4

رحمت و مغفرت کی طلب

رَبَّنََا آمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ۔

ترجمہ: اے ہمارے رب ہم تجھ پر ایمان لے آئے ہیں پس تو ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم پر اپنی رحمت فرما کہ تو بہترین رحم فرمانے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل ایمان بہت بڑی دولت ہے۔ اس دولت کے حصول اور پھر اس کی حفاظت دونوں ہی کے لیے بڑی تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ اس لیے کہ اس پر کفرو شرک کے ڈاکو حملہ کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ اس وقت اس کی حفاظت میں مدد کرنے والی واحد ذات اللہ رب العزت کی ہوتی ہے۔ اگر اس کی مدد و نصرت شامل نہ ہوتو انسان کے قدم لڑکھڑانے کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے۔

اس لیے نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ بندے کو اپنے رب سے رحمت کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بندہ تنہا اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ یہ سن کر حضرت عائشہؓ نے سوال کیا یا رسول اللہ کیا آپ بھی؟ یعنی رحمت خداوندی کے بغیر آپ بھی جنت میں داخل نہ ہوسکیں گے۔ آپؐ نے فرمایا ہاں میں بھی جب تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی چادر سے مجھ کو ڈھانپ نہ لے۔

دنیا میں رحمت کا یہ جذبہ بہت ہے لوگوں کے حصہ میں آیا ہے والدین اپنے بچوں کے ساتھ رحمت سے پیش آتے ہیں، حیوانات کے اندر بھی یہ صفت ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت ان سب پر بھاری ہے اور وہ تمام رحم کرنے والوں کا بادشاہ ہے۔بندۂ مسلمان جب اس کا اعتراف کرتا ہے تو یہی اس کے ایمان کی علامت بھی ہوتی ہے اور کفروشکر کے تیز و تند حملوں میں دفاع کرنے والی ایک مضبوط قوت بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو اس کی بات ترغیب دی ہے کہ وہ دعا سے غافل نہ رہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد اسلام عمری