4

حور جہاں انجم

کل نفس ذائقۃ الموت۔ ہر نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ موت دنیا کی سب سے اٹل اور ناقابل انکار حقیقت ہے۔ کیونکہ لوگوں کا اس جہان فانی میں آنے اور جانے کا سلسلہ لگا ہوا ہے اور کسی کو اس سے نجات نہیں۔

لیکن کچھ نفوس ہوتے ہیں جو دنیا سے چلے جاتے ہیں لیکن لوگوں کے دلوں پر اپنی یادوں کے انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسی ہی ایک ہستی حور جہاں انجم کی ہے جو اب ہمارے درمیان نہیں۔ وہ حلقہ خواتین مہاراشٹر کی ناظمہ رہیں۔ تحریک اسلامی کے لیے اپنی مختصر حیات میں کی گئی جدوجہد کا بیش بہا سرمایہ ہر لمحہ ان کی یاد دلاتا ہے۔ بچپن ہی سے صالح جذبات لیے پروان چڑھیں اور محترم مائل خیرآبادی کی تربیت نے ایک پرجوش و مخلص داعیہ بنا کر کھڑا کیا۔ ذہانت، لیاقت کے ساتھ جب تحریکی شعور پختہ ہوا تو دعوتی جدوجہد میں جلا آگئی۔ تحریک ہی اوڑھنا اور بچھونا بن گئی۔ دیگر کئی ذمہ داریوں کے علاوہ ناظمۂ حلقہ خواتین مہاراشٹر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں کو نہایت حسن و خوبی سے ادا کیا۔ تحریک نے جس قسم کی خدمت چاہی اس قسم کی خدمت کے لیے ہمیشہ تیار رہیں۔ آپ ایک اچھی قلم کار اور اچھی مقررہ تھیں۔ موصوفہ کی تقریر دلوں کو چھو لینے والی ہوتی تھی۔ بہت سے لوگ ہوں گے جو ان کے کلمات سے متاثر ہوئے ہوں گے اور ثواب جاریہ کا موجب بنیں گے۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے ناندیڑ کے علاقائی اجتماع میںجب ان کو بحیثیت مقررہ مدعو کیا گیا تو ان کی طبیعت سخت ناساز تھی۔نحیف و کمزور تو اس قدر تھیں کے بغیر سہارے کے چل نہیں پا رہی تھیں اور کئی ایک عارضے لاحق تھے۔ لیکن ایسی ناسازیٔ طبیعت کے باوجود تحریک کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے ناندیڑ چلی آئیں۔ جب خواتین کے سیشن میں ان کا خطاب ہوا تو کسی نے تصور بھی نہ کیا ہوگا کہ اتنی پرجوش اور جاندار تقریر کرنے والی مقررہ طبعی اعتبار سے اتنی کمزور ہیں۔ خدا ان کے تحریکی جذبہ اور داعیانہ تڑپ کو ساری امت میں پیدا کردے۔ ان کی نیکیوں پر اجر عظیم دے اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے۔ آمین

شیئر کیجیے
Default image
اسماء نکہت، ناندیڑ

تبصرہ کیجیے