BOOST

لفظوں کا آئینہ

’’ہائے اللہ! کتنی خوبصورت ہے!‘میں تو جھوم اٹھی امی! واقعی حسین و جمیل ہیں بھابی۔‘‘

’’چل ہٹ پگلی! یہ تیری بھابی کیسے ہوگئی؟ ابھی تو ہم صرف اسے دیکھ کر آئے ہیں۔‘‘

’’امی! اس طرح کی حور کو پہلے صرف دیکھا ہی کرتے ہیں اور بعد میں قبولیت کی سند عطا کی جاتی ہے۔‘‘

لڑکی کو دیکھنے آئی خواتین لڑکی کو نہارے جارہی تھیں اور اس کی اماں کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے۔ انھیں بہت بڑے بوجھ کے سر سے جلدی اتر جانے کی امید ہوچلی تھی۔ لڑکی کی جو مستقبل کی دلہن تھی، تعریفوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا۔

’’چہرہ اتنا حسین و جمیل تھا کہ چودھویں کا چاند دیکھ لے تو شرم سے ڈوب جائے۔‘‘

’’بال اس قدر لمبے، گھنے اور کالے کہ اماؤس کی رات بھی ماند پڑ جائے۔‘‘

’’ہونٹ ایسے نازک اور گلابی کے پھول کی تازہ تازہ شبنم سے بھیگی پنکھڑیاں دیکھ لے تو کھلتے ہی مرجھا جائیں۔‘‘

’’دانت یوں سلیقے سے تراشے ہوئے جیسے کسی نے چمکدار موتیوں کی مالا پرو کر نمائش کے لیے رکھ چھوڑی ہو۔‘‘

’’ناک مخروطی، زیادہ کھڑی نہ زیادہ بھدی۔‘‘

’’تھوڑی میں موجود گڑھا، جیسے دیوالی کا دیا۔ہرنی جیسی سیاہ اور موٹی آنکھیں۔ انگلیوں کے پورے انتہائی چمکدار اور ناخن سونے پر سہاگہ۔ جسم کی ساخت مضبوط، سڈول، جو بھی دیکھے بے ساختہ خالق ارض و سماں کا شکر کرے۔‘‘

’’اے چپ! ایسی بے ہودہ تعریف نہیں کرتے۔‘‘ ایک بے تکلف لڑکی کو بڑوں نے ٹوکا۔

اور اب شروع ہوا روایتی و خاندانی جانچ پڑتال یعنی لڑکی کی جانچ کا دور۔ ’’بیٹی کچھ بولونا۔‘‘بے چاری لڑکی اس طرح سے شرما گئی کہ شرم کوبھی شرم آجائے۔ کیا کرتی، اسے بھی تو مشرقی رسم نبھانی تھی۔ اماں نے ٹہوکے دئے تاکہ وہ کچھ بولے۔ ’’السلام علیکم ‘‘

’’ہائے اللہ! بھابی کیا سریلی آواز پائی ہے۔ کوئل سنے گی تو جل جائے گی۔ اپنی ہونے والی چنچل نند کے اس جملہ پر وہ شرم سے دوہری ہوگئی۔ ‘‘

’’کتنی لطیف و کثیف آواز کی مقدار ہے۔‘‘ یہ اس لڑکی نے کہا تھا جو سائنس کی طالبہ تھی۔

’’بیٹی! یہ کتنے ہیں؟‘‘ ایک تجربہ کار بوڑھی عورت نے اپنے سیدھے ہاتھ کی پانچ اور الٹے ہاتھ کی دو انگلیاں دکھا کر پوچھا تھا۔ ’’سات‘‘ اس جواب پر وہ چہک اٹھی، ’’بہن ! تم واقعی نصیب والی ہو جو اس حور کو پیدا کیا ہے۔ یہ دیکھ سکتی ہے، سن سکتی ہے، اور بول بھی سکتی ہے۔ مگر۔‘‘

’’مگر کیا خالہ!‘‘ دلہن کی اماں ایک دم سے چونک اٹھی۔ اسے معلوم تھا کہ اگر، مگر اور لیکن ایٹم بم، ٹائم بم اور میزائل سے بھی خطرناک و نقصان دہ ہوتے ہیں۔ سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی سب کچھ یہیں آکر ختم ہوجاتا ہے۔ لڑکی کو بھی اس کا احساس تھا اور اپنے خواب کے ریزہ ریزہ ہونے کا خوف بھی۔ ’’مگر صرف ایک ٹیسٹ باقی رہ گیا ہے۔‘‘

’’وہ کون سا؟‘‘ ہم چاہتے ہیں کہ لڑکی ہمیں چل کر دکھائے۔

’’او، اچھا، آپ نے تو ہمیں ڈرا ہی دیا تھا۔ ’’چل بیٹی — چل نا بیٹی، ہاں بیٹی چل۔‘‘ ایک کے بعد دوسری آواز نے لڑکی کے کان پکادئے۔اسے اپنی ہونے والی ساس کے اس بے جا رویہ پر سخت غصہ آیا۔ مگر وہ مشرقی لڑکی تھی اور برہم نہیں ہوسکتی تھی۔ مگر اس نے دل ہی دل میں ضرور کہا۔ ’’ساسوماں! ابھی تم مجھے صرف چلا رہی ہو۔ اگر میں نے تمہیں دوڑا یا نہیں تو اس چلنے سے کوئی فائدہ نہیں۔‘‘ اس نے دو تین راؤنڈ لگائے اور آکر بیٹھ گئی۔ ’’شاباش! ویری گڈ!‘‘ حاضرین تالیاں پیٹ کر ایسے چلا اٹھیں جیسے اس نے لمبی دوڑ کے بین الاقوامی مقابلے میں اول مقام حاصل کرلیا ہو۔

’’بہن جی! اب تک تو سب ٹھیک تھا۔ لیکن اگر— اگر، مگر، لیکن پھر سے آدھمکے اور دلہن کی اماں کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ لڑکی صرف کسمسا کر رہ گئی۔ اس کے چہرے پر امڈے اثرات بتا رہے تھے کہ وہ جلد ہی کوئی قدم اٹھانے جارہی ہے۔

’’گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے۔ ہمیں یہ رشتہ منظور ہے۔ مگر ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ شادی کی تاریخ ذرا جلدی طے کرلی جائے۔ مگر بہن جی! ابھی تو ہم پوری طرحسے تیار، میرا مطلب ہے سامان جہیز سے لیس نہیں ہیں۔‘‘

’’چھی چھی چھی، ہمیں جہیز وہیز بالکل نہیں چاہیے۔ آپ اپنے جگر کے ٹکڑے کو ہمیں سونپ رہی ہیں، یہی کیا کم ہے؟‘‘ ’’کتنے بلند خیالات رکھتی ہیں آپ! ورنہ آج کل تو موٹی نقد رقم اور جہیز کا مطالبہ پہلے ہی کردیا جاتا ہے۔‘‘

’’میں کچھ کہنا چاہتی ہوں۔‘‘ دلہن بن کر بیٹھی مشرقی لڑکی نے سبھوں کو متوجہ کرلیا۔

’’جس طرح سے تعریفوں کے پل باندھے ہوئے آپ نے میرا ٹیسٹ لیا ہے۔ ہمارے بڑے بھی آپ کے لڑکے کو یوں ہی ٹیسٹ کریں گے اور بات بعد میں پکی ہوگی۔‘‘

’’ہائے افسوس!‘‘

’’تیری تو مت ماری گئی ہے!‘‘

’’کہیں ایسا بھی ہوا ہے؟‘‘

’’یہ تو ہماری بے عزتی ہے۔‘‘

’’کیوں جو حق آپ نے جتایا ہے، اس پر کیا میرا بھی حق نہیں بنتا؟‘‘

’’یہ لو، کتنی بدزبان لڑکی ہے!‘‘

’’ابھی سے قینچی کی طرح زبان چلا رہی ہے۔‘‘

’’چلو جی چلو۔ اب یہاں نہیں ٹھہرنا۔‘‘

اماں بالکل چپ تھی اور اپنی لڑکی کو ایسے گھور گھور کر دیکھ رہی تھی جیسے اس نے کوئی بڑا جرم کرڈالا ہو۔ اگرچہ آج اس کی شخصیت کو ایک اور جھٹکا لگا تھا مگر اس نے اپنے ایک جملہ سے سماج اور اس کے پست ذہن افراد کو آئینہ ضرور دکھا دیا۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد رفیع الدین مجاہدؔ