6

خواتین کا جہاد

جہاد کے معنی کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مکمل سعی و کوشش کرنا ہے۔ اسی طرح جہاد فی سبیل اللہ کے معنی اللہ کی راہ میں دینِ اسلام کی اشاعت، اس کے غلبہ اور اس کے تحفظ کے لیے مسلسل جہدوکوشش کرنا اور وقت ضرورت جان پر کھیل کر بھی اس کام کو انجام دینا ہے۔ خواتین کس قسم کے جہاد میں شریک ہوں اور ان کے لیے موجودہ دور میں کون سا جہاد افضل ہے، ہم اس موضوع پر روشنی ڈالنے کی کوشش کریں گے۔

بالعموم خواتین یہ خیال کرتی ہیں کہ جہاد صرف میدانِ جنگ میں جاکر دشمن کا مقابلہ کرنا ہی ہے۔ بے شک یہ جہاد کا افضل ترین پہلو ہے لیکن اپنی استطاعت کے مطابق دینِ اسلام کی اشاعت، اس کے غلبہ اور تحفظ کے لیے اپنا دل پسند مال خرچ کرنا، اپنے عمل اور قول سے لوگوں کو اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے پر ابھارنا، اپنی تحریر سے عوام الناس کو معاشرتی برائیوں سے روکنا اور نیکیوں پر ابھارنا بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔

آج کی عورت یہ تمنا کرتی ہے کہ اسے بھی مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کا موقع دیا جائے۔ گھر میں رہنا، گھرداری اور بچوں کی تعلیم و تربیت اسے بالکل معمولی کام لگتے ہیں۔ اس تعلق سے ہماری بہترین رہنمائی، دنیا کے بہترین رہنما، اللہ کے رسول ﷺ کے اس واقعہ سے ہوتی ہے کہ خواتین کا جہاد کیا ہے۔

اسماءؓ بنت زیدؓ انصاریہ ایک مشہور دیندار اور عقلمند صحابیہ کے متعلق روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپؓ اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا ’’مجھے عورتوں کی ایک جماعت نے اپنا نمائندہ بناکر بھیجا ہے۔ سب کی سب وہی کہتیں ہیں جو میں عرض کرنے آئی ہوں اور وہی رائے رکھتیں ہیں جو میں گذارش کررہی ہوں۔ عرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے چنانچہ ہم سب آپؐ پر ایمان لائیں، اور ہم نے آپؐ کی پیروی کی لیکن ہم عورتوں کا حال یہ ہے کہ ہم پردوں کے اندر رہنے والی اور گھروں کے اندر بیٹھنے والی ہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ مرد ہم سے اپنی خواہشِ نفس پوری کرلیں اور ہم ان کے بچے لادے لادے پھریں۔ مرد جمعہ، جماعت، جنازہ و جہاد ہر چیز کی حاضری میں ہم سے سبقت لے گئے۔ وہ جب جہاد میں جاتے ہیں تو ہم ان کے گھر بار کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کے بچوں کو سنبھالتے ہیں تو کیا اجر میں بھی ہمیں ان کے ساتھ حصہ ملے گا؟‘‘ اللہ کے رسولؐ ان کی یہ فصیح و بلیغ تقریر سننے کے بعد تمام اصحاب رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ’’کیا تم نے اس سے زیادہ عمدہ بھی کسی عورت کی تقریر سنی ہے جس نے اپنے دین کی بابت سوال کیا ہو؟‘‘ تمام صحابہؓ نے قسم کھاکر انکار کیا کہ نہیں یا رسول اللہ۔ اس کے بعد آپؐ اسماءؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ’’اے اسماء! میری مدد کرو اور جن عورتوں نے تم کو اپنا نمائندہ بناکر بھیجا ہے ان کو میرا یہ جواب پہنچادو کہ تمہاری اچھی طرح خانہ داری کرنا، اپنے شوہروں کو خوش رکھنا اور ان کے ساتھ ساز گاری کرنا، مردوں کے ان سارے کاموں کے برابر ہے جو تم نے بیان کیے ہیں۔‘‘ حضرت اسماءؓ اللہ کے رسولؐ کی یہ بات سن کر خوش خوش، اللہ کا شکر ادا کرکے چلی گئیں۔

حضرت اسماءؓ نے اس وقت صرف خواتین کی نمائندگی ہی نہیں کی بلکہ قیامت تک آنے والی خواتین کی رہنمائی کا انتظام کردیا اور اسی طرح موجودہ زمانہ کی خواتین کے لیے بھی نمائندہ خوشخبری بہم پہنچائی۔ موجودہ زمانہ میں آزادی نسواں کے نعرے لگانے والی خواتین، جو کہ بظاہر گھر داری کو معمولی کام تصور کرتی ہیں، یہ ان کے لیے بڑا سبق ہے۔ ایسی خواتین کو چاہیے کہ وہ بذاتِ خود خوشحال گھرانوں کا مشاہدہ کریں کہ ان کے گھروں میں خوشحالی کس طرح آئی۔

مرد حضرات گھروں سے اسی وقت میدانِ جہاد کے لیے بے فکر ہوکر نکل سکتے ہیں جب انھیں اپنے گھروں کی جانب سے اطمینان ہو۔ چاہے وہ دین کی جدوجہد ہو یا میدانِ جنگ کے لیے۔ یہ اللہ کا خاص انعام ہے کہ خواتین کو گھر میں بیٹھے بٹھائے اتنے بڑے اجر کا مستحق بنادیا گیا۔ ویسے بھی ہمیں گھر کے کام انجام دینے ہی پڑتے ہیں۔ اگر ہم اللہ کی خوشنودی کی خاطر ان تمام چیلنجز کو بخوشی قبول کریں تو یہ ہماری دنیاوی اور اخروی کامیابی کے ضامن ہوں گے۔ اگر وہ اجر ہمیں گھر بیٹھے مل جائے تو اور کیا چاہیے۔اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے تم میں بعض کو بعض پر جو فضیلت دے دی ہے اس کی تمنا مت کرو۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے جس کے ذمہ جو کام لگائے ہیں، وہ اسے بخوبی انجام دینے چاہئیں۔

خواتین کا جہاد یہ بھی ہے کہ ہم اپنے گھروں میں غیر اسلامی فکار پر روک لگائیں۔ محنت اور توجہ سے اپنے بچوں کی تربیت کا باقاعدہ انتظام کریں۔ اس لیے کہ باطل افکار و نظریات اس وقت ہمارے سامنے ایک جنگ کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ ایک ایسی جنگ جو ہماری نسلوں کا قتل عام کرنا چاہتی ہے۔ ایسے میں اپنی نسلوں کو بچانے کی فکر اور عملی جدوجہد ایک بڑا جہاد ہے جو آج کی خواتین پر فرض ہوچکا ہے۔ دراصل برائیوں پر روک لگانا، خود سے برائیاں دور کرنا اور نیکیوں کو فروغ دینا یہ بھی ایک قسم کا جہاد ہے۔

سورہ العنکبوت میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’جو شخص بھی مجاہدہ کرے گا اپنے ہی بھلے کے لیے کرے گا اللہ یقینا تمام جہاں والوں سے بے نیاز ہے۔‘‘ مولانا مودودیؒ نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ:

’’مجاہدہ کے معنی کس خاص مخالف طاقت کے مقابلے میں کش مکش اور جدوجہد کرنے کے ہیں۔ اور جب کسی خاص مخالف طاقت کی نشاندہی نہ کی جائے بلکہ مطلقاً مجاہدہ کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ایک ہمہ گیر اور ہمہ جہتی کشمکش ہے۔ مومن کو اس دنیا میں جو کشمکش کرنی ہے۔ اس کی نوعیت یہی کچھ ہے۔ اسے شیطان سے بھی لڑنا ہے، اپنے نفس سے بھی لڑنا ہے، حق کے منکر سارے انسانوں سے بھی لڑنا ہے۔ یہ مجاہدہ ایک دن، دو دن کا نہیں بلکہ عمر بھر کا ہے، کسی ایک میدان میں نہیں بلکہ زندگی کے ہر پہلو پر اور ہر محاذ پر ہے۔‘‘

اپنے گھروں میں رہ ، خواتین کو خاص طور سے مسلسل اس طرح کی جدوجہد کرنی ہے۔ ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعہ سے جو برائیاں عام طور پر بچوں کے معصوم ذہنوں کو پراگندہ کررہی ہیں، ان پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو حکمت اور محبت سے سمجھایا جائے اور اس کے نقصانات بتائے جائیں۔

یہ مائیں ہی تو ہیں جو اپنے بچوں کو نڈر، بہادر اور جری بناتی ہیں۔ انہی کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ عبداللہ بن زبیرؓ، حسنؓ اور حسینؓ جیسے بہادر اور حق شناس سپاہی اسلام کو ملے۔ اگر مائیں گھر چھوڑ کر باہر نکل جائیں، اپنی توجہ گھر سے ہٹالیں تو ہماری ملت اور ہماری قوم کو خالدؓ بن ولید، محمدؒ بن قاسم اور صلاح الدین ایوبیؒ جیسے سپہ سالار کون مہیا کرے گا؟ یہ مائیں ہی تو تھیں جن کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے دین کی محبت بیٹوں کے دلوں میں اس طرح راسخ کردی تھی اور شہادت کا جذبہ ان میں اس طرح پختہ کردیا تھا کہ وہ اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے اور بے دھڑک اسلام کی سربلندی کے لیے میدان میں کود پڑتے تھے۔

خواتین کی جدوجہد کا مرکز اپنا گھر ہے۔ اپنی اولاد، اپنے شوہر اور اپنے بھائیوں کے دلوں میں اسلام کی محبت اور اس کی سربلندی کے لیے کوشش کرنے کی لگن ہے۔ اگر وہ ان کے دلوں میں جذبہ پیدا کردیں تو وہ اعلائے کلمۃ الحق کے لیے اپنی جانیں لڑادیں گے۔ جہاد کیا ہے؟ یہی تو ہے جس کی اللہ کے رسول نے تعلیم دی ہے۔ کاش کہ ہماری خواتین اس بات کو سمجھ لیں اور خود کو اس عظیم جہاد کے لیے تیار کرلیں۔خاص طور پر وہ خواتین جنہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے دین کے شعور جیسی نعمت سے نوازا ہے، وہ اپنے عمل سے، اپنی تقاریر سے اوراپنے قلم سے اللہ کی راہ میں کوشش کریں۔ اس عظیم ہستینے جس کے قبضے میں ہماری جان ہے، فرمایا: ’’جو لوگ ہماری راہ میں جدوجہد کرتے ہیں ہم ضرور ان کے لیے اپنی راہیں کھول دیں گے یقینا اللہ محسنین کے ساتھ ہے۔‘‘

یعنی جو لوگ اللہ کی راہ میں پورے اخلاص کے ساتھ کوشش کرتے ہیں، اللہ ان کے لیے راستہ آسان کردیتا ہے۔ اور ہر ممکن طریقے سے ان کی مدد فرماتا ہے۔ خاص طور سے وہ بہنیں جو دین کے کاموں میں انتہائی منہمک ہیں۔ بعض اوقات اپنے آرام کو تج کر تمام ذمہ داریوں کو پورا کرتیں ہیں۔ گھر کی مصروفیات، بچوں کی ذمہ داریاں، مہمان داری، رشتہ داروں سے تعلقات اور دیگر ذمہ داریوں میں مصروف رہتیں ہیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی مدد ہی ہے کہ ایسی خواتین سبھی کام کو بیک وقت حسن و خوبی سے انجام دیتی رہی ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم ان کی راہیں آسان کردیتے ہیں۔ ان تمام خواتین کی یہ سعی اور یہ جہد کوشش رائیگاں نہیں جائے گی، انشاء اللہ بے پایاں اجر ان کا منتظر ہے۔ کامیابی ان کا مقدر ہے۔ ایسے ہی نفوس کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورہ التوبہ میں فرمایا: ’’اللہ کے پاس تو انہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنھوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان و مال سے جہاد کیا وہی کامیاب ہیں۔‘‘ (التوبہ:۲۰)

شیئر کیجیے
Default image
فوزیہ متین، الخبر، سعودی عرب

تبصرہ کیجیے