4

عظیم عورت

اختر میرے بچپن کا دوست ہے اور فہمیدہ میری رشتہ کی بہن۔ ہم سب ساتھ کھیلے، بڑھے اور جوان ہوئے۔ اختر اور فہمیدہ بچپن سے ہی ایک دوسرے کو چاہتے اور پسند کرتے آئے ہیں۔ جب میں پرانی یادوں کی راکھ کو کریدتا ہوں تو کچھ بجھی بجھی چنگاریاں اب بھی لو دے جاتی ہیں۔ ہمارے محلے کے پیچھے، اس جگہ جہاں اب فلک بوس عمارتیں، عالیشان ہوٹل، سینما ہال اور بڑی بڑی مارکٹیں ہیں، کبھی ایک وسیع و عریض چٹیل میدان تھا۔ اس میدان میں برگد کے ایک بوڑھے درخت کی خوب گھنی اور ٹھنڈی چھاؤں تلے بارات آکر اترتی۔ بارات محلے کے چھوٹے چھوٹے بچوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ جب براتی سوندھی سوندھی مٹی کے فرش پر قطار بناکر بیٹھ جاتے تو میٹھے پانی کی نیلی پیلی بوتلوں سے ان کی خاطر و مدارت کی جاتی۔ عام طور اختر دولہا بنتا اور فہمیدہ ننھی منھی بڑی پیاری سی دلہن۔ اور میں پسے ہوئے کوئلے کی داڑھی مونچھیں بنائے آپا جان کے دوپٹے کا اونچا سا پگڑّ باندھ کر قاضی جی بن جاتا۔ ان نکاح خوانی ہوتی۔ گاجر کی پیندی۔ کل خیرو کا پھول۔ کیوں میاں گڈے تمہیں گڑیا قبول؟ ’’قبول‘‘ دل و جان سے قبول۔ اختر گلا پھاڑ کر چلاتا۔ اور اس پر چہاراطراف سے ’’مبارک‘‘ ’’سلامت‘‘ کا وہ شور بلند ہوتا کہ کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی۔ اور اس کے بعد بارات کا کھانا شروع ہوتا۔ کٹھے میٹھے بیر، گڑ کی ریوڑیاں اور تل کے لڈو کھانے کے سامان ہوتے۔

یہ بچپن کی معصوم اور بے تکی شرارتیں سہی مگر یادداشت کی البم میں محفوظ رہ جانے والی یہ دھندلی تصویریں بسا اوقات ہماری زندگی کا لازوال سرمایہ بن جاتی ہیں۔ خصوصاً جب کہ زندگی ایک لمبی اور دور تک چلی جانے والی یکسانیت سے بھری سڑک بن کر رہ جائے اور اس میں کوئی نیاپن، کوئی تبدیلی، کوئی موڑ، کوئی اچنبھا اور کوئی حادثہ نہ ہو۔

اختر اور فہمیدہ ابتدا ہی سے ایک دوسرے کو چاہتے تھے اور پسند کرتے آئے تھے۔ ان کے ساتھ ساتھ ان کی یہ باہمی چاہت اور پسندیدگی بھی پروان چڑھ کر جوان ہوگئی۔ اب ایک میں ہی تھا جو اختر کے لیے کچھ کرسکتا تھا۔ فہمیدہ کے والد ایک بڑے تاجر تھے جبکہ اختر کپڑے کے ایک مل میں مشینوں پر کام کرنے والے مستریوں کا سپروائزر۔ اختر نے انجینئرنگ کے بعد جرمنی میں ٹریننگ کی سند لی تھی اور وہ کپڑے کی مشینوں اور اس کے پرزوں کو سمجھنے والا بہت بڑا ماہر سمجھا جاتا۔ اسے تنخواہ بھی بہت اچھی ملتی تھی۔ مگر پھر بھی وہ ایک مزدور تھا۔ لیکن میں نے اپنی سی کوشش کرنے کی ٹھان لی۔ ادھر فہمیدہ نے اپنے دل کی بات اپنی ماں کو بتا دی اور انھیں اپنا ہم خیال بنا کے چھوڑا۔ گو فہمیدہ کے والد ایک روکھے پھیکے خشک اور اپنے اصولوں پر پہاڑ کی طرح اٹل رہنے والے انسان تھے۔ مگر ہم سب کی کوششوں سے یہ مہم سر ہوگئی۔ خدا کا کرنا کھیل ہی کھیل میں دولہا دلہن بننے والے سچ مچ کے میاں بیوی بن بیٹھے اور اس رشتہ کے طے ہونے میں اپنی کوششوں کی مناسبت سے گویا میں نے ایک مرتبہ پھر اپنا قاضی جی والا کردار ادا کیا۔ کیا دلچسپ اتفاق ہے!

اس محلے میں فہمیدہ کیا آئی جیسے آسمان سے چاند اتر آیا۔ پڑوسنیں اور محلے والیاں اس کے ضیا پاش مکھڑے، شائستہ اطوار، میٹھی زبان، محبت بھری آنکھوں اور بے پناہ خلوص سے بری طرح متاثر تھیں۔ فہمیدہ ایک تعلیم یافتہ اور سلیقہ مند لڑکی تھی۔ اس کا دل مہر و محبت کا سرچشمہ اور اپنے پرائے کا غم خوار تھا۔ محلے کی عورتیں اپنے اپنے کام کاج سے فارغ ہوکر اس کے پاس آبیٹھتیں۔ اور اس کے منہ سے جھڑنے والے علم و دانش کے موتیوں سے اپنا دامن بھرتیں۔ کوئی اس سے اپنا دکھڑا بیان کرکے زخمی دل کے لیے مرہم مانگتی تو کوئی اپنے الجھے معاملات کی گرہ کشائی کے لیے ناخنِ تدبیر کی طلب گار ہوتی۔ کوئی اسے اپنے راز سونپ جاتی اور کوئی اپنی ضرویات کے لیے اس سے کچھ مانگ لے جاتی۔ اور فہمیدہ بڑے حوصلہ اور پذیرائی کے ساتھ ہر ایک کے اچھے برے میں کام آنے کو خوشی خوشی تیار ہوجاتی کوئی عورت کہہ بیٹھتی ’’اے بہن! مجھے تو یہ کوئی آسمانی حور معلوم ہوتی ہے جو بھٹک کر زمین پر آگئی ہے۔‘‘ اس پر کوئی دوسری بول پڑتی ’’نا بنّو! یہ تو زمین کے ماتھے کا جھومر ہے۔‘‘

اختر اور فہمیدہ شادی کے بعد بھی ایک دوسرے پر جان جھڑکتے تھے۔ کہتے ہیں کہ محبوبہ بیوی نہیں ہوسکتی۔ اور اگر ہوجائے تو محبوبہ نہیں رہتی۔ مگر اختر اور فہمیدہ کی باہمی شیفتگی اور والہانہ محبت نے اس مقولہ کو غلط ثابت کرکے رکھ دیا۔ شادی کے کئی سال بعد بھی فہمیدہ نہ صرف اختر کی بیوی تھی بلکہ اس کی محبوبہ بھی۔ اسی طرح تین سال پلک جھپکتے میں گزر گئے۔ اس عرصے میں اختر دو بچوں کا باپ بن گیا ان میں سے ایک لڑکی تھی دوسرا لڑکا۔ اب اس کا گھر معصوم بچوں کی کلکاریوں سے گونجنے لگا۔ میں ان خوب صورت اور چابی بھرے کھلونوں کو اس کے آنگن میں گھٹنیاں چلتے اور رینگتے دیکھتا اور سوچتا کہ یہ ننھی منھی کڑیاں اس مثالی محبت کی زنجیر کو روز بروز زیادہ پائیدار اور اٹوٹ بنارہی ہیں۔

فہمیدہ کے خوشیوں بھرے گھر پر مسرت کی شفق پھولی ہوئی تھی اور اس کے صحن میں ناچتی گاتی بہار اتری ہوئی تھی کہ نہ جانے کس کی نظر لگی۔ اختر صبح گھر سے گیا تو اپنے پاؤں سے چل کر اور شام کو واپس لوٹا تو اسٹریچر پر لیٹا ہوا۔ اس کی دونوں ٹانگیں کاٹ دی گئیں تھیں۔ فہمیدہ بے ہوش ہوگئی۔ بچے رونے لگے۔ آس پاس والوں کے چہرے زرد ہوگئے۔ یہ کیا ہوگیا۔

اختر اپنے مل میں ایک اونچی مشین پر کھڑا تھا کہ پاؤں پھسلا اور وہ قلابازیاں کھاتے ہوئے نیچے کی طرف آگرا۔ نیچے کچھ دوسری مشینیں دھڑ دھڑ دھڑ دھڑ کرتی ہوئی چالو تھیں۔ اختر انہی پر آگرا۔ ایک غل پڑا، مشینیں بند کرو، مشینیں بند کرو، لوگ د وڑے، سوئچ آف کردیا گیا۔ مگر اس سے پہلے کہ مشینیں رکتیں، اختر کی دونوں ٹانگیں مشین کے اندر آکر پرزہ پرزہ ہوچکی تھیں۔ اسے فوراً ایمبولینس میں ڈال کر ہسپتال لے جایا گیا۔ اس کی دونوں ٹانگیں گھٹنوں تک کاٹ دی گئیں اور اب وہ لولا، لنگڑا اور اپاہج تھا۔

فہمیدہ کے والد نے مجھے کوٹھی پر طلب کیا۔ میں پہنچا تو وہ ڈرائنگ روم میں آرام کرسی پر دراز تھے۔ ان کا چہرہ متغیر تھا اور آنکھیں سرخ۔ شاید روئے تھے یا غصہ میں تھے۔

’’بیٹھ جاؤ۔‘‘ انھوں نے آہستہ سے کہا۔ میں ان کے برابر والی کرسی پر خاموشی سے بیٹھ گیا۔

’’تم اختر کو دیکھ آئے ہو؟‘‘ انھوں نے اپنی کاٹ دار آنکھیں میرے چہرے پر گاڑ دیں۔

’’جی ہاں‘‘ میں نے ایک سرد آہ بھری اور گردن جھکالی۔

’’شاید تمہیں یاد ہو میاں‘‘ انھوں نے مجھے مخاطب کیا۔ ’’ایسا ہی ایک دن تھا اور تقریباً یہی وقت۔ تم مجھ سے ملنے آئے تھے۔ میں اسی کرسی پر بیٹھا تھا جہاں آج بیٹھا ہوں۔ اور تم بھی اسی کرسی پر بیٹھے تھے جہاں اس وقت ہو۔ تم نے مجھ سے فہمیدہ کو اختر کے لیے مانگا تھا اور میں نے انکار کردیا تھا۔ کیونکہ میں اس کے لیے کسی دوسری جگہ زبان دے چکا تھا۔ مگر تم نے مجھے بتایا کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو فہمیدہ کے دل کی پکار ہے۔ تم نے فہمیدہ اور اختر کی محبت کے واسطے دئیے۔ تم میرے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے اور تم نے کہا کہ تم میرے منہ سے ہاں سنے بغیر نہ جاؤ گے۔ اس وقت میں شش و پنج میں پڑگیا تھا۔ ایک طرف فہمیدہ کا سکھ چین اور فراغت تھی تو دوسری جانب فہمیدہ کی پسند۔ جب فہمیدہ اپنی پسند اڑگئی تو اس کی طرف کا پلڑا بھاری ہوگیا اور میں نے اس کو اس کی تقدیر کے حوالے کردیا۔ وہ اپنے گھر میں برتن مانجھتی تھی تو میرا دل روتا تھا۔ وہ اپنے بچوں کے کپڑے دھوتی تھی تو میں کلپتا تھا۔ وہ اپنے ہاتھ سے روٹیاں پکاتی تو میں آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیتا۔ وہ میری اکلوتی بچی ہے۔ میں نے اسے لاڈ سے پالا ہے۔ مگر جب اس نے خود ہی یہ راستہ پسند کرلیا تو میں کیا کرسکتا ہوں۔ اس کی تقدیر! لیکن اب؟ اب کیا ہوگا؟ وہ ایک لولے لنگڑے کی بیوی بن کر کیسے رہے گی؟ میری کومل سے بچی۔ میری پھول کی پنکھڑی اس اپاہج کے ساتھ کیسے زندگی کے دن بتاسکے گی؟ بتاؤ تمہی بتاؤ۔ تم نے ہی تو یہ سودا کرایا تھا۔ تمہی نے تو اس کی مانگ میں خاک بھری تھی۔ تم ہی نے تو اسے اندھے کوئیں میں دھکیلنے کے لیے کہا تھا نا۔ اور میں نے دیکھا کہ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ مجھ پر گھڑوں پانی پڑگیا۔ میں کیا جواب دیتا۔ خود میرا دل اس سانحہ پر خون کے آنسو رو رہا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ فہمیدہ کی زندگی کو دکھی بنانے کا ذمہ دار میں بھی ہوں۔ نہ وہ اختر سے شادی کرتی اور نہ اسے یہ دکھ بھوگنے پڑتے۔ مگر اس میں اختر کا بھی کیا قصور ہے؟ اختر، میرا بدنصیب دوست اختر۔ کیا اس نے خود اپنی ٹانگیں تراش لی ہیں؟ کیا وہ اپنی مرضی سے اپاہج بنا ہے۔ کسے معلوم تھا کہ کل یہ ہونے والا ہے۔

’’دیکھو میاں! جو ہونا تھا سو ہوگیا۔ تقدیر کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے!‘‘ فہمیدہ کے والد کہہ رہے تھے۔ مگر اب ہمیں حالات کو سنبھالنا چاہیے۔ فہمیدہ سخت تکلیف میں ہے۔ ہمیں اسے اس تکلیف سے نکالنے کی تدبیر سوچنی چاہیے۔‘‘

’’حکم کیجیے۔ میں اس سلسلے میں کیا خدمت بچا لاسکتا ہوں؟‘‘ میں نے عرض کی۔

’’اختر بے کار ہوکر گھر میں پڑا ہے۔‘‘ فہمیدہ کے والد چھت کی طرف تکتے ہوئے گویا ہوئے۔ ’’اس طرح گھر کے کام کاج اور شوہر کی دیکھ بھال کے علاوہ اخراجات کی کفالت کا بوجھ بھی فہمیدہ کے ناتواں کاندھوں پر آپڑا ہے۔ میں نے بہت چاہا کہ وہ میرے گھر آجائے۔ یا کم از کم گھر کے اخراجات کے لیے ایک معینہ رقم ماہ بہ ماہ مجھ سے لینے کو راضی ہوجائے۔ میں نے یہ بھی کوشش کی کہ کوئی خادمہ یا ملازم اس کے گھر رکھوا دوں جو کام کرج کرنے میں اس کا ہاتھ بٹا سکے۔ مگر وہ بیوقوف ضدی لڑکی ان میں سے کوئی بات بھی ماننے کو تیار نہیں۔‘‘ انھوں نے ایک سرد آہ بھری۔ ’’ہاں میاں۔ تو میں نے تمہیں یہاں اس لیے بلایا ہے کہ تم اس سے مل کر ان میں سے کسی ایک بات پر راضی کرنے کی کوشش کرو۔ میں تو اپنی سی کرکے ہار چکا ہوں۔ شاید وہ تمہاری مان لے۔ اختر سے کہو۔ وہی فہمیدہ کو سمجھائے کہ کیوں اپنی جان کی دشمن بن رہی ہے۔‘‘

’’بہتر ہے جناب!‘‘ میں اٹھ کھڑا ہوا۔’’میں فہمیدہ کو آپ کے حسب مرضی آمادہ کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘

اور جب میں اپنے گھر کی طرف واپس جارہا تھا تو میرے دل و دماغ میں ایک ہلچل مچی ہوئی تھی۔ میں فہمیدہ سے یہ بات کیسے کہوں کہ وہ اختر کو چھوڑ کر میکہ جا بیٹھے؟ اختر میرا دوست میرا یارِغار اور میرے دل سے بہت قریب تھا۔ اور موجودہ حالت میں تو وہ پہلے سے زیادہ ہم سب کی ہمدردی اور توجہ کا مستحق تھا۔ مگر فہمیدہ اور اس کے والد بزرگوار؟ وہ بھی تو میرے اپنے ہی ہیں۔ اور جب کہ میں ان سے بھی وعدہ کرآیا ہوں کہ فہمیدہ کے سکھ چین اور سہولت کی خاطر کچھ نہ کچھ ضرور کروں گا۔ اف میرے خدا!

میں نے اختر کی دہلیزپر قدم رکھا تو میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اختر اپنے بوسیدہ بے رنگ مکان کے چھوٹے سے کمرہ میں پہیوں والی کرسی پر چپ چاپ بیٹھا تھا۔ اس کی ٹانگوں پر کمبل پڑا تھا۔ اور گود میں ایک کھلی ہوئی کتاب تھی۔ اسے دیکھ کر میرا دل بھر آیا۔

’’کیسے ہو اختر؟‘‘ میں نے اس کے قریب پہنچ کر کہا۔ وہ چونک پڑا۔

’’اوہ تم؟ خوب آئے، بیٹھو‘‘ میں اس کے قریب ہی رکھی ہوئی تپائی پر بیٹھ گیا۔

’’اچھے تو ہونا؟‘‘ میں نے اس سے پوچھا ’’کیا ہورہا ہے؟‘‘

’’مزے میں ہوں‘‘ اس نے مسکرا کر کہا ’’سب کچھ بدستور ہے، سوائے اس کے کہ چل پھر نہیں سکتا۔‘‘

’’بیساکھیاں نہیں منگائیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ابھی ایک ماہ کے بعد تم اس قابل ہوسکو گے کہ بیساکھیوں کے سہارے پر چل پھر سکو۔‘‘ اس کی آواز میں حسرت تھی۔

’’گھبراتے کیوں ہو دوست‘‘ میں نے تسلی دی۔ ’’یہ دن بھی گزر ہی جائیں گے۔‘‘

’’ٹھیک کہتے ہو پیارے!‘‘ وہ مسکرایا ’’یہ دن بھی گزر ہی جائیں گے‘‘

’’بس اتنی بات پر اداس ہوگئے میرے دوست؟‘‘ میں نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر تھپتھپایا ’’مرد ہوکر جی چھوڑ بیٹھے؟ اور پھر تم تو بڑے دلیر اور بہادر ہو ہمیشہ کے!‘‘

’’میں مصائب سے کب گھبرایا ہوں! مشکلات اور مصیبتیں تو میں نے ہمیشہ ہی ہنس ہنس کر جھیلی ہیں اور نہ ہی مجھے اپنی ٹانگوں کے چلے جانے کا اس درجہ قلق ہے۔ فہمیدہ نے مجھے اس کا احساس ہی کب ہونے دیا ہے کہ میں اپنے جسم کے کسی اہم اور ضروری حصہ سے محروم ہوگیا ہوں۔ ہاں مجھے دکھ ہے اور تواس بات کا کہ میں فہمیدہ پر ایک بار بن کر رہ گیا ہوں۔ اس کی ذمہ داریاں پہلے ہی کیا کم تھیں کہ میں ان میں مزید اضافہ کرنے کا موجب بن بیٹھا۔ ذرا سوچو دوست ایک مرد کے لیے اس سے زیادہ سوہان روح بات اور کیا ہوگی کہ وہ عورت کا دست و بازو بننے کے بجائے اس کی پیٹھ کا بوجھ بن جائے!!!‘‘ اختر نے جب یہ بات کہی تو اس کے چہرے پر درد و کرب کی پرچھائیں ناچ رہی تھیں۔

’’فہمیدہ کہاں ہے؟‘‘ میں نے بات کا رخ بدلنے کے لیے پوچھا۔

’’باورچی خانہ میں ہے۔ جاؤ اس سے مل لو۔‘‘ اختر نے کہا۔

فہمیدہ باروچی خانہ میں چولہے کے آگے بیٹھی توے پر روٹیاں پکا رہی تھی۔

’’آئیے بھائی جان‘‘ وہ مجھے دیکھ کر سروقد کھڑی ہوگئی۔ ’’آج ہمارے نصیب جاگے کہ آپ نے ادھر کا رخ کیا۔‘‘

’’اچھی تو ہونا فہمیدہ؟‘‘ میں نے پوچھا۔

’’اللہ کا شکر۔ اس کا احسان ہے!‘‘ اس نے جواب دیا۔

’’کوئی آیا کیوں نہیں رکھ لیتیں فہمیدہ؟ ہاتھ بٹانے کے لیے کوئی نہ کوئی تو ہونا ہی چاہیے۔ کام پہلے سے بڑھ بھی تو گیا ہے۔ ‘‘ میں ابھی کچھ اور کہتا کہ وہ بات کاٹتے ہوئے بولی۔ ’’کوئی خاص ضرورت تو نہیں ہے۔ اور کام بھی کچھ ایسا زیادہ نہیں کہ جس کے لیے یہ فالتو خرچ بڑھایا جائے۔‘‘ میں سمجھ گیا کہ وہ اس ذکر کو باتوں میں اڑا دینا چاہتی ہے۔ فہمیدہ بڑی ذہین لڑکی تھی۔ ’’آپ ادھر کمرہ میں اختر صاحب کے پاس بیٹھیں میں آتی ہوں۔‘‘ وہ کہہ رہی تھی۔

’’میں یہیں بیٹھوں گا۔‘‘ ایک اسٹول گھسیٹ کر وہیں قریب بیٹھ گیا۔ ’’تم اپنی روٹیوں کی فکر کرو۔ کہیں جل نہ جائیں۔ اور ساتھ ساتھ میرے سوالات کے جواب بھی دیتی جاؤ۔ جو میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے اور کوئی چارہ نہ دیکھ کر صاف صاف بات کرنا چاہی۔ ’’ایک بات پوچھوں۔ بتاؤگی؟‘‘

’’ارشاد‘‘ فہمیدہ مسکرادی۔

’’اختر کام پر جانے سے معذور ہے، لہٰذا آمدنی بند ہوگئی۔ اب گھر کا خرچ کیسے چل رہا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔ وہ پہلے کچھ سٹپٹائی، پھر ہنستے ہوئی بولی۔ ’’وہ معذور ہوگئے تو کیا، کام تو کوئی بند نہیں ہوا۔ اب وہ گھر پر بیٹھ کر ٹین کے کھلونے بناتے ہیں، ان سے اتنی آمدنی ہوجاتی ہے کہ بہ آسانی گذر ہورہی ہے۔ کوئی تکلیف نہیں۔‘‘اس نے روٹی پلٹتے ہوئی کہا۔

’’یہ کھلونے بازار میں لے جا کر کون بیچتا ہے؟‘‘ میں نے تعجب سے پوچھا۔

’’پہلی میں ہی سر پر برقعہ ڈال کر بازار گئی۔ اب دوچار دکاندار لگ گئے ہیں اپنے آدمی بھیج کر گھر سے منگا لیتے ہیں۔‘‘ اس نے جواب دیا اور میں حیرت سے اس کا منھ دیکھتا رہ گیا۔ فہمیدہ مسکرا رہی تھی۔ مجھے یوں لگا جیسے ساری کائنات مسکرا رہی ہو۔

’’اور دوسرے کام کون کرتا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا ’’بازار سے سودا سلف لانا، راشن، کپڑا، اور دوسری ضروریات کی فراہمی، بچوں کو اسکول لیجانا واپس لانا، اختر کو حاجاتِ ضروریہ سے فارغ کرانا وغیرہ۔ اور دوسرے بہت سے کام؟‘‘

’’وہ سب میں ہی کرلیتی ہوں بھیا۔‘‘ فہمیدہ نے بڑے اطمینان سے جواب دیا۔ ’’اور پھر اللہ بھلا کرے محلہ والوں کا۔ سب کے سب بڑے ہی بھلے اور نیک لوگ ہیں۔ کہ ہر دم کوئی نہ کوئی دروازہ پر کھڑا رہتا ہے کہ بہن جی۔ کچھ کام بازار کا ہو تو بتادو میں اپنے کام سے جارہا تھا سوچا تم سے بھی پوچھتا چلوں۔ تو بھیا! اللہ سب کام کراہی دیتا ہے!‘‘

’’فہمیدہ؟‘‘ میں نے اس کی روشن پیشانی کو تکتے ہوئی کہا ’’تم اپنی ماں کے گھر کیوں نہیں چلی جاتیں۔ یہاں تمہیں کتنے کام ‘‘ یہ الفاظ میں نے کہنے کو تو کہہ دئے مگر میں نے دیکھا کہ اس بات پر فہمیدہ کے ماتھے پر شکن آگئی۔

’’یہ آپ کہہ رہے ہیں بھائی جان؟‘‘ وہ غصہ سے تمتماتے ہوئے چہرے کے ساتھ میرے طرف مڑی۔ ’’اختر صاحب آپ کے دوست ہیں، آپ سے زیادہ کون اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ انھیں جس قدر توجہ اور دیکھ بھال کی آج ضرورت ہے اتنی کبھی پہلے نہ تھی۔ کیا آپ مجھ سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں سکھ کے وقت ان کے ساتھ رہی آج دکھ کے سمے انھیں چھوڑ کر چل دوں؟‘‘

’’مجھے معاف کردو فہمیدہ؟‘‘ میری گردن جھک گئی۔

’’مجھے معلوم ہے کہ یہ آپ نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ کسی دوسرے نے یہ الفاظ آپ کی زبان سے کہلوائے ہیں۔‘‘ اتنے میں ہی وہ سب کچھ سمجھ گئی۔ میں پہلے بتا چکا ہوں وہ بڑی ذہین لڑکی تھی۔ تعلیم یافتہ جو تھی۔ ’’جس کسی نے بھی آپ سے کہلوایا ہو، آپ کہہ دیجیے ان سے کہ فہمیدہ کا گھر اب یہی ہے۔ یہ آسائشوں سے پُر ہو یا مصیبتوں سے بھرا۔ مگر میرا اپنا ہے۔ اس گھر کا مالک میری تمام زندگی کا ساتھی ہے۔ میں نے اس کی ٹانگوں سے شادی نہیں کی تھی کہ ٹانگیں نہ رہیں تو یہ رشتہ بھی قطع ہوگیا۔ میں نے اگر اسے چاہا تھا یا اس سے عہد وفا باندھا تھا وہ ہمیشہ کے لیے تھا۔ ذرا سوچئے کہ محبت صورت یا جسم سے کی جائے تو یہ کیسی ناپائیدار ہوگی۔ فرض کیجیے اگر آج میرا چہرہ جھلس جائے یا میرے جسم پر آبلے نمودار ہوجائیں تو آپ خود یا میرے ابا جان کے کہنے پر اختر صاحب کو یہ مشورہ دیں گے کہ وہ مجھے چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں؟‘‘ اور میرے پاس اس کے اِ س سوال کا کوئی جواب نہ تھا۔ سوائے ندامت کے جس نے میری گردن جھکا دی۔

’’مگر تمہیں اپنے والد سے مالی امداد قبول کرنے میں تامل کیوں ہے؟‘‘ وہ تمہارے باپ ہیں۔ اولاد ہمیشہ ہی اپنے ماں باپ کی مدد کی محتاج رہتی ہے۔ اپنے والدین سے کچھ لینے میں عار کیا؟ یہ تو بچوں کے لیے باعثِ خوشی ہونا چاہیے۔ وہ کوئی غیر تو نہیں ہوتے؟‘‘ میں نے اسے سمجھایا۔

’’آپ نے صحیح فرمایا۔ میرے لیے عین سعادت اور باعثِ خوشی ہوگا اگر میں اپنے ابا جان کی عنایات سے اپنے شوہر اور بچوں کی خوشی اور فراغت میں اضافہ کرسکوں۔ مگر اس کا کیا ہو کہ اختر صاحب بڑے خوددار اور با حمیت انسان ہیں۔ وہ ایسا کبھی پسند نہ کریں گے۔ اگر میری خاطر وہ اسے منظور بھی کرلیں تو ان کا دل اس پر شرمسار ہی رہے گا۔ اس لیے میں نہیں چاہتی کہ انھیں ندامت مول لے دوں۔ اور پھر ہمیں کوئی تکلیف بھی تو نہیں۔ ہماری جائز ضروریات کے لیے ہمارے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہے۔ جب اختر صاحب بھاری تنخواہ مل سے لیتے تھے تو میں اس میں سے ایک بڑا حصہ پس انداز کرلیا کرتی تھی اور اب اتنی بڑی رقم میرے پاس محفوظ ہے جو میرے گھر کی ضروریات، میرے بچوں کی تعلیم اور میرے شوہر کے آرام و آسائش کے لیے ایک عرصہ تک کافی ہوگی۔ اللہ ان کی جان سلامت رکھے۔ ہمیں اپنی محنت کی کمائی بہت ہے اس روکھی سوکھی میں جو مزہ ہے وہ مرغن غذاؤں اور حلوہ پراٹھے میں بھی نہیں۔‘‘ جب فہمیدہ نے یہ بات کہی تو مجھے وہ بہت اونچی اور بلند لگنے لگی۔

جب میں چلنے لگا تو میں نے فہمیدہ سے کہا ’’ذرا میری طرف دیکھو‘‘جب اس نے گردن اٹھائی تو میں نے سیدھے کھڑے ہوکر دونوں پاؤں ملا کر اٹینشن ہوکر ایک زور دار سیلوٹ اسے پیش کیا۔ کیونکہ وہ میری نظر میں سکندر اعظم اور نیپولین دی گریٹ سے بھی بڑی فاتح تھی۔ آج تک روئے زمین پر جتنی لڑائیاں لڑی اور جیتی گئیں ان میں دلوں کا جیتنا سب سے بڑی کامیابی ہے اور واقعی طور پر عظمت کا خطاب انہی پر سجتا ہے جنھوں نے اس میدان میں کارہائے نمایاں کرکے دکھائے ہوں۔

شیئر کیجیے
Default image
سلطان رفیع