2

انسانی زندگی- زہر کے حصار میں

آج خدا بیزار مادہ پرستانہ نقطۂ نظر کی بے روک ٹوک اشاعت نے انسانیت کو خطرات سے دوچار اور صحت انسانی کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔ اپنے فائدہ کے لیے ہتھیاروں کی فروخت ہو یا مضر صحت کھانے پینے کی اشیاء کا معاملہ انسانی زندگی صبح سے شام تک ہر وقت انسانوں کی پیدا کردہ مصیبتوں اور لعنتوں کی زد میں ہے۔

۲۱؍فروری ۲۰۰۵ء کے اخبارات میں خبر کے مطابق ہندوستان سے انگلستان بھیجی جانے والی سرخ مرچوں کی جانچ کے نتیجہ میں پایا گیا کہ اس میں سوڈان-I، نام کا کیمیاوی مادہ پایا گیا جو کہ انتہائی مضر صحت اور کینسر پیدا کرنے والا ہوتا ہے۔ کیونکہ انگلستان کا معاملہ تھا اس لیے اخبارات میں بھی یہ خبر کافی دنوں تک گرم رہی۔ قوانین بھی بنائے گئے کہ ایکسپورٹ کرنے والی اشیائے خوردونوش کی سخت چیکنگ کی جائے۔ حکومت انگلستان نے بتایا کہ یہ مادہ عموماً پالش کریم اور رنگ والے رقیق مادوں میں استعمال ہوتا ہے۔ اس کی اشیائے خوردونوش میں موجودگی سخت غلط حرکت ہے۔ اس کے نتیجہ میں ایک کروڑ پچاس لاکھ پاؤنڈ مالیت کا تیار شدہ سامان ضائع کرنا پڑا۔ اس کے بالمقابل ہمارے ملک کی ریاست اترپردیش میں گذشتہ مہینوں میں لکھنؤ اور آس پاس کے اضلاع میں سرسوں کے تیل میں زہریلا مضر صحت تیل ملایا گیا نتیجتاً بڑے پیمانے پر گردہ اور جگر کی بیماریاں عوام میں پیدا ہوگئیں۔ بہت شور شرابے کے بعد ہی چند بیوپاریوں کے خلاف کارروائی ہوپائی۔ ہاپوڑ اور خورجہ میں بڑے بڑے گوداموں پر چھاپہ کے دوران گھی میں ملانے کے لیے رکھے گئے معدنی تیل اور اس سے تیار شدہ زہر آلو گھی پکڑا گیا۔ ۲۹؍اپریل ۲۰۰۵ء کو ایٹہ میں چھاپا مارے جانے پر پانچ کروڑ روپیہ سے زیادہ قیمت کی ملاوٹی اشیاء ہائیڈروجن پیراآکسائڈ، یوریا، کاسٹک سوڈا، گلوکوز اور ریفائنڈ تیل کے دس ہزار سے زیادہ ڈرام پکڑے گئے۔ اسی شہر میں بڑی کمپنی کے ٹھنڈے مشروب بنانے کی جعلی فیکٹری بھی پکڑی گئی۔

دن رات جس ہوا، پانی، اناج، دودھ، سبزی، دال، گوشت، دواء، پھل، کریم، پاؤڈر، اور صابن کو ہم استعمال کررہے ہیں وہ کتنی محفوظ یا مضر ہیں اس کا اندازہ اس اجمالی تذکرے سے لگاسکتے ہیں۔ صبح اٹھتے ہی پی جانے والی چائے کی پیالی یا ٹوتھ پیسٹ یا منجن کن کن زہروں سے مرکب ہوگا آپ کو معلوم نہیں۔ این جی او ’’ٹاکسگ لنگ‘‘ کے روی اگروال کہتے ہیں کہ دودھ اگر زہریلا نہ ہو تب بھی اس میں یوریا ضرور ہوگا۔ جانوروں کو لگائے جانے والے ہارمون کے جزئیات ہوں گے جس سے اسقاط حمل اور بانجھ پن پیدا ہوسکتا ہے۔ چائے کی پتی میں لکڑی کا برادہ،لوہے کا برادہ، رنگی ہوئی پتیاں، چمڑہ کا پاؤڈر اور کول تار کا رنگ ملا ہوسکتا ہے۔ میدہ کی سفید ڈبل روٹی کو رنگ کر سوجی کی براؤن بریڈ بنادیا جاتا ہے۔ اور چینی میں چاک کا پاؤڈر ملا ہوسکتا ہے۔

دوپہر کے کھانے میں دال، سبزی، تیل، گوشت، گھی، دھنیا، مرچ، اچار، چٹنی کچھ بھی استعمال کریں سب میں ملاوٹی یا مضر صحت مادوں کا پایا جانا ممکن ہے۔ سب سے زیادہ عام مضر صحت اشیاء میں کیڑے مار ادویہ ڈی ڈی ٹی وغیرہ شامل ہیں۔ جو عموماً خطرناک حد تک زیادہ ہوتی ہیں۔ دالوں کو رنگنے والے مادے سے کینسر ہوسکتا ہے۔ ہلدی میں کی جانے والی ملاوٹ سے خون کی کمی، فالج اور ذہنی نشوونما میں کمی، مٹھائیوں میں میٹانل پلو اور روڈامنBملانے سے کینسر، اچار میں کاپرسالٹ ملانے سے گردوں کے لیے خرابی، سونف کی ملاوٹ سے کینسر، وناسپتی میں ملی جانور کی چربی سے الٹی اور متلی نیز صابن بنانے میں کام آنے والے پام آئیل کی چربی اسٹرین سے دل اور معدہ کے خطرناک امراض، بینگن پر چمکانے والا مادہ کینسر، پتہ گوبھی پر موجود میتھائیل پیرانتھین کینسر اور نشوونما میں رکاوٹ اور نمک میں موجود رنگولی معدہ و آنت میں خراش پیدا کرسکتے ہیں۔مٹھائیاں اگر مصنوعی دودھ سے بنی ہیں تو اس میں صرف اور یوریا بھی ملا ہوگا۔

کولڈ ڈرنک اور فاسٹ فوڈ

انسانی ضروریات کو کاروباری مقصد سے استعمال کرنے کے ذہن نے فاسٹ فوڈ کو رواج دیا۔ جن کے بارے میں متفقہ رائے ہے کہ ان کے مستقل استعمال سے متعدد قسم کے امراض لاحق ہوسکتے ہیں۔ سنجے گاندھی پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر کے مطابق فاسٹ فوڈ اور شراب کے استعمال کی وجہ سے پیٹ اور جگر کے امراض میں اضافہ ہورہا ہے۔ اس زمرہ میں ہاٹ ڈاگ اور برگر بھی شامل ہیں جو کہ گوشت کو مخصوص طور پر بنایا جاتا ہے۔ تازہ ترین تحقیق کے مطابق اس طرح تیار شدہ غذائی اشیاء کے استعمال سے بانقراس Pancreasکے استعمال کا خطرہ بہت ہوتا ہے۔ مصنوعی طور پر تیار کیے گئے مشروبات میں کوک اور پیپسی سرفہرست ہیں۔ گذشتہ اگست میں کولا میں پائے جانے والی کرم کش ادویہ کی سطح خطرناک حد تک مضر صحت پائی جانے کے بعد بہت ہنگامہ ہوا تھا۔ بعد میں لوک سبھا کی مشترکہ جانچ کمیٹی نے ان الزامات کو صحیح پایا تھا کہ کوکا کولا میں کیڑے مار ادویہ کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ تھی۔ مگر سوال یہ ہے کہ سالوں تک اس مقدار میں مضر صحت کولا کو اربوں لوگوں نے استعمال کیا اس نقصان کو کون پورا کرے گا؟ کیا اس نقصان کے لیے ہم خود بھی ذمہ دار نہیں ہیں؟ کوکا کولا صرف ایک کمپنی (پیپسی الگ ہے) نے ۲۰۰۲ء میں ۲۰۰ ممالک میں کاروبار کرکے ۱۹ ارب ڈالر یعنی تقریباً ۸۵۵ ارب روپیہ کے کاروبار میں تین ارب ڈالر یعنی ایک کھرب ۳۵ ارب روپیہ کا خالص منافع کمایا۔ یعنی دنیا بھر کے لوگوں نے ایک غیر ضروری بلکہ مضر صحت عادت پر اپنی گاڑھی کمائی کا نہ صرف روپیہ ضائع کیا بلکہ بدلہ میں بیماریاں بھی خریدتے رہے اور خرید رہے ہیں۔ جس سے مستقل ذہنی و جسمانی تکلیف کے ساتھ دواء علاج کا خرچہ بھی بڑھاتے ہیں۔

ٹھنڈے مشروب کے مہلک نقصانات:

ٹھنڈے مشروب (کولا) ایک سے زائد طریقے سے انسانی جسم کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ٹھنڈے مشروب کا عمل تیزابی PH3.4ہوتا ہے ۔ اتنی تیزابیت دانتوں اور ہڈیوں کو گھولنے کے لیے کافی ہے۔ ان مشروبات میں تغذیہ نہیں ہوتا بلکہ اس میں چینی، رنگ اور محفوظ رکھنے والے مادے ہوتے ہیں۔ ان کا درجہ حرارت پیتے وقت عموماً صفر سے قریب رہتا ہے۔ اتنا کم درجہ حرارت ہمارے نظام ہضم کو متاثر کرتا ہے، انزائم کا کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے، غذا میں خمیر پیدا کردیتا ہے اور اس خمیر سے پیدا ہونے والے زہریلے مادے اور گیس آنتوں کے ذریعہ جذب ہوکر خون میں شامل ہوکر پورے جسم کو متاثر کرتے ہیں، جو کہ بہت سی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ اندازہ لگائیں کہ آپ کے چھوٹے بچوں کے نرم و نازک ہڈیوں، دانتوں، آنتوں اور نظام ہضم پر یہ رقیق اور خوبصورت زہر کتنا مہلک اثر ڈالتا ہے۔ پھر کیا آپ زہر کو خریدنے اور استعمال سے باز آئیں گے۔ (ٹائمس آف انڈیا ۸؍اگست ۲۰۰۴ء)

سامان آرائش و زیبائش یا سامانِ بیماری

صَرف، نرما اور دیگر کپڑا دھونے کے صابن اور پاؤڈر ہاتھوں اور ماحولیات کو جو نقصان پہنچا رہے ہیں وہ اکثر لوگوں کے علم میں نہیں۔ سرف اور نرما کی الرجی بہت مشہور ہے۔ مگر ان خوبصورت زہروں کے بارے میں علم و شعور زیادہ عام نہیں ہے۔ جو امریکہ اور یورپ سے میک اپ کے سامان کے طور یہاں آتا ہے اور اپنا رعب جماتا ہے۔ مشہور برانڈوں کی خالص مصنوعات کے مضر صحت اثرات پر ہم یہاں کچھ روشنی ڈال رہے ہیں مگر ہماے یہاں تو آدھے زیادہ مارکیٹ میں جعلی اور ڈپلیکیٹ مال کا قبضہ ہے۔ کیونکہ اس میںناقابل یقین حد تک منافع ہوتا ہے۔ خالص اشیاء آرائش و زیبائش کے خلاف جب انہیں ممالک سے انتہائی موثر تحقیقی اور مستند رپورٹ آرہی ہیں تو ان کی ڈپلیکیٹ اشیاء کتنی حسن افزاء ہوں گی یہ قیاس کرنا بہت آسان ہے۔

بال رنگنے سے کینسر کا خطرہ بڑھا: امریکہ کی سیل اسکول آف میڈیسن کے شعبہ برائے وبائی امراض و ماحولیات میں معاون پروفیسر نونزینگ زینگ کی تحقیق امریکن جنرل برائے وبائی امراض میں شائع ہوئی جس میں ۱۳۰۰ خاتون مریضوں پر طویل ریسرچ کے بعد پایا گیا کہ جو خواتین ۲۰ سال یا زیادہ عرصہ سے بال رنگ رہی ہیں انہیں لمغاوی نظام میں پایا جانے والا کینسر کے امکانات ایک تہائی بڑھ جاتے ہیں اور ۲۵ سال سے گہرے رنگ استعمال کرنے والوں میں دو تہائی امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ ۲۰۰۴ء میں اس مخصوص کینسر کے ۵۴۰۰۰ مریض صرف امریکہ میں ہوں گے جن میں سے ۱۹۰۰۰ کی موت واقع ہوجائے گی۔ (راشٹریہ سہارا اردو ۲۵؍جنوری ۲۰۰۴ء)

بیوٹی کریم اور لوشن جلد کے لیے خطرہ: لکھنؤ میں واقع انڈسٹریل ٹاکسیکولوجی ریسرچ سینٹر کے سائنسدانوں ڈاکٹر راجندر کمار ہنس، محمد فاروق ، آر ۔ایس۔ رے اور آر۔بی۔ مشرا نے، جو فوٹو بائیلوجی شعبہ سے منسلک ہیں، ہندوستان کی دس مختلف کمپنیوں کی لپ اسٹک اور آٹھ کریموں پر ریسرچ کے بعد آگاہ کیا کہ ’’ان میں پائے جانے والے اجزاء سورج کی روشنی کے اثر سے متحرک ہوجاتے ہیں اور زہریلے اثرات پیدا کرنے لگتے ہیں۔ سورج کی شعاعوں کا اثر ان کے کچھ اجزاء کو توڑ دیتا ہے اور وہ جلد کے ذریعہ جذب کرلیے جاتے ہیں۔ سورج کی روشنی میں موجو دالٹراوائلیٹ شعاعیں کریموں اور لپ اسٹکوں میں موجود کچھ اجزاء کو کھال میں جذب کرنے کے لائق بنادیتی ہیں جہاں وہ خلیات کی تباہی کا سبب بنتی ہیں۔ یہ رپورٹ بنگلور میں مالیکولر بائیلوجسٹ کی عالمی کانفرنس میں پیش کی گئی۔ (ہندوستان ٹائمس، ۹؍جنوری ۲۰۰۴ء)

اگست ۲۰۰۴ء میں پاگل گائے نام کی بیماری کے گایوں میں پھیلنے سے امریکی میک اپ انڈسٹری میں تہلکہ مچ گیا کیونکہ تقریباً شیونگ کریم، شیمپو، کریم، اسپرے، لپ اسٹک اور آنکھوں کی لائنرس میں چمک اور چکنائی کے لیے گائے کے مختلف اعضاء کا روغن ملایا جاتا ہے۔ خدشہ یہ تھا کہ اس ناقابل علاج بیماری کے جراثیم اس روغن اور کریم کے ذریعہ آنکھوںیا زخموں کے ذریعہ سے جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔ امریکی حکومت نے حکم دیا کہ اس روغن کے بجائے دوسرے روغنیات کا استعمال کیا جائے۔ (ٹائمس آف انڈیا، ۲۸؍اگست ۲۰۰۴)

(واضح رہے کہ ہندوستان میں امریکی سامان آرائش کی سالانہ درآمد تقریباً ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی ہے۔ اور انہیں استعمال کرنا بہت معیاری اور مہذب ہونے کی دلیل مانا جاتا ہے۔)

شیمپو: امریکہ کی پٹس برگ یونیورسٹی کے ڈاکٹر ایلیس آزن مین نے اپنی تحقیق کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ شیمپو اور باڈی لوشن کا استعمال حاملہ عورت کے رحم میں موجود بچہ کے دماغ کے اس حصہ کو متاثر کرسکتا ہے جو دوسرے خلیوں کے ساتھ رابطہ کا کام کرتا ہے۔ یہ اثر شیمپو اور لوشن میں پائے جانے والے خصوصی کیمیاوی مادہ MITکی وجہ سے ہوتا ہے۔ فی الحال چوہوں پر تجربات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ایم آئی ٹی نام کے مادے کا ہر روز استعمال انسانوں میں بھی مضر ثابت ہوسکتا ہے۔ (اردو راشٹریہ سہارا، ۸؍جنوری ۲۰۰۵ء)

ادویہ میں ملاوٹ اور مصنوعی ہونے کا معاملہ سب سے سنگین ہے۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے ملک میں یہ جرم اتنا ہی عام بھی ہے۔ تقریباً ہر اچھی دوا کا نقلی برانڈ دستیاب ہے۔ تمام بڑی کمپنیوں کے برانڈ دستیاب ہیں۔ حال ہی میں جوڑوں کا درد دور کرنے والی دواؤں اور عام نزلہ زکام میں استعمال ہونے والی دواؤں ڈی کولڈ ، وکس ایکشن ۵۰۰، وغیرہ کے خلاف رپورٹ آنے پر ان کی فروخت پر امریکہ میں پابندی عائد کردی گئی ہے۔ ہندوستان میں بھی پابندی لگائی جارہی ہے مگر ۲ نمبر میں سب چلتا ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے پابندی شدہ ادویہ جو بنگلہ دیش تک میں نہیں مل رہی تھیں مگر ہمارے یہاں بن رہی تھیں۔ کل ملا کر دیکھا جائے تو معاملہ بہت نازک اور سنجیدہ ہے۔ مگر مفاد پرست با اثر گروہ کی سرپرستی کی وجہ سے مسئلہ کو وہ اہمیت نہیں دی جارہی ہے جو اہمیت دی جانی ضروری ہے۔ مسئلہ کی جڑ میں بنیادی طور پر دو باتیں ہیں:

(۱) خدا بیزار طرز فکر و طرز زندگی (۲) مادہ پرستانہ طرز فکر وطرز زندگی

جب انسانوں کے ذہنوں میں دن رات یہ بات بٹھائی جارہی ہے کہ دنیا سے زیادہ سے زیادہ لطف اندوز ہونا ہی اصل مقصد حیات ہے۔ کل کس نے دیکھا ہے، کامیاب وہی ہے جو دنیا کے اسباب وسائل کو زیادہ سے زیادہ صرف کرسکے۔ عزت والا وہی ہے جس کے پاس زیادہ سے زیادہ اسباب ہوں۔ پھر انسان میں اللہ نے ایک فطری داعیہ رکھا ہے وہ ہے اپنے تشخص اور انفرادیت کے اظہار کا، اپنے آپ کو نمایاں کرنے کا ۔ خواتین میں خصوصاً یہ فطرت زیادہ مضبوط ہوتی ہے، انہیں فطری داعیات کا استیصال یہ انسانیت کے دشمن لالچی گروہ کرتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اور جلد سے جلد فائدہ اٹھانے یا نفع کمانے کا بہترین طریقہ ملاوٹ اور نقلی مال کی پیداوار ہے۔ عورتوں میں قدرتی طور پر جمالیاتی حس اور اس کے تحفظ اور دکھاوے کے جذبہ کا استیصال انہیں رنگا رنگ کے اشیائے آرائش و زیبائش کے ذریعہ کیا جارہا ہے۔ جانکاروں کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ نفع سامانِ میک اپ میں ملتا ہے۔ اوسطاً ان کی قیمت کا ۲۲ سے ۳۰ فیصدلاگت آتی ہے جبکہ ۷۰ فیصد نفع ہوتا ہے۔ اس طرح کے ہوشربا حالات سے مقابلہ کے لیے انفرادی اور اجتماعی طور پر منظم اور مستقل جدوجہد کی فوری ضرورت ہے۔

انفرادی طور پر اگر ہم ان نقصانات سے بچنا چاہتے ہیں تو ان اشیاء کے استعمال سے پرہیز لازم ہے۔ جہاں تک ملاوٹی اشیاء کا سوال ہے تو ہم کھانے پینے کی اشیاء خریدنے میں اس بات کی کوشش کریں کہ اصل چیزیں خریدیں۔ مثال کے طور پر آٹا خریدنے کے بجائے گیہوں خرید کر پسوانے کی زحمت اٹھائیں۔ اسی طرح مسالے وغیرہ کا استعمال بھی اسی طرح کریں۔

لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے ایک پوری سوچ کام کررہی ہے جس کا مستقل حل یہی ہے کہ انسانوں میں اللہ کا تصور بیدار اور زندہ کیا جائے جو ہر جگہ موجود ہے اور ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ انسانوں کے شعور میں اللہ کا تقویٰ جاگزیں کیا جائے۔ انسانوں کی سوچ کو مادہ پرستانہ کے بجائے خدا پرستانہ بنایا جائے۔ وہ شعور پیدا کیا جائے کہ خلیفہ ثانی عمر فاروقؓ کے زمانے کی طرف دودھ فروخت کرنے والے کی لڑکی بھی کہہ اٹھے کہ عمر نہیں دیکھ رہا ہے تو کیا عمر کا خدا تو دیکھ رہا ہے۔ اس شعور کی عمومی بیداری کے بعد انسانوں کے ذریعہ پھیلائے جارہے فکر وعمل کے کسی بھی فسادکا مقابلہ ممکن نہیں ہے۔ اس جدوجہد میں کمزوری کی قیمت ہمیں دنیا و آخرت دونوں میں خسارے اور فساد کی صورت میں ادا کرنی ہوگی۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر ایم اجمل فاروقی

تبصرہ کیجیے