2

عریانیت – توہین نسوانیت

خداوندِ کریم نے بنی نوع انسان کی زیب و زینت کے لیے لباس اتارا ہے۔ اور لباس کوئی مصنوعی چیز نہیں بلکہ انسان کا فطری و لازمی تقاضہ ہے۔ خدا تعالیٰ سورئہ الاعراف میں تمام انسانوں سے ارشاد فرماتا ہے: ’’اے اولادِ آدم! ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابلِ شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے۔‘‘

خدا نے انسان کی فطرت میں شرم و حیام رکھی ہے۔ اور یہ شرم و حیا تقاضہ کرتی ہے کہ انسان اکیلا ہو یا لوگوں کے درمیان ہمیشہ ساتر و مکمل لباس میں ہو۔ عہدِ حاضر کے معاشرے کو دیکھئے تو معلوم ہوتا ہے کہ آزادیٔ نسواں اور مساواتِ مردوزن کے کھوکھلے نعروں نے عورت کو گمراہی کی اس ڈگر پر ڈالا ہے کہ وہ عریانیت و کم لباسی کو ہی اپنی ترقی و آزادی سمجھ رہی ہے۔ آزادیٔ نسواں کے نام پر عریانیت کو بڑھاوا دینا عورتوں کے ساتھ انتہائی بھیانک مذاق ہے۔ نت نئے ٹی وی چینلوں نے فحاشی و بے حیائی کا وہ طوفان بدتمیزی برپا کیا ہے جس کی کوئی حد ہی نہیں اور یہ کہاں ختم ہوگا کہا نہیں جاسکتا۔ دوسری طرف اخبارات و رسائل ہیں ان میں تو مقابلہ آرائی صرف اس بات کی ہے کہ کون بڑھ چڑھ کر فحش و عریاں تصاویر شائع کرتا ہے۔

جدیدیت و ترقی کا نام لے لے کر عورت کو عریاں کیا جارہا ہے۔ لیکن سب سے افسوسناک بات تو یہ ہے کہ عورت نے خود اپنا مذاق بنالیا ہے۔ وہ اگر عریاں و نیم عریاں لباسوں میں اشتہار نہ دے، کم لباسی اور بے حیائی کے ساتھ آزادانہ سڑکوں اور پارکوں میں نہ گھومے اور فلم و ٹی وی کے ذریعہ پھیلائی جانے والی فحاشی کے خلاف احتجاج کرے، ایسی تمام ہی چیزوں کا بائیکاٹ کرے جو عورت کو انتہائی سستا اور جنس بازار بناکر پیش کرتی اور اس کی نسوانیت کی توہین کرتی ہیں تو کیا عجب کہ ایک دن یہ فحاشی و عریانیت کا سیلاب خود ہی ساری غلاظت اپنے ساتھ بہا لے جائے جو انسان کو تباہ و برباد کرکے رکھ دینے والی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ انسان جب اپنی فطرت سے بغاوت کرتا ہے تو اس کے نتائج اس کو بھگتنا ہوتے ہیں۔ مغربی معاشرے میں کیا ہورہا ہے؟ اور یہاں خود ہمارے معاشرے میں کیا ہورہا ہے؟ مخلوط محفلوں میں آزادانہ اختلاطِ مردوزن، ٹی وی کے بے حیا مناظر سے لطف اندوز ہونا اور تفریح کا نام دیا جانا، نوجوان لڑکیوں کا گھنٹوں فحش و اخلاق سوز میگزین کے مطالعہ میں غرق رہنا، ٹی وی سیریل کے لیے زبردست بے چینی، ہر نئی ادا کارہ کی نقالی، اور ان ہیرو ہیروئن کو اپناآئیڈیل بنانا جن کا مقصدِ زندگی عیاشی کے سوا کچھ نہیں، کیا ہمارے قابلِ عبرت نہیں ہے۔

نوجوان نسل میں یہ بڑھتی ہوئی بے راہ روی والدین کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کے سبب بھی ہے۔ مغربی تہذیب کے پیچھے، جو خودکشی کے کگار پر کھڑی ہے، دیوانہ وار بھاگنے والوں کی اس دوڑ میں نہ وہ خود پیچھے رہنا چاہتے ہیں نہ اپنے جگر گوشوں کو پیچھے رکھنا چاہتے ہیں۔ ہر روز اس عریانی کے سبب پیدا ہونے والے سنگین و بھیانک نتائج ہمارے سامنے آتے ہیں، پڑھتے ہیں، دیکھتے ہیں لیکن احساسات پر جمی برف پگھلنے کا نام ہی نہیں لیتی۔

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا

کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

موجودہ دور کے مسلمانوں کا سب سے بڑاالمیہ تو یہ ہے کہ جن ممالک میں شیطان صفت انسان حجاب پر پابندی عائد کررہے ہیں وہاں کی عفت مآب و پردہ نشین خواتین اس پابندی کے خلاف احتجاج کررہی ہیں اور جہاں عورت کو پردہ میں رہنے کی آزادی ہے وہاں کی عورتیں بے پردہ ہونے کو اپنی آزادی سمجھ رہی ہیں۔

اسلام ایک ایسا آفاقی دین ہے جس کی تعلیمات و احکامات انسان کی دنیاوی و اخروی فلاح و بہبود کی ضامن ہیں۔ چودہ سو برس پہلے اسلام نے عورت کو وہ حقوق اور آزادیٔ نسواں کا وہ تصور دیا ہے جس میں اس کے حقوق کا بھر پور تحفظ ہے۔ اس کی عفت و عصمت، عزت و وقار کو باپ، بھائی، شوہر کی عزت قرار دیا گیا ہے۔ اور آج مسلم خاتون بھی مغربی تہذیب کے خول کو اپنے اوپر جدیدت و ترقی کا نام لے کر چڑھا رہی ہیں۔ وہ مغرب جس کی چمک دمک سے مشرقی خواتین متاثر ہوتی ہیں خود وہاں کی عورتیں اسلام کے دامن میں پناہ لے رہی ہیں۔ انہیں باپ، بھائی، شوہر کسی کی بھی حفاظت میں ہونے کا اطمینان بخش احساس میسر نہیں۔ فحاشی و عریانیت نے انہیں کہیں کا نہ چھوڑا۔ نہ گھر کا سکون نہ باہر عزت و وقار کی زندگی۔ چاروں طرف سے ہوس بھری نگاہوں میں گھری بے سائباں عورت! جس کی ایک کھلونے سے بڑھ کر کوئی وقعت اور حیثیت نہیں۔

آج کے معاشرے میں بالخصوص مسلم خواتین و طالبات پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو، اپنے گھر کو، محلہ و پڑوس کو، اعزا و اقرباء کو اور وطنی و ملی بہنوں کو اس عریانی کے تباہ کن دلدل میں پھنسنے سے بچائیں اور اس کے خوفناک نتائج سے آگاہ کریں۔ خداورسولؐ کے احکامات کو جانیں اور دوسروں تک پہنچائیں۔ اگر ہم عورت اپنی جگہ اس محاذ پر کام کرنے لگیں تو کامیابی یقینی ہوجائے گی۔

تیری حیات سے کردارِ رابعہ بصریؒ

تیرے فسانے کا عنوان عصمتِ مریمؑ!

نہ دیکھ رشک سے تہذیب کی نمائش کو!

کہ سارے پھول یہ کاغذ کے ہیں خدا کی قسم!

وہی ہے راہ تیرے عزم و شوق کی منزل

جہاں ہوں عائشہؓ و فاطمہؓ کے نقشِ قدم

شیئر کیجیے
Default image
بشریٰ ناہید، اورنگ آباد

تبصرہ کیجیے