5

وقار کی جنگ میں مصروف عورت

موجودہ دور سخت مقابلہ کا دور ہے جہاں ہر فرد دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش میں ہے۔ اس تیز رفتار اور مقابلہ کی دنیا میں آدمی جو کچھ حاصل کرپاتا ہے اسے معمولی اور بعض اوقات بے حیثیت تصور کرکے مزید کے لیے جدوجہد میں جٹ جاتا ہے۔ اور یہ صورت حال اس حیثیت سے افسوس ناک ہے کہ آج کا انسان محض دولت کمانے کی مشین بن کر رہ گیا ہے۔

موجودہ دور کے اس مقابلہ میں خواتین بھی شریک ہیں بلکہ وہ مردوں سے آگے نکل جانے کو اپنا ہدف تصور کرتی ہیں۔ ان خواتین کے لیے صورت حال اور زیادہ پریشان کن ہے اس لیے کہ زندگی کی جدوجہد مردوں کے لیے تو صرف یک رخی ہے لیکن ان خواتین کے لیے دو رخی ہے۔ وہ اس طرح کہ ایک طرف تو وہ اپنے پیشہ یا مادی ضروریات کے حصول میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں۔ دوسری طرف ان کے لیے ان فطری ذمہ داریوں سے فرار ممکن نہیں جو خالق کائنات نے ان کے سپرد کی ہیں۔ اس طرح بچوں کی پرورش و پرداخت اور گھر کے معاملات کی نگرانی وانتظامی ذمہ داری جو اپنے آپ میں خود کو ایک مستقل اور ہمہ وقتی کام ہے، کام کاجی عورت پر مزید بوجھ بن رہا ہے۔ اس اضافی بوجھ نے موجودہ معاشرہ کی عورت کی کمر توڑ دی ہے اورمعاشرہ وسماج کو ایک داخلی کشمکش اور انتشار سے دوچار کردیا ہے۔

اس کادوسرا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سب کچھ مردوں کے ساتھ برابری اور ترقی و مساوات کے نام پر کیا جارہاہے یا عورتیں کررہی ہیں۔ اس طرح وہ خود ہی دوہری ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا کر اپنے لیے نت نئے مسائل پیدا کررہی ہیں۔ اور اس صورت حال سے پیدا ہونے والے مسائل بھی مختلف النوع اور سماج و معاشرہ اور خاندان پر اپنے اثرات کے اعتبار سے ہمہ گیر ہیں۔اس کاسب سے بڑا اثر تو گھریلو اور خاندانی نظام پر پڑا جہا ںبچوں کی پرورش و پرداخت جو بہ ہر حال ماں باپ ہی کے ذریعہ انجام دی جاسکتی تھی دوسرے غلط ہاتھوں میں چلی گئی۔ جہاں اس بات کی توقع کرنا فضول ہے کہ اچھے انسان اور معیاری اقدار کے حامل افراد تیار ہوں گے۔ اس طرح ماں باپ کی محبتوں سے محرومی کے سایہ میں پلنے والی یہ نسلیں سماج و معاشرہ کے لیے مسئلہ بن رہی ہیں۔

اس کا ایک خاص اثر خود عورت کی جسمانی و ذہنی صحت پر بھی پڑا اور وہ مختلف النوع جسمانی و نفسیاتی عوارض کا شکار ہونے لگی۔ دفتری کاموں کی ذمہ داری اور معاشی سرگرمیوں کی تھکن، اس پر گھر داری اور بچوں کی اضافی ذمہ داری نے جسمانی اور ذہنی طور پر اسے بیمار بنادیا۔ چنانچہ ڈپریشن اور ذہنی تناؤ، بلڈپریشر، دل کے امراض جیسی بیماریاں خواتین میں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

کام کی جگہوں، دفتروں اور فیکٹریوں میں جہاں خدا خوفی کا تصور حرف غلط اور اعلیٰ اخلاق و کردار کی باتیں پچھڑا پن تصور کی جاتی ہیں عورت کو ایک عجیب و غریب اور تکلیف دہ صورتحال سے گزرنا پڑرہا ہے۔ جہاں ان کے جذباتی استحصال سے لے کر جنسی استحصال تک کی خبریں آئے دن اخبارات ور رسائل کی سرخیوں میں رہتی ہیں۔ اور بدنصیبی و بدمزگی اس وقت انتہا کو پہنچ جاتی ہے جب یہ ورکنگ عورت خود اپنے گھر کو سکون وچین اور اطمینان کا مرکز پانے کے بجائے کشمکش اور تناؤ کی جگہ پاتی ہے اور باہمی تعاون، اعتماد اور صبر و تحمل کے بجائے خود غرضی، مفاد پرستی اور باہمی نزاع کی فضا میں سانس لینے پر مجبور ہے۔

یہ ہیں وہ مسائل جن سے مقابلہ آراء ہوکر آج کی عورت اپنے معیار زندگی کو اونچا کرنے، دولت کمانے اور مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کا ’’فرض‘‘ انجام دے رہی ہے۔ یہ صورت ہے انسانی اعتبار سے تکلیف دہ اور معاشرتی و سماجی اعتبار سے انتہائی نقصان دہ اور تباہ کنہے اس صورتحال کے پیدا کرنے کی مکمل ذمہ داری ان نام نہاد ’’فیمنسٹ فلسفوں‘‘ پر عائد ہوتی ہے جو تقریباً دو صدیوں سے انسانیت کو ورغلا کر اس کی تباہی و بربادی کے سامان کرنے میں لگے ہیں۔

فیمنسٹ نظریات

ان نظریات کی شروعات یورپ کی نشاۃ ثانیہ سے ہوتی ہے اور نظریاتی افق پر نمودار ہونے والے بہت سے فلسفوں میں مارکسٹ، سوشلسٹ، شدت پسند اور ما بعد جدیدیت وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

بنیادی طور پر ان نظریات کی ابتداء مردوں اور عورتوں کے لیے مسا وی حقوق کی جدوجہد کو لے کر ہوئی جہاں عورتوں کو تعلیم، جائداد، ووٹ اور عام سماجی سرگرمیوں میں شرکت کی اجازت نہ تھی۔ مثال کے طور پر کیتھرن میکالے (۱۷۹۱-۱۷۳۱ء) نے اس تعلیمی نظام کو یکسر مسترد کردیا جو لڑکیوں اور لڑکوں کے درمیان تفریق پر مبنی تھا اور جو لڑکیوں کو کبھی اعلیٰ تعلیم کے حصول پر نہیں اکساتا تھا۔ مشہور فلسفی روسو نے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ تعلیمی نظام پیش کیے۔ لیکن بیسویں صدی کی آمد تک مقابلہ بہت آگے نکل گیا اور ایک بغاوت جیسی کیفیت نظر آنے لگی اور خاندانی ذمہ داریوں کے ترک کرنے کی قیمت پر بھی عورت کے سماجی رول کو بڑھاوا دیا جانے لگا۔ ’’بیٹے فرائڈ میں‘‘ نامی خاتون جو امریکہ میں جدید تحریک نسواں کی ’’ماں‘‘ تصور کی جاتی ہے اس نے عورتوں کو یہ تصور دیا بچوں کی پرورش و پرداخت اور گھریلو انتظامات میں عورتوں کو مشغول رکھنا، عورتوں کے ساتھ دھوکہ ہے اور انہیں عوامی رول کے لیے آگے آنا چاہیے۔ اور اس پر ہزاروں عورتوں نے اپنا طرز زندگی بدلنے کی کوشش کی مگر جب شام کو وہ واپس لوٹتیں تو گھریلو کام ان کا انتظار کررہے ہوتے۔ اس صورتحال کی شکایت کے بعد اس نے اپنی کتاب ’’سکنڈ اسٹیج‘‘ میں یہ حل پیش کیا کہ عوامی رول تو بہرحال ادا کرنا ہے لیکن کچھ فکر گھریلو اور معاشرتی چیزوں کی بھی کرنی ہے۔ اس نے دوسری طرف مردوں سے کہا کہ وہ بھی کچھ خواتین کا تعاون کریں اور امداد باہمی کی صورت میں عورت گھر سے باہر بھی ایک فعال رول ادا کرے۔

انیسویں صدی کی ایک سوشلسٹ فلسفی گل مین نے کئی قدم آگے بڑھ کر شادی کو ایک جھوٹا بندھن قرار دے دیا۔ ایک انتہا پسند فیمنسٹ نے ’’سیکس از پولیٹکل‘‘ کہہ کر تقدس ازدواج کی دھجیاں اڑا دیں۔ اور اب فلسفوں کے ننگے پن کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اور اس وقت پستی کی انتہا کو پہنچ گیا جب سائمن (وفات:۱۹۸۶ء) نے کہا کہ ’’بیوی ہونے سے بہتر ہے کہ عورت طوائف ہوجائے۔ کیونکہ طوائف کو شہرت اور دولت دونوں حاصل ہوتے ہیں اور بیوی کو صرف غلامی ملتی ہے۔‘‘ استغفراللہ۔

یہ ہیں وہ فلسفے اور وہ بنیادیں جن پر موجودہ مغربی معاشرہ چل رہا ہے اور بقیہ دنیا کو چلانے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ ان فلسفیوں کا دیوالیہ پن اور اخلاقی پستی ہر صاحب فکر پر واضح ہے مگر پھر بھی دنیا اس مغربی کلچر کو امپورٹ کرنے پر تلی ہے۔ ان فلسفوں کی عملی طور پر ناکامی اور ان کے تباہ کن اثرات پورے مغربی معاشرہ میں نمایاں طور پر دیکھے جاسکتے ہیں اور اب مغربی دنیا کاسرخیل امریکہ ان فلسفوں سے پیدا شدہ مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے پریشان ہے۔

انصاف پر مبنی نقطۂ نظر

صحت مند سماج اور معاشرے کے لیے جنس پر مبنی جنگ اور حقوق کی لڑائی کے بجائے باہمی تعاون اور ایک دوسرے کی مدد کا نظریہ ضروری ہے۔ جہاں تک عورت کے سماجی رول کا تعلق ہے تو کوئی بھی ذی ہوش اس کی اہمیت اور ضرورت سے انکار نہیں کرسکتا۔ خود اللہ کے رسول اور اس کی کتاب نے عورت کے ہمہ جہت رول پر توجہ دی ہے۔ اور المؤمنون والمومنات اولیاء بعضہم ببعض کہہ کر ایک پر اعتماد فضا پیدا کرنے کا نسخہ دیا ہے۔

مسائل کی جڑ اس بات میں نہیں ہے کہ عورتوں کے سماجی رول میں وہ مردوں کا تعاون لینے کے محتاج ہیں بلکہ سارے مسائل کی بنیاد یہ نقطۂ نظر ہے کہ وہ خاندانی اور گھریلو ذمہ داریوں کو مسترد کرتے اور ان میں مصروف رہنے کو غلامی سے تعبیر کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آج کا پورا مغربی سماج ایک بحران سے دوچار ہوگیا ہے۔

اسلام کا نظریہ اس سلسلہ میں بہت صاف، واضح اور عملی ہے۔ وہ مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کا ولی اور معاون تصور کرتا ہے اور یہ فکر دیتا ہے کہ کلکم راع وہو مسئول عن رعیتہٖ تم میں ہر شخص ذمہ دار ہے اور قیامت کے دن اس سے اس ذمہ داری کے بارے میں سوال ہوگا۔ اس نے المــرأۃ راعیۃ فی بیت زوجہا وولدہ (عورت ذمہ دار ہے شوہرکے گھر اور اولاد کی) کہہ کر اس مغربی نظریہ کو یکسر مسترد کردیا کہ رشتے ازدواج غلامی کا طوق ہے۔

اسلام نے نہ صرف رشتہ ازدواج کو ایک مبارک رشتہ قرار دیا بلکہ مرد کی یہ ذمہ داری بتائی کی وہ عورت کے جملہ معاشی، معاشرتی اور سماجی ضروریات کا کفیل ہوگا۔ اس طرح اس نے عورت کو دوہرے رول یعنی معاشی جدوجہد کی اس تھکن سے نجات دلا دی جو آج کی عورت کی کمر توڑے ڈال رہا ہے۔ یہ اسلام کا عورت پر بہت بڑا احسان ہے۔

اسلام کا نظریہ

یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ اہل ایمان مردوں اور عورتوں کے کام گھر کے اندر اور گھر کے باہر اس بات سے حوصلہ پاتے ہیں کہ ان کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہوتا ہے۔ اہل ایمان کا کوئی بھی کام بے کار اور بے حیثیت نہیں بلکہ عبادت ہے۔ یہاں تک کہ ایک مرد کا اپنے اہل و عیال کی روزی روٹی کے لیے جدوجہد کرنا بھی عبادت ہے۔ اس طرح بنیادی طور پر مردوں اور عورتوں کے تمام اعمال خواہ وہ گھر کے اندر ہوں یا گھر کے باہر عبادت قرار پاتے ہیں جب تک کہ اللہ کی متعین کردہ حدود اور اس کی رضا کے حصول کی خاطر ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ ہم صحابیات کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ کھجور کے باغات میںکام کرتی ہوئی بھی نظر آتی ہیں اور میدان جنگ میں غازیان اسلام کے ساتھ شانہ بشانہ بھی کھڑی ہیں۔ وہ میدان دعوت میں ایک کامیاب داعیہ بھی ہیں اور میدان علم و فن میں ذی وقار فقیہ اور اچھی طبیب و جراح بھی ہیں۔

اسلام کے وسیع مطالعہ سے جو بات ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہی ہے کہ اسلام کے مقرر کردہ حدود کے اندر اہل خانہ کی جائز ضروریات کی تکمیل کے لیے جو بھی معاشی جدوجہد کی جائے وہ دائرہ عبادت میں آئے گی۔ مگر اسلام اس فلسفہ کو سختی سے مسترد کرتا ہے جو اس سوچ پر مبنی ہے کہ مردوں کی طرح خواتین کو بھی معاشی جدوجہد میں برابر کا شریک ہونا چاہیے۔ ایسا اس وجہ سے ہے کہ اسلام عورت کے سپرد نئی نسل کی تعمیر اور ان کی تربیت کی ذمہ داری عورت کے سپرد کرتا ہے اور یہ وہ اہم کام ہے جو کسی قوم یا ملت کا مستقبل طے کرتا ہے۔ اسلام عورت کو چند روزہ زندگی کو چمکدار بنانے پر لگانے کے بجائے مستقبل کی تعمیر پر لگانا چاہتا ہے۔ اور اس قدر یکسوئی کے ساتھ لگانا چاہتا ہے کہ بقیہ تمام ذمہ داریوں سے اسے سبکدوش کرکے انہیں مردوں کے حوالہ کردیتا ہے۔

یہ ایک مضبوط، مستحکم اور اچھے معاشرہ کی بنیاد ہے اور اس سے روگردانی کی صورت میں دنیا صرف تباہ کن نتائج ہی دیکھ سکتی ہے۔

٭ ریڈر شعبۂ سیاسیات، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، ملیشیا

شیئر کیجیے
Default image
٭ڈاکٹر زینت کوثر

تبصرہ کیجیے