5

دمہ: علاج اور احتیاط

دمہ جو ضیق النفس یا استھما کہلاتا ہے۔ پھیپھڑوں کا ایک مرض ہے جس میں انسان باوجود سکون کے بار بار سانس لینے پر مجبور ہوتا ہے۔ جس طرح بھاگنے اور دوڑنے پر لگاتار اور جلدی جلدی سانس آتی ہے اسی طرح آرام و سکون کے وقت بھی ہوتا ہے اور دو سانسوں کے درمیانی وقفہ میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ یہ مرض دوروں کی شکل میں ہوتا ہے۔ جس میں تنگی تنفس کے یکایک حملے ہوتے ہیں جو کچھ عرصہ بعد زائل ہوکر کچھ مدت کے بعد اسی طرح ہوتے ہیں۔ موسم کی تبدیلی خاص طور پر سردیوں کے موسم میں اس کے دورے شدید اور تکلیف زیادہ ہوجاتی ہے۔

اکثر اوقات یہ الرجی کے نتیجہ میں ہوا کرتا ہے۔ جو مختلف لوگوں میں مختلف ہوتی ہے۔ جیسے کچھ لوگوں میں دھول،مٹی، پھپھوند کے سبب ہوتا ہے تو کچھ لوگوں میں تمباکو، گھاس پھوس، ٹھنڈی ہوا اور گردو غبار کے سبب ہوتا ہے۔ یہ مرض ہر ملک اور ہر عمر میں ہوسکتا ہے لیکن ادھیڑ عمر کے مردوں میں زیادہ دیکھا گیا ہے۔ یہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ پہلی قسم جو مختلف الرجی والی چیزوں جیسے دھول، مٹی، گردوغبار، گھاس پھوس اور تمباکو وغیرہ کے سبب پیدا ہوتی ہے اور اینٹی الرجی دواؤں کے استعمال کرنے پر ختم ہوجاتی ہے۔

دوسری قسم جو پھیپھڑوں کے کسی پرانے مرض کے سبب ہوتی ہے اس میں الرجی نہیں ہوتی، اس لیے اینٹی الرجی دواؤں سے فائدہ نہیں ہوتا۔ یہ موروثی مرض ہے جو بزرگوں کو ہونے پر بعض اوقات اولاد کو بھی منتقل ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ دماغی تناؤ، غم وغصہ، رنج و ملال اور فکر وتردد کے سبب بھی بڑھ سکتا ہے۔ ماحول میں ہونے والی تبدیلی جو برسات اور طوفانی ہواؤں کے سبب ہوا کرتی ہے اس مرض میں اضافہ کاسبب بنتی ہے۔

اکثر اوقات یہ مرض ان لوگوں میں پایا جاتا ہے جو آٹا پیسنے کی چکی، لکڑی کاٹنے کی مشین اور کپاس کی ملوں میں کام کرتے ہیں۔ آٹا، مرچ، لکڑی کا برادہ، کپاس اور دھاگوں کے ریشے پھیپھڑوں میں جاکر مرض پیدا کرتے ہیں۔ اس مرض کا حملہ کسی بھی وقت ہوسکتا ہے لیکن اکثر اوقات رات میں زیادہ پایا گیا ہے۔ مرض نیا ہونے پر دوروں کا درمیانی وقفہ زیادہ ہوتا ہے جبکہ مرض پرانا ہو تو دوروں کے وقفہ میں کمی واقع ہوتی ہے۔ دورہ کے وقت سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے، چھاتی پر بھاری پن محسوس ہوتا ہے، پیٹ پھولتا ہے، بدہضمی اور زکام ہوتا ہے۔ سانس جلدی جلدی چلتی ہے اور سر میں جکڑن محسوس ہوتی ہے۔ شدید کھانسی آتی ہے اور بالآخر معمولی سا بلغم خارج ہوکر مرض کی شدت میں کمی واقع ہوتی ہے۔

تدابیر:

دورہ کے وقت مریض کو لٹا دیں شرٹ کے اوپری حصہ کو کھول دیں دروازے کھڑکیاں کھلی چھوڑ دیں تاکہ تازہ ہوا بہ آسانی کمرہ میں آسکے۔ پانی کو ہلکا گرم کریں اور ایک کپڑا بھگو کر مریض کے سینہ پر رکھیں اور ۱۰ سے ۱۵ منٹ تک سینکیں اور بچے ہوئے پانی میں مریض کے پیر ڈبوئیں۔ یہ دورہ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ مریض کو گرم پانی یا گرم دودھ پلائیں جو بلغم کو پتلا کرکے خارج کرتا ہے اور دورہ میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اگر دورہ کے وقت بلغم زیادہ مقدار میں خارج ہو تو ادرک کا رس ۶ ماشہ، اور شہد ۶ ماشہ ملاکر چٹائیں۔ اس کے علاوہ دورہ کی شدت کو کم کرنے کے لیے یہ نسخہ دیں۔ مویز منقی ۱۲ عدد کچل کر دودھ آدھا پاؤ اور پانی آدھا پاؤ میں ملا کر ابالیں نصف رہ جانے پرکالی مرچ ۵ عدد کا سفوف اور مصری ایک تولہ ملا کر گرم گرم کئی مرتبہ میں پلائیں۔ دورہ کے بعد پہلے دن سیندھا نمک ۲ ماشہ شہد میں ملا کر چٹائیں اور ہر روز نصف ماشہ کا اضافہ کرتے ہوئے ۶ماشہ تک کردیں اس نسخہ کے استعمال کے بعد تھوڑی دیر تک پیاس لگنے پر نیم گرم پانی دیں۔ مرض میں کافی حد تک کمی واقع ہوتی ہے۔

پیپل کے خشک پھلوں کا سفوف ۱۴ دن تک پانی کے ساتھ استعمال کریں سانس کی تنگی کو دور کرتا ہے۔ تنفس کی رفتار میں زیادتی ہونے پر ہینگ ۲ رتی اور کافور ۲ رتی باہم ملا کر گولی بنائیں۔ اور ۲ گھنٹہ کے وقفہ سے پانی کے ساتھ استعمال کریں مفید ہے۔ سونٹھ ۲ تولہ کو پانی ۳۲ تولہ میں جوش دیں جب پانی۸ تولہ رہ جائے تو میل چھان لیں، ٹھنڈا ہونے پر شہد ۶ ماشہ ملا کر پئیں۔ کچھ دنوں تک مسلسل استعمال کرنے پر سردی کھانسی اور زکام میں فائدہ پہنچاتا ہے۔ بدہضمی اور قبض ہونے کی صورت میں اصل السوس مفشر ۵ ماشہ، زوفا خشک ۵ ماشہ، روغن بادام گرم ۲ تولہ دودھ میں ملا کر رات میں لیں۔ غذا زود ہضم اور کم مقدار میں دیں۔ بادی، گرم اور ترش اشیاء سے پرہیز کرائیں۔ دورہ مرض کی حالت میں ورزش اور محنت جسمانی سے مریض کو جس مقام کی آب و ہوا موافق ہو اسی جگہ رکھیں۔ گردوغبار میں سانس لینے سے روکیں۔ دورہ مرض سے قبل گرم پانی یا چائے پینے سے بعض اوقات دورہ رک جاتا ہے۔ گردوغبار، قبض اور بدہضمی سے بچائیں۔ پیٹ بھر کھانا نہ دیں اور نہ زیادہ سونے دیں۔ غذا کھانے سے تین گھنٹہ بعد سونا بہتر ہے۔ سردی سے بچائیں، مرطوب مقامات پر نہ سونے دیں جس چیز کے کھانے سے مرض کا دورہ آتا ہو اس سے قطعی پرہیز کریں۔ اگر مریض ایسا پیشہ کرتا ہو جس سے اس مرض کو امداد ملتی ہو تو اسے ترک کردے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر امیر الدین قاضی

تبصرہ کیجیے