5

حضرت ناجیہؓ ایک مبلغ ایک مجاہد خاتون

حضرت ناجیہ رضی اللہ عنہا انصار کے مشہور قبیلے بنو اسلم کی خاتون تھیں۔ آپ کے والد ماجد حضرت سہیل بن عمروؓ سرزمین حجاز مقدس کے مشہور تاجر اور قبیلہ اسلم کے سردار تھے۔ بعد ہجرت مشرف بہ اسلام ہوئیں۔ ان کا قبیلہ مدینہ طیبہ سے کچھ فاصلے پر رہتا تھا۔ مگر یہ خود مدینہ طیبہ میں ہی رہا کرتی تھیں۔

حضرت ناجیہؓ نہایت سنجیدہ اور حسین و جمیل تھیں۔ جو باتیں ایک سراپا جمال عورت میں ہونا چاہئیں وہ سب کی سب بدرجہ کمال موجود تھیں۔ قبیلہ بنو اسلم میں ان سے اعلیٰ اور ممتاز کوئی اور عورت نہ تھی۔ شعروسخن سے بھی بے حد دلچسپی رکھتی تھیں اور ان کے اشعار درد آلود ہوتے تھے۔

تبلیغ اسلام

حضرت ناجیہؓ کو اشاعت اسلام سے بے پناہ دلچسپی تھی۔ ان کا یہ معمول تھا کہ مہینہ میں دو مرتبہ مختلف قبائل کی خواتین کے گھر جایا کرتی تھیں اور ان کے سامنے اسلام کے فضائل و محاسن بیان کرتی تھیں۔ ان کی تقریر نہایت اثر انگیز اور وجد آفرین ہوتی تھی۔ جب وہ محفلِ خواتین میں وعظ کے لیے تشریف فرما ہوتیں تو ایک عجیب اثر طاری ہوجاتا تھا اور جب تک وعظ ختم نہ ہوجاتا، عورتیں ہمہ تن متوجہ رہتی تھیں۔ اس کمال خطابت کے ساتھ ان کا طرزِ عمل ہر ادنیٰ و اعلیٰ کے ساتھ بے حد ہمدردانہ تھا۔ جب آپ کو یہ معلوم ہوتا کہ فلاں قبیلہ کی عورت بیمار ہے اور اس کا کوئی ہمدرد نہیں ہے تو وہ اس کے یہاں پہنچ جاتیں۔ اور جب تک اسے آرام نہ ہوتا روزانہ بلاناغہ اس کے لیے کھانا وغیرہ بھیجتیں اور اس کی تیمار داری کا فرض انجام دیتی تھیں۔ ان کی یہ ہمدردی مسلم عورتوں تک ہی محدود نہ تھی بلکہ وہ ہر غریب عورت کی خدمت اپنا فرض سمجھتی تھیں اور ان کی اس ہمدردی کی وجہ سے تمام قبائل کی عورتیں ان کا احترام کرتی تھیں۔

حضرت عاتکہؓ زوجہ حضرت عبداللہ بن ابوبکرؓ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت ناجیہؓ سے زیادہ خلیق، خوبصورت، ممتاز ،ہمدردا ور جفا کش کسی عورت کو نہیں دیکھا۔ وہ بے انتہا ذہین تیز طبیعت اور انکسار پسند تھیں، انھیں اشاعتِ اسلام سے بہت عشق تھا۔ ان کی سعیٔ حسنہ سے تقریباً ایک سو بارہ عورتیں مسلمان ہوئیں وہ اگرچہ ایک دولت مند باپ کی بیٹی تھیں۔ مگر ان کے مزاج میں نخوت و غرور کا نام و نشان تک نہیں تھا۔ آپ کا حافظہ اس قدر تیز تھا کہ کسی بات کو غور سے سننا اور یاد ہوجانا دونوں باتیں آپ کے واسطے ایک تھیں۔

عقد مسعود

حضرت ناجیہؓ کی شادی عبداللہ بن جریر سے ہوئی۔ جو یمن کے شاہی خاندان کے ایک فرد اور قبیلہ بنو عامر کے سردار تھے۔ حضرت جریرؓ قبول اسلام کے لیے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو حضورؐ نے فرمایا ’’کیسے آنا ہوا؟‘‘ حضرت جریرؓ نے عرض کیا ’’قبول اسلام کے لیے حاضر ہوا ہوں‘‘ حضورؐ نے ان کے بیٹھنے کے لیے اپنی چادر بچھا دی اور صحابہ کرامؓ سے فرمایا: ’’جب تمہارے پاس کسی قوم کا سردار آئے تو اس کی مناسب تعظیم کرو۔‘‘ اس کے بعد حضرت جریرؓ نے بیعت کے لیے ہاتھ بڑھایا اور عرض کیا : ’’میں مقدس مذہب دین اسلام پر بیعت کرتا ہوں۔ میں ہمیشہ اسلام کا وفادار رہوں گا۔‘‘

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت جریرؓ نہایت ذہین، تیز طبیعت، جری اور بیباک تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے پہلو میں ایک ایسا دل عطا کیا تھا جو عدل و انصاف رحم و کرم اور جرأت و شجاعت سے معمور تھا۔ ان ہی فضائل و محاسن کی وجہ سے حضرت ناجیہ کو ان سے بے پناہ محبت تھی اگر وہ کبھی بیمار ہوجاتے تو حضرت ناجیہؓ نصف بیمار ہوجاتیں اور ہر وقت پریشان رہتی تھیں۔ حضرت جریرؓ کسی قدر تیز مزاج تھے۔ لیکن حضرت ناجیہؓ نے اپنی مخلصانہ خدمات اور اپنی روشن خیالی سی ان کے دل کو فتح کرلیا تھا اور ہر بات میں ان کی رضا مندی کو سامنے رکھتے تھے۔ (طبقات ابن سعد جلد:اول، ص:۲۵۸)

مجاہدانہ خدمت

حضرت ناجیہؓ اسلام کی ایک جانباز سرفروش خاتون تھیں۔ ان کا یہ معمول تھا کہ جب حق و باطل کی جنگ شروع ہوتی تو بے باکانہ میدانِ جنگ میں پہنچ جاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی اور مجاہدین اسلام کے کھانے کا انتظام خود اپنے ذمہ لے لیتیں۔ جنگ یرموک ایک ایسی تاریخی جنگ ہے جس میں پہلی بار حضرت ناجیہ کی تلوار بے نیام ہوئی اور خوب لڑیں۔ اس جنگ کے آغاز میں مسلمانوں کے دو عظیم سپہ سالار شہید ہوگئے تھے۔ حضرت ناجیہؓ اور حضرت جریرؓ نے یہ صورتِ حال دیکھ کر پوری قوت سے حملہ کیا۔ نہایت خونریز جنگ ہوئی تھی۔ دشمن کی فوج جب پیچھے ہٹتے ہٹتے سپہ سالا کے پاس پہنچی ، سپہ سالار سواری سے اتر پڑا۔ اس نے پورے استقلال کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ کیا اس کے ساتھ دوسرے افسرانِ فوج بھی آگے بڑھے اور کامل شدت کے ساتھ لڑائی شروع ہوگئی۔ چند منٹ بعد حامیانِ باطل کا ایک اور امدادی دستہ بھی پہنچ گیا۔ اب مسلمانوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ اس نازک اور خطرناک موقعہ پر حضرت ناجیہؓ نے مجاہدین کو مشورہ دیا کہ میمنہ کی جانب سے دشمن کے قلب پر متفقہ حملہ کرو۔ مجاہدین نے اس مشورہ پر عمل کیا اور اس تدبیر کا اثر یہ ظاہر ہوا کہ دشمن کی صفیں درہم برہم ہوگئیں اور وہ نہایت بے ترتیبی کے ساتھ پیچھے ہٹتے گئے۔ اس پسپائی کے موقعہ پر حضرت ناجیہؓ نے دشمن کے سپہ سالار پر نہایت سرفروشانہ حملہ کیا اور پہلے ہی وار میں اس کا خاتمہ کردیا پھر دشمن زیادہ دیر تک میدان میں نہ ٹھہر سکا اور پریشان ہوکر بے تحاشہ بھاگا۔

روح پرور تقریر

جنگ یرموک کی فتح کے بعد حضر ت ناجیہؓ مع اپنے شوہر کے مدائن پہنچیں وہاں آپ نے ایرانی خواتین کے ایک عظیم الشان اجتماع میں ایک روح پرور تقریر فرمائی جس کی شرح یہ ہے:

ہر طرح کی تعریف خدائے قدوس کے لیے ہے جو واحد ویکتا ہے۔ ارض و سما کا مالک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں جب کوئی گناہگار آدمی اس کے آگے توبہ کے لیے سرجھکاتا ہے تو وہ قدوس حق نواز اس کے گناہوں کو معاف کردیتا ہے اور اس پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے۔‘‘

امابعد! محترم بہنو! آج میں آپ کو اپنے رسول مکرم ﷺ کے کچھ حالات سنانا چاہتی ہوں امید ہے آپ اطمینان کے ساتھ میرے بیان کو سنیں گی۔

کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ حضرت رسول اکرم ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے عراق، شام اور ایران و عرب میں جہالت کی گھٹائیں چھارہی تھیں اور ہر طرف ظلم و ستم کی حکمرانی تھی۔ انسانیت کے حقوق پامال ہوگئے تھے۔ عورتوں کا درجہ جانوروں سے بھی بدتر تھاوہ کبھی ’’شیطان‘‘ سمجھی جاتی تھیں تو کبھی ’’پتھر‘‘ اخلاقی قوانین درہم برہم ہوگئے تھے اور برے کاموں سے کوئی شرمندہ نہ ہوتا تھا۔ ان حالات میں حضور آقائے نامدار رسول معظم ﷺ نے اپنی پاک اور مقدس تعلیمات سے ظلم و ستم اور کذب و فریب کا خاتمہ کیا اور جاہل وحشیوں کو کامل انسان بنایا۔ طبقہ نسواں کی مظلومیت حد سے بڑھی ہوئی تھی۔ حضور مصلح اعظم رحمت عالم ﷺ نے ان کو خاک ذلت سے اٹھا کر آسمان عظمت پر پہنچایا۔

محترم بہنو! میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ تم غلط راستہ چھوڑ کر صحیح راستہ اختیار کرو ۔ تاریکی سے نکل کر روشنی میں آجاؤ۔ اللہ بھی تمہارا مددگار ہوگا۔

حضرت ناجیہؓ کی ان تبلیغی مساعی سے بہت سی عورتیں و مرد شرف اسلام سے بہرہ اندوز ہوئے۔

شیئر کیجیے
Default image
رضی الدین معظم