BOOST

حجاب کے نام

خوشی کا مقام

آپ کا ارسال کردہ تحفہ ’’حجاب اپریل ۲۰۰۴ء‘‘ نظر نواز ہوا۔ یاد آوری کا بہت بہت شکریہ۔

خوشی کا مقام ہے کہ آپ کے بلند حوصلے، خلوصِ نیت اور مستحکم ارادے کی بدولت ’’حجاب‘‘ کی اشاعت کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ خدا کرے اب ’’حجاب‘‘ بند نہ ہو۔ مہنگائی کے اس ہوش ربا دور میں ’’حجاب‘‘ جیسے جریدے کا پابندی سے نکالنا انتہائی مشکل ہے لیکن جب مقصد نیک، قوت ارادی مضبوط اور جذبہ پُر اعتماد ہو تو اللہ تعالیٰ ضرور مدد کرتا ہے۔

یوں تو حجاب کی نثری اور شعری تخلیقات عمدہ اور سبق آموز ہیں لیکن محترمہ مریم جمیلہ اور مائل خیر آبادی مرحوم کے مضامین دل کی گہرائی میں اترتے چلے گئے۔

مائل خیر آبادی مرحوم، ابن فرید مرحوم اور ام صہیب مرحومہ نے بڑی محنت و کاوش اور لگن کے ساتھ ’’حجاب‘‘ کے ذریعہ مذہب اور ادب دونوں کی بیش بہا خدمت انجام دی۔ اللہ پاک تینوں کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے۔ آمین

’’حجاب‘‘ کے لیے ایک تازہ نظم ’’یہ گم نام بچے‘‘ روانہ کررہی ہوں۔ شاید پسند آئے اور ’’حجاب‘‘ کی قریبی اشاعت میں اس کو جگہ ملے۔

انجمن آرا انجم، علی گڑھ

حجاب سے جذباتی لگاؤ

میں ’’حجاب‘‘ کی اس وقت سے قاری ہوں جب میری عمر ۱۳ سال کے قریب ہوگی۔ اس وقت صرف پکوان اور چھوٹی چھوٹی باتیں پڑھا کرتی تھی۔ میری والدہ ’’حجاب‘‘ کی خریدار تھیں۔ جب میری شادی ہوئی اور میں سسرال آگئی تو یہ سلسلہ رک گیا۔ میری سسرال میرے گھر یعنی بنگلور سے سمندر پار تھی۔ اور اس پر ستم ظریفی یہ کہ وہاں جو بھی لٹریچر موجود تھاوہ سب ملیالم میں تھا (میرے سسرال والے ملیالی ہیں)۔ مجھے نئے سرے سے اپنے مطالعہ کا انتظام کرنا تھا۔ میری ساس اور سسر دونوں کا بھر پور تعاون رہا۔ میرے سسر محترم ’’زندگی نو‘‘ کا مطالعہ کرتے ہیں اور باقاعدہ خریدار ہیں۔ اس کے کور پر میں نے ’’حجاب اسلامی‘‘ کا اشتہار دیکھا تو فوراً ’’حجاب اسلامی‘‘ کا زر تعاون ارسال کردیا۔

مجھے حجاب سے جذباتی لگاؤ بھی ہے اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ ’’حجاب اسلامی‘‘ میں چھپنے والے مضامین اور خطوط سے جڑے نام مجھے اپنے گھر کی یاد دلاتے ہیں اور میں ایسا محسوس کرتی ہوں کہ میں مین لینڈ کی تحریک سے وابستہ ہوں۔ جب میں نے ناصرہ خانم صاحبہ کا نام پڑھا تو ان سے ملنے کے خواہش دوبارہ جاگ اٹھی۔

دوسری اور خاص وجہ یہ ہے کہ بانیٔ دور اول جناب مائل خیر آبادیؒ صاحب سے ملاقات، جو بلگام میں ادارۂ ادب اسلامی کے زیر اہتمام کل ہند مشاعرہ کے دوران ہوئی اور میرے والد صاحب کے گھر پر ان کے ساتھ طعام کا شرف بھی حاصل ہوا اور انھوں نے مجھے اور میرے بھائی اور بہنوں کو اسلامک و معلوماتی لٹریچر کے ۵ سیٹ بطور تحفہ دئے اور میرے سر پر ہاتھ رکھ کر دعا کی کہ’’اے اللہ اس بچی کو اپنے کام کے لیے چن لے۔ شاید میں اس وقت ان کی دعا کی گہرائی کو سمجھنے سے قاصر تھی کیوں کہ تب میری عمر ۷ یا ۸ برس ہوگی۔ آج جبکہ میری عمر ۲۴ سال ہے، مجھے یہ احساس ہورہا ہے کہ میرا بلگام سے بنگلور آنا اور وہاں سے انڈمان جیسے جزائر میں منتقل ہونا، جس کے بارے میں خواب و خیال میں بھی سوچا نہیں تھا، یہ سب مولانائے محترم کی دعا کا قبول ہونا تھا۔ اور واقعی اللہ نے انڈمان جیسے ملٹی کلچر جگہ کے لیے مجھے چن لیا تھا اور میں آج یہاں GIOکی ناظمہ اور جماعت کے تحت چل رہے ISMATسے وابستہ ہوکر تبلیغ کے فرائض انجام دے رہی ہوں۔ حجاب اسلامی کے لیے لکھنے کی بھی خواہش ہے۔

میں نے اب تک ۶ شمارے پڑھے ہیں، کافی عمدہ نظر آئے، پہلے کے مقابلے کئی خوشنما تبدیلیاں ہوئیں ہیں۔ حجاب اسلامی کے لیے ایک مشورہ دینے کی جرأت کررہی ہوں، میں یہ چاہتی ہوں کہ آپ ایک دو صفحات پر خواتین اور GIOکے چند ایسے پروگراموں کی رپورٹ شائع کریں جو روایتی اجتماع سے ہٹ کر ملک کے کونے کونے میں کئے گئے ہوں تاکہ ہٹ کر پروگراموں کے سلسلے میں جان کر دوسرے بھی اسلام کو نئے انداز سے پیش کریں۔

اللہ سے دعا ہے کہ وہ حجاب اسلامی کو ہر بُری نظر اور بلاسے بچائے۔ اس رسالے کے لیے تمام ذرائع و راستے اس کی ترقی کے لیے کھول دے۔ آمین۔

ساجدہ زبیر ، پورٹ بلیر، (انڈمان)

٭ اللہ تعالیٰ آپ کی کوششوں کو قبول فرمائے۔ آپ کا حجاب سے تعلق اور مضبوط ہونا چاہیے۔ تحریکی سرگرمیوں کی رپورٹ آپ ارسال کیجیے ہم شائع کریں گے۔ حجاب کو پسند آنے کے لیے ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ اس کے حلقہ کو بڑھائیں گی۔ (مدیر)

ایک وضاحت

’’حجاب اسلامی کا ایک سال‘‘ پڑھا۔ مبارک ہو۔ دعا گو ہوں اللہ تعالیٰ اب تک کے مصائب کو خیر وعافیت کے ساتھ راحت میں بدل دے نیز مالی مشکلات میں کشادگی عطا فرمائے۔ آمین۔

گزشتہ ایک سال میں آپ کو نہ صرف مالی نقصان پہنچانے میں اپنوں نے ایک مثال قائم کی بلکہ زبانی اور تحریر کے ذریعہ ذہنی اذیت بھی پہنچائی۔ جان کر صدمہ پہنچا۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ ایسے نامساعد حالات میں آپ نے صبر واستقلال کے ساتھ ہمت سے کام لیا اور آپ کے قدم اکھڑتے اکھڑتے جم گئے۔ جیسا کہ آپ کی آپ بیتی رہی۔ یہ اللہ کا فضل و کرم ہے نیز آپ کے مخلصین و ہمدردوں کی دعائیں شامل حال رہنے کا نتیجہ ہے۔ اس پر جتنا شکر کریں کم ہے۔

مناسب و اخلاقی فرض کا تقاضا تھا کہ آپ اپنی آپ بیتی میں ان کا بھی ذکر کرتے جنھوں نے از سر نو رسالہ کے اجرا پر اظہار مسرت کے ساتھ حوصلہ مندانہ کلمات پیش کیے نیز نیک و مفید مشورے دئے اور دعائیہ کلمات کے ساتھ توسیع اشاعت میں معاون بننے کی امیدیں ظاہر کیں۔ یہ حضرات نہ قلم کار ہیں اور نہ مجلس مشاورت کے رکن۔ اس طرح یہ بات عام ہوجاتی کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کو الگ الگ مومنانہ صفات سے نوازا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا احسان و کرم ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح دینی شعور کے ساتھ ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کی ہدایت و توفیق نصیب فرمائے۔ آمین

روشن صدیقی، گورکھپور

٭ آپ نے صحیح توجہ دلائی۔ ہم ان تمام بہی خواہوں کے شکر گزار ہیں جنھوں نے کھلے یا چھپے حجاب کا تعاون کیا اور کررہے ہیں یہ انہی کی دعائیں اور کوششیں تو ہیں جو ہم یہاں تک پہنچے۔ اس وقت مجھے جناب شبنم سبحانی صاحب یاد آرہے ہیں جو ہمیشہ حوصلہ بڑھاتے رہے۔ جناب ڈاکٹر عبدالحق انصاری صاحب امیر جماعت اسلامی ہند نے بڑی شفقت اور محبت سے ہمت افزائی کی۔ استاد محترم مولانا ابوالمجاہد زاہد صاحب کا بے انتہا خلوص، قیمتی مشورے اور ہمت افزا باتیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہی چیزیں ہمارا سرمایہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیںقائم و دائم رکھے ۔ (مدیر)

معیار بلند کرنے کی ضرورت

رسالہ ’’حجاب اسلامی‘‘ گھر کے سبھی افراد کو پسند آرہا ہے۔ رسالے میں معیاری مضامین کے علاوہ دلچسپ معلومات بھی حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے معیار کو اور زیادہ بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ تاکہ زیادہ سے زیاہ لوگوں تک پہنچ سکے اور اپنا ایک مقام بناسکے۔

حبیبہ عارف، علی گڑھ

٭شکریہ! مگر حجاب کو اور زیادہ بہتر اور معیاری کیسے بنایا جائے اس سلسلے میں بھی اپنے مفید مشورے دیجیے۔ (مدیر)

ایک مخلص کا خط

میں نے حجاب اسلامی گذشتہ ماہ اپریل سے جاری کروایا ہے۔ ہمارے گھر میں بچے تو بچے بڑے بھی نہایت بے چینی سے حجاب کا انتظار کرتے ہیں۔ ماہ اکتوبر کے حجاب میں آپ کا درد انگیز اداریہ پڑھ کر دل کی کیا کیفیت ہوئی اور کس طرح آنکھیں اشکبار ہوئیں اس کے اظہار کے لیے الفاظ ناکافی ہیں اور اشاعت کے ابتدائی دور میں آپ جن شدید مرحلوں سے گزرے ان کو پڑھ کر کس قدر رنج و غم ہوا اس کے تحریر پر قادر نہیں ہوں۔

خصوصاً ایسے نازک مرحلہ میں بعض ’’مخلص‘‘ احباب کے ’’شوق ایڈیٹری‘‘ جیسے طنزیہ الفاظ سے نوازنے پر بہت قلق ہوا۔ بہرحال آپ کی استقامت قابلِ تعریف ہے خدا سے دعا ہے کہ آپ کے خسارہ کو جلد از جلد پُر کردے۔

ہم اپنی طرف سے حجاب کو تحفتاً احباب کے نام پر جاری کروانے والے ہیں نیز کچھ نئے خریدار انشاء اللہ بہت جلد بنوار ہے ہیں۔ آپ کے خسارہ کو دیکھتے ہوئے میرے دل میں تڑپ ہے کہ میں کس طرح حجاب کی مددکرسکوں۔

میری دلی ہمدردی اور دعائیں حجاب کے ساتھ ہیں۔ خدا تعالیٰ حجاب کو آسمانِ صحافت پر ماہِ درخشاں بناکر چمکائے۔

واجدخان، چندراوتی گنج

٭ ہم تہ دل سے آپ کے مشکور ہیں اور اللہ تعالیٰ سے آپ کے لیے بہترین اجر کی دعا کرتے ہیں۔ (مدیر)

امید کی کرن

’’حجاب‘‘ کی اشاعت ایک عرصے سے رک جانے کے بعد آپ نے جو اس کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا ہے، وہ یقینا قابل ستائش اور ایک گرانقدر ملی خدمت ہے۔ اس کی سخت ضرورت محسوس کی جارہی تھی۔ بالخصوص ایسے پر آشوب اور پُرفتن دور میں جب کہ ہماری خواتین کے قلوب و اذہان کو ژولیدہ کرنے کے لیے مغرب کی یورش و یلغار عروج پر ہے۔ ایسے میں ’’حجاب‘‘ وہ امید کی کرن ہے جس کے ذریعہ خواتین اپنے ایمان کو جلا بخش سکتی ہیں اور مغرب کی سعی پیہم پر پانی پھیر سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس رسالے کو دوام و بقا عطا کرے۔

ساجد مجاہد، بلریا گنج، اعظم گڑھ

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء