5

بہت خوب!

میں پریشان تھا، میرے ذہن میں انتشار تھا۔ کچھ اچھا نہ لگتا تھا۔ بے ارادہ اس مجلس میں چلاگیا۔ ایک مولانا صاحب وعظ فرمارہے تھے۔ مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ ان کی تقریر کا موضوع کیا تھا۔ جس وقت میں پہنچا، اس وقت مثال کے طور پر ایک واقعے پر روشنی ڈال رہے تھے میں نے سنا:

’’جنگ بڑے زوروں پر تھی۔ گھمسان کی لڑائی ہورہی ہے۔ لشکر اسلام بڑھ بڑھ کے حملے کررہا تھا لیکن عیسائیوں کے بہادر سپاہی آہنی دیوار بن کر سامنے کھڑے تھے۔ ان کے جوش و خروش کا یہ عالم تھا کہ ایک طرف سے عورتیں انھیں جوش دلا رہی تھیں۔ دوسری طرف ان کے بچے بھی جھوم جھوم کر قومی ترانہ گا رہے تھے۔ وہ پکار پکار کر کہہ رہے تھے اگر مسلمانوں نے میدان جیت لیا تو ہم سب لونڈی اور غلام بنالیے جائیں گے۔

عیسائی بہادر عورتوں اور بچوں کی یہ چیخیں سنتے تو ان پر بے خودی چھا جاتی۔ وہ سب مرنے مارنے پر تل گئے تھے۔ عالم یہ تھا کہ ایک شور برپا تھا۔ تلواروں کی جھنکاریں، نیزوں کی کڑک، نعرئہ تکبیر اور نعرۂ تثلیث بلند ہورہے تھے۔ ساتھ ہی سر، پیر، ہاتھ کٹ کٹ کر گررہے تھے زخمیوں سے میدان پٹا جارہا تھا لیکن فتح و شکست کے آثار دور تک نظر نہ آتے تھے۔ اچانک ایک آواز بلند ہوئی۔

’’مسلمانو! میںنے عیسائی سپہ سالار کو مارگرایا یہ دیکھو اس کا گھوڑا۔ میں اس پر کھڑا ہوں ، ساتھ ہی ایک طرف سے تیر آیا اور اس بہادر مسلمان کے حلقوم میں پیوست ہوگیا۔ وہ گھوڑے سے گرا لیکن دوسرے مجاہد نے گھوڑے پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد وہ گھمسان کا رن پڑا کہ خدا کی پناہ۔ عیسائیوں کا سپہ سالار مارا جاچکا تھا۔ بے افسر فوج کتنی دیر لڑتی۔ آخر بھاگ کھڑی ہوئی۔ سامنے کی آہنی دیوار ٹوٹی۔ مسلمانوں نے کشتے کے پشتے لگادئیے۔ اسی حالت میں کچھ عیسائی بچے ان کی تلواروں کی زد میں آگئے۔

’’نعرۂ تکبیر‘‘ میں نے مڑ کر دیکھا۔ ایک شخص نے پکارا اور اس کے جواب میں اللہ اکبر کا شور بلند ہوا۔ اس شور میں مولانا صاحب کی آواز دب گئی۔ وہ خاموش ہوگئے شور کم ہوا تو فرمایا:

مسلمانو! تم نے پورا واقعہ نہیں سنا۔ اگر تم پوری بات سن لیتے تو درود پڑھتے۔ میرے اس واقعے کے بیان کرنے کا نقطۂ عروج (کلائمکس) یہ ہے کہ جب اس جنگ کی رپورٹ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچی تو …

مولانا صاحب ’’تو‘‘ کہہ کر رکے۔ پھر ایک سوال کردیا ’’مسلمانو! کیا خیال ہے؟ نبی کریم ﷺ نے لشکر اسلام کو فتح کی مبارک باد دی ہوگی۔ مجاہدین کی پیٹھ ٹھونکی ہوگی شاباشی دی ہوگی؟

’’نہیں!‘‘مولانا جذبات میں بھر گئے۔ انھوں نے فرمایا: ’’نہیں، نبی کریم ﷺ نے اپنے خدا سے فرمایا: پروردگار! میں نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا تھا۔ اے اللہ! میں اس جرم سے بری ہوں۔‘‘ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور آپ بار بار یہی الفاظ دہرارہے تھے۔

مسلمانو! مجاہدین نے حضور کی یہ کیفیت دیکھی تو اپنے کو لعنت ملامت کرنے لگے۔ کاش! ہم اس جنگ میں شریک نہ ہوتے۔

حضرت ابوبکرؓ نہایت سنجیدہ بزرگ اور رازدار رسولؐ تھے۔ یہ منظر ان سے بھی نہ دیکھا گیا۔ وہ آگے بڑھے۔ عرض کیا ’’یا رسول اللہ! مسلمان مجاہدین کو دیکھئے!‘‘

نبی ﷺ نے لشکر اسلام کی طرف دیکھا۔ چشم مبارک سرخ تھی۔ فرمایا: ’’مشرکین کے بچے تم سے اچھے ہیں۔‘‘

مولانا کی زبان سے یہ سنا تو میرا دل یکدم دھڑکا۔ میرے منھ سے ’’ہائے‘‘ نکلی اور میں بے ہوش ہوگیا۔ پھر جب میں ہوش میں آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اپنے گھر چار پائی پر لیٹا ہوں اورڈاکٹر کہہ رہا تھا ’’کوئی خطرہ کی بات نہیں۔ اچانک دل پر اثر ہوا ہے۔‘‘

ڈاکٹر یہ کہہ کر چلا گیا۔ میرے گھر والوں نے مجھ سے پوچھا ’’کیا ہوا تھا؟‘‘ میں نے ’’کچھ نہیں‘‘ کہہ کر ٹال دیا۔ اٹھا اور ٹہلتا ہوا باہر نکل گیا۔ ہندو مسلم بلوے میں گجودھر میرے ساتھ رہتا تھا۔ ہم دونوں اس موقع پر قتل بھی کرتے، آگ بھی لگاتے اور لوٹ مار بھی کرتے۔ اس کے بعد آدھا آدھا بانٹ لیتے میرے دل پر ایک بوجھ تھا جو میرے دل کو دبائے دے رہا تھا۔ میں سیدھا گجودھر کے گھر پہنچا۔ وہ ملا میں نے کہا ’’یار! طبیعت بوجھل ہورہی ہے۔‘‘

’’تو چلو!‘‘ اس نے کہا اور ساتھ ہولیا۔ بھٹی پر پہنچا خود بھی چڑھائی، مجھے بھی پلائی، میرا تجربہ تھا کہ شراب پینے کے بعد سارے غم دور ہوجاتے ہیں۔ خوف و ہراس مٹ جاتا ہے۔ لیکن وہ خیال جو مجلس میں ’’ہائے، کہتے وقت آیا تھا، اب مجھے اور میرے دل و دماغ کو توڑے دے رہا تھا۔ میں پریشان تھا۔ اچانک خیال آیا۔ اپنے کام پر جاتے وقت مزار شریف جاکر منت مانتا تھا۔ پچھلے بلوے میں منت مانی تھی کہ جو مال ہاتھ آئے گا۔ چوتھائی مزار پر چڑھاؤں گا۔ شائد میں نے کم پیش کیا ہو۔ میں نے گھر جاکر ایک بڑا سا زیور لیا۔ اونے پونے بیچا اور مزار پر چڑھا آیا۔

میرا دل، میرا دماغ اب بھی بے چین تھا۔ اب میرا جی چاہتا تھا کہ کہیں ڈوب مروں ریل کے نیچے اپنے کو کٹوادوں۔ یہ سوچ کر میں پھر بھٹی پر گیا۔ خوب چڑھائی اور چلا ریل کی پٹری کی طرف۔ مگر خدا جانے کیسے! جی ہاں آپ سے آپ کو توالی چلا گیا۔ بڑے منشی سے کہا رپورٹ لکھوانی ہے اور پانچ روپیہ کا نوٹ اس کے آگے رکھ دیا۔ اس نے قلم اٹھایا ’’ہاں! کیا ہوا؟‘‘

اس کے جواب میں میں نے کہا کہ پچھلے ہفتہ جو بلوہ ہوا تھا۔ میں نے اس میں ہندوؤں کا ایک بچہ قتل کردیا تھا۔‘‘

بڑے منشی نے قلم رکھ دیا۔ مجھے دیکھا میں پئے ہوئے تھا۔ اس نے کہا ’’ٹھہرو‘‘۔ وہ انچارج تھا نہ منور یار خاں کے پاس گیا انھیں ساتھ لایا اور کہا، سنئے یہ کیا رپورٹ لکھاتا ہے۔‘‘ منور یار خاں نے مجھے ایک موٹی سی گالی دے کر کہا ’’ابے دادا کے بچے کیا ہے؟‘‘

’’حضور! رپورٹ لکھانے آیا ہوں۔ پچھلے ہفتہ جو بلوہ ہوا تھا۔ میں نے اس میں ہندوؤں کا ایک بچہ قتل کردیا تھا۔‘‘

’’تیرا دماغ خراب ہوا ہے کیا؟‘‘

منور یار خاں نے پھر مجھے گالی دی۔ میری زبان سے آپ سے آپ نکل گیا ’’خوب! خوب! جب میرا دماغ درست ہوا ہے تو کہتے ہیں خراب ہوگیا!‘‘ مجھے تاؤ آگیا۔ میں نے کہا ۔ دیکھئے حضور بہت کھلایا ہے آپ کو۔ آپ رپورٹ لکھتے ہیں یا جاؤں مجسٹریٹ کے پاس۔

میرے تیور دیکھ کر منور یار خاں ڈھیلا پڑگیا بڑے منشی سے کہا کہ اس کا بیان لکھ لو۔ اس کی دماغی جانچ کے لیے ڈاکٹری معائنہ کے الفاظ بھی شامل کردینا۔ ڈاکٹری معائنہ کے بعد اسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اس رپورٹ سے ہوتا کیا ہے۔ مستند بیان مجسٹریٹ کے سامنے دیا ہوا ہوگا۔

منور یار خاں بڑا گھاگ تھا۔ اس نے بات ٹھیک کہی تھی۔ رپورٹ لکھ لی گئی۔ پھر دو سپاہیوں کی حراست میں مجھے ڈاکٹری معائنہ کے لیے بھیج دیا گیا۔ ڈاکٹر نے مجھ سے بہت سے سوال کیے میں نے بڑے ادب اور تہذیب کے ساتھ جوابات دئے لیکن جب یہ پوچھا گیا کہ بچے کو کس حالت میں قتل کیا تو میں اپنے بس سے باہر ہوگیا۔ یہ مجھ سے غلطی ہوئی۔ میں نے کہا ’’اس وقت بچہ ماں کا دودھ پی رہا تھا۔ میں نے چاقو نکالا۔ سوچا۔ بندے سمیت کان کاٹ لوں۔ لیکن … لیکن… ڈاکٹر صاحب … ڈاکٹر صاحب …‘‘ میں پاگلوں کی طرح زمین پر پیر پٹکنے لگا۔ ادھر ادھر بھاگنے لگا۔ کمپاؤنڈروں نے مجھے پکڑ لیا تو میں دیوار پر سر دے مارا اور بے ہوش ہوگیا۔

پھر جب میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوا تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر نے مجھے پاگل لکھ دیا تھا اس کے الفاظ یہ تھے ’’اس کا (یعنی میرا) دماغی توازن نارمل نہیں ہے۔‘‘

مجسٹریٹ کے سامنے میرا بیان ہوا۔ پھر مجھے جیل کے اسپتال بھجوادیا گیا۔ وہاں سے مجھے آگرہ پہنچایا جانا تھا۔ مقامی اسپتال میں مجھے عبدالحکیم سیفیؔ ایڈیٹر اخبار ’’سیف وقلم‘‘ اور جگت نرائن کیفیؔ سمپادک ’’سماج سدھار‘‘ ملے۔ نہ معلوم کیوں آئے تھے۔ ان دونوں نے بلوے کو روکنے کے لیے بڑے اچھے آرٹیکل لکھے تھے۔ ہندو مسلم اتحاد پر اخبارات کے صفحے کے صفحے رنگ ڈالے تھے لیکن نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔ اس وقت تو اخبار ’’عقرب اردو‘‘ اور’’بچھو‘‘ ہندی گھر گھر پڑھا جارہا تھا۔ سیفیؔ صاحب اور کیفیؔ جی کی کوششوں سے سیرت کمیٹی کی طرف سے وہ جلسہ ہوا تھا جس کی ایک مجلس میں میں بھی شریک ہوا تھا۔

سیفیؔ صاحب نے مجھ سے پوچھا ’’دادا کیسے ہو؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’ایڈیٹر صاحب جب میرا دماغ درست ہوا تو انچارج تھا نہ منور یار خاں اور ریاست نور خاں مجسٹریٹ مجھے پاگل قرار دیتے ہیں۔ پھر میں نے مولانا کا وعظ من و عن سنادیا اور کہا ’’عبدالحکیم صاحب آپ بتائیے۔ میں کیا کروں۔ جب سے میں نے سنا ہے کہ حضورؐ نے فرمایا ’’مشرکوں کے بچے تم سے (یعنی صحابہؓ سے) اچھے ہیں۔ میں بہت پریشان ہوں۔ ’’عقرب‘‘ کے ایڈیٹر صاحب تو کافروں اور مشرکوں کو سراپا نجس بتاتے رہے اور یہ کہتے رہے کہ انھیں اللہ کے گھر کے قریب نہ آنے دو۔

سیفیؔ صاحب اور کیفی صاحب دونوں میرے پاس بیٹھ گئے۔ جگت نرائن کیفیؔ نے مجھ سے پوچھا ’’وفا خاں! یہ بتاؤ کہ تمہارے رسول کی بات سچی ہوسکتی ہے یا ’’عقرب‘‘ کے ایڈیٹر کی؟

بات تو نبی ﷺ ہی کی ٹھیک ہوسکتی ہے۔

’’تو وفا خاں!‘‘ کیفیؔ جی نے کہا ’’تو چھوڑو وفا خاں ’’عقرب‘‘ کی باتوں کو۔ تم مسلمان ہو تم کو اپنے نبی کی بات دانت سے پکڑ لینا چاہیے۔‘‘

میں نے عبدالحکیم سیفیؔ کی طرف دیکھا۔ انھوں نے کہا ’’بھائی کیفیؔ ٹھیک ہی تو کہتے ہیں۔‘‘

’’تو پھر ایک مشورہ چاہتا ہوں۔‘‘ اسی وقت ڈاکٹر گشت کرتا ہوا آگیا۔ سیفیؔ صاحب نے اسے بٹھالیا۔ میں کہہ رہا تھا کہ اب یہ بتاؤ کہ جب میں نے ایک معصوم بچہ قتل کردیا اور پھر نبی ﷺ کی بات سنی تو پھر اب میری بخشش کیسے ہوگی؟‘‘

’’ہوسکتی ہے۔‘‘ کیفی جی ایک دم بول اٹھے۔

’’کیسے؟‘‘ میں نے پوچھا۔ اب سیفی صاحب نے کہا ’’وفا خاں! توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوا ہے۔ تم توبہ کرکے سچے مسلمان بن جاؤ۔ اللہ بڑا غفوراور رحیم ہے۔‘‘

میں نے سر جھکالیا۔ مجھ پر غنودگی سی چھا گئی۔ سیفی صاحب اور کیفی جی ڈاکٹر سے باتیں کرتے رہے۔ تیسرے دن سیفی صاحب پھر اسپتال آئے۔ مجھے نہیں معلوم کہ پرسوں سے اس وقت تک انھوں نے مجسٹریٹ اور کوتوال سے مل کر کیا تدبیر کی۔ وہ آئے اور مجھے اپنے ساتھ لے گئے مجھے اپنے دفتر میں رکھ لیا۔ میں دفتر میں کام بھی کرتا تھا اور صبح کے وقت اخبار کا ہاکر بھی تھا۔ کیفی جی کو معلوم ہوا تو انھوں نے ’’سماج سدھار‘‘ کا بھی ہاکر بنالیا اور ایک فہرست دے دی کہ فلاں فلاں کے یہاں اخبار دے دیا کرنا۔

اب مجھ پر ایک حادثہ اور گذرا ۔ کیفی جی نے جو فہرست دی تھی اس میں پنڈت جے دیال کا بھی نام تھا۔ وہ اپنی ملازمت کے سلسلے میں کہیں باہر تھے۔ لیکن گھر پر اخبار ضرور جاتا تھا۔ میں اخبار دینے پنڈت جی کے گھر پہنچا تو مجھ پر اپنے پاپ کا تصور چھا گیا۔ اسی گھر میں ہی گھس کر میں نے بچے کو قتل کیا تھا اور گجودھر مال لوٹ کر لے گیا تھا۔ میں دیر تک دم بخود کھڑا رہا۔ کسی نے مجھ سے کہا ’’کھڑے کیوں ہو۔ اخبار دے کر راستہ ناپو۔‘‘ میں چونکا۔ میں نے کہا ’’اخبار لے لو۔‘‘ اندر سے آواز آئی ’’بھیا پیسے لیتے جاؤ۔‘‘ ایک بوڑھی مہیلا دروازے پر آئیں۔ میں نے ان سے پوچھا ’’مائی! اس گھر میں اور کون رہتا ہے۔‘‘ بولیں ’’بیٹا! میں ہوں اور میری بہو بس۔‘‘

میں نے کہا ’’اماں! میرے پاس رسید نہیں ہے۔ میں آج نیا نیا نوکر ہوا ہوں، پیسے پھر لے جاؤں گا۔‘‘ وہ اخبار لے کر چلی گئیں۔ میں آٹھ بجے تک روتا رہا اور اخبار بانٹتا رہا۔ پھر جب دفتر پہنچا تو سیفی صاحب بھانپ گئے۔ ’’کیا ہے وفا خاں؟‘‘

’’برا حال ہے ایڈیٹر صاحب۔‘‘ میں نے بتایا کہ ’’پنڈت جے پال جی کے گھر گیا تھا۔ وہاں جاکر میرا کلیجہ کٹ گیا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ مائی جی کے چرنوں میں سر رکھ دوں اور کہوں کہ مجھے ذبح کردیں۔ اسی طرح میرے دل کو تسلی ہوسکتی ہے۔‘‘

’’نہ ، نہ ہرگز نہیں۔‘‘ عبدالحکیم سیفی صاحب نے تاکید کے ساتھ منع کردیا۔ ’’ہرگز انھیں نہ بتانا کہ ان کے بچے کے قاتل تم ہو جب اللہ نے تمہارا گناہ چھپا دیا تو تمہیں کیا ضرورت ہے کہ کہتے پھرو۔‘‘

’’لیکن میں پنڈت جی کے گھر کی طرف جاؤں گا تو خود کشی کرنے کو جی چاہے گا۔‘‘

’’دیکھو وفا خاں! خود کشی اسلام میں حرام ہے۔ خود کشی کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں جلے گا۔ تم مسلمان ہو، یہ کبھی نہ بھولو۔‘‘

’’تو پھر مجھے بتائیے میں کیا کروں؟‘‘

’’بتاؤں گا۔‘‘

میں روز اخبار صبح کو بانٹنے جاتا رہا۔ ایک دن مائی جی نے کہا ’’بیٹا! بہو رانی بیمار ہے نسخہ میرے پاس ہے۔ دوا لادو۔‘‘

میں جب ڈاکٹر ہریش کے مطب گیا تو اخبار بھی دیا اور نسخہ بھی پیش کردیا اور پیسے بھی۔ ڈاکٹر صاحب نے ایک نظر مجھ پر ڈالی۔ نسخے کو دیکھا۔ کچھ ادلا بدلا، میں نے دوالی۔ اور مائی جی کو دے آیا۔ مائی جی مجھے ایک روپیہ دینے لگیں۔ میں نے کہا ’’اماں! میں یہ نہیں لوں گا۔‘‘ انھوں نے اصرار کیا لیکن میں بھاگ آیا۔

اس دن کے بعد جب اخبار دینے جاتا تو پھر خود پوچھتا ’’اماں! کوئی سیوا؟‘‘ مائی جی بڑی غیرت دار تھیں لیکن جب میں ہر دن اپنے کو سیوا کے لیے پیش کیا تو پھر دھیرے دھیرے وہ مجھ سے کام لینے لگیں۔ کبھی کبھی وہ مجھے کچھ کھانے پینے کو بھی دے دیتیں۔ اب میں نے محسوس کیا جیسے میں خوش ہوں۔ میرے دل پر جو پتھر رکھا تھا وہ سرکنے لگا۔

عبدالحکیم صاحب اور جگت نرائن یہ سب دیکھ رہے تھے۔ دونوں بہت خوش تھے ایک دن دونوں نے نہ جانے کیا آپس میں کھسر پسر کی ۔ پھر مجھے دس روپے دئے اور کہا کہ سیب لے کر پنڈت جی کے گھر چلو۔ کہہ دینا کہ ہم دونوں آرہے ہیں۔

میں نے بڑے بڑے میٹھے سیب تین کلو لیے۔ مائی جی کے پاس پہنچا۔ ان سے پیغام کہا۔ انھوں نے بیٹھک کھول دی۔ ’’بیٹا ذرا اسے صاف کردو۔ کرسیاں میز ٹھیک سے لگادو اور او بہو رانی! چولہے پر پانی رکھ دینا۔ اور سنو تو گاڑی کا ٹائم بھی ہے۔‘‘

میں نے جلدی جلدی بیٹھک صاف کی میز کرسی قرینے سے لگادی۔ دونوں ایڈیٹر آئے تو میں نے دیکھا کہ ایک تیسرے صاحب بھی ساتھ تھے۔ معلوم ہوا کہ یہ سب اسٹیشن ہوکر آئے تھے۔ تیسرے صاحب جو ساتھ تھے وہ تھے پنڈت جید پال جی۔

مجھے یہ معلوم ہوا تو میں زمین میں گڑ گیا۔ دنیا بھر کے خیالات میرے ذہن میں آنے لگے۔ لیکن میری یہ تدبیر بہت اچھی رہی کہ میں دوڑ دوڑ کر کام کرتا رہا۔ اندر بھی باہر بھی۔ میں کبھی اندر سے پلیٹیں لاتا، کبھی چائے وغیرہ۔ اس دن میں نے پہلے پہل بہورانی کو دیکھا تھا۔ کلی جیسا معصوم اور بھولا چہرہ مگر پھیکا پھیکا سا۔ ایک لمبی سانس کے ساتھ آہ سی میرے دل سے نکلی جسے میں دبا گیا۔ اسی کی گود تو میں نے سونی کی تھی۔

پنڈت جی سے دونوں ایڈیٹروں نے میرا تعارف کرایا اور سفارش کی مجھے گھر کی دیکھ بھال کے لیے نوکر رکھیں۔ پنڈت جی بھی مدت سے ایک دیانتدار نوکر تلاش کرتے تھے۔ وفا خاں میرا نام سنا تو مسکرائے۔ ’’اسم بامسمی‘‘ ان کی زبان سے نکلا اور پھر میں ان کے گھر کا سیوک ہوگیا۔

یہ بہت اچھا ہوا۔ اس گھر میں سیوا کرکے میرا دل بہت خوش ہوتا تھا۔ مجھے جو تنخواہ ملتی۔ وہ میں مائی جی کے پاس امانت کے طور پر رکھ دیتا میں نے اپنے کو چوبیس گھنٹے کا نوکر سمجھ لیا تھا۔ میں کام کرکے تھکنے کا نام بھی نہ لیتا تھا۔ دونوں شریف مہیلائیں مجھ سے بہت خوش تھیں۔ کبھی کبھی مائی جن کو میں اماں کہتا تھا مجھے آشرباد بھی دیتی تھیں اور بہورانی تو مجھے بھیا کہہ کر پکارنے لگی تھیں اور پھر اس دن تو میں رو ہی پڑا جب رکشا بندھن کے تہوار کے موقع پر انھوں نے میری کلائی میں راکھی باندھی تھی اور پنڈت جی مجھ سے مذاق کرنے لگے تھے۔ میرے جیجا جی ہوگئے تھے نا!

میرے دل کا بوجھ اتر گیا۔ ایک دن مجھے گجودھر ملا۔ اس نے کہا ۔ سنا ہے کہ پنڈت جی کے گھر نوکر ہوگئے ہو۔ میرا نام تو نہیں لیا کبھی۔ دادا یاد رکھنا۔ نام لیا تو اچھا نہ ہوگا۔

وہ دھمکی دے کر چلا گیا۔ میرے دل میں کھوٹ نہ تھی۔ میں بے فکر تھا۔ ایک دن دو بجے رات کو کچھ کھٹکا ہوا۔ میں چونکا تو دیکھا کہ ایک شخص ڈھاٹا باندھے، چاقو تانے میری چارپائی کے پاس کھڑا ہے۔ اور دو تین بہورانی کے کمرے میں ہیں۔ میں اچک کر چارپائی کے دوسری طرف لڑھک گیا۔ ’’مار ڈالوں گا سالے! میری زبان سے نکلا۔ میرے لڑھکتے سمے اس شخض نے چاقو چلادیا۔ چاقو گدے میں گھس گیا۔ کمرے سے مائی جی اور بہو رانی کی چیخ بلند ہوئی۔ میںنے لپک کر چاقو والی کلائی پکڑلی۔ وہ شخص چاقو چھوڑ کر اور جھٹکا دے کر بھا گ کھڑا ہوا۔ میں ہوشیا تھا۔ جاگ ہوگئی تھی۔دو ڈاکو بہورانی کے کمرے سے نکلے اور نکلتے ہی مجھ پر چاقو سے وار کردیا۔

مثل مشہور ہے ’’لاکھ باند کر رکھو ہرن چھلانگ نہیں بھولتی۔‘‘ میں نے پینترا بدلا۔ ایک کا چاقو خالی گیا۔ دوسرے کا چاقوں میرا ران پر لگا۔ لیکن اسی کے پیٹ میں میں نے چاقو اتار دیا تھا۔ وہ ہائے چیخ کر گرا۔ اس کا ساتھی بھاگ کھڑا ہوا۔ محلے ٹولے کے لوگ اکٹھا ہوگئے تھے جس ڈاکو کو میں نے ڈھیر کردیا تھا۔ اسے دیکھا بھالا گیا تھا۔ وہ گجودھر تھا۔ پھر پولیس آئی۔ بیان ہوئے۔ تھانہ عدالت کا بھی چکر مجھ سے لگوایا گیا۔

وہ دن ہے اور آج کا دن۔ مائی جی سورگباش ہوگئیں، بہورانی کی گود اللہ نے کئی بچوں سے بھری میں اب ان بچوں کا سیوک ہوں۔ یہ بچے مجھے ماما جی (ماموں) کہتے ہیں۔ میں گھر کا سیوک نہیں لوگ کہتے ہیں کہ وفا خاں اس گھر کا مالک ہے۔ میں بوڑھا ہوگیا ہوں۔ بہت خوش ہوں۔ جب گھر میں کوئی خوشی کی یاتیر تیوہار یا رشتہ ناتے کی بات ہوتی ہے تو بہو رانی کہتی ہیں۔ ’’میں کیا جانوں، بھیا جانے‘‘ اور میں ہنس کر انتظام میں لگ جاتا ہوں۔ میں اب نماز روزے کا پابند ہوگیا تھا۔ روزوں میں بہورانی میرے لیے افطار اور سحری کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے لیتیں اور جب میں زیادہ کام کرتا تو ڈانٹتیں اور کبھی کبھی چپت بھی لگا دیتی تھیں۔ ’’ارے بھیا روزہ لگ جائے گا، کام چھوڑ، ذرا پیٹھ لگالے اور پھر میرے شانے پکڑ کر گدے پر گرادیتیں اور پھر کہتیں سو نہیں تو اب ڈنڈا لاؤں گی۔ ہائے کیسا پیار تھا، اس ڈانٹ میں۔

آپ سمجھ سکتے ہیں، میں بہت خوش ہوں۔ اسی سال رمضان میں میں نے پیارے رسول ﷺ کو خواب میں دیکھا۔ وہ تشریف لائے۔ فرمایا ’’وفا خاں! ادھر آؤ۔‘‘ میں آپ کی طرف چلا گیا مگر میں ہکا بکا تھا۔ میں سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ پیارے نبیؐ مجھے بلائیں گے۔ میں حضورؐ کے پاس چلا گیا۔ آپؐ نے میرے سر پر ہاتھ رکھا، فرمایا، تیرا گناہ اللہ نے معاف کردیا۔ اور دیکھ ادھر۔ حضورؐ نے جس طرف اشارہ فرمایا تھا میں نے اس طرف دیکھا ’’جنت!‘‘ میری زبان سے نکلا۔ جنت میں ایک بچے کو کھیلتے دیکھا۔ یہ وہی بچہ تھا جسے میں نے قتل کیا تھا۔ میں اسے لینے بڑھا تو کسی نے میرے سینے پر ہاتھ رکھ دیا ’’ابھی نہیں‘‘ میں جاگ اٹھا۔ دیکھا بہو رانی میرے سینے پر ہاتھ رکھے کہہ رہی تھیں ’’ابھی نہیں‘‘ یعنی ابھی سوتے رہو۔ عصر کے وقت میں خود جگادوں گی۔

میں نے کہا ’’دیدی! ایک بات پوچھوں۔‘‘

’’پوچھ!‘‘

’’آپ کا کوئی اور بچہ بھی تھا۔‘‘

’’ہاں میرے بھیا! سات مہینے کا تھا۔ ہندو مسلم بلوے میں ایک پاپی نے اسے مار ڈالا تھا۔‘‘

’’دیدی! اسے ابھی میں نے خواب میں دیکھا۔‘‘

’’کیسا تھا وہ؟‘‘

’’بڑا پیارا، شہزادہ لگ رہا تھا وہ۔‘‘

’’کہاں تھا؟‘‘

’’جنت میں‘‘

’’ہٹ پگلے!‘‘

’’سچ مچ دیدی!‘‘

’’تو نے کیسے پہچانا؟‘‘

’’آپ کی صورت سے بالکل مل رہا تھا۔‘‘

’’تو پکڑ لاتا اسے‘‘

’’دیدی! میں بڑھا کہ اٹھالوں۔ کسی نے مجھے روک دیا اور کہا کہ ابھی نہیں۔ جاگا تو دیکھا آپ میرے سینے پر ہاتھ رکھے ہیں اور کہہ رہی ہیں ’’ابھی نہیں۔‘‘

بہورانی ہنسنے لگیں۔ مجھے ایسا لگا کہ جیسے سچ مچ اللہ تعالیٰ نے میرا گناہ معاف کردیا میں آج بھی اس خواب کو سچ سمجھ رہا ہوں۔

اور پیارے رسول ﷺ کی وہ حدیث یاد آرہی ہے کہ مشرکین کے بچے تم سے اچھے ہیں۔ کتنی سچی بات کہی، نبی اکرم ﷺ نے!

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

تبصرہ کیجیے