6

خیر کے طلبگارو! آگے بڑھو!

تقویٰ ہی وہ اجالا ہے جو زندگی کی شاہراہ کو روشن کرتا، رضائے رب کی منزل کو پہنچاتا، اور انسان کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ زندگی کی راہ میں خدا کی نافرمانی کی جو خاردار جھاڑیاں اگی ہوئی ہیں ان سے اپنے دامن کو بچاتے ہوئے اپنا سفر حیات طے کرے۔ اسلامی زندگی تقویٰ کے محور پر گھومتی ہے۔ یہ ایک مکمل ذمہ داری کی زندگی ہے۔ اس میں کوئی کام کوئی بات اور کوئی سرگرمی ایسی نہیں ہے جو انسان کو ایک غیر ذمہ دار اور غیر مسئول وجود قرار دے۔ ایک معین نصب العین ہے۔ ایک طے شدہ اور سیدھی راہ منزل ہے جس پر زندگی کا راہی رواں دواں رہتا ہے۔

تقویٰ کی روح کو بیدار کرکے رمضان انسان کے اندر وہ ذمہ دارانہ نقطہ نگاہ اور طرز عمل پیدا کرتا ہے جو مومن کے لیے سرمایہ حیات ہوتا ہے۔

قرآن پاک کی بنیادی دعوت توحید کی دعوت ہے۔ قرآن یہ پیغام دیتا ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی میں اللہ ہی کو اپنا معبود بنائے، اس پیغام کو انسان کے ذہن اور عمل میں رائج کرنے کے لیے قرآن نے نماز اور روزہ کی شکل میں ایک عملی پروگرام بھی پیش کردیا ہے تاکہ مومن بندوں میں وہ صلاحیتیں پوری طرح اجاگر ہوجائیں جو رضائے رب کی راہ میں زاد سفر کا کام دیتی ہیں۔

رمضان المبارک کے آداب و احکام پر ایک اچٹتی ہوئی نگاہ ڈالنے ہی سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ تقویٰ کی زندگی بسر کرنے کی صلاحیت اس کے ذریعہ کس طرح پیدا ہوتی ہے۔ تقویٰ کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی ہمہ بیں نگاہوں کو نگراں محسوس کرنے پر ہے، خدا کو حاضر وناظر جاننے کا ملکہ حاصل کیے بغیر انسان تقویٰ کی زندگی نہیں بسر کرسکتا اور روزہ یہی ملکہ پیدا کرتا ہے، اس کے لیے حلال چیزوں سے ایک وقت معین کے لیے پرہیز کیا جاتا ہے۔

تقویٰ کی یہ روح تازہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ روزہ شعور اور احساس کے ساتھ رکھا جائے۔ خصوصاً جہاں زندگی کا پورا ڈھانچہ نا خدا پرستی کی بنیاد پر اٹھانے کی کوشش ہورہی ہوں، وہاں اس شعور و احساس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

مختصر یہ کہ رمضان کی غرض و غایت یہ ہے کہ امت مسلمہ کے اندر تقویٰ کی روح کو بیدار کرکے اسے رضائے رب کی راہ پر چلنے کا خوگر بنایا جائے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے پورے مہینے کے روزوں کو فرض قرار دیا گیا۔ اسی پس منظر میں یہ بات بھی نمایاں ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ ہر بندہ مومن کے لیے جہاں یہ بات ضروری ہے کہ وہ روزے کے آداب و احکام کو پورے شعور، پورے یقین اور پورے احساس کے ساتھ بجا لائے وہیں اس کا یہ فرض بھی ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی خدا کی رضا کے مطابق بنانے کی کوشش کرے اور زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہ رہ جائے جس پر رضائے رب کی چھاپ نہ پڑی ہو۔ خدا سب لوگوں کو توفیق عمل سے نوازے کہ وہ رمضان کی برکتوں کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرسکیں۔

رمضان المبارک، تربیت و تزکیہ کا مہینہ ہے۔ خدا کے وفاداروں کا مہینہ ہے۔ ان کا مہینہ ہے جو خدا کا ذکر کرنے والے اور سچے ہیں۔ یہ مبارک مہینہ بھی تمہارے قلوب کی اصلاح نہ کرے گا، گناہوں سے نہ بچائے گا اور تمہیں اہل بدعت اور گناہگاروں سے محفوظ نہ رکھے گا تو پھر اور کیا چیز تمہیں ان چیزوں سے بچا سکے گی۔ اگر ماہ رمضان کی خیروبرکت سے تم محروم رہے تو تم سے کسی نیکی اور خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اور نہ یہ امید ہوسکتی ہے کہ تم سے کوئی بدبختی دور ہوجائے۔

اسے مسکینو اور نادار بھائیو! غفلت سے بیدار ہوجاؤ۔ آنکھیں کھولو، اپنا سر اٹھاؤ جو نعمت اور عظمت تمہیں خدا نے بخشی ہے، اس پر سوچ بچار کرو۔ خدا سے توبہ و استغفار کرو۔ خدا سے اپنے گناہوں کی معافی چاہو۔ وہ بڑا ہی کارساز ہے۔ اس کی اطاعت میں لگ جاؤ۔ کیا معلوم آنے والے سال میں پھر خیروبرکت کا مبارک مہینہ نصیب ہوگا یا نہیں۔بہت سے روزے دار ایسے ہیں جو پھر اپنی زندگی میں اس مہینے کو نہ دیکھ سکیں گے۔ بہت سے قیام و تراویح کا اہتمام کرنے والے ایسے ہیں کہ ان کو زندگی میں دوبارہ قیام اور تراویح کا موقع نہ مل سکے گا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنی مصروفیات اور مشاغل میں لگے رہو اور خیرو برکت کا یہ مہینہ نکل جائے۔ اگر ایسا ہوا تو تم بڑے خسارے میں رہو گے۔ اگر ہم نے اس خیروبرکت کے عظیم مہینہ سے استفادہ میں تساہل اور غفلت سے کام لیا تو یاد رکھو کہ یہ مہینہ اپنا وقت پورا کرنے میں غفلت کا ثبوت نہیں دے گا اور بڑی ہی تیز رفتاری سے گزرتا چلا جائے گا۔ یہ تو صرف ان لوگوں کو سعادت اور عظمت تقسیم کرتا ہے اور دونوں ہاتھ سے تقسیم کرتا ہے جو خود اس سے سعادت اور عظمت کے طلبگار ہوں۔ پیچھے ہٹنے والوں اور اعراض کرنے والوں سے تو اس کو سخت نفرت ہے اور ایسے لوگوں کے لیے یہ شقاوت اور بدبختی میں اضافہ کردیتا ہے۔

دیکھو، کہیں ایسا نہ ہو کہ رمضان کا مہینہ تو تم سے یہ کہے کہ تم اپنا منہ بند رکھو اور تم اس پر عمل نہ کرسکو، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کا مطالبہ تو یہ ہو کہ تم اپنی زبان پر لگام لگائے رہو اور تم اس پر عمل نہ کرسکو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ تم سے اس بات کا خواہش مند ہو کہ تم اپنی آنکھ کو بہکنے نہ دو اور تم اس کی خواہش کا احترام نہ کرپاؤ۔ اور کہیں ایسا نہ ہو کہ تم سے وہ نیکی اور بھلائی کے راستے کی طرف قدم اٹھانے کے لیے کہے اور تم کسی دوسری راہ کی طرف بڑھنے لگو۔ تمہیں معلوم ہے کہ رمضان کے بارے میں اسی نبی ﷺ نے جس کی امت میں تم ہو، اور اس نبی ﷺ نے جس پر ہر ایک اپنے ماں باپ اور عزیز ترین اشیاء کو قربان کرسکتا تھا، کیا فرمایا ہے؟ آپ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے کہ وہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوںگا اور روزہ ایک ڈھال ہے۔ تو جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اسے بے حیائی اور لغو بات سے بچنا چاہیے۔ اور اگر اس سے کوئی گالی گلوج اور لڑائی جھگڑا کرنا چاہے تو اسے کہہ دینا چاہیے کہ میں روزے سے ہوں۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بہتر ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جب وہ افطار کرتا ہے تو افطار سے خوشی ہوتی ہے اور جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہوگا۔ (بخاری)

ذرا غور کرو اور آنکھیں بند کرکے دیکھو کہ خدا کے رسول ﷺ اور تمہارے محبوب نبی کیا فرمارہے ہیں کہ ’’روزہ خدا کے لیے ہے اور اس کا اجر وہ خود دے گا۔‘‘ بھائیو! روزہ اللہ تعالیٰ کا ایک مہمان ہے، اس کی قدر کروگے اور اس کے حقوق اور ذمہ داریاں پوری یکسوئی اور دل سے ادا کرو گے تو یہ تمہارے لیے ایسا مہمان ہوگا جو جب جاتا ہے تو اپنے میزبان کو اس کی میزبانی سے نوازتا ہے اور یہ تو خدا کا مہمان ہے۔ اس کی نوازشیں تو تمہارے لیے دین اور دنیا دونوں میں معین و مدد گار ثابت ہوں گی۔ (شعور حیات)

شیئر کیجیے
Default image
مولانا محمد یوسف اصلاحی

تبصرہ کیجیے