3

آنحضرت ﷺ بہ حیثیت شوہر

آنحضرت ﷺ انسانِ کامل تھے۔ آپؐ کی زندگی کا ہر گوشہ اور آپ کے کردار کا ہر رخ مسلمانوں کے لیے نمونہ اور اسوہ ہے۔ خدائے بزرگ نے آپؐ کو انسانوں میں پیدا کیا اور انسانوں ہی کی طرح پیدا کیا اور آپؐ نے انسانوں کی طرح سے اپنی پوری زندگی گزاری۔ آپؐ بیٹے بھی تھے اور باپ بھی۔ شوہر بھی تھے اور بھائی بھی۔ عمر میں چھوٹے بھی تھے اور بزرگ بھی۔ آپؐ نے تجارت بھی کی اور فوجیں بھی لڑائیں۔ محنت کشی بھی کی اور حکمرانی بھی۔ آپؐ ہر حیثیت سے شاہراہ حیات پر ایسے نقوشِ قدم چھوڑ گئے جو قیام قیامت تک لوگوں کے لیے نمونہ اور معیار بنے رہیں گے:

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔

’’بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی قابل تقلید نمونہ ہے۔‘‘

چنانچہ ایک شوہر اور رفیق حیات کی حیثیت سے آنحضرت ﷺ کا جو کردار ہے وہ ہر شوہر کے لیے نمونہ کا کردار ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے مسلمان شوہروں کے لیے آپؐ کے چند احکام سماعت فرمائیے۔ ارشاد فرمایا:

خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِاَہْلِہٖ۔ (ترمذی، دارمی، ابن ماجہ)

’’تم میں سے بھلا آدمی وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے بھلا ہو۔‘‘

دوسرا ارشاد:

خَیَارُکُمْ خَیَارُکُمْ لِنِسَائِہِمْ۔ (ترمذی)

’’تم میں سب سے بھلے لوگ وہ ہیں جو اپنی بیویوں کے لیے بھلے ہوں۔‘‘

ایک بار ایک ایسے صحابی کو جو زہد و عبادت کی طرف زیادہ متوجہ ہونے کی وجہ سے اپنے ’’اہل‘‘ سے غافل رہتے تھے بلوایا اور فرمایا:

وَإِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْکَ حَقّاً۔ (بخاری)

’’اور تمہاری رفیقہ کا بھی تم پر حق ہے۔‘‘

صنفِ ضعیف کے حقوق کا سرکار کو کتنا خیال تھا۔ اس کا اندازہ اس سے کیجیے کہ آپ نے اپنی حیات کے آخری خطبہ حج میں جن اہم تر ین مسائل پر احکام و نصائح فرمائے تھے ان میں عورت کے حقوق کا مسئلہ بھی تھا۔ فرمایا:

’’لوگو! عورتوں کے حق میں میری نیکی کی نصیحت کو مانو کہ یہ تمہارے ہاتھوں میں قید ہیں اور تم اس کے سوا کسی بات کا حق نہیں رکھتے الاَّ یہ کہ وہ کھلی بے حیائی کا کام کریں۔ اگر ایسا کریں تو ان کو خواب گاہ میں علیٰحدہ کردو اور ان کو ہلکی مار مارو۔ تو اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو پھر ان پر الزام لگانے کے پہلو نہ ڈھونڈو۔ بے شک تمہارا عورتوں پر اور عورتوں کا تم پر حق ہے۔ تمہارا حق تمہاری عورتوں پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر کو دوسروں سے پامال نہ کرائیں جن کو تم پسند نہیں کرتے۔ اور نہ تمہارے گھروں میں ان کو آنے کی اجازت دیں جن کا آنا تم کو پسند نہیں۔ اور ہاں ان کا حق تم پر یہ ہے کہ ان کے پہنانے اور کھلانے میں نیکی کرو۔ ‘‘ (ابن ماجہ)

بیوی کے حق کی وضاحت ایک اور موقعہ پر ایک سوال کے جواب میں یوں فرمائی:

’’بیوی کا حق شوہر پر یہ ہے کہ جب خود کھائے تو اس کو کھلائے جب خود پہنے تو اس کو پہنائے۔ نہ اس کے منہ پر تھپڑ مارے نہ اس کو برا بھلا کہے۔ نہ گھر کے علاوہ (سزا کے لیے) اس کو علیحدہ کرے۔‘‘ (ابن ماجہ)

اختصار کے خیال سے میں نے یہ چند ارشادات نقل کیے ہیں۔ ورنہ بیویوں کے حقوق کے سلسلے میں آپ کے احکام و ہدایات بکثرت ہیں۔

ایک شوہر کی حیثیت سے حضورؐ کیسے تھے اس کا جواب عرض کرنے سے پہلے ہم یہ سوچتے چلیں کہ ایک شوہر کے لیے عمومی شرائط کیا ہونی چاہئیں۔

پہلی شرط یہ ہے کہ وہ بیوی کے لیے محبت کوش ہو۔

دوسری شرط یہ ہے کہ اس کی ضروریات اور خواہشات کا حتی الامکان پورا پورا خیال رکھے۔

تیسری شرط یہ ہے کہ جہاں تک اس کے اصول اجازت دیں بیوی کی ان فرمائشوں اور خواہشوں کی تکمیل و تعمیل میں سعی کرے جو چاہے خود اس کے مزاج کے خلاف ہوں۔

چوتھی شرط یہ ہے کہ اگر ازواج ایک سے زیادہ ہوں تو اپنی محبت، وقت، مال اور توجہات کی ان میں ٹھیک ٹھیک اور عادلانہ تقسیم کرے۔

اب ان شرائط کی روشنی میں شوہر کا ایک مثالی کردار ملاحظ ہو:

جہاں تک شرط اول یعنی محبت کوش ہونے کا تعلق ہے اس کے لیے تو کچھ سوچنا ہی تحصیل حاصل ہے۔ کیونکہ وہ پاک ہستی سراپا محبت تھی، محبت کیش تھی، جس کا پیغام محبت کا پیغام تھا، جس کا مشن محبت کا مشن تھا، جس نے محبت اور صرف محبت ہی کے زور پر ساری دنیا کو فتح کیا تھا، جسے دوستوں سے ہی نہیں دشمنوں سے بھی محبت تھی۔ ایسے محبت کیش کی محبت کوشیوں کا کیا ٹھکانہ ہوگا۔ اور وہ بھی اپنی ازواج مطہرات کے لیے۔

آپ نے چھٹی صدی کے عرب کے معاشرے میں عورت سے جیسی محبت کرکے دکھائی اور کرنا سکھائی ہے اس کا اندازہ کرنے کے لیے سیدنا عمرؓ کا یہ قول سنئے:

’’ہم لوگ اسلام سے قبل عورتوں کو کچھ نہیں سمجھتے تھے اسلام نے عورتوں کے لیے احکام نافذ کیے اور ان کے حقوق مقرر کیے۔‘‘ (بخاری)

ان احکام و ہدایات کا اثر کیا ہوا؟ عورت کو کیا حقوق ملے؟ اس کا جواب بھی حضرت عمرؓ اسی ارشاد کے دوسرے حصے میں دیتے ہیں:

’’ایک بار میں نے اپنی بیوی کو ڈانٹا تو اس نے بھی برابر کے جواب دئے۔‘‘ (بخاری)

ملاحظہ فرمایا آپ نے یہ انقلاب ِ عظیم۔ جانور سے بدترعورت کا درجہ معاشرے میں کتنا بلند ہوگیا اور ذہن کتنے بدل گئے کہ عورت ڈانٹ سن کر ترکی کا جواب ترکی زبان میں دیتی ہے۔ اور اصل حصہ اس داستان کا یہ ہے کہ شوہر گھر کی اس ’’جھڑپ‘‘ کا حال باہر کے لوگوں کو خود سناتا رہا ہے، شکایتاً نہیں فخر کے لہجے میں۔

یہ تو سیدنا عمرؓ تھے۔ اس سے بھی دلچسپ قصہ خود آنحضرت ﷺ کا ملاحظہ ہو۔ عورتوں کے حقوق کے اس داعی اعظم نے اپنی ہر رفیقۂ حیات کو عملاً کتنی آزادی دے رکھی تھی اور کتنے زیادہ حقوق عطا فرما رکھے تھے، صرف دوسروں کو نصیحتوں اور ہدایتوں تک بات ختم نہیں کی تھی خود اپنے گھر میں اس پر عمل کرکے دکھایا تھا۔

ایک بار آنحضرت ﷺ اپنی حبیبہ سیدتنا عائشہؓ سے مصروف کلام تھے۔ کسی خانگی اور نجی مسئلے پر گفتگو تھی۔ لَے ذار بڑھ گئی، جذبات ذرا تلخ ہوگئے۔ سرکار ایک تو حلیم تھے دوسرے عملاً مساوات کی تربیت کرنی تھی۔ اس لیے طرفین میں سے حضرت عائشہؓ کے ہی الفاظ میں ترشی تھی اور لہجہ بھی بلند تھا۔ میاں بیوی میں یہ کارزار گرم تھا کہ حضرت ابوبکرؓ آنکلے۔ وہ ادھر سرکار کے جان نثار تھے تو ادھر حبیبۂ رسول کے پدربزرگوار بھی تھے۔ گویا دو چند ذمہ داری حضرت صدیقؓ نے محسوس کی۔ باپ اپنی بیٹی کی سرزنش کے لیے آگے بڑھا اور طیش میں گرجا:

’’ہائیں! تو رسول اللہ کے سامنے آواز اونچی کرتی ہے۔‘‘

اور ہاتھ بھی بلند کردیا۔ مگر بیٹی اپنے غضبناک باپ کی سرزنش سے صاف بچ نکلی۔ کس نے بچالیا۔ حقوقِ نسواں کے مبلغ اعظم بیچ میں حائل ہوگئے تھے:

صلی اللہ علیہ وعلی آلہ واصحابہ وسلم!

سلام اس پر کہ جس نے عورتوں کی دستگیری کی۔

جناب صدیقؓ کے غیظ و غضب کا پارہ کتنی ہی بلندی پر کیوں نہ چڑھ گیا ہو جس فعل میں ان کے رفیق و حبیب رسول اللہ حائل و مانع ہوں اس کی تکمیل کی انہیں کب جرأت ہوسکتی تھی۔ غضب پر ادب غالب آیا اور صدیق والا مقام واپس لوٹ گیا۔ یوں میاں بیوی کی جنگ ایک تیسرے فریق کے بیچ میں آنے سے ختم ہوگئی۔ حضورؐ نے فرمایا ہوگا:

’’کیوں حمیرا! میں نے بچالیا ورنہ ابا اچھی طرح خبر لے ڈالتے۔‘‘

سیدہ حمیرا کھل کھلا کر ہنس دی ہوں گی اور رحمتِ عالمؐ کا قلبِ مبارک بھی وفورِ مسرت سے لبریز ہوگیا ہوگا کہ دیکھو میرا مشن اللہ کے فضل و کرم سے کس قدر کامیاب ہورہا ہے۔ یہ صنف ضعیف اپنی ’’خودی‘‘ کو پہچانتی جارہی ہے خود مجھے بھی معاف نہیں کرتی۔

جناب صدیقؓ چند روز بعد پھر کاشانۂ نبوت پر حاضر ہوئے تو آج رنگ دوسرا تھا۔ مثالی شوہر اور معیاری بیوی آج حسب معمول خوش مزاجی کی حالت میں تھے۔

جناب صدیقؓ کے دل کی کلی کھل اٹھی اور عرض کیا:

’’میں نے جنگ میں دخل دیا تھا اور اب صلح میں بھی مجھے شریک کیجیے۔‘‘

سرکار مسکرادئیے اور فرمانے لگے :

’’ہاں ہاں! ضرور۔‘‘

سرکار نے صحابہ کو اپنی بیویوں کے حقوق ادا کرنے پر جس طرح بار بار بتکرار متوجہ فرمایا تھا اس کے نتیجے میں چند سال کے اندر اندر صنفِ ضعیف کو جو آزادی حاصل ہوگئی تھی اس کا اندازہ بھی آستانۂ نبویؐ کے ایک واقعہ سے ہوسکتا ہے۔

حضورؐ کی ازواج مطہرات کو حضور سے بر بنائے بشریت کبھی کبھی عارضی طور پر کچھ شکوہ بھی ہوجاتا تھا۔ ممکن ہے اس رنج و شکوے کی کوئی حقیقت اور اساس ہوتی ہی نہ ہو اور یہ ’’ناز‘‘ کا ایک انداز ہی ہوتا ہو۔ بہرحال ازواج مطہرات کبھی کبھی اپنے شکوے کا اظہار حضورؐ سے فرمایا کرتی تھیں۔ یہ اظہار کس شان سے ہوتا تھا۔ یہ بھی سننے کی چیز ہے۔ یہ بھی حضورؐ کی کامل وہمہ جہتی تربیت کا ایک شاہکار ہے۔ اس اندازِ شکایت کی مثال خود سرکار ہی کی زبانِ مبارک سے سنئے۔ آپ نے ایک بار حضرت عائشہؓ سے فرمایا:

’’تم مجھ سے برہم ہوجاتی ہو تو میں سمجھ جاتا ہوں۔‘‘

جناب عائشہؓ نے دریافت کیا : ’’وہ کیسے؟‘‘

’’جب تم مجھ سے خوش رہتی ہو اور کسی بات پر قسم کھانی ہوتی ہو تو ’’محمد کے خدا کی قسم‘‘ کہتی ہو اور جب مجھ سے خوش نہیں ہوتی تو ’’ابراہیم کے خدا کی قسم‘‘ کہتی ہو۔

حبیبۂ رسول نے عرض کیا:

’’جی ہاں! یا رسول اللہ (میں ناخوشی میں) صرف آپ کا نام چھوڑ دیتی ہوں۔‘‘

سنا آپ نے ! اب بیوی ناخوش ہونا بھی جان گئی ہے اور اس ناخوشی کے برملا اظہار کی جرأت بھی اس میں پیدا ہوگئی ہے۔ کیا آپ کو اس پر کوئی حیرت نہیں ہورہی ہے۔ اگر چھٹی صدی عیسوی میں پوری دنیا کی اخلاقی و معاشرتی حالت آپ کے سامنے ہے اور اس دور کے عرب کی عورت کی حالت زار کا نقشہ آپ بھول نہیں گئے ہیں تو آپ کی حیرت کی کوئی حد نہیں ہوگی۔

حضرت عائشہؓ کے اور آنحضورؐ کے سن میں بہت فرق تھا۔ ایک ذہین اور طباع اور پھر کمسن لڑکی کا مزاج، مذاق، رنگ، طبیعت، اندازِ فکر، دلچسپیاں، غرض ہر چیزایک پختہ عمر، سنجیدہ، متین، ثقہ اور ذمہ دار مرد سے مختلف ہونی ہی چاہیے۔ اور پھر مرد سرکار کا سا، جن کے دوش پر ساری دنیا کی قیادت کا بار تھا، جن کے دل میں ساری انسانیت کی اصلاح کاجذبہ تھا، جن کے ذہن میں عالم کے ایک نئے اور عظیم تر انقلاب کے منصوبے پرورش پا رہے تھے، جن کو شوق تھا آدمی کو انسان بنانے کا، جن کو فکر تھی نئے خطوط پر معاشرہ کی تشکیلِ جدید کی۔ مختصر یہ کہ آنحضرتؐ کی دلچسپیاں حضرت عائشہؓ کی دلچسپیوں سے جدا نوعیت کی تھیں، یا یوں کہیے کہ ان کے مزاجوں میں اتنا ہی بُعد تھا جتنا بڑھاپے اور جوانی میں بُعد ہوتا ہے۔ لیکن دوسروں کے جذبات کا پاس کرنا بھی تو آپ سکھانا چاہتے تھے۔ دوسرے کی جائز خواہشوں کو حتی الامکان پورا کرنا بھی آپ ضروری سمجھتے تھے۔

عید کا دن تھا۔ چند حبشی باشندے حرمِ نبوی کے قریب ایک تماشا دکھا رہے تھے۔ بتقاضائے عمر جناب صدیقہ نے یہ تماشا دیکھنے کی خواہش ظاہر فرمائی۔ سرکارؐ دروازے میں کھڑے ہوگئے اور ام المومنین حضورؐ کے دوش مبارک پر ٹھوڑی رکھ کر تماشا دیکھنے لگیں اور دیر تک دیکھتی رہیں۔ ایک بار دریافت فرمایا: ’’کیوں حمیرا! جی نہیں بھرا۔‘‘

حبیبۂ رسول نے بے تکلف انکار فرمادیا: ’’ابھی نہیں بھرا۔‘‘

چنانچہ آپؐ یوں ہی کھڑے رہے یہاں تک کہ خود جناب صدیقہ تھک کر ہٹ گئیں۔

ازدواج کے ابتدائی زمانے میں تو آستانۂ نبویؐ میں جناب صدیقہ کی بہت ہی کمسن سہیلیاں جمع ہوجایا کرتی تھیں۔ سرکارؐ اندر تشریف لاتے تو وہ بھاگ جاتیں مگر آپؐ ان کو بلا لیا کرتے۔

ابتدائی زمانے میں ہی حضرت صدیقہؓ گڑیوں تک سے کھیلا کرتی تھیں۔ آپؐ نہ صرف اس کھیل میں حارج و مانع نہیں ہوتے تھے بلکہ کبھی کبھی کسی کھلونے کے متعلق کوئی سوال بھی فرمالیا کرتے تھے اور بھولے پن کا کوئی جواب سن کر مسکرادیتے۔ شادی کے چند دن بعد ایک بار خود آنحضرتؐ کی تحریک پر دونوں میں دوڑ کا مقابلہ ہوا۔ حضرت عائشہؓ چھریرے بدن کی تھیں آگے نکل گئیں۔ بہت دن بعد جب عمر کیساتھ سیدہ کا بدن بھی بھاری ہوگیا تو ایک بار پھر دوڑ ہوئی۔ اب کے میدان حضورؐ کے ہاتھ رہا۔ حضورؐ نے پہلا مقابلہ یاد دلاکر فرمایا:’’آج اس دن کا بدلہ ہوگیا۔‘‘

ایک مرتبہ عید کا دن تھا۔ حرمِ نبویؐ میں چند بچیاں جمع ہوکر کچھ گانے لگیں۔ آپؐ لیٹے ہوئے تھے منہ ڈھانک لیا۔ لڑکیاں گاتی رہیں، اتفاقاً حضرت ابوبکرؓ آگئے اور لڑکیوں کو ڈانٹنے لگے۔ آپؐ نے منع کیا اور فرمایا:

’’ان بچیوں کو گانے دو یہ ان کی عید کا دن ہے۔‘‘ (بخاری)

ایک بار سفر میں ازواج مطہرات بھی ساتھ تھیں۔ ساربانوں نے اونٹوں کو دوڑانا شروع کیا تو آپ کو خواتین کا خیال آگیا اور ساربانوں سے فرمایا:

’’ذرا دیکھ کر! یہ (عورتیں) آبگینے بھی ساتھ ہیں۔‘‘

اور سچ ہے کہ سیرت مبارکہ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپؐ نے ان آبگینوں کی نزاکت کا پورا پورا خیال رکھا۔ صنفِ لطیف کے مزاج کی نزاکت کا آپؐ نے ہر ہر قدم پر اور ہر ہر بات میں اس طرح خیال فرمایا۔

بے شک حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک مثالی شوہر تھے۔ صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہ واصحابہ وسلم

شیئر کیجیے
Default image
حکیم محمد سعید

تبصرہ کیجیے