5

وفادار بیوی

واصف عرب کے ایک مشہور امیر ترین گھرانے کا چشم و چراغ تھا۔ باپ کا اکلوتا بیٹا ہونے کی وجہ سے تمام گھر کے افراد اس کی ناز برداریاں کرتے۔ والدین کا اکلوتا ناز بردار بیٹا زمانے کی رفتار کے ساتھ جوان ہونے لگا۔ ہمسائے اور خویش و اقارب سارے اس کی بلائیں لیتے اور اس کے پروان چڑھنے، جوان ہونے کے لیے ہمیشہ بارگاہِ ایزدی میں دست بدعا رہتے، آخر ان کی مرادیں پوری ہوئیں۔ واصف ایک حسین وخوبصورت نوجوان نکلا۔

اسی گھرانے میں جہاں واصف اتنی ناز برداریوں سے پلا تھا۔ ایک یتیم لڑکی بھی اس کے ساتھ پرورش پاتی رہی۔ دونوں ایک دوسرے کو بہت چاہتے تھے۔ جب وہ جوان ہوئی تو دن بہ دن لاغر ہونے لگی۔ کیونکہ وہ اپنی حالت کو خوب جانتی تھی۔ اسے خیال آیا کہ میں ایک یتیم لاوارث بچی ہوں جس کا کوئی سہارا نہیں اور نہ ہی میرے پاس دولت ہے جس سے میں واصف کو اس کے باپ کے ہاتھوں خرید سکوں گی۔ واصف کا باپ ایک امیر شخص ہے۔ قبائلِ عرب میں اس کی بڑی عزت ہے۔ تمام قبائل عرب اس کی تعظیم کی خاطر اپنی گردنیں خم کرلیتے ہیں۔ جب وہ کسی گلی کوچے، بازار سے گزرتا ہے تو لوگ اس کے احترام کے لیے گردنیں جھکائے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جو شخص اتنی ہائی پوزیشن کا مالک ہو، وہ ایک یتیم اور لاوارث بچی کو اپنی بہو بنانے پر کیوں کر راضی ہوسکتا ہے۔ یہ خیالات اسے دن بہ دن کھائے جارہے تھے۔

واصف جو اس کا شیدائی اور اس کے ساتھ پل کر پروان چڑھا تھا اور جس کے دل میں اس کی محبت ہروقت اٹھکھیلیاں کرتی رہتی تھی وہ اس کے مرض کو خوب جانتا تھا۔ اس نے اپنی ماں سے کھلے لفظوں میں کہہ دیا کہ ماں! میں لطیفہ کے سوا کسی سے بھی شادی نہیں کروں گا۔واصف کے والدین لطیفہ کی سیرت و صورت سے خوش تھے۔ چنانچہ انھوں نے بغیر کوئی بات کہے دونوں کی شادی کردی۔یہ یقینی بات ہے کے عشق و محبت میں اگر رکاوٹیں پیش نہ آئیں تو حقیقی محبت کا پتہ نہیں چل سکتا اور نہ ہی دلوں کے اخلاق کو جانچا جاسکتا ہے۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ واصف بیمار ہوگیا، بہت علاج ہوئے والدین نے مرض کے دفیعہ کے لیے دن رات ایک کردیا، اور لطیفہ نے اپنے پیارے شوہر کی خدمت گزاری میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ ہر وقت شفا کاملہ، عاجلہ کے لیے بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز رہتی۔

ایک رات واصف نے لطیفہ سے کہا۔ لطیفہ! میری طرف دیکھو، میری بات غور سے سنو لطیفہ! زندگی کی مسرتیں اور کامرانیاں عارضی ہیں، چار روزہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، میں اپنی حالت کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ اب وہ وقت بعید نہیں جب قدرت مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے تم سے جدا کردے گی۔

یہ الفاظ واصف نے کچھ ایسے درد بھرے انداز سے ادا کیے کہ لطیفہ کے روئیں روئیں سے اشکوں کے طوفان پھوٹ نکلے۔ وہ اپنی نرگسی آنکھوں سے، گلابی رخساروں پر موتیوں کے قطرے بکھرنے لگی۔ اپنے اشکوں کے طوفان کو آنچل سے پونچھ کر کہنے لگی، میرے پیارے واصف! میری زندگی، میرے جیون کے سہارے، میری دنیا، میری کائنات، جان کے بغیر جسم مردہ ہوتا ہے۔ میں آپ کے بغیر کیونکر زندہ رہوں گی۔بیوی کے ان وفادارانہ کلمات نے واصف کے دل میں ایک عجیب سرور کا سامان پیدا کردیا۔ اس کے عزائم اور ارادے ایک دفعہ پھر جوان ہوگئے۔مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا، سحری کا وقت تھا۔ واصف نے پکارا لطیفہ۔لطیفہ جو ہر وقت اپنے محبوب خاوند کے سراہنے بیٹھی رہتی تھی، یہ آواز سن کر کانپ گئی، کیونکہ آواز صاف نہ تھی۔

جی میری تمنا، میں حاضر ہوں، لطیفہ نے اس پرجھکتے ہوئے کہا۔

لیکن واصف کی روح اس قفس عنصری سے پرواز کرچکی تھی، وہاں کوئی زبان نہ تھی جو لطیفہ کی ’’جی میری تمنا‘‘ کا جواب دیتی۔ لطفیہ کی آنکھوں میں دنیا اندھیری ہوگئی، واصف اگرچہ اس کی دنیا سے دور ہوچکا تھا۔ لیکن اس کا دل واصف کی یاد سے ایک پل کے لیے بھی غافل نہ ہوا۔

اب اس کا یہ معمول تھا، وہ روزانہ پاکیزہ اور بہترین لباس زیب تن کرتی اور زیورات سے نئی دلہن کی طرح سج دھج کر سرِ شام اپنے شوہر کی قبر پر جاتی، اپنے محبوب کی قبر سے لپٹ کر روتی، اسی کو وہ مقصدِ حیات سمجھتی اور یہی اس کی زندگی کا محبوب مشغلہ تھا۔

ایک رات حسبِ معمول یہ محبت و وفا کی دیوی اپنے شوہر کی قبر پر آنسو بہا رہی تھی کہ عرب کا مشہور شاعر اصمعی وہاں سے گزرا، اس نے ایک نوجوان، خوش پوش حسینہ کو اس حال میں دیکھا تو بڑا حیران ہوا۔ اور قریب آکر کہنے لگا۔’’اے خاتون! تیری آہ وزاری سے میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے، فرمائیے میں کس طرح آپ کی مدد کرسکتا ہوں۔‘‘

لطیفہ نے ایک ٹھنڈا سانس لیا اور کہا۔ ’’اے نیک دل انسان، اگر آسمان سے فرشتہ بھی اتر آئیں تو وہ بھی میری مدد نہیں کرسکتے۔ میری مسرتوں کا خزانہ، اس مٹی کے تودے میں مدفون ہے۔ پہلے میں اس صاحب قبر کی لونڈی تھی اور آج اس کی تربت کی جھاڑو کش اور خادمہ ہوں۔ میں آج بھی اس سے ویسی ہی محبت کرتی ہوں جیسی اس کی زندگی میں کیا کرتی تھی، میرے دل میں آج بھی اس کے لیے اتنا اخلاص ہے جتنا اس کی زندگی میں ہوا کرتا تھا۔ میں روزانہ اسی طرح قیمتی لباس وزیورات سے آراستہ ہوکر سرِ شام اس کی قبر پر آتی ہوں۔ اور اپنے محبوب کی قبر کو اشکوں سے تر کرکے واپس ہوجاتی ہوں۔‘‘

وہ کافی دیر تک وہاں روتی رہی۔ اصمعی کے کسی اور سوال کا جواب نہ دیا۔ وہ بڑی دیر تک یہ نظارہ دیکھتا رہا۔ آخر کار رات کا کافی حصہ گزر جانے کے بعد وہ واپس گھر چلی گئی۔ اصمعیؔ اس واقعہ سے بہت متاثر ہوا۔ یہ پہلا واقعہ تھا جو اس نے اپنی زندگی میں دیکھا۔ شہنشاہ ہارون الرشید کا زمانہ تھا، اس نے یہ سارا قصہ اور اس دل گداز واقعہ کا پس منظر ہارون الرشید سے ذکر کیا اور شوہر پرستی کی تعریف کی۔

ہارون الرشید نے کہا، دنیا میں تمام چیزیں حاصل کی جاسکتی ہیں لیکن وفادار بیوی کا ملنا بہت دشوار ہے۔ اصمعی!ؔ کیا تم ایسی وفا شعار بیوی کے حصول میں میری مدد کرسکتے ہو؟

اصمعیؔ نے مودبانہ عرض کی، جہاں پناہ! میرا خیال ہے کہ وہ عورت جو مرنے کے بعد بھی اپنے شوہر کا اس قدر احترام کرتی ہے وہ کسی دوسرے کو پسند نہیں کرے گی۔

ہارون نے کہا ’’ہم اسے مالا مال کردیں گے، جواہرات اور سونے کے ڈھیر لگادیں گے، تمام خزانہ اس کے سپرد کردیں گے۔‘‘

اصمعیؔ نے جواب دیا: ’’حضور! اس کے دل میں محبت کا وہ خزانہ ہے جس پر آپ کی ساری حکومت کو قربان کیا جاسکتا ہے۔‘‘

ہارون نے کہا ’’میں شہنشاہِ وقت ہوں، وہ ملکہ ٔ وقت بننے کو ضرور پسند کرے گی، میں اسے ہر ممکن طریقے سے حاصل کروں گا، مجھے امید ہے کہ وہ میری اس تمنا کا احترام کرے گی اور میری اس عزت افزائی کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گی۔‘‘

اصمعیؔ نے دست بستہ عرض کی ’’جہاں پناہ! آپ ساری دنیا کو تو فتح کرسکتے ہیں لیکن دل کی دنیا کو فتح کرنا آسان کام نہیں اس دولت پر زر سے قبضہ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘

لیکن رشیدی جواہرات اور حکومت کے وقار نے لطیفہ کے چچا کو خرید لیا، لطیفہ کے انکار کے باوجود اسے چمکتے دمکتے دیناروں اور سونے کے انباروں کی بھینٹ چڑھا دیا گیا، اسے زبردستی دلہن بنا کر نکاح کردیا گیا۔ لطیفہ حیرت و استعجاب کا مجسمہ بن کر اس ڈرامے کو دیکھتی رہی جو اس کے جذبات کو ذبح کرکے کھیلا جارہا تھا۔

آخر کار بڑی شان و شوکت کے ساتھ وہ بغداد روانہ کردی گئی، لوگ اس کی خوش نصیبی پر رشک کرنے لگے۔ لیکن لطیفہ اپنی چھنی ہوئی بادشاہت کے غم سے سوگوار تھی۔ اس کے دل سے شعلے اٹھ رہے تھے۔

قافلہ بڑی تیزی کے ساتھ بغداد کی طرف چلا جارہا تھا، لیکن لطیفہ کی روح قافلہ والوں سے ناخوش ہوکر واصف کی قبر کی طرف کھنچی جارہی تھی۔ عین اس وقت جب کہ یہ شاہی قافلہ شادیانے بجاتا مدائن کے کھنڈرات سے گزر رہا تھا، محملِ خاص سے ایک دردناک چیخ سنائی دی، تمام قافلہ سراسیمہ ہوگیا۔ محمل کی خواص نے اطلاع دی کہ ملکہ بے ہوش ہے۔ لطیفہ حدانیہ کو محمل سے اتار کر ایک ریشمی گدے پر لٹا دیا گیا، شاہی طبیب بلائے گئے۔ ہوش میں لانے کی لاکھوں تدبیریں کی گئیں جو تمام بے کار ثابت ہوئیں۔

لطیفہ نے تین مرتبہ واصف! واصف ، واصف پکارا، اور پھر لمحہ بھر میں واصف کے پاس جا پہنچی۔ یہ وفادار خاتون مرنے کو تو مر گئی لیکن اس کا یہ کارنامہ آج بھی زندہ و جاوید ہے۔ اس نے عورت کی وفاداری کی صحیح معنوں میں مثال قائم کی اور نسوانیت کے وقار کو بلند کیا۔

(ماخوذاز عفت)

شیئر کیجیے
Default image
یعقوب ڈہروی

تبصرہ کیجیے