6

سمندر میں قطرہ

ایک نہایت دلکش نسوانی آواز اچانک بلند ہوئی کہ لندن جانے والے پاکستانی مسافر تیار ہیں کیونکہ ان کا جہاز عنقریب پرواز کرنے والا ہے۔ اس نے جلدی سے اپنا بیگ سنبھالا اور وسیع ہال میں سے گزر کر ویٹنگ روم کی طرف بڑھنے لگا۔ چاروں طرف بھانت بھانت کے لوگ جمع تھے، پاکستانی بھی تھے اور غیر پاکستانی بھی۔ سگریٹ کے دھوئیں سے فضا کچھ دھند لائی سی تھی۔ وہ بڑی احتیاط سے چکنے فرش پر چل رہا تھا۔ ویٹنگ روم کے فرش پر بے حد قیمتی اور دبیز قالین تھا۔ وہ ایک صوفہ کے کنارے سے ٹک سا گیا۔ اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا۔ پورے جسم میں ایک عجیب سی لرزش تھی۔ حلق خشک ہوا جارہا تھا۔ ہتھیلیاں نم ہورہی تھیں۔ اس کے عین سامنے دو انگریز لڑکیاں بغیر آستین اور کھلے گلے کی فراکوں میں ملبوس بڑے لاتعلقی سے کھڑی تھیں۔ ان کی کہنیوں تک بازو، اور پشت کا بالائی حصہ سورج سے گہرے سنہرے ہوگئے تھے۔ اس کی آنکھیں نیلی اور کانچ کے ٹکڑوں کی طرح ٹھنڈی اور بغیر کسی تاثر کے تھیں۔ غالباً انہوں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ مشرق میں گزارا تھا۔ وہ خاموشی سے سگریٹ پی رہی تھیں۔ ان کے قریب ہی ایک فرانسیسی بلونڈ لڑکی کسی رسالہ کی ورق گردانی کرہی تھی۔ اس کی سلیکس بہت تنگ اور ٹخنوں سے اونچی تھی۔ اس کا مرد ساتہی اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اخبار دیکھ رہا تھا۔

اس نے اپنے سراپا پر نظر دوڑائی۔ ایرکنڈیشنڈ کمرے میں ہونے کے باوجود کنپٹیوں پر پسینہ کے قطرے ابھر آئے۔ وہ بے حد نروس ہورہا تھا۔ جسم کی رگیں کھنچ سی رہی تھیں جیسے وہ غلط جگہ آگیا ہو، اس نے پیچھے نظر دوڑائی۔ اس طرف چند پاکستانی تھے۔ ایک سانولی سی لڑکی اچھی طرح ساری لپیٹے نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔ انگریز اور فرانسیسی دوشیزاؤں کو دیکھنے کے بعد اسے وہ سانولی ہی لگی، ہوسکتا ہے اچھا خاصا کھلتا ہوا گندمی رنگ ہو۔ لڑکی بہت زیادہ گھبرائی ہوئی تھی۔ غالباً پہلی پہلی بار پردے سے باہر آئی تھی۔ اس کے ہاتھوں پر مہندی کی پھیکی پھیکی سی پیلاہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ چند برقعہ پوش عورتیں اور ایک بوڑھا شخص اسے تسلیاں دے رہا تھا۔

گھبراؤ نہیں بس ایک سال کی تو بات ہے۔ بس جوں ہی اس نے امتحان دیا تم لوگ آجاؤ گے واپس۔ ایک سال کا بھی کوئی عرصہ ہوتا ہے، پلک جھپکتے میں ختم؟ تن تنہا ایک اجنبی شخص کے ساتھ انجانے ملک میں زندگی گزارنے اور مستقبل کے باری میں موہوم خطروں کے خیال سے اس کی بھیگی ہوئی گھنیری پلکیں لرز رہی تھیں۔ کون جانے اب یہ لڑکی کبھی اپنے بوڑھے باپ کو دیکھ سکے گی کہ نہیں۔ کسے معلوم کہ وہ کبھی امتحان میں پاس ہوسکے گا کہ نہیں۔ ایک دن یہ زندگی، یہ سب ایک ڈراؤنا خواب بن جائیں گے اور وہ ہمیشہ کے لیے لندن کے انسانی سمندر میں بارش کے ایک قطرے کی مانند مل جائے گی۔ قطرہ جو پھر کبھی واپس وہاں نہیں جاسکتا جہاں سے آتا ہے۔

پورے آٹھ بجے جہاز آہستہ آہستہ زمین سے اوپر کی طرف اٹھنے لگا۔ جہاز کے شور سے اس کے کان بند ہونے لگے۔طبیعت کچھ متلا سی رہی تھی۔ دماغ بھی جیسے چکرارہا ہو۔ ٹورسٹ کلاس میں تقریباً سب پاکستانی بھرے پڑے تھے۔ جب سے مائیگریشن بل کا شور اٹھا تھا، لوگ پاگلوں کی طرح جوق در جوق انگلستان جارہے تھے۔انگلستان جہاں غالباً سونا بٹتا ہے، جہاں قدم قدم پر پونڈوں کے درخت اگتے ہیں۔ انگلستان جہاں کبھی سورج نہیں ڈوبتا تھا اور جہاں ملازمت کہانیوں کی سلطنت کا تاج ہے جو سب سے پہلے آنے والے کے سر پر رکھ دیا جاتا ہے اور ملک کے اپنے ہزاروں باشندے بغیر تاج و تخت کے نیشنل اسسٹنس بورڈ سے بیکاری الاؤنس وصول کرتے ہیں، جہاں ہر پچیس میں سے ایک شخص بیکار ہے۔ یہ بے چارے بھولے بھالے لوگ!وہ بھی ان بھولے بھالے لوگوں میں سے ایک تھا۔

جوں ہی جہاز آسمان کی بلندیوں کی طرف اٹھا یک لخت اس کا جی ڈوبنے لگا۔ ایک نامعلوم خوف کا زہر اس کی رگوں میں گھلنے لگا۔ اس نے بڑی بے چارگی سے کھڑکی میں سے باہر جھانکا۔ جہاز کے اندر بڑی خوش گوار خنکی تھی۔ اسمارٹ اور دلکش ایئر ہوسٹس مسافروں کو میٹھی گولیاں پیش کررہی تھیں۔ اس کے ساتھ والی سیٹوں پر دو دبلے پتلے سانولے نوجوان بیٹھے تھے، نیلے سوٹ اور سیاہ ٹائی والے نے مٹھیاں بھر کر گولیاں اٹھالیں۔ ایئر ہوسٹس کی پیشانی پر بل پڑگئے۔ اس کے ہونٹ کجھ کہنے کو کھلے اور زیر لب ’’ایڈیٹ‘‘ کہہ کر آگے بڑھ گئی، نوجوان بڑے اطمینان سے دو گولیاں منہ میں ٹھونسے چوس رہا تھا۔

سیٹ کی پشت سے سر ٹیک کر وہ اپنے خیالات کے گنجان جنگلوں میں بھٹکنے لگا۔وہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں تھرڈ ایئر کا طالب علم تھا۔ والد کے انتقال کے بعد جب گھر کا سارا بوجھ اس کے بڑے بھائی کے کندھوں پر آن پڑا تو اس کے بھائی نے ایف۔اے کے بعد آگے پڑھنے کے بجائے کسی بینک میں ملازمت کرلی۔وہ خود اس زمانے میں دسویں میں تھا، بے حد ذہین اور محنتی۔ بہترین طالب علموں میں اس کا شمار ہوتا تھا۔ اس کے بھائی نے اسے پڑھائی ختم نہیں کرنے دی اور اپنی مختصر سی تنخواہ میں گھر کا خرچ اور اس کی پڑھائی کے اخراجات چلاتا رہا۔ اس کو اپنے چھوٹے بھائی کی ذہانت اور قابلیت پر فخر تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ ایک روز ڈاکٹر بن جائے گا اور پھر گھر کے تمام دلدر دور ہوجائیں گے اور پھر شبو کا بیاہ بھی ہو جائے گا۔ اس کی اپنی شادی بھی ہوجائے گی اور کھر میں پھر سے خوشیوں کے چراغ جھلملانے لگیں گے ۔تبھی تو پانچ سال سے وہ اپنا خون پسینہ ایک کیے دے رہا تھا۔ اپنی کمائی میں سے بس کے کرایہ کے علاوہ ایک پیسہ بھی اپنی ذات پر خرچ کرنا حرام تھا۔ صرف اس لیے کہ اس کا بھائی ڈاکٹر بن جائے اور اس کی بہن کا بیاہ ہوسکے۔

اس کی نگاہوں میں اپنے بھائی کی تصویر گھوم گئی۔ وہ اس سے صرف دو سال بڑا تھا لیکن پانچ سالوں کی مشقت نے اسے ادھ موا کردیا تھا۔ وہ اپنی عمر سے کہیں بڑا معلوم دیتا تھا۔ دبلا پتلا سا جسم، گندمی سا رنگ، بڑی بڑی سیاہ آنکھوں کے گرد تاریک حلقے … لیکن ان تھکی تھکی سی اداس آنکھوں میں کتنی بے پناہ محبت، شفقت اور نرمی تھی۔ خشک سیاہ بال، ایک ڈھیلا سا نیلا گرم سوٹ سردیوں کے لیے اور معمولی کپڑے کی دو چار قمیص پتلون گرمیوں کے لیے۔ بس یہ کل کائنات تھی اس کی۔ خاموش، سنجیدہ کم سخن… بہت کم بولتا اور بہت کم ہنستا تھا، اس کی خوشیاں، اس کے دکھ اس کے اپنے دل کی تاریک کوٹھریوں میں مقفل تھے۔ اس نے اپنے دل کے دروازے کبھی کسی پر وا نہیں کیے تھے۔ اس کے اندر اگر جذبات و خواہشات کا الاؤ دہک بھی رہا تھا تو اس کی آنچ تک کسی نے محسوس نہیں کی تھی، صرف دھوئیں کی ایک سیاہی سی اس کے چہرے پر پھیلتی جارہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آگئے۔ لیکن میں انوار کو سمجھتا ہوں وہ پہلے ایسا کب تھا۔ میں جانتا ہوں وہ کیا محسوس کرتا ہے، کیا سوچتا ہے، کیا مجھے معلوم نہیں اس کے دل میں کون سے گھاؤ ہیں، کتنے گہرے ہیں، کن سے خون رس رہا ہے، میں خون کی بو پہچان لیتا ہوں۔ میں جانتا ہوں لیکن کچھ نہیں کرسکتا۔ میرے پاس مرہم ہی نہیں جو میں ان زخموں پر رکھ سکوں۔اس کو ایف۔ اے میں وظیفہ ملا لیکن اس نے اپنی آگے پڑھنے،کچھ بننے کی خواہش کا گلا گھونٹ دیا اور کلرکی کو اپنی زندگی کا رفیق بنالیا۔ اس نے اپنی بیمار ماں، جوان کنواری بہت اور اپنے بچپن کی منگیتر کے زخموں کو بھی خاموشی سے سینہ میں چھپالیا۔ چچانے کس بے دردی سے انکار کردیا اور بچپن کی منگنی توڑدی۔ صرف اس بات پر کہ وہ مزید دوسال اور انتظار نہیں کرسکتے اور یہ کہ شادی کے بعد وہ رفو کو الگ گھر لے کر دے گا۔ اف کتنے ظالم تھے چچا جان! اور انوار نے صاف انکار کردیا کہ اسے ان کی یہ شرطیں منظور نہیں ہیں۔ وہ دو سال بعد شادی کرے گا اور رفو کو جب تک میری اور شبو کی شادی نہیں ہوجاتی ہمارے ساتھ اور بعد میں ماں کے ساتھ رہنا ہوگا۔ ابا میاں کے مرنے کے بعد سب نے ہی آنکھیں پھیر لی تھیں۔

اور پھر جس دن رفو کی شادی ہوئی اس دن انوار کا رنگ کس قدر زرد ہوگیاتھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ وہ زندگی کی ایک اور بازی ہار گیا تھا۔ خواہ مخواہ مسکرانے اور بولنے کی کوشش کررہا تھا۔ جان جان کر مجھ سے پڑھائی کے بارے میں پوچھتا اور چچا جان کے گھر سے آئے ہوئے چاول اس نے چھوئے تک نہیں تھے۔ کیوں کہ وہ اپنے دوست کے ہاں سے کھانا کھا آیا تھا اور اسے قطعاَ ’’بھوک نہیں تھی حالانکہ اس نے صبح ناشتہ میں چائے کی دو پیالیوں اور ایک باسی روٹی کے سوا اور کچھ نہیں کھایا تھا۔اس دن کے بعد سے وہ زردی پھر اس کے چہرے سے کبھی نہ گئی۔وہ اور زیادہ خاموش اور دبلا ہوگیا۔ اس کی آنکھوں کے حلقے اور تاریک ہوگئے۔ میں سمجھتا تھا میں اس کا دکھ جانتا تھا لیکن میں اس کے دکھ کا مداوا نہیں بن سکتا تھا۔

اور آج میں لندن جارہا تھا مرہم لینے، انوار کے زخموں کی دوا لینے۔ میں ڈاکٹر ہوں نا۔ میں دوا لے آؤں گا۔ میں اس کے خشک لبوں کو مسکراہٹوں اور اس کی غم زدہ آنکھوں کو مسرتوں کے نور سے بھردوں گا۔ پھر وہ کبھی دکھی نہیں رہے گا۔ اس کے دل کو جلانے والی آگ بجھادوں گا۔

اس کی آنکھوں کے آنسو گالوں پر ڈھلک آئے۔ اس نے جلدی سے گھبراکر ہاتھ کی پشت سے آنکھیں صاف کیں۔ ایئر ہوسٹس دوپہر کے کھانے کا بندوبست کررہی تھی۔اس کے سامنے ایک چھوٹی سی میز کھل گئی۔ ایئر ہوسٹس نے ٹرے اس پر رکھ دی۔ مرغ کی روسٹ ٹانگ، تھوڑے سے چاول اور ابلے ہوئے آلو، گوبھی اور مٹر تھے اور ایک رول ، اسے ذرا بھی بھوک نہیں محسوس ہورہی تھی۔ اس کی سیٹ کے دوسری طرف ایک بھاری تن و توش کا ادھیڑ عمر آدمی تھا۔ کوئی تاجر تھا غالباً۔ اس نے اپنا بریف کیس بند کیا اور کھانا کھانے لگا۔ وہی پہلے والا نوجوان بڑی بے تکلفی اور آزادی کے ساتھ دونوں ہاتھوں میں مرغ کی ٹانگ تھامے کھارہا تھا۔ چند منٹوں ہی میں اس نے ساری ٹرے صاف کردی اور پھر بڑی ناامیدی سے چاروں طرف دیکھنے لگا جیے پیٹ نہ بھرا ہو۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ وہ مسکرایا اور پنجابی میں کہنے لگا’’یہ بھی کوئی کھانا ہے نہ پیٹ بھرا نہ مزہ آیا‘‘۔

وہ بھی جوابا مسکرایا ’’عادت جو نہ ہوئی‘‘۔

ایئر ہوسٹس لوگوں کو کھانا کھاتے دیکھ کر مسکرارہی تھی اور چپکے چپکے ایک دوسرے کو دکھارہی تھیں کہ دنیا کے مہذب شہر لندن جانے والے کیسے جنگلی اور اجڈ ہیں۔ اس نے کافی کا آخری گھونٹ حلق سے اتارا اور سیٹ ڈھلکاکر نیم دراز ہوگیا۔ اس کی نگاہوں کے سامنے چھوٹی بہن شبو کا پھولوں جیسا معصوم، بھولا بھالا چہرہ شرارت سے مسکرانے لگا۔سفید گالوں پر جھولتی ہوئی بھوری بھوری لٹیں۔ باریک بھنوؤں کے نیچے بڑی بڑی شربتی آنکھیں حیرت سے کھلی ہوئی، ہردم مسکراتے ہوئے ہونٹ۔اس قدر خوبصورت اور باسلیقہ ہونے کے باوجود جس کی شادی بغیر روپے کے کس قدر مشکل ہوگئی تھی۔ شبو کو کون پرکھتا۔ لوگ تو ان کی معاشی اور معاشرتی پوزیشن ہی ناپتے تولتے رہے۔ ان کی نظر میں شبو ایک دھڑکتے دل اور نرم گرم جذبات رکھنے والی انسان تھوڑا ہی تھی وہ تو محض ایک ضرورت تھی، ضرورت… نفرت سے اس کے ہونٹ بھینچ گئے اور پیشانی کی رگیں تن گئیں۔ شبو جو اٹھارہ سال کی ہونے کے باوجود آٹھ سال کی معصوم اور الھڑ لڑکی لگتی تھی۔ ذراسی ذراسی بات پر ہنس دینے اور رودینے والی تھی۔ بھائیوں سے ٹوٹ کر محبت کرنے والی۔ اسی طرح آنسوؤں اور مسکراہٹوں کے درمیان اس نے پورے گھر کا کام سنبھالا ہوا تھا۔ اماں بے چاری ایک تو بوڑھی، اوپر سے سدا کی روگی۔ جب سے انوار ہوا تھا ایک دن بھی ٹھیک نہ رہیں۔ جب خود ہی بیمار تھیں تو بچے کیسے ٹھیک رہتے۔ چھ بچے تو ایسے ہی چٹ پٹ ہوگئے، خدا جانے ہم کیسے زندہ رہ گئے۔ ہمارے ہاں کی عورتیں تو شاید جہیز میں بیماریوں کی گٹھری اور دواؤں کی پوٹلی لے کر آتی تھیں اور پھر ان کی پرواہ بھی کون کرتا ہے ضرورت جو ٹھہری۔ جب تک پوری ہوتی رہے، کسی کی بلا سے مریں یا جئیں۔ میں ڈاکٹر بننے کے بعد یہ سب نہ ہونے دوں گا۔ شبو شادی کے بعد بھی اسی طرح ہنسی کھلکھلاتی رہے گی۔ اس کے گالوں کی سرخیاں کبھی زردیوں میں تبدیل نہیں ہوں گی۔ اس کی آنکھوں کے ہیرے ہمیشہ دمکتے رہیں گے، میں اس کی اور اماں کی صحت کا ہر دم خیال رکھوں گا۔

جب امتحانوں اور ٹیسٹوں کے زمانے میں وہ دیر تک پڑھتا تھا تو شبو تھوڑی تھوڑی دیر بعد چائے بناکر لاتی تھی۔ جب تک میں جاگتا تھا خود بھی جاگتی تھی۔ میں کتنا کہتا کہ تم تو جاکر سوجاؤ، تمہیں پھر سویرے اٹھنا ہوتا ہے۔ لیکن بلاکی ضدی تھی وہ بھی۔ بیٹھی مسکراتی رہتی اور ٹس سے مس نہ ہوتی۔ ذرا سا ڈانٹ دیتا تھا تو فوراً رونے بیٹھ جاتی اور پھر میرے اور انوار کے لیے کیسے شوق سے پراٹھے اور ماش کی بھنی ہوئی دال بناتی تھی۔ ہمیں کھلاکر کس قدر خوش ہوتی تھی۔ہر وقت کے کام کاج اور مسلسل تیمار داری کے باوجود اسے کبھی غصہ میں نہیں دیکھا تھا نہ کبھی ایک حرف شکایت کا اس کے منہ سے سنا تھا۔ کبھی کسی چیز کی فرمائش تک نہیں کرتی تھی۔جب چچانے انکار کیا تو کوٹھری میں گھس کر گھنٹو روتی رہی تھی۔ اس کے بعد سے انوار کا بے حد خیال کرنے لگی تھی۔ اس کے لیے اچھی چیزیں بناتی۔ اس کی قمیص خاص طور پر دھوکر کلف لگاتی اور استری کرتی۔ اس کے جوتے روزانہ رات کو اپنے ہاتھ سے پالش کرکے چمکاتی تھی۔ اس نے اپنے منہ سے کچھ نہیں کہا لیکن وہ سمجھتی تھی ہم سب ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے گو منہ سے کچھ کہتے نہ تھے۔ رفو اس کی دوست تھی۔ بچپن کی سہیلی لیکن اس کے بعد سے نہ وہ کبھی نہ رفو سے ملنے گئی اور نہ کبھی اس کی زبان پر اس کا نام آیا۔

اور پھر جب ریاض لندن چلاگیا تو ہر خط میں مجھے لندن آنے کی دعوت دیتا۔ لندن کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتا۔ اس نے ہی تو لکھا تھا کہ ’’یہاں ڈاکٹروں کی بہت کمی ہے۔ پاکستانی ہندوستانی ڈاکٹروں کی مانگ ہے، فوراً ملازمت مل جائے گی۔ تم فکر مت کرو میں انتظام کروں گا۔ مزے سے پڑھتے بھی رہنا۔ جب وطن واپس جاؤگے تو فارن ڈگری کی بدولت ہاتھوں ہاتھ لیے جاؤگے اور پھر تم بہت بڑے ڈاکٹر بن جاؤگے‘‘۔

وہ بدستور اسے بلاتا رہا، طرح طرح کے لالچ دیتا رہا۔ اس نے تو یہاں تک لکھا تھاکہ رہائش کی فکر نہ کرنا۔ میرے ساتھ رہ لینا، اکیلاہی ہوں اور آخر جب مائی گریشن بل پاس ہونے کا چرچا شروع ہوا اور معلوم ہوا کہ اب جانے والوں پر پابندی لگنے والی ہے، لوگ اندھا دھند نہیں جاسکیں گے، اسکالر شپ ڈانواڈول نظر آنے لگی، سنہری خواب بکھرتے دکھائی دینے لگے تو اس نے بھی ان کی تعبیر ڈھونڈھنے کا اردہ کرلیا۔ انوار بھی مان گیا۔ اس نے شبو کے بیاہ کے لیے اوورٹائم کرکرکے بیس ہزار سو روپے جمع کیے تھے، باقی کے روپے قرض لیے، پاسپورٹ کا انتظام کیا اور ایک طرف کے ٹکٹ کا بندوبست کردیا۔ میں نے کہا وہاں کی کیا فکر ہے جب تک کوئی اور خاطر خواہ انتظام نہ ہوا، ریاض کے پاس ٹھہر جاؤں گا۔ اسی رات جس دن مجھے کراچی کے لیے روانہ ہونا تھا، شبو میرے پاس آئی، اس کی مٹھی میں کچھ دبا ہوا تھا۔ اس نے میرے سامنے مٹھی کھول دی۔ پانچ سو روپے اور سونے کی بالیاں تھیں۔ روتے روتے اس کی آنکھیں سوج گئی تھیں۔ آواز بھی بھیگی بھیکی سی تھی۔ اس نے اپنی آواز کی لرزش پر قابو پانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا ’’دیکھو، اگر تم نے یہ سب نہ لیا تو میں پھر کبھی نہیں بولوں گی۔‘‘

’’لیکن پگلی میں ان کا کیا کروں گا۔ وہاں نہ یہ روپے کام آئیں گے نہ یہ بالیاں۔‘‘

’’نہیں تم یہ بالیاں بیچ دینا اور وہاں کے روپے لے لینا‘‘۔ میں مسکرایا اور ساتھ ہی میرا دل بھر آیا۔ میں نے ہولے سے اس کے سر پر ہاتھ رکھ دیا۔ میں ایک لفظ بھی نہ بول سکا جیسے گلے میں کچھ اٹک گیا ہو۔

اور میں اب لندن جارہا ہوں۔ ہم سب کے خواب حقیقت میں ڈھلنے والے ہیں، مجھے اندھیرے میں نئے چاند کی سنہری دمک نظر آرہی ہے۔ مجھے بہار کے پہلے پھول کی مہک آرہی ہے۔ لیکن اب شبو کی شادی کیسے ہوگی، کیونکہ سارے پیسے تو میں نے لے لیے۔ انوار کے سر پر قرض کا بوجھ الگ پھینک آیا ہوں۔ انوار کو قرض اتارنے کے لیے اور بھی محنت کرنی پڑے گی۔ اتنی مہنگائی میں چار ہزار روپے روپے کہاں تک ساتھ دے سکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ تین چار سال لگیں گے پھر میں ڈاکٹر بن کر واپس چلا جاؤں گا اور پھر سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا، سب پریشانیاں دور ہوجائیں گی۔ وہ سوچنے لگا۔

جہاز تہران، بیروت، فرینکفرٹ اور جینوا ہوتا ہوا لندن پہنچ گیا۔ وہ تو جیسے کسی پر اسرار دنیا میں گھوم رہا تھا۔ ایک نامعلوم سا نشہ اس کو حقائق کی دنیا سے بہت دور لے گیا تھا۔غم ، خوشی دکھ اور مسرت کے ملے جلے جذبات اس کے سینہ میں لرز رہے تھے۔ ایک نامعلوم دنیا کو دیکھنے کے شوق، خوف اور ہچکچاہٹ سے اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا اور یہ رہ رو نور و شوق اب اپنی منزل کے قریب آرہا تھا۔ جہاز کے اندر روشنیاں بجھادی گئیں تھیں، جہاز میں ہلکی سبز روشنی پھیل گئی جیسے کوئی سمندر کی تہہ میں بنے ہوئے شیشہ کے جھلملاتے محل میں اتر آئے۔ ریکارڈ پر ایک بے حد اداس اور غمگین نغمہ مدھم اور دھیمے سروں میں چھڑگیا۔ نیچے لندن کی روشنیاں تھیں جیسے یک لخت کروڑوں چاند دمک اٹھے ہوں۔ سڑکوں کی نارنجی اور نیلگوں روشنیاں میلوں تک قطار اندر قطار پھیلی ہوئی تھیں۔گھروں اور دوکانوں کی بے قاعدہ روشنیاں کچھ یوں تھیں، جیسے تہہ آب ہزاروں شمعیں فروزاں ہوں، یہ بجلی کے دیے ستاروں کی طرح ٹمٹمارہے تھے۔ حیرت سے اس کا سانس رک گیا تھا۔ اف لندن اس قدر بڑا شہر ہے۔ اس کا دل ایک عجیب دکھ سے آشنا ہورہا تھا۔ جیسے کوئی مٹھی میں لے کر اسے بھینچ رہا ہو۔ شدت درد سے اس کا پورا وجود پھٹنے والا ہو۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ نغمہ کی لے دھیمی ہونے کے بجائے دم بدم تیز ہورہی تھی۔ اس میں جھنجھناہٹ بڑھ گئی تھی جیسے سمندر کی موجیں بے قرار ہو ہوکر اپنا سر چٹانوں سے ٹپک رہی ہوں، اس کا دل بھی سینہ توڑ کر باہر نکل جانا چاہتاتھا۔ ایک دم اس کا دل چاہا کہ وہ مرجائے۔ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مرجائے۔ زندگی اس کی برداشت سے باہر ہوئی جارہی تھی۔ جہاز آہستہ آہستہ نیچے اتر رہا تھا۔ اس کی آواز بھی تیز ہوگئی تھی۔ روشنیاں قریب آرہی تھیں۔ فاصلے مٹ رہے تھے۔ یکدم ایک چھناکے ساتھ موسیقی بند ہوگئی جیسے خواب ایک دم بکھر سا گیا ہو۔ مائیک پر بتایا جارہا تھا کہ لندن آگیا ہے اور چند منٹوں میں وہ لوگ لینڈ کریں گے۔ سب لوگ اپنی اپنی حفاظتی بیلٹس باندھ لیں۔ اچانک اس کا دل چاہا کہ وہ جہاز سے نہ اترے۔ وہ لندن نہیں جانا چاہتا۔ وہ تو واپس اپنی ماں، انوار اور شبو کے پاس جانا چاہتا ہے۔ اسے نہیں اترنا یہاں۔ اس کا دل بری طرح باغی ہورہا تھا۔ کاش یہ جہاز یہاں اترنے کے بجائے واپس لوٹ چلے۔ نہیں نہیں وہ یہاں نہیں آنا چاہتا تھا۔ یہ اس کا وطن نہیں ہے، وہ یہاں اجنبی ہے۔ یہ اس کا وطن نہیں ہے، وہ یہاں اجنبی ہے۔ یہ لندن ہے، یہ مغرب ہے، یہ دنیا کا عظیم شہر ہے۔ وہ اس کے مقابلے میں بہت حقیر ہے۔ اس کا اس شہر سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ اس گول چکر میں کبھی فٹ نہیں ہوسکے گا، وہ تو چوکور ہی رہے گا۔ دوسرے اسے اٹھاکر باہر پھینک دیں گے ورنہ اس کے کونے توڑدیں گے پھر وہ اپاہچ ہی جائے گا نہ گول بن سکے گا نہ چوکور رہے گا۔ ٹوٹا پھوٹا انسان! اب کیا ہوسکتا ہے، جہاز تو رن وے پر دوڑ رہا تھا۔ ایک جھٹکے سے جہاز رک گیا۔ ایک دم فضا خاموش ہوگئی۔ ایک سناٹا سا چھاگیا لیکن اس کے اندر اب تک ایک ہنگامہ برپا تھأ۔ اس کے سینہ میں جو الامکھی پھٹ رہا تھا۔ اس نے اپنا بیگ اور کوٹ اٹھایا اور دوسروں کے ساتھ باہر نکل آیا۔ نوٹ بک میں سے اس نے ریاض کا پتہ دیکھا، اس کی جیب میں فقط بیس پونڈ چند روپے اور سونے کی دوبالیاں تھیں۔ شبو کے دیے ہوئے روپوں سے اس نے ریاض کے لیے سگریٹ خرید لیے تھے۔ اسے کوٹ میں سردی لگ رہی تھی حالانکہ یہ جولائی کا مہینہ تھا اپنے یہاں تو لوگ اس وقت گرمی سے پھنک رہے ہوتے ہیں۔

اس نے ٹیکسی لی اور ریاض کے بتائے ہوئے پتے شیپرڈبش کی طرف روانہ ہوگیا۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھتا جارہاتھا۔ آپس میں ملی ہوئی ڈھلوان چھتوں اور کالی اینٹوں والے مکان، کشادہ سڑکیں، بڑی بڑی دکانیں روشنیوں سے جگمگاتے ہوئے شوونڈوز …نت نئے طریقوں سے سجی ہوئی چیزیں، بالکل انسانوں جیسے مجسمے عجیب اداؤں اور نزاکتوں سے کھڑے ہوئے۔ وہ آنکھیں پھاڑے یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ اس کے بتائے ہوئے پتہ پر پہنچ کر ٹیکسی رک گئی۔ بڑا گھٹا گھٹا سا علاقہ تھا۔ اس نے ٹیکسی کا کرایہ دیا اور سیڑھیاں چڑھ کر ایک ٹوٹے پھوٹے سے گھر کی گھنٹی بچائی۔ اس نے ریاض کو اپنی آمد کی اطلاع دے دی تھی۔ لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔تھوڑی دیر بعد دروازہ کھلا۔ ایک بڑھیا نے باہر جھانکا۔ اس کے ملگجے بال پیچھے چھوٹے سے جوڑے میں بندھے ہوئے تھے اور ایک میلا سا ایپرن اس کے سامنے بندھا ہوا تھا۔ دروازہ کھلتے ہی ایک عجیب سی بدبو کا بھبکا آیا۔ چربی کے جلنے اور مچھلیوں کی بساندھ سے اس کا دم الٹنے لگا۔ اس نے ابکائی کو روکتے ہوئے ریاض کے بارے میں پوچھا۔ معلوم ہوا وہ تو گھر چھوڑ چکا ہے۔ بڑھیا نے اس کا نیا پتہ بتاکر کھٹاک سے دروازہ بند کردیا۔ اس کا دل ڈوبنے لگا۔ ٹیکسی والا کھڑا سگریٹ پی رہا تھا۔ ’’مجھے خیال تھا کہ وہ گھر بدل چکا ہوگا۔ یہاں لوگ گھر یوں بدلتے ہیں جیسے کوئی کپڑے بدلتا ہے اور ہوسکتا ہے وہ اب اس پتہ پر بھی نہ ملے اچھا آؤ دیکھیں ہم کیا کرسکتے ہیں‘‘۔

وہ پھر ٹیکسی میں بیٹھ گیا۔ سڑک پر مدھم روشنیاں تھیں۔ سرخ، سرخ دو منزلہ بسیں آجارہی تھی۔ کاریں دوڑ رہی تھی۔ اس پتہ پر ریاض اسے مل گیا۔ اس نے ٹیکسی کا پانچ پونڈا کرایہ ادا کیا اور گھرکے اندر آگیا۔ یہاں بھی وہی پہلے والی باسی باسی سی بو تھی۔ ریاض اسے دیکھ کر بے حد حیران ہوا۔وہ مسلادسلا سلیپنگ سوٹ پہنے ہوئے تھا۔ ریاض اسے اوپر ایک چھوٹے سے کمرے میں لے آیا، کمرہ کیا تھا ایک الماری کا خانہ تھا۔ سیدھا کھڑا ہوتے بھی ڈر معلوم ہوتا تھا کہ کہیں سر چھت سے نہ ٹکراجائے۔ ایک حضرت آدم کے زمانہ کا قالین تھا جس کے سب رنگ وغیرہ اڑچکے تھے۔ قالین کے بجائے دری لگتا تھا۔ چھوٹا سا پلنگ تھا جس کی میٹرس کی حالت سخت خستہ تھی۔ ایک طرف گیس کا چولہا کھانے پکانے کے لیے اور ہیٹر کمرہ گرم کرنے کے لیے تھا۔ ایک پرانی سی سنگھار میز بھی کونے میں پڑی تھی۔ درمیان میں اونچی سی میز اور دو چار مختلف شکلوں کی کرسیاں تھیں۔

’’ہائے یہ لندن ہے!‘‘ اس نے سوچا اور ایک کرسی پر ٹک گیا۔

’’ذرا سنبھل کے بیٹھنا میاں کبھی چاروں شانے چت زمین پر نظر آؤ۔ اس کی ٹانگ لینڈ لیڈی کی ٹانگ کی طرح بس ایسے ہی اٹکی ہوئی ہے‘‘۔

’’کوئی اور کمرہ نہیں ہے تمہارے پاس؟‘‘

’’اور کمرہ؟‘‘ریاض نے قہقہہ لگایا‘‘ یہی کمرہ غنیمت ہے بھائی۔ سرچھپانے کا ٹھکانہ تو ہے نا۔ اسی کے کرایہ نے کمر توڑ دی ہے۔ پورے ڈھائی پونڈ کرایہ ہے ایک ہفتہ کا، سمجھے کچھ؟ ابھی نئے ہونا، آہستہ آہستہ سب کچھ پتہ چل جائے گا‘‘۔

’’میں تمہارے لیے سگرٹیں لایا ہوں، جہاز پر لیں تھیں‘‘۔

’’خدا تمہیں خوش رکھے۔ یہ کام تم نے سلیقہ کا کیا ہے۔ بہت بہت شکریہ۔ تین ہفتوں سے ملازمت چھٹی ہوئی ہے۔ جیب میں ایک کوڑی بھی نہیں ہے اور تو گزارہ ہورہا تھا اس پر کمبخت سگریٹ کی لت نے مار رکھا تھا۔اس نے سگریٹ سلگاتے ہوئے پوچھا ’’اور کہو کہاں ٹھہرے ہو، کسی ہوٹل وغیرہ میں؟ سستا ہی ہے نا۔گوسستے بھی یہاں خاصے مہگے پڑتے ہیں‘‘۔

’’میں تو سیدھا جہاز سے تمہارے پاس آرہا ہوں۔ مجھے تو یہاں کسی ہوٹل وغیرہ کا علم نہیں ہے‘‘۔

’’اوہ! ریاض کا چہرہ ایک دم تاریک سا ہوکیا۔ خیر کوئی بھی ٹیکسی والا تمہیں کسی ہوٹل میں پہنچادے گا۔اسے بتادینا کسی سستی سی جگہ لے جائے۔ تم میرے پاس ٹھہر جاتے لیکن میرے پاس تو خود اپنے ہی رہنے کے لیے جگہ نہیں ہے۔ تم دیکھ تو رہے ہو اور کل پرسوں تک میں ایک اور دوست کے پاس جارہا ہوں جب تک کسی ملازمت کا بندوبست نہیں ہوجاتا۔ اس کے پاس ہی رہوں گا۔ اس کمرے کا دو ہفتہ کا کرایہ مجھ پر واجب ہے‘‘۔

وہ بالکل خاموش سا رہ گیا۔ اس کا سر چکرارہا تھا۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنے خشک لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے پوچھا ’’کیا نوکری کرتے تھے؟‘‘

’’نوکری‘‘۔ ریاض نے کھوکھلا سا قہقہہ لگایا ’’وہی جو یہاں آکر اکثر لوگ کرتے ہیں، ہوٹل میں برتن مانجھتے تھے، لیکن تم تو ایم ۔اے تھے؟‘‘

’’ایم۔اے ہونہہ! ایم۔اے سے کیا ہوتا ہے۔ کون پوچھتا ہے یہاں ایم۔اے کو؟ برتن دھونے والی ہی نوکری مل جائے تو سمجھو غنیمت ہے ورنہ تو غالباً زندگی ہی سے ہاتھ دھونے پڑجائیں۔ ایک صاحب بڑے ادیب تھے، یہاں روپیہ کمانے آئے تھے۔ وہ بھی میرے ساتھ ہی برتن مانجھتے تھے بے چارے۔ روپیہ تو خیر جو کمائیں گے سو کمائیں گے البتہ افسانے خوب سمیٹ لیں گے۔ ایک اور صاحب ہیں پانچ سال سے یہاں پی۔ایچ۔ڈی کررہے ہیں۔ خالی وقت میں لوگوں کے گھر جارکر کھڑکیوں کے شیشے اور فرش صاف کرتے ہیں۔ کس کس کا حال پوچھو گے اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں … بہرحال!‘‘

’’لیکن تم تو لکھتے تھے کہ …‘‘

’’ارے چھوڑو یار، مجھے کیا معلوم تھا کہ تم آنے پر ادھار ہی کھائے بیٹھے ہو، ادھر میں لکھوں گا ادھر تم آن وارد ہوگے۔ضرور لکھتا ہوں گا۔ شاید اپنے آپ کو دھوکا دیتا تھا۔ اپنی دم کٹواکر سب کی کٹوانا چاہتا تھا، لیکن تم آکیو ں گئے؟ تم اتنے بھولے تو نہیں تھے۔ کیا اخباروں میں یہاں آئے ہوئے لوگوں کا حال نہیں پڑھتے تھے؟ اور پھر تم نے تو لکھا تھا ایم۔بی۔بی۔ایس کرکے آؤگے اگر اسکالرشپ مل گئی تو۔‘‘

ریاض کے لہجہ کی تلخی بڑھتی جارہی تھی۔ وہ بالکل خاموش تھا۔ اس کی زبان اور دماغ گنگ ہوگئے تھے۔

’’میرا خیال ہے تم اب جلدی کروورنہ کسی ہوٹل میں جگہ نہیں ملے گی اور ہاں اگر تمہارے پاس پانچ پونڈ ہوں تو مجھے قرض دے دو۔ دوہفتہ کا کرایہ دینا ہے کم بخت بڑھیا میرے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ وہ تو شاید کپڑے اتروائے بغیر مجھے جانے بھی نہ دے گی‘‘۔

اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے پانچ پونڈ ریاض کو پکڑادیے اور کھڑا ہوگیا۔ ریاض اسے نیچے تک چھوڑنے آیا۔

’’انشاء اللہ پھر ملاقات ہوگی اور بھئی تم میرا نیا پتہ تو لے لو‘‘۔ اس نے اس کی نوٹ بک میں نیا پتہ لکھ دیا۔

’’بائی بائی!کھٹاک! زندگی کی تابانیوں کے دروازے اس پر بند ہوگئے!! وہ باہر کھڑا تھا آسمان گہرا نیلا تھا۔ اس پر چھوٹا سا چاند اداسی سے نیچے جھانک رہا تھا۔ چند ستارے بھی تھے۔وہ خاموشی سے فٹ پاتھ پر چلنے لگا۔ اس کے سوچنے، سمجھنے اور محسوس کرنے کی صلاحتیں بالکل دم بخود تھیں۔ وہ سرجھکائے چلا جاررہا تھا۔ رات بڑی پر سکون تھی۔ سڑک پر موٹریں تیزی سے گزر رہی تھیں لیکن وہ ہر چیز سے بے خبر سا تھا۔ نہ اسے اپنے دل میں اٹھنے والی ٹیس کی خبر تھی اور نہ اسے اپنے ذہن میں ہونے والا ہنگامہ ہی سنائی دے رہا تھا۔ اپنے گردوپیش کی ہر چیز سے انجان چلاجارہا تھا۔ کچھ عجیب سی کیفیت تھی جیسے کوئی نیند میں چل رہا ہو۔ گھروں کے سامنے چھوٹے چھوٹے باغیچوں میں درخت سرخ، سفید اور کاسنی پھولوں کے گچھوں سے لدے ہوئے تھے۔ ٹیوبس کے سرخ، پیلے، جامنی اور گلابی رنگ کے پیالے بند تھے۔ زرد چہروں والے ڈیفوڈلز خاموش سرجھکائے کسی گہری سوچ میں غرق تھے، رنگ برنگے انیمنز ذراسی ہوا چلتی تو کانپنے لگتے! ہر طرف بے اندازہ خاموشی تھی۔ اسے تو آوازیں اور شور بھی محسوس نہیں ہورہا تھا۔ چوراہے پر پہنچ کر وہ دائیں طرف مڑگیا۔ قریب ہی ریستوران میں بہت ہی دھیمی روشنیوں کے اندر نو عمر لڑکے اور لڑکیاں اونچے اونچے اسٹولوں پر چڑھے بیٹھے شراب پی رہے تھے۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد جیوک باکس میں پیسے ڈال کر اپنا پسندیدہ ریکارڈ بجاتے تھے۔ کچھ جوڑے کرسیوں اور میزوں کے درمیان ٹوئسٹ کررہے تھے۔یہ ناچ تھا یا کشتی یا کبڈی کی تیاری! سگریٹ کے دھوئیں سے گدلائے ہوئے شیشوں میں یہ سب نظر آرہا تھا۔ وہ آگے بڑھ گیا۔ آج ہفتہ تھا۔ لوگ عیش کر رہے ہیں۔ کل بھی چھٹی ہے۔ پانچ دن کام دو دن دل بھرکے عیش! جوں جوں رات جوان ہوتی جائے گی ان کے دل بھی جون ہوتے چلے جائیں گے۔ صبح کو رات بھر کی عیاشی، شراب نوشی، ٹوئسٹ، چاچاچا اور دوسرے وحشیانہ رقصوں سے تھک کر گھر جائیں گے اور دوپہر تک سوئیں گے۔

وہ خدا جانے کہاں جارہا تھا۔ فٹ پاتھ پر دیواروں کے ساتھ بہت سے نوجوان جوڑے ایک دوسرے کے ساتھ چمٹے کھڑے تھے جیسے کسی انگریزی فلم کے مختلف مناظر ہوں۔ اس نے نظر جھکالی۔

یکایک کوئی چیز ایک دم سے اس کے سینہ سے اٹھی اور حلق میں پھنس گئی۔ اس کی کنپٹیاں دکھنے لگیں اور دو تین سسکیاں اس کے منہ سے نکل گئیں۔آنسوؤں کے قطرے آہستہ آہستہ اس کے گالوں پر بہنے لگے۔ اس کی نگاہوں میں انوار کا زرد چہرہ گھوم گیا۔ جس کے ہونٹوں پر اس نے جاتے وقت بہت عرصہ بعد مسکراہٹ دیکھی تھی۔ وہ اداس تھا لیکن خوشی سے اس کے زرد گال تمتمارہے تھے۔ اس کا لائق اور ذہین بھائی انگلینڈ جارہا تھا۔ وہ ایک بڑا ڈاکٹر بن کر واپس آنے والا تھا۔ جو سب کے لیے مسیحا ہوگا جسے چھودے گا اس میں پھر سے زندگی کی لہریں دوڑجائیں گی۔ زندہ رہنے کی تمنا پھر سے جاگ اٹھے گی۔ فخر سے اس کا کمزور جسم تناہوا تھا۔

’’انوار میں شرمندہ ہوں۔ میں تمہارے خوابوں کی تعبیر نہ بن سکا۔ اور اب تومیں تمہارے لیے ایک ڈراؤنا خواب بن جاؤں گا جو تم سے رات کی نیند بھی چھین لے گا۔ تمہارے اندر جو ذراسی زندگی کی رمق اور امنگ باقی ہے وہ بھی مٹادے گا۔ تم کبھی سرخ آنچل نہیں دیکھ سکوگے۔ مہندی لگے ہاتھ کبھی تمہارا سر نہ سہلا سکیں گے۔ کبھی تم ان ہاتھوں سے پانی نہ پی سکوگے۔ تمہاری پیاس کبھی نہ بجھ سکے گی۔ کبھی بھی نہیں! تم اسی طرح کلرکی کی مشین میں پستے رہوگے انوار‘‘۔انسو اور تیزی سے لڑھکنے لگے۔

’’میں کہاں جاؤں۔ میں کیا کرو۔ شبو تم اپنے بھائی کو اب کبھی نہیں دیکھ سکوگی۔ وہ کبھی بھی ان نمکین پانی کے بڑے بڑے سمندروں کو پار نہیں کرسکے گا۔ اس میں اتنی طاقت کہا ہے۔ وہ اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انسانوں کے اس وسیع سمندر میں ڈوب جائے گا، یہ اتنا بڑا ملک، یہ اتنے سارے لوگ اور وہ پھر بھی تنہا ہے۔ وہ ان سب کے باوجود اکیلا ہے۔ یہ انسان نہیں بت ہیں، پتھر کے مجسمے ہیں۔ ریاض بھی ان میں سے ایک مجسمہ ہی نکلا۔ جن سے انسان زخمی تو ہوسکتا ہے، زخم کی دوا نہیں لے سکتا۔ پتھر کیا کسی کے دکھ مٹا سکتے ہیں۔ میں اندھیرے کا مکیں ہوں، میری بہن! روشنی میرے لیے نہیں ہے۔ تم اتنی بڑی امیدیں نہ پالو۔ تاریکی ہی میں سکون تلاش کرو۔ تمہارے گالوں کی زردیاں اب میں کبھی دور نہیں کرسکوں گا۔ جب تم اپنے قہقہے کھوبیٹھوگی تو پھر میں انہیں واپس تمہارے دامن میں نہ ڈال سکوں گا۔ تمہاری آنکھوں کی شمعیں جب بجھنے لگیں تو میں ان میں جوت نہیں جگاسکوں گا۔ میں روشنی نہیں خرید سکتا۔ یہ سودا بہت مہنگا ہے اور میرے پاس دس پونڈ کے صرف دو نوٹ ہیں اور یہ سڑک بہت لمبی ہے۔ یہ کہیں ختم نہیں ہوتی۔ اسی طرح مڑتی مڑاتی چلی جارہی ہے جہاں ختم ہوتی ہے وہیں سے دوسری شروع ہوجاتی ہے۔ یہ لندن ہے عجیب بھول بھلیوں والا شہر۔ یہاں آدمی سب کو بھول جاتا ہے، دوستوں کو، ماں باپ کو، رشتہ داروں کو، خود کو، شاید میں تم سب کو بھول جاؤں، میری بیمار ماں جو اپنا دکھ اور بیماری بھول کر میری کامیابی اور صحت کے لیے ہر دم دست بدعا رہتی ہے، اس کا ساتواں بچہ بھی آج مرگیا۔ تم مجھے اب کہا پاسکوگی۔ شاید میں کسی ہوٹل میں برتن دھونے اور فرش کی صفائی میں چین تلاش کروں، کون جانے! ہے نا شبو کون جانے! تم نہیں جانتیں میں بھی نہیں جانتا‘‘۔ اس کے آنسو خشک ہوگئے تھے۔ بس ایک غبار سا اس کے ذہن پر چھایا ہوا تھا۔ اس کا دل بہت دکھ رہا تھا جیسے کوئی شہہ رگ کاٹ رہا ہو۔ زندگی کا رس آنسو کی نسوں میں سے آہستہ آہستہ نچوڑرہا ہو۔چلتے چلتے اس کی ٹانگوں میں درد ہوگیا تھا۔ مزید ایک اور قدم اٹھانے کی سکت نہیں تھی لیکن وہ چلا جارہا تھا۔ اس کی جیب میں دس پونڈ تھے۔ لندن میں رہنے کا ایک ہفتہ کا خرچ … اور یہ اتنا بڑا اجنبی شہر۔ اس کے سامنے بڑی بے تعلقی سے پھیلا ہوا تھا۔ چاروں طرف ہلکی ہلکی تاریکی تھی۔ وہ ہزاروں دوسرے لوگوں کے ساتھ اس تاریکی میں گم ہوگیا!!

شیئر کیجیے
Default image
سمیعہ سالم