، مضامین متنوع اور قاری کو پڑھنے کے طرف مائل کرتے ہیں۔ خدا کرے آپ ابن فرید مرحوم کی روایات کو احسن طور پر آگے بڑھاپائیں اور عہد جدید کے تقاضوں اور چیلنج کا بھی سامنا بہ خوبی کرسکیں۔ امید ہے کہ ترجمان بھی باقاعدگی سے مل رہا ہوگا۔

ایک تجویز ہے کہ اگر مولانا مودودیؒ کے افکار اور لٹریچر سے بھی قارئین باقاعدہ مستفید ہوسکیں تو بہت اچھا رہے گا۔ اور ایک بات یہ کہ اگر پاکستان میں رسالہ ملنے کی کوئی شکل بن سکے تو کیا ہی اچھا ہو۔

مسلم سجاد ماہنامہ تعلیم القرآن

دعوتی کالم

مارچ کا رسالہ ملا، بہت خوشی ہوئی۔الحمد للہ ! یوں تو اس رسالہ میں بہت ساری اچھی اور دل پر اثر کرنے والی تحریریں نظر آرہی ہیں۔ لیکن ایک تحریر کی کمی بھی محسوس ہوریہ ہے جس کو میں انتہائی اہم سمجھتا ہوں وہ ہے ’’دعوتی کالم‘‘۔ کیونکہ آج ہمارے بھائی اور بہنوں کے ساتھ غیر مسلم طلبہ و طالبات بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ہم لوگ ان تک اسلام کی بات پہنچانے میں جھجک محسوس کرتے ہیں۔ ایسا ہم اس لیے محسوس کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں ہمارے پاس کوئی معلوما ت نہیں ہوتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت طلبہ و طالبات کے اندر دینی معلومات اور اس کام کی انجام دہی کے لیے جذبہ اور حوصلہ پیدا کیا جائے، کیونکہ یہ کام انجام نہ دینے کے نتیجہ میں تعلیمی اداروں میں دعوتی کام نہیں ہوپا رہا ہے باوجود اس کے کہ وہاں مسلم طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد زیر تعلیم ہوتی ہے۔ ایسا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی اسی بات پر منحضر ہے کہ ہم بہ حیثیت داعی امت اپنا فرض انجام دیں۔

نجیب الرحمن خان اکولہ ،(مہاراشٹر)

افسانوں کا انتخاب

اپریل کا حجاب نظر نواز ہوا۔ ٹائٹل پسند آیا۔ آپ نے جو انٹرویوز دیے ہیں وہ اچھے ہیں۔ اس طرح کی خواتین کے خیالات اگر پڑھنے کو ملتے رہیں تو بہت اچھا ہوگا۔ محترمہ کملیش لاٹھے کا انٹرویو تو بہت اہم ہے۔ انہوں نے جو باتیں کہی ہیں وہ دل کی آواز معلوم ہوتی ہیں۔

افسانوں کے انتخاب میں کسی قدر ہلکاپن محسوس ہوا۔ مشکور جاوید صاحب کا افسانہ ’’جگر کا خون اور دل کے آنسو‘‘ کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ اس کا پیغام کیا ہے کچھ واضح نہیں ہوتا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایڈیٹر اسے ایڈٹ کرتے وقت سرسری نظر ڈال کر ہی گزرگیا ہے۔ ایک جگہ تو انداز بیان بھی بھونڈا سا معلوم ہوا۔

حجاب جیسے معیاری رسالہ سے ہم امید یہ رکھتے ہیں کہ اچھے اور پیغام رکھنے والے افسانے ہی شائع ہوں۔ اداریہ، قابل غور، بزم حجاب اور سلمیٰ نسرین کی تحریریں پسند آئیں۔ کیریئر سے متعلق معلومات کو مستقل جاری رکھا جائے۔ گوشۂ نو بہار خوب ہے۔

دعا ہے کہ حجاب خوب پھلے پھولے اور لوگوں تک پہنچے۔ آمین میرا خط ’’اپنی مسلمان بہنو کے نام‘‘ شائع کرنے پر شکریہ۔

کنیزہ امت الوحید،حیدرآباد

]افسانوں کے انتخاب پر ہم آپ کا تبصرہ قبول کرتے ہیں۔ اور آئندہ انتخاب اور ایڈیٹنگ دونوں میں چستی دکھائیں گے۔ آپ کی تحریریں ہمیں ملتی رہیں تو اچھا ہوگا۔ اپنی مفید رائے ارسال کرنے پر ہم مشکور ہیں۔ مدیر[

عفت پاکستا ن کی مدیرہ کا خط

سلام مسنون! ابھی میں شبنم سبحانی کے خط اور رابطے پر ہی ایک خوش گوار حیرت کے حصار میں تھی کہ آپ کا خط بھی مل گیا۔ بھارت کے ادب اسلامی سے تعلق رکھنے والوں کے خطوط ہمارے لیے بہت ہی قیمتی سرمایہ ہیں۔ آپ لوگوں نے ہمیں یاد رکھا اور پھر خط لکھنے میں پہل کی اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر دے۔

ابن فرید صاحب مجھے حجاب بھیجا کرتے تھے، ان کے بعد میں اکثر سوچتی تھی کہ نہ جانے پرچے کے ساتھ کیا بیتی، شاید بند ہی ہوگیا ہو۔ اب یہ جان کر بہت خوشی ہوئی کہ پرچہ آپ کی ادارت میں شائع ہورہا ہے۔ اللہ کرے کہ پرچہ زندہ اور تابندہ رہے۔ آمین۔

آج کل میں امریکہ میں ہوں۔ آپ کا خط مجھے یہاں ملا۔ بہرحال اپریل میں وطن واپسی کا پروگرام ہے۔ میں دفتر کو ہدایت کررہی ہوں کہ عفت آپ کے نام جاری کردیا جائے۔ شبنم سبحانی کے نام تو جاری کردیا ہے۔ کیا ان سے آپ رابطے میں رہتے ہیں؟ ان کو میں نے اپنی اور ادارہ عفت کی طرف سے شائع کردہ کچھ کتابیں بھی بھجوائی ہیں۔ ان شاء اللہ آپ کو بھی کتابیں بھجوادوں گی۔ ہماری کتابوں میں سے اور عفت میں چھپنے والی نگارشات آپ حجاب میں شائع کرسکتے ہیں یہ ہمارے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔ حجاب پڑھنے کے بعد اپنی حقیر رائے ضرور پیش کروں گی۔ گو مجھے اس کی ضرورت محسوس نہیں ہورہی ہے۔ آپ لوگ بہرحال ہم سے زیادہ منظم اور آگے ہیں۔ بلکہ ہمیں آپ کے مشوروں کی ضرورت ہوگی۔امید ہے کہ یہ تعلق اب قائم رہے گا۔ ہم بھی حجاب کی تحریروں سے استفادے کا حق محفوظ رکھیں گے۔

اپنی اہلیہ محترمہ مریم جمال کی خدمت میں میرا سلام اور دعائیں پہنچادیجیے گا۔ زندگی کے سفر کے ساتھ ساتھ ادبی سفر میں بھی وہ آپ کے ساتھ شریک ہیں یہ بات بہت ہی خوش آئند ہے۔

سلمیٰ یاسمین نجمی

ایڈیٹر ’’عفت‘‘ پاکستان

]آپ کی ارسال کردہ کتابیں اور عفت کا ایک شمارہ ہمیں مل گیا ہے۔ ہم آپ کے شکر گزار ہیں اور اللہ تعالی سے آپ کے لیے دعائے کرتے ہوئے امید رکھتے ہیں کہ آپ کا قلمی تعاون ہمیں حاصل رہے گا۔ مدیر[

سوال و جواب کا کالم

کافی دنوں سے سوچتی تھی کہ آپ کو خط لکھ کر اپنی رائے سے آگاہ کروں۔ اور آج یہ کام کرہی ڈالا۔ گزشتہ ایک سال سے حجاب اسلامی میرے مطالعہ میں ہے اور میرا احساس ہے کہ یہ دن بہ دن نکھر رہا ہے۔ ٹائٹل پسند آتے ہیں اور مضامین بھی۔

آج کے دور میں حجاب جیسے رسالہ کو بڑے پیمانے پر پھیلانے کی ضرورت ہے کیونکہ مارکیٹ میں تفریح کے لیے جو کچھ بھی رسالے آتے ہیں ان کا اندازاور ان کا مواد دونوں بازاری محسوس ہوتے ہیں۔ لوگ دین کے نام پر کچھ حدیثیں وغیرہ لکھ کر دینی شناخت بنانا چاہتے ہیں اور اس کے اندر کی تمام چیزیں وہی غیر معیاری ہوتی ہیں۔ جب کہ حجاب ایک مکمل دینی پرچہ ہونے کے ساتھ ساتھ تفریح کا اچھا سامان بھی فراہم کرتا ہے اور اس سے ہم لوگوں کو ہر ماہ کافی معلومات مل پاتی ہیں۔

میری ایک حقیر رائے یہ ہے کہ اس میں سوال و جواب کا کالم بھی شروع کریں تاکہ حجاب پڑھنے والی بہنیں اپنے سوالات پوچھ سکیں۔

خالدہ نیازی، کانپور، یوپی

]آپ نے قیمتی رائے ارسال کی ہم شکر گزار ہیں۔ آپ سے امید کرتے ہیں کہ اپنے حلقہ میں بھی حجاب کا تعارف کرائیں گی۔ سوال و جواب کا کالم ہم جلد شروع کرنے والے ہیں۔ آپ سوالات بھیجیے۔ مدیر[

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے