5

پرسنل لا بورڈ کا نکاح نامہ

گذشتہ دنوں اخبارات اور ٹی وی پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا تیار کردہ نکاح نامہ بہت چھایا رہا۔ جن لوگوں نے منظور شدہ نکاح نامہ دیکھا انہیں بڑی حیرت ہوئی کہ آخر اس میں ایسی کیا چیز ہے جس پر میڈیا اس قدر متوجہ ہے؟ بظاہر یہ نکاح نامہ ان عام تعلیمات پر مشتمل ہے جو فقہ کی کتابوں میں برسوں سے لکھی ہوئی ہیں اور جن سے ایک پڑھا لکھا مسلمان واقف ہی ہوتا ہے۔ حیدرآباد سے ملحق آندھرا پردیش و مہاراشٹر کے اضلاع (مراٹھوارہ و تلنگانہ) کے مسلمانوں کے لیے مزید حیرت کی بات یہ تھی کہ وہاں نظام کے زمانہ ہی سے اس سے ملتا جلتا نکاح نامہ پہلے ہی سے رائج ہے۔ میڈیا کی اس دلچسپی کو سمجھنے کے لیے نکاح نامہ کے تاریخی پس منظر سے واقف ہونا ضروری ہے۔

شرعی تعلیمات سے ناواقفیت اور مسلمانوں کے عمومی اخلاقی و دینی زوال کے باعث، ازدواجی زندگی کی تلخیوں اور اس کے نتیجے میں خواتین پر مظالم کے واقعات مسلم معاشرہ میں بھی بہت عام ہوتے جارہے ہیں۔ ان میں خاص طور پر دو مسائل برسوں سے بورڈ کے زیر غور ہیں۔ اول شوہر کی جانب سے جذبات میں آکر بیک وقت تین طلاق دے دینے اور عورت کی زندگی اجیرن کردینے کا مسئلہ، دوم ایسے شوہر کا مسئلہ جو بیوی کے حقوق ادا نہیں کرتا، اس پر ظلم کرتا ہے، اور بیوی اس کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ اس دوسرے مسئلہ کی صورت میں اگر شوہر طلاق دینے سے انکار کردے تو بیوی کے پاس خلع کے لیے ہندوستان میں کوئی قابل عمل شکل موجود نہیں ہے۔ دارالقضاء سے رجوع کا مشورہ دیا جاتا ہے لیکن اول تو ہندوستان میں بہت کم جگہوں پر اس طرح کے ادارے موجود ہیں اور جہاں ہیں وہاں بھی اکثر نہایت غیر مؤثر ہیں۔ اس صورت میں عورت کے پاس دو ہی متبادل موجود ہیں یا تو زندگی بھر شوہر کے مظالم سہتی رہے یا عدالتوں کے چکر کاٹتی رہے۔

اس پس منظر میں بورڈ کے سابق صدر مولانا مجاہد الاسلام قاسمیؒ کی سرکردگی میں ایک ایسا نکاح نامہ تیار کیا گیا تھا جس کے ذریعہ اس مسئلہ کا حل بڑی خوبصورتی و مہارت کے ساتھ نکالا گیا تھا۔ مولانا قاسمی مرحومؒ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی خوبیاں دی تھیں۔ وہ مسلم عوام کے مسائل کو جانتے تھے۔ ان مسائل کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات اور پیش قدمی میں یقین رکھتے تھے۔ شریعت اسلامی سے اٹوٹ وابستگی کے ساتھ شریعت ہی کی روح کے مطابق اجتہاد اور جرأت مندانہ فیصلوں کی صلاحیت رکھتے تھے۔ مولانا مرحوم نے اس نکاح نامہ میں تفویضِ طلاق کے ایک قدیم فقہی اصول کا استعمال کیا تھا جو تمام مسالک میں متفق علیہ اصول ہے۔ اور جس پر ہمارے زمانے میں مولانا تھانویؒ نے تفصیل سے لکھا ہے (الحیلۃ الناجزۃ) اس کے تحت یہ انتظام تھا کہ نکاح نامہ کے ذریعہ شوہر نکاح کے وقت ہی یہ حق بیوی کو دے دے کہ کچھ طے شدہ صورتوں میں (مثلاً شوہر کی جانب سے بیوی کو مسلسل زدوکوب یا ایک متعینہ مدت سے زیادہ عرصہ تک بیوی کو نان نفقہ نہ دینا وغیرہ) بیوی کو یہ حق ہوگا کہ وہ خود کو طلاق دے دے۔ اس صورت میں شوہر کی مرضی کے بغیر بھی طلاق واقع ہوجائے گی اور عدت کے بعد بیوی نکاحِ ثانی کے لیے آزاد ہوگی۔ اس میں یہ انتظام بھی تھا کہ تفویض طلاق کا حق اس وقت معتبر ہوگا جب کوئی غیر جانب دار حَکم صورتِ حال کا جائزہ لے کر اس نتیجہ پر پہنچے کہ واقعی شوہر سے یہ زیادتی ہوئی ہے۔

یہ شریعت اسلامی کے حدود میں ڈھونڈا گیا حل تھا۔ لیکن پرسنل لا بورڈ کے اراکین کے درمیان اس پر اتفاق نہ ہوسکا اور بنگلور کے اجلاس (اکتوبر ۲۰۰۰ء) میں یہ تجویز نامنظور ہوگئی۔

جو لوگ اس کے حق میں نہیں تھے، ان کے بنیادی طور پر تین دلائل تھے۔ اول یہ کہ نکاح کی مجلس میں طلاق کا تذکرہ بے اعتمادی کو جنم دے گا اور ناگوارِ خاطر ہوگا۔ دوم یہ کہ عورتیں جذباتی ہوتی ہیں۔ اس حق کے نتیجہ میں طلاق کی شرح بڑھے گی اور خاندانی نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ اور سوم یہ کہ نکاح کے موقع پر بیوی کی جانب سے کسی شرط کے لزوم کی شریعت نے اجازت ضرور دی ہے، کوئی عورت ایسا کرنا چاہے تو کرسکتی ہے لیکن اسے نکاح نامہ کا جز بنا کر عموم دے دینا شریعت کی روح کے منافی ہے۔

ان دلائل پر ہمیں تفصیلی اظہار خیال نہیں کرنا ہے۔ ان کا وزن ہر کوئی محسوس کرسکتا ہے۔ نکاح ایک معاہدہ ہے اور دنیا کا ہر معاہدہ باہمی اعتماد کی فضا میں ہی بنتا ہے لیکن اس کے باوجود اس میں مستقبل کے ناخوشگوار امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جاتا بلکہ اس کی پیش بینی اور پیش بندی ہوتی ہے۔ اس وقت منظور شدہ نکاح نامہ میں بھی باہمی تنازعات کے امکانات کو قبول کیا گیا ہے اور اس صورت میں مطلوب اقدامات کی تفصیل بھی درج ہے۔ (بلکہ طلاق کا ذکر بھی موجود ہے)۔ اس صورت میں تفویض طلاق ہی کیوں ناگوار خاطر ہے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔

اسی طرح یہ بات بھی بعید از فہم ہے کہ عورت کو طلاق کا حق تفویض کرنے سے طلاق کی شرح بڑھے گی۔ موجودہ معاشرتی ڈھانچہ میں طلاق سے بنیادی طور پر عورت ہی متاثر ہوتی ہے۔ اور اکثر صورتوں میں اس کی زندگی تباہ ہوجاتی ہے۔ اس پس منظر میں اس بات کا امکان کم ہی ہے کہ وہ کسی معقول وجہ کے بغیر اس حق کا استعمال کرے گی۔ پھر عورت کو یہ حق نہیں مل رہا ہے کہ وہ بلا کسی وجہ کے جذباتی فضا میں تین طلاق دے کر علیٰحدہ ہوجائے۔ طلاق کے حق کے استعمال سے پہلے اسے ایک غیر جانب دار حکم کے سامنے یہ ثابت کرنا ہے کہ اس کے بنیادی حقوق لمبے عرصے سے پامال ہورہے ہیں۔ ظلم و ستم کی ایسی صورتوں میں اسلامی شریعت اور دنیا کا ہر منصفانہ قانون اسے علیٰحدگی کا حق دیتا ہے۔ ایسی صورتوں میں بھی محض طلاق کی شرح بڑھنے کے خوف سے عورت کو ظلم کی اس دوزخ میں رہنے پر محبور کرنا نہایت غیر منصفانہ بات ہے۔

اگر کوئی برائی عموم اختیار کرجائے تو اس کے ازالے کے لیے شریعت کے کسی مخصوص قاعدہ کو عموم دے دینے اور شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے کوئی عمومی قانون بنانے کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ اسلامی قانونی تاریخ میں اس کی مستحکم روایات موجود ہیں۔ اس صورت میں یہ کہنا بھی صحیح نہیں معلوم ہوتا کہ تفویض طلاق کے اصول کو عام کرنا شریعت کی روح سے متصادم ہے۔

بہر حال بنگلور کے اجلاس میں یہ تجویز رد ہوگئی۔اس تجویز کے رد ہونے کے بعد نکاح نامہ کی ضرورت اور معنویت ختم ہوگئی تھی۔ اس لیے کہ اسے اصلاً ایک عملی مسئلہ کے حل کی شرعی تدبیر کے طور پر تجویز کیا گیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود اب ایک نیا نکاح نامہ منظور ہوا ہے۔ اس میں نکاح سے متعلق ضروری اندراجات کے ساتھ ایک ہدایت نامہ برائے زوجین ہے جس میں شوہر اور بیوی کے حقوق بیان کیے گئے ہیں۔ اور آخر میں شوہر اور بیوی (عاقد اور عاقدہ) کے لیے ایک اقرار نامہ ہے کہ باہمی تنازعات کی صورت میں وہ ایک حکم بنائیں گے اور اس کے فیصلہ کو قبول کریں گے۔ بورڈ کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ حکم بنانے کے سلسلے میں یہ جو اقرار نامہ ہے وہ زیر بحث ازدواجی مسائل کا حل ہے۔

یہ سادہ لوحی کی انتہا ہے۔ اگر شوہر کو اقرار ناموں اور عہدناموں کا اتنا ہی پاس و لحاظ ہو تو وہ نہ شراب پی کر بیوی کو زدوکوب کرے گا اور نہ نان نفقہ دئے بغیر اسے مہینوں لٹکائے رکھے گا۔ جو لوگ اپنی ذمہ داریوں کے سلسلے میں سنجیدہ ہیں اور شریعت کے دائرہ میں زندگی گزارنا چاہتے ہیں، انہیں کسی اقرار نامے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا اسلام خود اس بات کا عہد ہے کہ وہ قرآن کے ہر حکم کو بلا چوں و چرا تسلیم کریں گے (قرآن میں ازدواجی تنازعات کی صورت میں حَکم بنانے کا حکم موجود ہے) مسئلہ ان لوگوں کا ہے جو رضا کارانہ طور پر شریعت کی رہنمائی قبول نہیں کرتے۔ انہیں کوئی اقرار نامہ اس کے لیے مجبور نہیں کرسکتا۔ ازدواجی تنازعات کی شدت اکثر ضد، ہٹ دھرمی اور انانیت کی انتہائی شکل کی صورت میں ظہور پذیر ہوتی ہے۔ اس صورت میں کسی اقرار نامہ کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟ ایسی صورتوں کے ازالہ کے لیے ہی قانون کے ڈنڈے (سیدنا عمرؓ کا مشہور درّہ) کی ایجاد ہوئی ہے جسے مسلم پرسنل لا بورڈ استعمال نہیں کرنا چاہتا۔

تین طلاق بیک وقت دینا شرعاً ممنوع اور ناپسندیدہ ہے، یہ بات متفق علیہ ہے۔ بیک وقت تین طلاق، تین سمجھی جائے گی یا ایک، اس پر اختلاف ہے۔ بیک وقت تین طلاق دینے پر سزا دی جاسکتی ہے یہ بات بھی متفق علیہ ہے۔ لیکن پرسنل لا بورڈ اس سفارش کے لیے بھی تیار نہیں ہے کہ بیک وقت تین طلاق پر سزا دی جائے۔ اس سے انہیں اندیشہ ہے کہ عدالتیں مسلمانوں کے ذاتی معاملات میں مداخلت کریں گی۔ بیک وقت تین طلاق، ظلم ہے۔ اور ظلم کی سزا حکومتی نظام ہی دے سکتا ہے۔ صالح سے صالح معاشرہ میں بھی ظلم کی روک تھام کے لیے دنیوی سزا کا خوف بھی ضروری ہے اسے خود اسلامی شریعت تسلیم کرتی ہے۔ صحابہؓ کے معاشرہ میں بھی سزاؤں کا نظام موجود تھا۔ اس تناظر میں یہ سمجھنا کس قدر سادہ لوحی ہے کہ محض وعظ و نصیحت اور بیداری مہمات سے ظلم کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اگر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو وراثت کا حق دینے سے انکار کردے اور کسی دارالقضا یا پنچایت کا حکم بھی ماننے سے انکار کردے تو ایسی صورت میں حکومتی نظام ہی اسے انصاف دلائے گا۔ اسے پرسنل لاء میں مداخلت نہیں سمجھا جائے گا بلکہ خود پرسنل لاء میں اس کی گنجائش ہوگی اور ہے۔ پھر آخر اسی معاملہ اس قدر تحفظات کیوں؟

بے شک پرسنل لا بورڈ کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ وہ مختلف مسالک اور فرقوں کا نمائندہ پلیٹ فارم ہے۔ اس کی فیصلہ سازی کا اختیار صرف انہی امور تک محدود ہے جن پر تمام مسالک کا اتفاق ہو۔ کسی مختلف فیہ مسئلہ میں جرأت مند فیصلہ کا نتیجہ بورڈ کا انتشار ہی ہوگا۔ اس لیے ایسے کسی فیصلہ کی اس سے توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے۔لیکن اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ بورڈ ہر قسم کے ریفارم پر امتناع عائد کرلے۔ اور No Changeکی پالیسی اختیار کرے۔ زیر بحث تجاویز کا تعلق ان شرعی اصولوں سے ہے جن پر تمام مسالک کا اتفاق ہے۔ آزادی کے بعد سے پرسنل لا میں کوئی قابل ذکر ترمیم نہیں ہوئی۔ شریعت اسلامی ناقابل تغیر ہے لیکن شریعت کی رہنمائی میں بنا قانونی ڈھانچہ دائمی نہیں ہے۔ حالات مسائل کے لحاظ سے اس میں تبدیلیاں ضروری ہیں۔ اور آزادی سے پہلے وقتاً فوقتاً ایسی ترمیمات ہوتی رہی ہیں۔

بورڈ کی یہ No Changeپالیسی بذات خود شریعت اسلامی میں بیرونی مداخلت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ پرسنل لا کی حفاظت کے لیے جہاں یہ ضروری ہے کہ شریعت سے متصادم قوانین اور عدالتی فیصلوں کی مزاحمت کی جائے وہیں یہ بھی ضروری ہے کہ زمانہ کے ساتھ ساتھ نئے درپیش مسائل میں نئی قانون سازی کے لیے اقدامات، شریعت کی رہنمائی میں ہوں اور بورڈ، اس کی طرف رہنمائی کرے۔ دنیا کا ہر قانونی ڈھانچہ زمانہ کے ساتھ تبدیلیوں کا متقاضی ہوتا ہے۔ اس لیے بورڈ کی یہ توقع کہ پرسنل لاء کی جو شکل ۱۹۴۷ء میں تھی ہمیشہ ویسی ہی رہے ایک غیر عملی اور غیر معقول توقع ہے۔ نظری طور پر تو یہ کہا جاتا ہے کہ پرسنل لا میں شریعت کے دائرہ کے اندر تبدیلیوں کی گنجائش ہے لیکن عملاً بورڈ اس سلسلہ میں کوئی پیش قدمی کرتا ہوا نظر نہیں آتا۔

اس صورتحال کے ایک دو اسباب اور ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے احوال میں اتنے علاقائی اور طبقاتی تنوعات ہیں کہ ان سب کا ادراک بیک وقت بہت مشکل ہے۔ تعلیم یافتہ، دین دار، متوسط طبقہ کے اکثر افراد کو یہ سمجھ میں ہی نہیں آتا کہ مسلمانوں کے درمیان طلاق اور شوہر کی زیادتی بھی کوئی مسئلہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میڈیا ایک نان ایشو کو ایشو بنا رہا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے پاس ایسے مطالعات اور سرویز بھی موجود نہیں ہیں جو حقیقی صورتحال واضح کرسکیں۔ ہماری صحافت ساری کی ساری ’’ڈسک صحافت‘‘ ہے۔ ہندی اور انگریزی اخبارات پڑھ کر ایڈیٹر صاحبان صحافت کے کرشمے دکھاتے ہیں اور رپورٹر صاحبان صرف وعظ و نصیحت کی محفلوں اور جلسوں و تقریروں کی خبریں بھیجتے ہیں۔ اس تناظر میں بھی حقیقی جائزے مفقود ہیں۔ نتیجتاً عملی مسائل کے ادراک کا کام بہت مشکل ہوجاتا ہے۔

میڈیا کی اسلام مخالفت کی تاریخ بھی ہمیں خواہ مخواہ دفاعی پوزیشن میں لاکھڑا کرتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ میڈیا ہمارے خلاف جو بھی بولے گا اس کے تانے بانے لازماً عالمی اسلام مخالف سازشوں ہی سے جڑتے ہیں۔ اور اس کا ہمیں دفاع ہی کرنا چاہیے۔ اس دفاعی ذہن کی وجہ سے،میڈیا اگر کسی واقعی مسئلہ کی طرف بھی متوجہ کرے تو ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام پر حملہ ہورہا ہے۔

برسوں کی مظلومیت نے ہماری خود اعتمادی کو اتنا مجروح کیا ہے کہ ہم خالص اندرونی محاذ پر شریعت کی رہنمائی میں نئے فیصلے کرتے ہوئے بھی اندیشوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ’’اگر ہم نے ذرا سی بھی ترمیم کی تو وہ ہم پر شریعت کے خلاف بڑی بڑی ترمیمات کے لیے دباؤ ڈالیں گے۔ ‘‘، ’’ایک بار تبدیلی کا دروازہ کھل جائے تو پھر یہ بند نہ ہوسکے گا۔‘‘ یہ اندیشے ہماری اجتماعی نفسیات کی کیا تصویر پیش کرتے ہیں؟

پھر پرسنل لاء بورڈ طے شدہ فیصلوں کو بھی نافذ نہیں کرپاتا۔ شریعت بیداری مہمات کے کتنے فیصلے ہوئے۔ دارالقضا کے نیٹ ورک کو مستحکم کرنے کے لیے کتنی قرار دادیں منظور ہوئیں۔ لیکن ان فیصلوں کے نفاذ کا کوئی بلیو پرنٹ؟ کوئی قابل عمل خاکہ؟ کوئی پیش رفت؟

پرسنل لا بورڈ نہ کوئی علمی مجلس ہے نہ قرار دادیں منظور کرنے والی بزم۔ یہ ہندوستانی مسلمانوں کا معتبر ترین ادارہ ہے۔ کروڑوں مسلمان اس پر اعتماد کرتے ہیں اور اس اعتماد کے بدلے وہ اس سے اپنے عملی مسائل میں واضح اور قابل عمل رہنمائی اور حل کی بھی توقع رکھتے ہیں۔ اسے پرسنل لاء سے متعلق معاملات میں ویسا ہی فعال اور بیدار مغز رول ادا کرنا ہے جیسا کسی اسلامی ملک کی پارلیمنٹ کرتی ہے۔ کیا کوئی پارلیمنٹ برسہا برس تک کسی قانون سازی کے بغیر محض قراردادوں، اعلامیوں اور ہدایت ناموں کے ذریعہ زندہ رہ سکتی ہے؟

شیئر کیجیے
Default image
ابن ہدایت

تبصرہ کیجیے