BOOST

غیر ملکی سرد مشروب

احسن اسکول سے تھکا ہارا گھر پہنچا تو فریج کھول کر سرد مشروب کی دو بوتلیں چڑھا گیا۔ امی کہتی رہ گئیں کہ پانی سے پیاس بجھاؤ مگر آج کی نئی نسل مغربی پروپیگنڈے کا شکار ہوکر خوشنما بوتلوں میں بند زہریلے پانی کو اپنی پیاس کا مداوا سمجھتی ہے۔ جی ہاں، دعوتوں اور تقریبات میں عام استعمال ہونے والے ٹھنڈے مشروبات دراصل فرحت بخش ذائقے کے بھیس میں زہر ہیں۔ بوتل میں اگر اکھڑا ہوا دانت یا ناخن ڈال دیا جائہ تو وہ دو دن میں گل جائے گا۔ جبکہ یہی دانت، ہڈیاں اور ناخن انسان کے مرنے کے بعد بھی ہزارہا سال تک محفوظ حالت میں مل سکتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ صحت کے لیے حد درجہ خطرناک ہونے کے باوجود بچے دیوانہ وار ان مشروبات کا مطالبہ کرتے ہیں؟

ایک وجہ کمپنیوں کی طرف سے وہ انتہائی سحر انگیز اور گمراہ کن تشہیر ہے جس میں معصوم بچے اور نوجوان مشہور کھلاڑیوں، فلمی ستاروں اور من پسند ہیروئنوں کو دلکش انداز میں یہ مشروبات پیتے دیکھ کر ان کے انداز میں ان کی نقالی کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ چکا چوند ناپختہ ذہنوں کو مرعوب کرکے انہیں ان مشروبات کا عادی بنا ڈالتی ہے۔ دوسری وجہ ان کا ذائقہ ہے جسے انسانی صحت کے لیے خطرناک چیزوں سے تخلیق کیا جاتا ہے۔

انہیں بنانے والے اداروں کا کہنا ہے کہ وہ اپنا آدھا منافع اس بات پر خرچ کرتے ہیں کہ عوام کوئی مشروب مانگنے کے بجائے بوتل کا مخصوص نام لے کر مشروب طلب کریں۔ ظاہر ہے اس زبردست اشتہار بازی کا خرچ استعمال کرنے والے ہی کی جیب سے پورا کیا جاتا ہے۔

یہ مشروب ہیں کیا؟

یہ مشروب جن چیزوں کا مرکب ہیں آپ انہیں باریک انگریزی میں ڈھکن کے اندر ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ یہ کیمیائی مادے درج ذیل ہیں:

کاربن ڈائی آکسائڈ

ہمارا جسم اس نیم زہریلی گیس کو جو خون کے فضلے کے مانند ہے، سانس کے ذریعہ پھیپھڑوں سے باہر نکالتا ہے لیکن مشروبات کی تیاری کے دوران پانی میں یہ گیس خاص طور پر جذب کی جاتی ہے تاکہ پانی میں بلبلے جنم لیں۔ اسے ہم منہ کے ذریعہ اپنے معدے میں اتار دیتے ہیں۔ اس گیس کو پانی میں گزارنے کے عمل سے کاربنی تیزاب بنتا ہے اسی لیے ان مشروبات کی تیزابیت کا درجہ ۴ء۳ ہوتا ہے یعنی انسانی جسم کی تیزابیت سے تین یا چار درجے تیز! اس درجے کی تیزابیت ہڈیوں اور دانتوں کو گھول کر رکھ دیتی ہے۔ انسانی ہڈیاں تیس سال کی عمر کے بعد بننا بند ہوجاتی ہیں یعنی انسانی ڈھانچہ زوال پذیر ہونے لگتا ہے لہٰذا اس عمر میں یہ مشروبات حد درجہ خطرناک ہوتے ہیں۔

کاربن ڈائی آکسائڈ کی وجہ سے مشروب سرد ہوجاتا ہے اور پینے میں فرحت بخش لگتا ہے مگر اسی خاصیت کی بنا پر ہمارے جسمانی نظام اور معدے پر دو چند بوجھ بڑھتا ہے۔ ایک تیزابیت کی وجہ سے اور دوسرا مشروب کے درجہ حرارت کی وجہ سے جو عموماً صفر ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے جبکہ انسانی جسم کا عام درجہ حرارت ۳۷ ڈگری سینٹی گریڈ ہے، اس فرق کو مٹانے کے لیے معدے کو فاضل کام کرنا پڑتا ہے۔

کھانے کے دوران ان مشروبات کے استعمال سے ہاضمے کے مددگار کیمیائی خامرے ختم ہوکر معدے پر کام کامزید بوجھ ڈال دیتے ہیں کیونکہ اسے خامروں کا کام بھی کرنا پڑتا ہے۔ یوں معدہ جلد جواب دے جاتا ہے اور کھانا ہضم ہونے میں دقت ہوتی ہے۔ معدے کی خرابی سے اس میں گیسیں اور دیگر زہریلے مادے بنتے ہیں جو انتڑیوں میں جذب ہوکر جسم کو وقت سے پہلے بوڑھا کردیتے ہیں۔

فسفری تیزاب

یہ تیزابی مادہ لوہے اور اسٹیل کو زنگ سے محفوظ رکھتا اور ہمارے جسم کی ہڈیوں اور دانتوں سے زائد کیلیشم خارج کرتا ہے۔ اس کے مسلسل استعمال سے ہڈیوں کی شکست و ریخت ہونے لگتی ہے اور ہڈیوں کا درد، کمر کا درد اور بعض اوقات معمولی چوٹ سے ہڈیوں کا ٹوٹ جانا جیسی خطرناک علامات جنم لیتی ہیں۔ اس کے باوجود سرد مشروبات کی تیاری میں یہ خاص طور پر استعمال ہوتا ہے۔

جوہر قہوہ

یہ ہمارے اعصابی نظام کو تحریک دینے والی نشہ آور دوا ہے جس کے استعمال سے آدمی وقتی طور پر بیدار، تازہ دم اور خوشی محسوس کرتا ہے مگر پانچ چھ گھنٹے بعد اس کا اثر ختم ہونے پر وہ کمزوری، سستی، اضمحلال اور بوریت کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کا زیادہ استعمال زہر جیسا اثر رکھتا ہے مگر یہ کولا مشروب کا اہم جز ہے۔

کیفین کے زیادہ استعمال سے ہیجان، بے چینی، رعشہ اور دل کی تیز دھڑکن جنم لیتی ہے۔ ساتھ ساتھ دل کی چال کی یکسانیت میں تبدیلی آسکتی ہے۔ سر درد عام ہوتا ہے۔ عام بوتل میں کیفین کی مقدار پینتیس سے پچاس ملی گرام جبکہ ڈیڑھ لیٹر کی بوتل میں دو سو ملی گرام تک ہوتی ہے۔

سوڈابنزول

یہ ایک کیمیائی مادہ ہے جو گاڑیوں میں پانی کو جمے سے بجانے کے لیے ڈالا جاتا ہے۔ یہ سنکھیا سے ملتا جلتا آہستہ آہستہ عمل کرنے والا زہر ہے جو کولا مشروب کی تیاری میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر ایک گھنٹے میں چار لیٹر کولا مشروب پی لیا جائے تو موت واقع ہوسکتی ہے جبکہ دو ڈھائی لیٹر پینے سے بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے۔

رنگدار مادے

تیار شدہ غذا میں ذائقے پیدا کرنے کے لیے رنگ دار مادے استعمال ہوتے ہیں ان میں سرخ امارنتھ اور گندمی بورڈیکس مشروبات کا حصہ ہیں جو تحقیق کے مطابق سرطان کا باعث بنتے اور انسانی صحت کے لیے مضر اثرات رکھتے ہیں۔

مشروبات کے عمومی نقصانات

(۱) ذہنی صحت پر منفی اثرات، بے چینی، ہیجان۔ اڑیل پن پیدا کرکے بچے کو ضدی بنا ڈالتے ہیں۔ ان میں ماں باپ کو تنگ کرنا اور آپس میں مارکٹائی کا رجحان زیادہ ہوجاتا ہے اور ذہانت میں کمی آتی ہے۔

(۲) مشروبات میں شکر بہت ہوتی ہے لہٰذا بچوں کی جسمانی صحت پر منفی اثرات یہ پڑتے ہیں کہ بچہ بظاہر موٹا نظر آتا ہے لیکن اندرونی طور پر کمزور اور سست پڑجاتا ہے۔ کئی بچوں میں بھوک مرجاتی ہے جس سے پیلی رنگت والا لاغر بچہ جنم لیتا ہے جس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اور چہرے پر مردنی چھائی ہوتی ہے۔

(۳) جوہر قہوہ کی وجہ سے ان مشروبات کا کثر سے استعمال جگر کے امراض کا باعث بنتا ہے۔

(۴) طویل عرصے تک استعمال سے معدے کی جھلی کو نقصان پہنچتا ہے اور بلند فشار خون اور ذیابیطس لاحق ہوتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ہر قسم کا مشروب بہت مضر اثرات رکھتا ہے۔

(۵) مشروبات کے زیادہ استعمال سے ذہنی دباؤ ، سردرد، خصوصاً درد شقیقہ پیدا ہوتاہے۔ معقول رویے میں تبدیلی آتی اور ذہنی صلاحیت میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔

(۶) لمبے عرصے تک استعمال معدے اور مثانے کے سرطان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

(۷) حاملہ عورت اگر یہ مشروبات استعمال کرے تو بچے کی جسمانی بناوٹ میں خرابی کے علاوہ معذور بچوں کی پیدائش کا خدشہ بھی ہوتا ہے جس کی شرح ہمارے معاشرے میں بڑھ رہی ہے۔

(۸) امریکی اور یورپی ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ جن ممالک میں سرد مشروبات کا استعمال عام ہے وہاں مندرجہ بالا امراض عام ہیں۔

(۹) اب وہ بھی اپنے عوام پر زور دے رہے ہیں کہ سرد مشروبات کم سے کم استعمال کریں کیونکہ اگر ان کا چلن یہی رہا تو بیس سال بعد لاکھوں لوگ متفرق امراض کا شکار ہوکر اذیت ناک زندگی بسر کررہے ہوں گے۔

متبادل صحت افزا مشروبات

(۱) دودھ کے سادہ یا ذائقے دار مشروب۔ الائچی اور بادام پستے کی کترن کے ساتھ۔ ادرک اور شہد کے ساتھ، کھجور کے مرکب کے ساتھ۔ پھل اور دودھ کا مرکب (ملک شیک)، آم ، کیلے یا سیب کا ، لسی سادہ یا ذائقہ دار مثلاً خشخاش یا بادام کے ساتھ دودھ پینا نہایت مفید ہے۔

(۲) سرد پانی کے مشروب: سکنجبین،گڑ یا لیموں اور نمک کے ساتھ، آلو بخارے اور املی کے شربت، تخم بالنگو اور گوند کتیرا۔ جڑی بوٹیوں کے مشروب مثلاً شربت الائچی، شرب بزوری وغیرہ۔

(۳) تازہ جوس: مثلاً گاجر کا جوس، سیب اور گاجر کا جوس، انار، آم کا جوس، مالٹے کا جوس وغیرہ۔

(۴) سبزقہوہ: اسے الائچی، ادرک، لیموں اور سونف کے ساتھ خصوصاً سردیوں میں مزاج کے مطابق استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کالی چائے کی نسبت یہ ہاضمے اور صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔

آخری بات

اگر آپ کے بیت الخلاء کا نکار بند ہوجائے تو رات کو کسی بھی کولا مشروب کی لیٹر یا ڈیڑھ لیٹر والی بوتل اس میں ڈال دیں۔ صبح پانی بہائیے تو نکاس بڑی آسانی سے کھل جائے گا۔ آپ خود سوچیے کہ ایسی زہریلی تفریح سے آپ کو درحقیقت کتنا شدید نقصان پہنچتا ہے؟ خدارا وقتی تسکین کے لیے اپنے آپ کو وقت سے پہلے قبر میں نہ اتارئیے۔

ہمیں چاہیے کہ ایک صحت مند معاشرے کے قیام کے لیے بھر پور جدوجہد کریں، اب آپ کا فرض ہے کہ سرد مشروبات کی اصل حقیقت سے دوسرے لوگوں کو بھی آگاہ کریں تاکہ وہ عالم بے خبری سے نکل کر حواس میں آئیں اور غیر فطری عادات چھوڑ کر فطرت کی آغوش میں تندرستی کی زندگی گزاریں۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر انعام اللہ

تبصرہ کیجیے