3

اللہ کی مدد

میںجامعۃ الصالحات میں زیر تعلیم تھی اور میرا فضیلت کا پہلا سال تھا۔ کلاس کی ہم تین لڑکیوں نے مضمون نگاری میں حصہ لیا جس کے لیے شہر سے باہر خورشید کالج جانا تھا۔ مقابلہ میں شرکت کے لیے بعد ہم تین لڑکیا ںایک رکشے پر سوار ہوئیں تھوڑی دور چلنے کے بعد رکشے میں تھوڑی سی خرابی ہوگئی اور یہی ذرا سی خرابی ہمارے لیے مصیبت کا پیش خیمہ بن گئی۔ اور ہم اپنے گروپ سے الگ ہوگئے۔

ہمارا رکشہ نامعلوم راستہ پر چل نکلا اور ہماری نگراں اور اسکول کی بقیہ لڑکیاں ہم سے بچھڑ گئیں افسوس یہ کہ ہمیں راستہ بھی معلوم نہ تھا۔ اب یہ رکشہ والا ہمیں غلط راستے پر لے جارہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد سڑکے دونوں طرف تاحد نگاہ گھنے جنگلات کا ایک نہ ختم ہونے والاسلسلہ تھا۔ گاڑیاں اکا دکا ہی نظر آرہی تھیں۔ رکشے والے سے ہم لوگوں نے پوچھا بھائی ہمیں کہاں لے جارہے ہو تو اس نے کہا ہمیں معلوم نہیں کہ ہم کہاں جارہے ہیں۔

دیکھنے والے ہم تین لڑکوں کو تنہا رکشے والے کے رحم و کرم پر دیکھتے تو حیرت سے تھوڑی دیر کے لیے رک کر کچھ سوچتے اور آگے بڑھ جاتے۔ خوف اور گھبراہٹ سے ہم تینوں کا برا حال تھا۔ جب ہمیںاحساس ہواکہ ہم لوگ کسی مصیبت میں پھنسنے والے ہیں تو اس رکشے والے کی منت سماجت کی کہ بھائی ہمیں ہمارے اسکول پہنچا دومگر اس نے ہماری بات سنی ان سنی کردی اور اپنی دھن میں چلتا رہا۔ پھر ہم تینوں نے اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دعائیں کیں اور اس وقت تک جتنی بھی نیکیاں ہم نے کیں تھیں اس کے عوض اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی۔ اس نے ہماری سن لی، اور ایک طرف سے ایک گاڑی بان نظر آیا جو کہ ہمارے لیے رحمت کافرشتہ ثابت ہوا۔ اس نے جب اس ویران سنسان علاقے میں تین لڑکیوں کو وہ بھی برقعہ پوش کو دیکھا تو وہ سمجھ گیا کہ کچھ خطرہ ہے ان لڑکیوں کے ساتھ۔ وہ ہم لوگوں کے قریب آیا اور پوچھا کہ آپ لوگوں کو کہاں جانا ہے۔ہم لوگوں نے بتایا کہ ہم راہ مرتضیٰ جارہے تھے اور یہ رکشتہ والا ہمیں غلط راستے پر لے کر جارہا ہے۔ پھر اس گاڑی بان نے ہماری مدد کی اور ہم کو دوسرے رکشے پر بیٹھا کر ہمارے اسکول پہنچایا۔ آج بھی جب میں اس واقعہ کو یاد کرتی ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

اس واقعہ کے ذکر سے میں اپنی بہنوں کو آگاہ کرنا چاہتی ہوں کہ ایسے وقت میں ہمیں فوری طور پر کارروائی کرنی چاہیے اور پوری جرأت و ہمت سے اپنا دفاع کرنا چاہیے۔ آج جب میں اس واقعہ کا تصور کرتی ہوں تو خیال آتا ہے کہ ہماری بزدلی اور بے حکمتی کے سبب ہی اس کی یہ جرأت ہوئی۔ اگر ہم پہلے ہی اس کے ساتھ سختی سے پیش آتے تو ایسا نہ ہوتا۔ اور یوں بھی وہ ہم تینوں کے حملوں سے خود کو بہ آسانی بچا نہ سکتا تھا۔ مگر ہم ہمت نہ کرسکے۔

شیئر کیجیے
Default image
مہ جبیں صالحاتی

تبصرہ کیجیے