5

لفافہ

مین روڈ سے گلی میں داخل ہونے سے پہلے اس نے اس پر ہجوم سڑک پر دور تک نظر دوڑائی مگر اسے وہ خاتون نظر نہ آئی جس کے پرس سے اس نے لفافہ اڑایا تھا۔ یہ اس کا پہلا کارنامہ تھا۔ جو اتفاقاً ہوگیا تھا۔

وہ خاتون سیل والی دوکانوں میں اپنے پرس سے بے خبر رنگ برنگی ساڑیوں میں الجھی ہوئی تھی، شانے پر پرس جھول رہا تھا اور اس کی اوپری جیب سے ایک پھولا ہوا لفافہ تقریباً آدھا باہر نکلا ہوا تھا۔ شاید یہ کسی اچکے کی نام کوشش کا ثمرہ ہو، لیکن خاتون اس سے قطعی بے خبر اپنی پسند کی ساڑیاں تلاش کرنے میں منہمک تھی۔

اور اب تو لفافہ کا تقریباً چوتھائی حصہ باہر نکل گیا تھا۔ ایک بار تو اس کے جی میں آیا کہ خاتون کو لفافے کے بارے میں بتادے تاکہ وہ ہوشیار ہوجائے۔ معاً کسی انجانے خیال کے تحت اس نے لفافہ بڑی ہوشیاری سے نکال لیا۔ حالانکہ نہ تو وہ پیشہ ور تھا، نہ ہی اس کے حاشیہ خیال میں یہ بات تھی کہ اس ’فن‘ سے کبھی اپنا مستقبل وابستہ کرے گا۔ اس کے باوجود اسے کوئی گھبراہٹ نہیں ہوئی۔ اطمینان کے ساتھ نپے تلے قدموں سے دوکان سے باہر آگیا اور راہگیروں میں شامل ہوکر نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ اور اب کسی سنسان جگہ کی تلاش میں تھا کہ اطمینان سے لفافے کا جائزہ لے سکے۔

یہ نوجوان تقریباً دو ماہ قبل اپنے قصبہ نما گاؤں سے اس بڑے شہر میں ملازمت کی تلاش میں آیا تھا۔ مگر ابھی تک اسے کامیابی نہیں ملی تھی۔ ایک سستے سے لاج میں ایک پلنگ کرائے پر لے کر نوکری کی تلاش میں دن بھر شہر کی خاک چھانتا پھرتا۔ اور تھک ہار کر رات کو لاج میں آکر سورہتا۔

اس نے اپنے گاؤں سے قریب ہی کے ایک کالج سے بی اے پاس کیا تھا۔ اس کے آگے وہ کچھ نہیں کرسکا تھا، کیونکہ اس کے آس پاس لے دے کے بس یہی ایک کالج تھا۔ کوئی ٹریننگ سنٹر یا ٹیکنیکل کالج نہیں تھا۔ دیہاتی ماحول ہونے کی وجہ سے وہ ٹھیک سے نہ تو انگریزی بول پاتا تھا نہ سمجھ پاتا تھا۔ اسے شہری لڑکوں کے چونچلے بھی نہیں آتے تھے۔ سیدھا سادہ سا الھڑ نوجوان تھا۔

قصبہ میں اس کے والد کی ایک چھوٹی سے پرچون کی دوکان تھی۔ اتفاق سے ایک مقروض مزارع سے قرض کے عوض دو ڈھائی ایکڑ زمین بھی ہاتھ لگ گئی تھی۔ اگرچہ اس کے والد نے وہ زمین اسی کے زیر انتظام رہنے دی تھی مگر وہ کسان ہر سال سود کی شکل میں اتنا اناج دے جایا کرتا تھا کہ گھر کا خرچ بآسانی نکل جاتا۔

تین بھائی اور دو بہنوں پر مشتمل یہ خاندان انتہائی پرسکون اور خوش و خرم زندگی گزار رہا تھا ، مگر یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی۔ دونوں بہنوں کی شادی ہوچکی تھی۔ بڑے بھائی کی شادی کو بھی دو تین سال بیت گئے تھے۔ ابتدائی تین سال تو بخیریت گزر گئے۔ مگر جب بڑے بھائی کے یہاں لگاتار دو لڑکیاں پیدا ہوئیں تو اس کی بھابی نے بٹوارہ کا مطالبہ کرکے گھر کا سکون غارت کردیا۔

بڑے بھائی اور بھابی نے اپنا چولہا الگ کرلیا۔ ایک کمرہ اور اس کے سامنے کے برآمدہ پر بھی قبضہ کرلیا۔ باقی دونوں لڑکے اور ماں باپ مکان کے باقی ماندہ حصے میں جو ایک کمرہ اور ایک لمبے دالان پر مشتمل تھا، جیسے تیسے گزارہ کرنے لگے۔ دالان کے ایک حصہ کو پرانے ٹاٹ سے گھیر کر کمرہ نما بنالیا گیا تھا، جس میں وہ اور اس کا چھوٹا بھائی سوتا تھا۔ پھر بھی باتھ روم ایک ہونے کی وجہ سے ساس بہو میں تکرار ہوہی جاتی تھی۔ بڑے بھائی کا کہنا تھا: یا تو دوکان کے تین حصے کریں یا پھر پوری دوکان ہی اس کے نام کردیں گھر کا خرچ وہی چلائے گا۔ اس کے والد جانتے تھے کہ ایک بار اس کے ہاتھ میں دوکان کا حساب کتاب اور تجوری کی چابی آئی تو اس کی بیوی ان لوگوں کا جینا حرام کردے گی۔ بیچارے سوچ میں پڑگئے۔ کریں تو کیا کریں؟اگر دوکان کے تین حصے کرتے ہیں تو کسی کے حصے میں اتنا نہیں آئے گا کہ وہ اپنے گھر کا خرچ چلاسکے۔ بہت سوچ بچار کے بعد انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ حصے بخرے کرنے کے بجائے پوری دوکان ہی اس کے نام کردی جائے۔ چنانچہ دوکان بڑے لڑکے کے حوالے کرکے اس کے رحم و کرم پر رہنے لگے۔

بڑے لڑکے کی سسرال پیسے والی تھی۔ داماد کے ہاتھ میں دوکان آتے ہی اسے عمدگی سے چلانے کے لیے انھوں نے پیسوں سے اس کی مدد کردی۔ دوکان اچھی ہوتے ہی لڑکا اپنے باپ سے نوکروں کی طرح کام لینے لگا۔ ہائے قسمت! کل تک جو دوکان کا مالک تھا آج وہ نوکر ہوگیا۔ بیچارے گھٹ کر رہ گئے تھے۔ انتہائی بے چارگی کے عالم میں کبھی کبھار کہتے ’’میری زندگی میں جتنا اڑنا ہے اڑلے، میرے بعد آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوجائے گا۔‘‘کبھی خود کو تسلی دیتے ہوئے کہتے : ’’ابھی وہ نادان ہے، بہو کے کہنے میں آکر ایسا کررہا ہے، ویسے وہ من کا میلا نہیں ہے۔ اچھا ہی ہے کچھ تجربہ ہوجائے گا۔ میرے بعد اسے ہی تو اس گھر کو چلانا ہے۔‘‘

ایسا کہہ کر وہ اپنے آپ کو بہلا تو لیتے تھے، مگر جوان ہوتے دوسرے دو بیٹوں اور بوڑھی بیوی پر نظر پڑتی تو پریشان ہواٹھتے۔

نوجوان نے گلی میں داخل ہونے سے پہلے ادھر ادھر نظر دوڑائی۔ دور دور تک کوئی نہیں تھا۔ مطمئن ہوکر ایک بار پھر اپنی یادوں میں کھوگیا۔

سب سے چھوٹا بھائی اسکول میں پڑھ رہا تھا۔ وہ خود بھی جوان ہوچکا تھا۔ اس نے قصبے کے کالج سے جیسے تیسے بی اے بھی کرلیا تھا۔ کہیں نوکری نہ ملنے کے سبب دوکان کا ہی کام کرتا یا پھر ’’تقاضے‘‘ کی مہم سرانجام دیتا۔

اس کی بھابی اکثر اسے طعنہ دیتی ’’کھا کھا کر سانڈ ہورہا ہے اور اس چھوٹی سی دوکان پر بوجھ بنا ہوا ہے۔ کوئی دوسرا دھندہ یا محنت مزدوری کرتے نہیں بنتی۔ اب ہم ان مسٹنڈوں کو کھلائیں، بوڑھے بوڑھیوں کو سنبھالیں یا پھر اپنی جوان ہوتی بچیوں کے بارے میں سوچیں۔‘‘

اس کے کام بھابی کے طعنے سنتے سنتے پک گئے تھے۔ بالآخر ایک دن وہ گھر سے نکل بھاگا۔ اور اس شہر میں آگیا۔ نوکری تلاش کرتے اسے دو ماہ ہوگئے تھے ہنوز اسے نوکری نہیں ملی تھی۔ وہ گاؤں کا ہٹا کٹا نوجوان تھا۔ محنت مزدوری میں اسے کوئی عار نہیں تھا۔ وہ لوگوں سے کہتا بھی تھا کہ ’’آپ کسی بھی طرح کا کام دیجیے میں کرنے کو تیار ہوں، خواہ وہ بوجھ اٹھانے یا مٹی کھودنے کا ہی کام کیوں نہ ہو۔‘‘ مگر جب وہ بتاتا کہ وہ بی اے پاس ہے تو لوگ اسے مزدوری پر بھی رکھنے کو تیار نہیں ہوتے۔ سوچتے، پڑھا لکھا لڑکا ہے، محنت مزدوری کیا کرسکے گا۔

اسے لگا کہ بی اے کی ڈگری تو بوجھ بن گئی ہے۔ پڑھنے لکھنے کا کام ملتا نہیں اور محنت مزدوری کا کام کوئی دیتا نہیں۔ وہ اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ اسے اس لفافے کی یاد آئی جو اس نے ذرا پہلے ایک خاتون کے پرس سے نکالا تھا۔ ایک سنسان گوشہ تلاش کرکے اس نے لفافہ کھولا۔ لفافے میں سو سو کے پانچ نوٹوں کے ساتھ ایک خط رکھا ہوا تھا۔ خط خاتون کے والد کے نام تھا۔ لکھا تھا کہ : ’’منیا کے اسکول ، اور اس کے پاپا کے آفس چلے جانے کے بعد، وہ گھر میں خالی بیٹھی رہتی تھی۔ لہٰذا اس نے اپنی ایک سہیلی کے مشورے پر اپنی کالونی میں ساڑیاں بیچنے کا کام شروع کردیا ہے۔ الگ الگ جگہ لگنے والی بڑی سیلوں سے یا پھر ہول سیل سے اچھی ساڑیاں خرید کر لاتی ہے اور محلے میں بیچتی ہے۔ اس کا یہ کام چل نکلا ہے۔ مہینے میں سو پچاس ساڑیاں بآسانی نکل جاتی ہیں اور اس سے تقریباً دو ہزار کامنافع ہوجاتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ کچھ رقم پس انداز کرکے کالونی کے بازار میں ہی ایک دوکان کھول لوں۔ کالونی میں میری اچھی ساکھ تو بن ہی چکی ہے۔ اس کے علاوہ اور کرتی بھی کیا۔ ایم اے کرنے کے بعد سرکاری اسکول میں تو نوکری ملی نہیں اور پرائیویٹ اسکول والے پانچ سو سے زیادہ دیتے نہیں۔ اس سے تو یہ ساڑیوں کا بزنس ہی ٹھیک ہے۔‘‘

اس نے خط کو غور سے پڑھا،بار بار پڑھا۔ لفافے پر خاتون کا پتہ بھی تحریر تھا۔ یکبارگی اس کے ذہن میں روشنی کی ایک کرن پھوٹ پڑی۔ اس نے سوچا ’’نوکری کی تلاش میں اس نے دو مہینے مفت میں گنوا دئے۔ اگر اول روز سے ہی وہ بھی ان ہی خطوط پر سوچتا تو اب تک کام کا آدمی بن چکا ہوتا۔ اسے یاد آیا کہ اس کے گاؤں کا ایک کسان شہر کی سبزی منڈی میں دوکان لگاتا ہے۔ ایک لمحے کی بھی تاخیر کیے بغیر صلاح مشورہ کے لیے اس کسان کے پاس پہنچ گیا۔ کسان نے بھی حیران ہوکر یہی دریافت کیا: ’’تم اتنے پڑھے لکھے ہو محنت مزدوری کیسے کروگے۔‘‘

اس نے چھوٹتے ہی کہا ’’میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں۔ اس شہر میں اسے پہچانتا ہی کون ہے، پھر پڑھا لکھا ہوں تو کام کچھ اچھے ہی ڈھنگ سے کروںگا۔‘‘ کسان پر اس کی باتوں کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ اس نے اپنی ضمانت پر اسے ایک ریڑھا اور کیلے، تھوک دام پر دلا دئیے اور کہا ’’جاؤ، کالونی میں بیچ کر آؤ۔‘‘ اس نے فیصلہ کیا کہ سب سے پہلے وہ اسی خاتون کی کالونی میں جائے گا، جس کے پرس سے اس نے لفافہ غائب کیا تھا، تاکہ روپیوں سمیت لفافہ اسے لوٹا دے۔

’’کیلے لے لو، کیلے لے لو‘‘ کی صدا لگاتا ہوا وہ خاتون کے دروازے پر پہنچا۔ خاتون نے اندر سے کہا ’’ہمیں نہیں چاہئیں۔‘‘

’’سنئے تو سہی‘‘ نوجوان نے التجا کی۔

’’کیا بات ہے؟‘‘ خاتون جھلاتی ہوئی باہر آئیں۔

اس نے لفافہ دکھاتے ہوئے کہا ’’کیا یہ آپ کا ہے؟‘‘

ہاں ہاں! کہاں ملا، ہائے رام میں تو لٹ ہی گئی تھی۔‘‘

لفافے پر تقریباً جھپٹتے ہوئے خاتون نے جلدی سے اسے کھول کر دیکھا۔ روپئے صحیح سلامت موجود تھے۔ نوجوان نے ساری رامائن کہہ سنائی۔ خاتون نے اطمینان کی سانس لیتے ہوئے کہا:

’’بڑوں نے سچ ہی کہا ہے اچھا کام خود کو تو فائدہ دیتا ہی ہے دوسروں کے لیے بھی سبق آموز بن جاتا ہے۔‘‘ (ہندی ادب سے)

شیئر کیجیے
Default image
ترجمہ: ایم ایس اکرم

تبصرہ کیجیے