2

کوڑھ کے جراثیم

خالد نے کتاب میز پر پھینک دی اور اپنی بیوی زہرہ کی طرف غور سے دیکھنے لگا۔

زہرہ بے سدھ سورہی تھی، اس کے شاداب چہرے پر پسینے کی بوندیں ایسی لگ رہی تھیں جیسے تازہ گلاب پر شبنم کے جھلملاتے موتی۔ سیاہ اور چمکیلے بالوں کی کئی لٹیں گورے مکھڑے پر کچھ اس طرح بکھری ہوئی تھیں جیسے دستِ قدرت نے اس پیکرِ حسن و جمال کو نظرِ بد سے محفوظ رکھنے کے لیے کاجل کی ریکھائیں کھینچ دی ہوں۔

’’اوہ! میں کتنا خوش نصیب ہوں کہ مجھے اتنی حسین اور خوبصورت بیوی ملی ہے!‘‘ اس کا دل مسرت سے جھوم اٹھا۔

’’ہاں… تمہاری بیوی بہت حسین اور بہت خوبصورت ہے، تمہاری قسمت پر فرشتے بھی رشک کرتے ہیں۔ لیکن اس حسین جسم کے اندر گھناؤنا روپ بھی تو پوشیدہ ہوسکتا ہے۔ اس کے اندر چھپی ہوئی بے اعتمادی نے زہریلی مسکراہٹ کے ساتھ کہا: تم نے ابھی ابھی جو کتاب پڑھی ہے اس میں ایسی ہی خوبصورت اور معصوم عورت کی کہانی ہے جس نے خوبصورتی اور معصومیت کی اوٹ میں کیا کچھ نہیں کیا۔ اس سے پہلے جو ناول تم نے پڑھا تھا اس کی ہیروئن بھی تو بے حد حسین تھی۔ لیکن اس نے ظاہری پارسائی، شرافت، اور وفا پرستی کے پردے میں تقدس کا گلا گھونٹ دیا۔ عورت کی عظمت اور پاکیزگی کو ہوس کے گہرے غار میں ڈھکیل دیا۔ خوبصورتی شیطنیت کا حسین روپ ہے۔ خوبصورت عورتیں اپنے حسن و جمال کے نشہ میں اکثر غلط راہ پر چلنے لگتی ہیں۔ یا پھر غلط راہ پر ڈال دی جاتی ہیں اور تب ان کی نگاہوں میں سارے رشتے ناطے ٹوٹ کر جنسی آسودگی کا سامان بن جاتے ہیں۔ تم نے کئی ناولوں میں پڑھا ہے کہ اس عورتوں نے اپنے خاوند کے دوست، احباب، بھائی، بھتیجے اور عزیز و اقارب تک کو جلا ڈالا۔

’’اونہہ… یہ تو سب افسانوی اور کتابی باتیں ہیں ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔‘‘

’’یعنی تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ یہ افسانہ نگار، یہ ناول نگار اور یہ مصنف سب جھوٹے ہیں اور اس دنیا کے انسان بھی جس کے تم ہو۔ کیوں یہ لوگ آسمانی یا آبی ہیں جو اس دنیا کے لیے دور از حقیقی خاکے ترتیب دیا کرتے ہیں۔ کیوں؟ نہیں یہ تمہارا خیال غلط ہے۔ مائی ڈیر خالد … یہ لوگ اسی دنیا کے باشندے ہیں جس کے تم ہو۔ ان کا ذہن وہی سب کچھ اگلتا ہے جو دیکھتا اور پاتا ہے۔ سمجھے کیا قلوپطرہ کی کہانی تم نے نہیں پڑھی جو حقیقت پر مبنی ہے۔ کیا تم نے نہیں پڑھا کہ مینکا نے اپنے بے پناہ حسن کے بل پر وشوامتر کی برسوں کی تپسیا ایک پل میں ہوس کے اگنی کنڈ میں جھونک دی تھی۔ زلیخا کی داستان کیا تمہیں معلوم نہیں؟ ٹھیک ہے… یہ ناول اور کہانیاں تو اپنے اپنے معاشرے کا وہ آئینہ ہیں جس میں اچھی اور بری سب ہی تصویریں نظر آتی ہیں۔ ان تلخ حقیقتوں کو تم فریب نہ سمجھو۔‘‘

اور اس کا ذہن شیطانی خیالات سے شکست کھا گیا۔اس کی نظریں زہرہ کے حسین سراپا کا جائزہ لینے لگیں۔ اور پراگندہ خیالات کے شہہ زور گھوڑے ذہن کی زمین پر دوڑتے رہے۔

’’تم یہ تلخ حقیقتیں تسلیم کرنے سے صرف اس لیے ڈررہے ہو کہ تمہارا بھی ایک چھوٹا بھائی ہے۔ اور تمہاری چھوٹا بھائی اختر جوان خوب رو صحت مند اور دلکش شخصیت کا مالک ہے۔ ہر عورت اختر کے لیے اپنے دل میں کشش محسوس کرسکتی ہے اور یہ عورت تمہاری بیوی بھی ہوسکتی ہے۔‘‘ اس کے ذہن میں ایک اور کیڑا کلبلایا۔وہ گندے خیالات کے سمندر میں اور تیزی سے غوطے کھانے لگا۔ اسے یاد آیا کہ وہ اختر اور زہرہ کو کئی بار چھپ چھپ کر بہت بے تکلفانہ انداز میں باتیں کرتے دیکھ چکا ہے۔ اس خیال کے آتے ہی اختر کے لیے اس کے دل میں شدید نفرت کا جذبہ ابھر آیا۔ وہ میز پر رکھی ہوئی اختر کی تصویر کو گھورنے لگا۔ تصویر مسکراتی رہی خالد اسے گھورتا رہا۔

’’نمک حرام ! ذلیل!!‘‘ اس نے اختر کی تصویر کھڑکی سے باہر کی طرف پھینک دی۔ تاہم اختر کا خیال اس کے دماغ میں سلگ رہا تھا۔ لیکن اختر اپنے بھائی کے ان کے مکروہ خیالات و جذبات سے زیادہ زہرہ کی مادرانہ شفقت و محبت سے مطمئن تھا۔ اسے تو بھاوج کے روپ میں ماں مل گئی تھی اور یہ حقیقت بھی تھی کہ زہرہ نے اختر کو ماں کی کمی کا احساس تک نہ ہونے دیا تھا۔ وہ جب بیاہ کر یہاں آئی تھی تو اختر جوانی کی دہلیز پر کھڑا معصوم مسکراہٹ سے اسے خوش آمدید کہہ رہا تھا۔ اس کی یہ معصوم مسکراہٹ پہلے دن ہی زہرہ کے دل کی گہرائیوں میں اتر گئی تھی۔ اور تب سے ہی زہرہ کے دل میں اختر کے لیے محبت و شفقت کا دریا بہہ رہا تھا۔ ایک ایسا دریا جس میں، بہن کا پیار اور ماں کی ممتا کی لہریں اٹھ رہی تھیں۔ وہ اس کے ساتھ مادرانہمحبت سے ایک عجیب سی لذت کا احساس کرتی اور عجیب سا سکون ملتا۔ اسے یہ احساس بھی نہیں ہوا تھا کہ آج دس بارہ برس گذر جانے کے بعد بھی اس کی کوکھ سونی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ اختر، اس کے رحم سے نہیں بلکہ روح سے بنا ہے۔ یہ تقدس کی دیوی خالد کے پراگندہ خیالات سے بے خبر اختر پر اپنی مامتا اور شفقت کے جام لنڈھاتی رہی تھی۔ لیکن خالد اس مقدس عورت کو شک و بے اعتمادی کی بھیانک آگ میں جھونکنے کے در پر تھا۔ خیالات کے زہریلے ناگ اس کے ذہن سے پھسل کر زہرہ کو ڈسنے کے لیے بڑھ رہے تھے کہ وہ نیند میں ہی خالد کو زور زور سے آوازیں دینے لگی اور پھر گھبرا کر اٹھ بیٹھی۔

خالد کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔

’’کیوں؟ … کیا بات ہے؟‘‘ خالد نے زہرہ کو گھورتے ہوئے پوچھا۔ زہرہ کا سانس تیزی سے چل رہا تھا۔ وہ وحشت زدہ آنکھوں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔ ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے وہ کسی بہت ہی بھیانک حادثے سے دوچار ہوتے ہوتے بچی ہو۔ کچھ دیر اس کی یہی کیفیت رہی، جب ہوش و حواس درست ہوئے تو وہ خالد کے سینے پر سر رکھ کر سسکنے لگی۔

’’ارے ارے …… روتی کیوں ہو؟ کیا ہوا شاید تم نے کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہے۔‘‘

’’ہاں … آں‘‘ زہرہ نے سسکتے ہوئے کہا۔

’’پگلی ہو تم، یہ تو خواب و خیال ہیں۔ اس میں رونے کی کیا بات ہے۔ ‘‘ زہرہ کی معصومانہ کیفیت دیکھ کر خالد کے دل و دماغ سے مشکوک خیالات کا کہرہ چھٹنے لگا۔ حسین جسم کے لمس اور گرمی نے اس کے نفس کو بیدار کردیا۔ ’’ہاں …… یہ تو بتاؤ کہ تم نے خواب میں ایسا کیا دیکھا جو تم پر یہ کیفیت طاری ہوگئی۔‘‘

’’کچھ عجیب سا خواب تھا۔ دور تک سبز خوبصورت پہاڑیوں کا سلسلہ پھیلاہوا ہے۔ پہاڑیوں کے درمیان سے گہری اور تیز رو ندی بہہ رہی ہے۔ میں اور اخترایک اونچی پہاڑی پر کھڑے یہ دلکش منظر دیکھ رہے ہیں پھر نہ جانے کیا کہ اچانک اختر کا پیر پھسل گیا اور وہ ندی میں گر پڑا۔ میں نے بدحواسی کے عالم میں آپ کو چیخ چیخ کر بہت آوازیں دیں۔ لیکن میری آواز پہاڑیوں میں گونج کر رہ گئی۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے اختر کو ندی کی اتھاہ گہرائی نے نگل لیا۔ ہزار ہا کوشش کے باوجود میں ندی میں چھلانگ نہ لگا سکی۔ ایک انجانی طاقت نے مجھے دبوچ لیا تھا بس!… اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔ ‘‘ زہرہ خلا میں دیکھنے لگی جیسے اس خواب کی تعبیر ڈھونڈ رہی ہو۔

’’ہوں ……‘‘ خالد نے آنکھیں بند کرلیں۔ وہ ذہن کے پردے پر اس خواب کی حقیقت دیکھنا چاہتا تھا۔ کچھ دیر پہلے زہرہ کے لیے اس کے دل میں اٹھے محبت اور ہمدردی کے جذبات پر اب پھر شیطانی خیالات حاوی ہونے لگے۔ ذہن کے پردے پر فحش کتابوں کے کئی عریاں منظر ابھر آئے۔ فحش کتابوں کے خبیث کردار بالکل برہنہ رقص کرنے لگے۔ پھر بے اعتمادی کے شیطان نے خالد کے دل و دماغ کو اپنے خوانخوار پنجوں میں جکڑ لیا۔ اور جب اس نے آنکھیں کھولیں تو اس کے آنکھوں میں سے شیطنیت کے شعلے نکل رہے تھے۔ اس نے زہرہ کو نفرت آمیز نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا: ’’ہوں … تو آپ نے ایسا خواب دیکھا ہے۔ جس میں اختر کے ساتھ ساتھ آپ بھی ڈوب کے مرجانا چاہتی ہیں؟‘‘

’’ہاں … کچھ عجیب بے تکا خواب تھا۔‘‘ زہرہ خالد کے طنز کو نہ سمجھ سکی۔

’’یہ خواب نہیں!‘‘ خالد دھاڑا ’’اس حقیقت کا عکس ہے۔ جو تمہارے دل و دماغ پر چھا گئی ہے۔ یہ خواب تمہارے دل و دماغ کی کیفیت کا وہ آئینہ ہے جس میں تمہارے کردار کا گھناؤنا روپ صاف دکھائی دے رہا ہے اور یہ خواب … اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ تم میری آغوش سے اکتا کر اختر کی گود میں گرپڑی ہو۔ یہ خواب اس بات کی دلیل ہے کہ میرا خیال اب تمہارے ذہن کے قریب سے بھی نہیں گزر رہا ہ۔ ہر لمحہ تمہارے دل و دماغ سے صرف اختر لپٹا رہتا ہے۔

زہرہ حیرت سے اپنے شوہر کو دیکھنے لگی۔ ’’آج آپ یہ کیسی باتیں کررہے ہیں؟‘‘

’’وہی باتیں جو ایک مدت سے میرے ذہن میں پک رہی ہیں۔ میں سب کچھ دیکھ کر بھی خاموش تھا۔ لیکن اب مجھ میں ضبط کی طاقت نہیں۔‘‘

’’خدارا مجھ پر یہ غلیظ الزام نہ لگائیے۔‘‘ زہرہ کے لہجے میں بے انتہا کرب اور التجا تھی۔

’’یہ الزام نہیں، وہ حقیقت ہے جس نے آج تمہیں بے نقاب کردیا ہے۔ کیا تم اختر سے والہانے محبت نہیں کرتی ہو؟ کیا تمہارے دل و دماغ پر اختر نہیں چھا گیا ہے؟ جواب دو؟ سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ہر وقت تمہیں اختر کا خیال نہیں رہتا؟ اگر تم مجھ سے بے زار ہوچکی ہو تو میں تمہیں ہمیشہ کے لیے آزاد کرسکتا ہوں۔‘‘

’’اُف خدایا رحم!!‘‘ زہرہ نے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔ غم و غصہ کی وجہ سے اس کا سارا جسم لرز رہا تھا۔ آنکھوں سے کرب کے قطرے ڈھلکنے لگے۔ کاش! اسے معلوم ہوتا کہ خالد اتنے رکیک خیال کا آدمی ہے تووہ اپنی مامتا کی بستی میں اختر کو کبھی جگہ نہ دیتی۔

جب انسان کے دل پر شدید چوٹ لگتی ہے تو وہ بارگاہِ الٰہی میں پناہ تلاش کرنے لگتا ہے۔ زہرہ بھی بے اختیار روتے ہوئے اپنے خدا کو پکارنے لگی۔ خالد اسے درشت نگاہوں سے دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ عورت اپنے گناہوں کے بدنما داغوں کو جب پارسائی سے مٹا نہیں پاتی تو آنسوؤں سے دھونے کی کوشش کرتی ہے۔ آدمی اکثر فریب کھا جاتا ہے لیکن وہ عورت کی فطرت اور ان پُر فریب آنسوؤں سے خوب واقف ہوچکا ہے۔ عورت کے مکروفریب کی سیکڑوں داستانیں وہ پڑھ چکا ہے۔ پھر ذہن کے شیلف سے کئی فحش کتابیں پھسل کر ہستی کے فرش پر بکھر گئیں اور ان کے اوراق چیخنے لگے۔ یہ فریب ہے، فریب! یہ مصنوعی آنسو ہیں!! اُف، خدا کی پناہ!!‘‘

’’یہ عورت گناہوں کا وہ جوہڑ ہے، جس میں غلیظ پانی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ تم اسے گنگا یا کوثر کا پانی نہ سمجھ لینا۔‘‘

خالد زہرہ کی پروا کیے بغیر اپنے پراگندہ خیالات میں الجھا رہا اور زہرہ رات بھر روتی سسکتی رہی۔

زہرہ صرف ایک رات ہی میں برسوں کو پھاند گئی تھی، ہر لمحہ بڑھتی عمر کے نقوش آج اس کے چہرے پر نمایاں ہوگئے تھے۔ شگفتگی اور تازگی غائب ہوگئی تھی۔ مزاج کی ساری شوخیاں ختم ہوگئی تھیں ماحول کی لطافتیں دم توڑ چکی تھیں اور خوشگوار زندگی پر تلخیوں کی یلغار ہورہی تھی۔ یہ انقلاب جو اس کی زندگی میں وارد ہوا تھا، ایک ایسا انقلاب تھا جس نے زندگی کی تمام تر رعنائیاں اور رنگینیاں چھین لی تھیں۔ آج وہ غم و افسردگی کے تپتے ہوئے صحرا میں خاموش کھڑی یہ سوچ رہی تھی کہ اتنا بھیانک انقلاب ایک دم کبھی نہیں آسکتا۔ اور زہرہ کا خیال غلط بھی نہیں تھا۔ اس بھیانک انقلاب کی خاموش ابتداء خالد کی کمسنی سے ہی ہوچکی تھی۔ اسے فحش کتابیں پڑھنے کا چسکا لگ گیا تھا۔ دھیرے دھیرے یہ اس کی عادت بنتا گیا۔ گندگی اور فواحشات سے لبریز ان کتابوں کو مسلسل پڑھتے رہنے سے خالد کا ذہن ان فحش کتابوں کی صلیب سے قریب ہوتا گیا۔ دل و دماغ کے صالح خون میں ان کتابوں کا زہر گھلنے لگا۔ ہر پل ان کتابوں کے گھناؤنے کردار دل و دماغ کی زمینوں پر رقصاں رہنے لگے۔ ذہن میں شک و بے اعتمادی کی جڑیں مضبوط تر ہوتی گئیں۔ اور آج خالد ان کتابوں کی صلیب پر لٹکا ہوا دنیا کی ہر عورت کو بدکردار، پُر فریب، عیاش اور بے وفا دیکھ رہا تھا۔ دنیا کی تمام عورتوں کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی بیوی زہرہ کو بھی اس غلاظت کے بحرِ ذخّار میں ڈھکیل دیا تھا، جہاں بہتان کے خوفناک اژدہے اسے نگلنے کے لیے بیتاب تھے اور زہرہ اپنے کو بچانے کی کوشش کررہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کس راہ پر چل کر زندگی کو از سر نو خوشگوار بنائے۔

وہ سوچتی رہی اور دن شام کی منزل کی طرف بڑھتا رہا۔ جب شام کے سائے سرمئی دار پر دم توڑنے لگے تو اس کے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اور اس ٹوٹے ہوئے سلسلے میں سے صرف ایک خیال اچھل کر اس کے سامنے آگیا۔ وہ کچھ دیر اس پر غور کرتی رہی پھر جھپٹ کر اٹھی اور ایک الماری سے کتابیں نکال کر فرش پر پھینکنے لگی۔

’’کاش! … یہ وقت آنے سے پہلے ہی تم ان کتابوں کے زہریلے اثرات سے واقف ہوجاتیں تو آج تمہاری زندگی میں تلخیاں نہ بکھرتیں، اس کے دل نے کہا، یہی وہ کتابیں ہیں، جنھوں نے خالد سے اس کا اعتماد، شرافت اور پاکیزگی چھین لی ہے یہ وہ کتابیں ہیں، جنھیں پڑھنے والا، ماں، بیٹا، بھائی بہن اور دیور بھاوج کے مقدس رشتوں کو بھول جاتا ہے۔ یہ گھر، خاندان اور سماج میں پھیلنے والے بھیانک کوڑھ کے خطرناک جراثیم ہیں۔ ان کا وجود ہی مٹ جانا چاہیے ورنہ یہ انسان کو ایسے کھڈ میں ڈھکیل دیں گی جہاں بے اعتمادی، پست خیالی، اور نفسانیت کی دلدل کے سوا کچھ بھی نہ ہوگا۔ زہرہ نے کتابوں کے ڈھیر میں آگ لگادی۔ عریانیت سے بھر پور کتابوں کے اوراق پھڑ پھڑاتے ہوئے جلنے لگے۔ رفتہ رفتہ ان کتابوں نے شعلوں کا روپ دھار لیا۔ ہوا کے جھونکوں سے جھومتے ہوئے یہ شعلے بلند سے بلند تر ہونے لگے۔ اور جلتے ہوئے اوراق گھر کے کونے کونے میں بکھرنے لگے۔ پھر ان خوفناک شعلوں میں سے ایک مکروہ چہرہ نمودار ہوا جو زہرہ کی اس بیوقوفی پر قہقہہ لگا رہا تھا۔

ہاہاہا ……… آہ ………ہا ہا ہا …… میرا وجود مٹنا ممکن نہیں۔ میں ساری دنیا پر چھایا ہوا ہوں۔ صرف ایک گھر میں مجھے جلا دینے سے کیا حاصل ہوگا اے نادان عورت! میں خود کبھی نہیں جلتا ہوں بلکہ ہمیشہ دوسروں کو جلانا میرا نصب العین ہے۔ ہزاروں گھر اور گھر کے بے گناہ افراد کو میں نے جلا کر راکھ کردیا ہے۔ پابندی کے باوجود دنیا کے بیشتر گھروں میں، میں پروان چڑھ رہا ہوں۔ اگر میں نہ ہوتا تو دنیا صرف عظمت و پاکیزگی کی مالک ہوتی لیکن میں نے عورت کو ننگا اور مرد کو نفس کا غلام بناکر کمزور کردیا ہے میں وہ شعلہ ہوں جو بہت خاموش اور لطیف انداز میں انسان کے دل و دماغ میں سلگ کر جوالا مکھی کی طرح پھٹ پڑتا ہے۔ میں ہوس کا دیوتا ہوں! دنیا کے ساتھ ساتھ قائم ہوا ہوں، اور مجھے دنیا کے ساتھ ساتھ ختم ہونا ہے۔ مجھے دنیا کی کوئی طاقت نہیں مٹا سکتی ہے میں قیامت تک زندہ رہوں گا ۔ آہ …… ہاہا ہا …… ہاہاہا ……

خیالات کی اچانک اور اور خطرناک تبدیلی نے زہرہ کو حواس باختہ کردیا تھا۔ مسلسل ذہنی کشمکش نے اسے بالکل مفلوج کردیا تھا۔ وہ جامد و ساکت پھٹی پھٹی آنکھوں سے ان شعلوں کو دیکھ رہی تھی جو سارے گھر میں پھیلتے جارہے تھے۔ اس کا سارا جسم پسینے میں شرابور ہورہا تھا شعلوں کے آدم خورجبڑے اسے کھانے کے لیے مچل رہے تھے۔ آج پھر بے گناہ سیتا اگنی پرکشا دے رہی تھی۔ آج پھر مقدس مریم غلیظ الزامات کی آگ میں جل رہی تھی۔ وہ اپنے انجام سے بے نیاز ایک کٹی ہوئی شاخ کی طرح شعلوں کے درمیان گر پڑی۔ کیونکہ اپنے تقدس کی بقا وہ اسی صورت میں دیکھتی تھی۔

شیئر کیجیے
Default image
ندیم احمد

تبصرہ کیجیے