5

مغربی تہذیبی یلغار کے کچھ اوجھل گوشے

مغربی تہذیب کا جب بھی ذکر ہوتا ہے، اس کی ایک ہی برائی زیادہ نمایاں ہوکر سامنے آتی ہے فحاشی، عریانیت، آزاد روی اور اباحیت پسندی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہماری خواتین حجاب کا اہتمام کرتی ہیں، ہمارے بچے عریاں فلموں سے دور ہیں اور ہم اپنی سماجی زندگی میں مردو خواتین کے درمیان مناسب فاصلہ قائم رکھنے میں کامیاب ہیں تو ہم مغربی تہذیب کی یلغار سے بچے ہوئے ہیں۔ یہ بڑی غلط فہمی ہے۔ جدید مغربی تہدیب جس کا ایک نمایاں مظہر امریکی طرزِ زندگی ہے، بہت سی خرابیاں رکھتی ہے۔ اور ہمارے بہت سے دین دار گھرانے بھی ان کا دانستہ یا نادانستہ شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ مضمون امریکی تہذیب کے تفصیلی جائزہ کا متحمل نہیں ہے۔ اس میں صرف چند ایسے امور پر مختصر گفتگو مقصود ہے جنھوں نے گذشتہ چند سالوں میں ہماری زندگیوں پر بڑے گہرے اثرات ڈالے ہیں اور جن کی خرابیاں اور نقصانات اباحیت اور عریانیت کے نقصانات سے کم نہیں ہیں۔

صارفیت یا فضول خرچی

مادہ پرست سرمایہ دارانہ مغربی تہذیب کی یہ ایک اہم بنیاد ہے۔ بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بقا اور فروغ اور دنیا کی دولت چند سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں مرکوز کرنے کے لیے وہ یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر میں فضول خرچی اور بے کار خریداری کا جنون پیدا کیا جائے۔ حکومت کی تبدیل شدہ معاشی پالیسیوں کے نتیجہ میں ہمارے ملک میں گذشتہ چند سالوں میں یہ جنون بے انتہا بڑھ گیا ہے۔ بارونق شاپنگ مالوں کی کثرت، خریداروں کو لبھانے کے نت نئے طریقوں اور ٹی وی اشتہارات کے ذریعہ مصنوعات کے حصول کے شوق نے اس جنون کو نئی انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ خریداری محض ضروریات کی تکمیل کے لیے نہیں رہی بلکہ ایک شوق بن گئی۔ بازار جانا اور خریداری کرنا دلچسپ تفریح قرار پایا اور خریداری زندگی کی علامت سمجھی جانے لگی۔ (I am, because I shop) ہمارے کچن میں، باتھ روم،ڈرائنگ روم ، وارڈ روب، ڈریسنگ ٹیبل، ہر جگہ پر ایسی سینکڑوں چیزیں ناگزیر بن گئیں جن کا آج سے چند سال پہلے وجود بھی نہیں تھا۔ ۱۹۹۰ء (۱۲۱۱ کروڑ روپے) سے ۲۰۰۰ (۱۸۹۷۰ کروڑ روپے) تک محض دس سالوں میں کاسمیٹک انڈسٹری تقریباً دس گنا بڑھ گئی۔ آرائش و افزائش حسن کے لیے سادہ و مؤثر گھریلو اشیاء صدیوں سے زیر استعمال تھیں اب ان کی جگہ ایسے مہنگے لوشن، کریم، فیس واش، باڈی واش وغیرہ نے لے لیے ہیں جن کے نقصانات کے سلسلہ میں آئے دن رپورٹیں آتی رہتی ہیں۔ ایک ایک گھر میں کئی کئی گاڑیاں، بچوں کے ہاتھوں میں جدید ترین ماڈل کے سیل فون، ہمہ اقسام کی قالینیں اور صوفے، باتھ رومس میں دسیوں طرح کے صابن، شیمپو، لوشن اور کریم یہ سب اسی صارفیت پسند (Cansumerist) تہذیب کی علامتیں ہیں۔

ایک محتاط اندازہ کے مطابق شہروں میں متوسط درجہ کا ایک خاندان جس کی ماہانہ آمدنی پچاس ہزار روپیہ ہے، اوسطاً دیڑھ ہزار روپیہ باتھ روم، اور ڈریسنگ ٹیبل پر خرچ کرتا ہے۔ دیڑھ ہزار روپے ماہانہ دیہاتوں میں اکثر خاندانوں کی جملہ آمدنی ہے۔ ستر ہزار روپے کا پین، ڈھائی لاکھ روپے کی گھڑی، ایک کروڑ روپے کی کار اور پانچ لاکھ کا ڈنر۔ ہمارے خوش حال شہری طبقے کے لیے یہ قیمتیں اب باعثِ حیرت نہیں ہے۔ بلکہ ان کا اسٹیٹس ان مصنوعات کا مرہون منت ہے۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک بڑے شاطر منصوبہ کے تحت مصنوعی ضروریات پیدا کررہی ہیں۔ ٹی وی، اخباری اشتہارات اور مارکہ سفارت Brand Ambassadorsکے ذریعہ قیمتی چیزوں کا گلیمر پیدا کررہی ہیں اور ہماری مڈل کلاس آسانی سے دستیاب قدرتی اشیاء سے کنارہ کرکے ان مصنوعات کی اسیر ہورہی ہے۔ اس کا سیدھا نتیجہ یہ ہے کہ قدرتی اشیاء کی راست مانگ گھٹ رہی ہے۔ دیہی بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ اور دولت بڑی تیزی سے ساری دنیا سے سمٹ سمٹ کر چند دولت مند سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں مرکوز ہورہی ہے۔

دولت کی ہوس اور سطحیت

اس صارفیت پسند کلچر نے دولت کی بے پناہ ہوس کو جنم دیا۔ دولت کمانا زندگی کی واحد دلچسپی اور واحد مقصد قرار پایا۔ اس نے ایسا تاجرانہ ذہن بنایا کہ زندگی کی ساری اعلیٰ قدریں گم ہوگئیں۔

یہ جدید امریکی تہذیب ہی کا اثر ہے کہ آج تعلیم کا مقصد پیسہ کمانا ہے، سرگرمی اور حرکت کا مقصد پیسہ کمانا ہے گویا پیسہ زندگی کی ضرورت نہیں بلکہ زندگی کا مقصدو محور ہوگیا ہے۔ قابلیت کا پیمانہ پیسہ کمانے کی صلاحیت اور آدمی کی قدروقیمت کا پیمانہ دولت کے حصول کی صلاحیت ہے۔

ہر زمانہ میں سماج کا سب سے قیمتی اور سب سے با اثر عنصر وہ رہا ہے، جو دولت اور پیسہ سے بے نیاز رہا۔ اسی بے نیازی نے دنیا کو راست گو محققین، صداقت پسند مصنفین، ادیب و دانشور اور منصف مزاج مصلحین عطا کیے۔ انسانی تاریخ آج کسی دولت مند سرمایہ دار کو نہیں جانتی، تاریخ کا سرمایۂ افتخار وہ مفلس محسنین ہیں جنہیں دل کے غنا کی دولت عطا ہوئی تھی اور جنھوں نے جھونپڑوں اور حجروں میں رہتے ہوئے انسانی زندگی کا دھارا بدل دیا تھا۔

جدید مغربی تہذیب کی سب سے بڑی لعنت یہ ہے کہ وہ انسانیت کو اس تاریخ ساز طبقۂ محسنین سے محروم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

بلاشبہ آج مغربی دنیا میں بھی ایسے ایثار پیشہ افراد کی کمی نہیں جنھوں نے انسانیت کی اعلیٰ قدورں کے لیے اپنا سب کچھ لٹا دیا۔ لیکن یہ لوگ وہ ہیں جو مغرب کے تہذیبی دھارے کی مخالف سمت میں تیرنے کا حوصلہ اور صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایک ترقی یافتہ معاشرہ میں ایسے لوگ پیدا ہوجاتے ہیں لیکن جن زوال پذیر معاشروں میں مغربی تہذیبی قدریں فروغ پارہی ہیں وہاں ان کا بڑا ٹارگیٹ ایثار، قربانی، حوصلہ مندی، جرأت، غنا اور بے نیازی جیسی اعلیٰ انسانی قدریں ہی ہیں۔

دولت کی ہوس نے سطحیت کو جنم دیا۔ غوروفکر اور حرکت و عمل کی ساری کاوشیں حصولِ دولت پر مرکوز ہوگئیں۔ اب ایک عام شہری آدمی کا دن صبح سے شام تک دفتر اور کمپنی میں گزرتا ہے۔ اور چھٹیاں گھر اور تفریحی مراکز پر۔ نہ اس کا کوئی نظریہ ہے نہ کوئی آئیڈیل۔ نہ اونچی باتیں سمجھنے کی اس کے اندر صلاحیت ہے اور نہ دنیا کے احوال کی گہرائیوں میں جھانکنے کی فرصت۔ وہ پیسہ کمانے کی مشین ہے اور اس کے بیوی بچے، پیسہ خرچ کرنے کی مشین۔ نہ اس کے سینے میں حساس دل ہے نہ سر میں سوچنے اور سمجھنے والا دماغ۔

شہروں میں اکثر ایسے تعلیم یافتہ نوجوانوں سے ملاقات ہوتی ہے جن کی ڈگریاں بہت اونچی ہیں، اپنے پیشہ میں بڑے کامیاب ہیں اور خوب کمانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن کسی سنجیدہ موضوع پر بات کیجیے تو ایسا لگتا ہے جیسے کسی بچہ سے بات ہورہی ہے۔ یہ سطحیت اور کوڑھ مغزی بھی مغربی تہذیب کا اہم تحفہ ہے۔ جس کا سبب یہ ہے کہ اس تہذیب نے لوگوں کو صرف اپنے آپ پر سوچنے کا عادی بنایا ہے۔ اپنے بینک بیلنس، اپنی ضروریات اور اپنے کیریئر کے سوا ہر قسم کے موضوعات پر سوچنے کی صلاحیت ختم کردی ہے۔ یہ انسانی پستی کی انتہا ہے کہ اشرف المخلوقات بھی جانوروں کی طرح صرف اپنے لیے جئے۔ اور وہ لوگ بھی جو اپنی ذہنی استعداد کی بنا پر، دنیا کو بہت کچھ دینے کی پوزیشن میں ہوں، صرف پیسہ کمانے اور خرچ کرنے میں زندگی گزار دیں۔

سود کی لعنت

صارفیت ہی نے سود کی لعنت کو جنم دیا۔ ہر آدمی کی یہ خواہش ہے کہ اس کے پاس اچھا گھر ہو، کار ہو اور دیگر آسائش کی ساری چیزیں ہوں۔ اس نے آمدنی سے زیادہ خرچ کا رجحان پیدا کیا۔ اس اضافی خرچ کی تکمیل کے لیے سودی قرضوں کا چلن شروع ہوا۔ کریڈٹ کارڈ نے سودی قرضوں کی لعنت کو روز مرہ کے اخراجات تک بھی وسعت دے دی۔ اب ایک عام آدمی اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرتا ہے اور زندگی بھر سود کی قسطیں بھرتا رہتا ہے۔ یہ سود کی لعنت اس کی زندگی سے چین و سکون خیروبرکت، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی صلاحیت سب کچھ ختم کردیتی ہے۔ اور ایسا معاشی چکر چلاتی ہے کہ دنیا کی دولت چھن چھن کر سرمایہ داروں کے ہاں جمع ہونے لگتی ہے۔

ماحولیاتی بحران

صارفیت نے انسانیت کو بلکہ آنے والی انسانی نسلوں کو بھی ایک بہت بڑا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جسے ہم ماحولیاتی بحران کہتے ہیں۔ اشیاء اور مصنوعات کی ہوس نے ان کی پیداوار بڑھانے پر مجبور کیا۔ جس کے نتیجہ میں توانائی، پانی اور دیگر قدرتی وسائل کا اس بے دردی سے استعمال ہوا کہ دنیا میں ان سب چیزوں کی زبردست قلت ہوگئی۔ بجلی کا بحران، پانی کا بحران، صاف ہوا کا بحران ، یہ جدید مغربی تہذیب کے نہایت مکروہ تحفے ہیں۔

اشیاء کے اضافی اور بے پناہ استعمال نے دنیا کے کچرے Garbageمیں اضافہ کیا۔ ایرکنڈیشنر اور ریفریجریٹرز سے نکلنے والی کاربن فلوروکاربن، آٹو موبائل اور صنعتوں سے نکلنے والی زہریلی گیس، پلاسٹک کے ڈبے اور بوتلیں، پیکنگ مٹیریل اور کیری بیگس، گندا پانی، کیمیائی فضلات، اور صارفیت پسند طرز زندگی کی دیگر ان گنت با قیات نے ہمارے قدرتی ماحول میں چند سالوں میں اتنا زبردست فساد پیدا کیا کہ انسانی تاریخ اس کی نظیر پیش نہیں کرسکتی۔ گذشتہ چند سالوں میں قدرتی وسائل کی ایسی لوٹ مچی کہ حالیہ دو تین نسلوں نے قدرتی وسائل کا جتنا تصرف کیا وہ دس ہزار سالہ انسانی تاریخ میں سیکڑوں نسلوں کے تصرف سے بھی زیادہ ہوگیا۔ ایک اندازہ کے مطابق اگر دنیا کے تمام لوگ ایک عام امریکی کے مساوی ’’معیار زندگی‘‘ اختیار کرنا چاہیں تو زمین کی طرح کے پچیس (۲۵) سیارے اور ان کے وسائل بھی اس کے لیے ناکافی ہوں گے۔

گویا مغربی تہذیب نے جس طرح ایک عام آدمی کے اندر وسائل اور آمدنی سے زیادہ خرچ کا مزاج پیدا کیا اسی طرح بنی نوع انسان کے اندر دستیاب مقدار سے زیادہ قدرتی وسائل کی لوٹ کا شوق پیدا کیا۔ چنانچہ یہ مغربی تہذیب ہی کا تحفہ ہے کہ آج انسانی زندگی ایک ایسے مقام پر کھڑی ہے جہاں اس کی بقاء ہی خطرہ میں ہے۔ ہماری آئندہ نسلوں کے لیے نہ پانی موجود ہے نہ ہوا۔ مہنگے شیمپو کا ہر ڈبہ، ہر اضافی جینز، ریفریجیرٹر میں رکھی گئی ہر غیر ضروری شئے اور ہر آسائش ہم اپنے بچوں کے حق زندگی کے بدلے میں خرید رہے ہیں۔

طبقاتی تقسیم

امریکی یلغار نے ہمارے سماج کے خوشحال طبقوں کو غریبوں سے دور کردیا۔ مشینوں نے غریب ملازمین کی ضرورت ختم کردی۔ شاپنگ مالوں، اور سپر بازاروں نے ٹھیلے والوں اور پھیری والوں سے بے نیاز کردیا۔ اور ہمہ اقسام کی سروس انڈسٹریز نے حجاموں، دھوبیوں، مہتروں وغیرہ سے دور کردیا۔ جدید کمپنیاں چپراسیوں کے وجود سے ’’پاک‘‘ ہیں۔ رہائشی علاقے، اسکول، ہاسپٹل، تفریحی مراکز، بازار وغیرہ امیروں کے الگ ہیں اور غریبوں کے الگ۔ اس طرح ایک ہی شہر میں امیروں کی دنیا الگ ہے اور غریبوں کی دنیا الگ۔ یہ عین ممکن ہے کہ ہم میں سے خوشحال لو گوں کی آئندہ نسلیں غریبوں کے احوال صرف اخباروں اور رسالوں میں پڑھیں۔ (بلکہ شائد وہ بھی نہ پڑھیں کیو نکہ ہمارے انگریزی اخبارات اور رسالے صرف سافٹ ویئر کمپنیوں اور سیاست دانوں کے حالات اور امیروں کی پارٹیوں اور رنگ رلیوں کی داستانوں کے لیے مختص ہیں۔)

ہمارے بعض قارئین کو شائد یہ باتیں مبالغہ آمیز لگیں۔ لیکن جن لوگوں کی نظریں بنگلور، دلی، مدراس وغیرہ شہروں میں ہمارے انجینئروں اور مینیجروں کے بدلتے طرز ہائے زندگی پر ہے، وہ جانتے ہیں کہ کس تیزی سے مغربی تہذیب کی یہ قدریں ہماری سماجی زندگی کے تانے بانے بکھیر رہی ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعہ لائی گئی دولت کی ریل پیل، بجائے سکون و خوشحالی کے ہوس، لالچ، خاندانی سکون کے خاتمہ، ذہنی تناؤ ، صارفیت اور اس کے نتیجہ میں اخراجات کی تنگی، سود کی لعنت وغیرہ جیسے مسائل پیدا کررہی ہے۔ ایک نوجوان انجینئر یا پروفیشنل ۸، ۱۰ ہزار روپئے ماہانہ سے اپنا کیریئر شروع کرتا ہے۔ یہ آمدنی اس کے لیے ناکافی ہوتی ہے۔ لیکن تیزی سے ترقی کرتے ہوئے جب وہ ۴۰ ہزار روپئے ماہانہ کمانے لگتا ہے تو یہ آمدنی بھی اس کے لیے ناکافی ہوتی ہے۔

مغربی تہذیب کے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ، اس مسئلہ کا تعلق بھی خواتین سے بڑا گہرا ہے۔ گھر کا بجٹ، اشیاء صرف کا انتخاب، معیارِزندگی کا تعین یہ سب اکثر گھرانوں میں عورتوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ خواتین چاہیں تو اس سیلاب کے آگے بند باندھ سکتی ہیں۔

اسلام سادگی اور کفایت شعاری کی تعلیم دیتا ہے۔ فطرت سے ہم آہنگی اور قدرتی وسائل سے استفادہ میں احتیاط کی تعلیم دیتا ہے۔ فضول خرچ قرآن کی زبان میں شیطان کا بھائی ہے۔ آج ساری دنیا کے باشعور طبقات میں مغربی طرز زندگی کے خلاف بغاوت اور متبادل طرز ہائے زندگی اور قدیم روایات (Traditions) کے احیاء کا شعور پیدا ہورہا ہے۔ دنیا میں بہت سی تحریکات سادہ روایتی زندگی ہی کا لوگوں کو عادی بنانے کی کوشش کررہی ہیں۔ فضول خرچی سے اجتناب، ضروریات زندگی کی تحدید، زندگی کی سادگی اور عزائم و خیالات کی بلندی،(Simple living – High thinking) مصنوعات سے گریز اور ممکنہ حد تک پاک قدرتی اشیاء کا استعمال، غریبوں سے ربط و تعلق اور ہمدردی، دولت کا اچھے کاموں میں استعمال، اور زندگی کی اعلیٰ قدریں اور اعلیٰ مقاصد – یہ سب مومنانہ اوصاف ہیں۔ جدید مغربی تہذیب ان میں سے ہر خوبی کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ جنسی بے راہ روی کی طرح مذکورہ خرابیاں بھی ہمارے معاشرہ کو جہنم میں بدل دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس لیے تہذیبی یلغار کامقابلہ کرتے ہوئے ان کا شعور و ادراک بھی ضروری ہے۔

زیر نظر مضمون ان مختصر اشارات ہی کا متحمل تھا۔ آئندہ کبھی ان میں سے ہر ایک کے نقصانات اور ان کی روک تھام کے لیے خواتین کے مطلوب کردار پر تفصیلی گفتگو ہوسکتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
سید سعادت حسینی

تبصرہ کیجیے