3

عید کا تحفہ

عید ہر سال آتی اور اپنی تمام نعمتوں اور خوشیوں کے ساتھ رخصت ہوجاتی۔ شام کو جب نعیم اور زرینہ ایک جگہ بیٹھتے تو نعیم کہتا ’’اب کے بھی دن بہار کے یوں ہی گزر گئے‘‘

نعیم بڑی حسرت کے ساتھ یہ مصرعہ پڑھ کر خاموش ہوجاتا۔ زرینہ اس کے معنی سمجھتی تھی وہ جانتی تھی کہ اس کا پیارا شوہر کیوں ہر عید کو شام کے وقت یہ مصرع پڑھتا ہے۔ اسے شادی کے وقت اس کی ماں نے دو نہایت خوبصورت موتی دئے تھے۔ ماں کی خواہش تھی کہ وہ ایک خوبصورت سی نتھنی بھی دے گی لیکن غریبی کی وجہ سے نہ دے سکی۔ اپنے گھر آنے کے بعد کسی موقع پر زرینہ نے شوہر کو موتی دکھاتے ہوئے اپنی اور اپنی ماں کی خواہش کا ذکر کیا تھا اور نعیم نے وعدہ کرلیا تھا کہ وہ اسے نئے ڈیزائن کی نتھنی بنوادے گا اس نتھنی میں موتی چار چاند لگادیں گے لیکن نعیم اپنی کوششوں کے باوجود یہ خواہش پوری کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا تھا۔ عید کے دن شام کو جب وہ کہتا کہ’’ اب کے بھی دن بہار کے یوں ہی گزر گئے‘‘ تو زرینہ کو ایسا لگتا جیسے شوہر نے اپنے پورے جذبات کا دریا اس کے سامنے بہادیا۔

نعیم اور زرینہ کی شادی کو پانچ برس ہوچکے تھے نعیم ایک کارخانے میں دو ہزار روپیہ کا ملازم تھا۔ دو ہزار روپیہ آج کل ہوتے ہی کیا ہیں مشکل سے گزارا ہوتا تھا کچھ بچنے کا سوال ہی کیا۔ ایک دن جب رمضان کا تیسرا عشرہ چل رہا تھا، وہ اپنی بیوی کے لیے ایک سوٹ کا کپڑا لایا، کپڑا اوسط درجے کا اچھا تھا۔ زرینہ کو اچھا لگا لیکن نعیم کو کچھ ایسا محسوس ہوا جیسے زرینہ کچھ اور چاہتی ہے۔ اس نے پوچھا تو غریب بیوی نے شرماتے ہوئے کہا’’ دو موتی امی نے دئے تھے۔ کاش کہ ان کے لیے نتھنی میرے پاس ہوتی؟‘‘

زرینہ کی یہ خواہش تیر کی طرح نعیم کے دل میں لگی۔ اس نے کہا کہ اس سال تو کپڑے بنوالو۔ اگلے سال خدا نے چاہا کچھ اور کروں گا۔ نتھنی میں تو پانچ ہزار لگیں گے زرینہ‘‘۔ اور زرینہ کو ایسا محسوس ہوا کہ’’نہ نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی۔‘‘

دوسرے سال نعیم ہر مہینے بجٹ اس طرح بناتا کہ کم سے کم ہر ماہ دو سو روپے بچالے، لیکن گرانی کا عالم یہ کہ خدا کی پناہ وہ پورے سال کنجوسی کی حد تک گزارا کرتا رہا لیکن کوئی نہ کوئی مرحلہ ایسا آجاتا کہ بچی ہوئی رقم خرچ ہوجاتی۔ ایک بار بہن اپنے گھر سے آئی اور گیارہ دن رہ کر چلی گئی۔ اس کی خاطر مدارت میں آٹھ سو روپے صرف ہوگئے۔ نعیم نے پھر جتن کیے۔ تین چار مہینے کی کنجوسی کے بعد تقریباً سات سو روپئے اس نے بچائے، لیکن اکتوبر میں اسے انفلوئنزا ہوگیا۔ اس نے علاج نہیں کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انفلوئنزا ٹائیفائڈ میں تبدیل ہوگیا بائیس دن بیمار رہنے کے بعد جب وہ چار پائی سے اٹھا تو بیوی نے بتایا کہ سات سو روپیہ دوا و علاج کی نذر ہوئے اور پانچ سو روپیہ قرض ہوگئے۔ یہ سن کر نعیم نے اس طرح آہ بھری کہ جیسے وہ چاہتا ہو کہ یہ روپئے اس کی بیماری پر نہ خرچ کیے جاتے تو اچھا تھا۔

غرض کہ وہ پورے سال دکھ جھیل کر بھی کچھ نہ بچا سکا اور عید گزر گئی۔ اور اس کی زبان سے نکلا کہ آہ ’’اب کے بھی دن بہار کے یوں ہی گزر گئے۔‘‘

تیسرے سال بھی وہ ناکام رہا۔ تیسرے سال عید کے دن اس نے زرینہ سے کہا کہ اگر اگلے سال بھی وہ نتھنی نہ بنوا سکا تو باپ کے زمانے کی گھڑی بیچ دے گا۔

زرینہ نے پوچھا، کیسی ہے وہ گھڑی۔ اس کے جواب میں نعیم نے اپنے بکس سے ایک نہایت خوبصورت گھڑی نکال کر دکھائی۔

تم نے اب تک اسے استعمال کیوں نہیں کیا۔

اس لیے کہ اس کے لیے مناسب چین نہ خرید سکا۔

کتنے کی آتی ہے چین؟

چین تو سو ڈیڑھ سو کی بھی مل جائے گی لیکن میں جو چین لینا چاہتا ہوں وہ سنہری چین ہزار سے اوپر ملتی ہے۔

اس لیے یہ ابھی تک یوں ہی رکھی ہے۔

’’ہاں زرینہ!‘‘

نعیم نے زرینہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔ زرینہ کی نظریں اس کے چہرے پر جمی ہوئی تھیں اور دونوں کی آنکھوں میں آنسو جھلک رہے تھے۔

مسلسل کئی برس کے تجربے سے زرینہ کو یہ یقین ہوگیا تھا کہ اس کا پیار اور محبت کرنے والا شوہر نتھنی بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے گا۔ اس نے سوچا ’’تو پھر کیوں نہ اسے بیچ ڈالوں اور اپنے پیارے شوہر کے لیے سنہری چین خرید لاؤں۔ عید کے دن جب وہ سنہری چین کے ساتھ گھڑی استعمال کرے گا تو اسے کیسی خوشی ہوگی۔

آخر الوداع کے دن جب نعیم عید کا سامان لینے بازار گیا تو یہ بھی گھر سے نکلی۔ رکشا کرکے جھٹ صرافے پہنچی، اس نے ایک صراف کو نتھنی دکھائی اور پوچھا کہ کتنے کی بک سکتی ہے۔ اس نے بارہ سو کہے۔ زرینہ نے نتھنی بیچ دی اور وہیں سے شہر کی سب سے بہتر گھڑی کی دوکان پر پہنچی۔ چین تلاش کرنے لگی۔ آخر وہ مراد کو پہنچ گئی۔ سنہری چین اس نے ڈھونڈ نکالی۔ دام پوچھے۔ قیمت پورے ہزار روپئے تھی زرینہ نے رقم گن دی اور خوش خوش واپس ہوگئی۔

کچھ دیر کے بعد نعیم بھی آگیا۔ وہ بھی بہت خوش تھا دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے، ایک نے دوسرے سے پوچھا کہ یہ مسکراہٹ کیسی؟ لیکن نہ نعیم بتاتا اور نہ زرینہ۔

عید کے دن نعیم جب صبح کی نماز پڑھ کر گھر آیا تو وہ بہت خوش تھا۔ اتنی ہی خوشی زرینہ کو تھی۔ ’’میرا نعیم سنہری چین پاکر آج کتنا خوش ہوگا۔‘‘ نعیم تلاوت کرنے بیٹھ گیا وہ بار بار زرینہ کو دیکھتا اور مسکراتا۔ زرینہ بھی منتظر تھی کہ نعیم تلاوت کرنے سے فارغ ہو تو وہ چین پیش کرے۔

نعیم نے قرآن چوم کر جزدان میں رکھا اور زرینہ اس کے پاس پہنچ گئی۔’

’پیارے نعیم! ذرا اپنی گھڑی تو نکالو۔‘‘

’’پیاری زرینہ! ذرا اپنی نتھنی تو لاؤ‘‘

’’نہیں پہلے تم گھڑی نکالو۔‘‘

’’نہیں پہلے تم نتھنی لاؤ۔‘‘

’’نہیں تم گھڑی لاؤ میں آج تم کو خوش کردوں گی۔‘‘

’’نہیں تم نتھنی لاؤ … تم کو خوش کردوں گا۔‘‘

دونوں خوشی کے مارے مدہوش ہورہے تھے جب نعیم نے گھڑی نہیں نکالی تو وہ اس کے بکس کی طرف بڑھی پیارے شوہر! دیکھو تو میں تمہارے لیے سنہری چین لائی ہوں۔

سنہری چین دیکھ کر نعیم کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

’’تو لاؤنا گھڑی۔‘‘

’’تم نے یہ چین کیسے حاصل کی؟‘‘

’’اس سے تم کو کیا مطلب!‘‘

’’نہیں بتاؤ زرینہ، رقم تم کو کہاں سے ملی۔‘‘

’’میرے نعیم! میں نے چین خریدنے کے لیے نتھنی بیچ دی۔‘‘

’’ہائیں! تم نے نتھنی بیچ دی تو یہ موتی اب کیا ہوں گے؟‘‘

’’کیسے موتی؟‘‘

’’موتیوں کی چمک سے زرینہ کی آنکھیں چمک گئیں۔

’’تم موتی کہاں سے لائے۔‘‘

’’زرینہ ! میں نے تمہاری خواہش پوری کرنے کے لیے گھڑی بیچ دی۔‘‘

’ہائے اللہ! نعیم‘‘

’’اب کے بھی دن بہار کے یوں ہی گزر گئے۔‘‘

نعیم اور زرینہ کی یہ عید بھی یوں ہی گزرگئی لیکن دونوں پر نقش بٹھا گئی۔

شیئر کیجیے
Default image
کوثر جہاں زاہدؔ

تبصرہ کیجیے