3

برائیوں کے طوفان میں ہم کیا کریں؟

عصر حاضر کی دجالی قوتوں نے اگرچہ اپنی الوہیت و ربوبیت کا واضح طور پر اعلان تو نہیں کررکھا ہے تاہم نیوورلڈ آرڈرکے پس پردے چھپا ہوا انا ربکم الاعلیٰ کا فرعونی دعویٰ بڑی آسانی سے پڑھا جاسکتا ہے۔ ان قوتوں نے بھی اپنا سب سے بڑا ہدف مسلمانوں کے ایمان و عقیدہ کو خراب کرنا بنا رکھا ہے۔ اس لیے ان سے بچنے کے لیے ہمیں ہر وہ کام بڑی دلچسپی سے کرنا چاہیے جو ایمان و عقیدہ کی مضبوطی و حفاظت کا سبب بن سکتا ہو۔ اور ہر اس کام سے انتہائی نفرت کرنی چاہیے جس سے ہمارے عقیدہ و ایمان کو ضعف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

اس سلسلے میں سب سے پہلا کام ہمیں یہ کرنا چاہیے کہ کتاب و سنت کی سادہ اور خالص تعلیم و تربیت خود بھی حاصل کریں اور اپنے اہل و عیال کے لیے بھی اس کا بندوبست کریں۔ اس دور میں کتاب و سنت پر مبنی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرنا بھی بہت بڑا جہاد ہے۔ آج کل بلکہ ہر دور میں دجالوں کی دجالیت اور فتنہ پردازی سے محفوظ رہنے کا یہ ایک ایسا راستہ ہے جس کی طرف خود نبی کریم ﷺ نے راہنمائی فرمائی ہے۔ ماتمسکتم بہما کتاب اللہ وسنتی (میں تم میں دو چیزیں، اللہ کی کتاب اور اپنی سنت چھوڑے جارہا ہوں، جب تک ان دونوں کو مضبوطی سے پکڑے رہو گے ہرگز گمراہ نہیں ہوگے۔) ظاہر بات ہے کہ کتاب و سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا عمل ان کی تعلیم حاصل کیے بغیر ممکن نہیں۔

اپنے ایمان و عقیدہ کی حفاظت کے سلسلے میں دوسرا کرنے کا کام یہ ہے کہ مسجد کے ساتھ اپنا ربط و تعلق مضبوط کیا جائے۔ نماز پنجگانہ باجماعت مسجد میں پڑھنے اور اپنی اولاد کو پڑھانے کی کوشش کی جائے۔ درس قرآن و حدیث کا اہتمام کیا ہو تو انہماک و توجہ سے سنا جائے۔ جمعہ کے دن ذوق و شوق کے ساتھ خطبہ و تقریر سے بھر پور استفادہ کیا جائے۔ مسجد چونکہ اسلام کا مرکز اور نماز دین کا ستون ہے اس لیے ان دونوں کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرنا اسلام اور دین کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرنے کے مترادف ہے۔

اسی طرح دینی لٹریچر بھی دین و ایمان کو قائم رکھنے اور مضبوط کرنے میں انتہائی موثر کردار ادا کرسکتا ہے۔ اگر ہمیں واقعی اپنا دین و ایمان عزیز ہے تو پھر اسلامی لٹریچر کی خریداری پر پیسہ خرچ کرنے سے ہمیں قطعاً دریغ نہیں کرنا چاہیے اچھی اچھی کتابیں، اچھے اچھے رسائل و جرائد اور اچھے اچھے مضامین پڑھنے سے دین کے متعلق پیدا ہونے والے اشکالات و اعتراضات اور شکوک و شبہات کا ازالہ ہوجاتا ہے اور دل کو سکون و اطمینان کی دولت مل جاتی ہے۔ جو دین پر قائم رہنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

علاوہ ازیں ان تمام ’’مورچوں‘‘ سے اپنے آپ کو اور اپنے اعزہ و اقارب کو بچانا بھی نہایت ضروری ہے جہاں سے دجالان وقت ہم پر اور ہمارے دین و ایمان پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ مثلاً ٹی وی، وی سی آر، ڈش انٹینا، فلم، ڈرامہ، گانے بجانے اور موسیقی کی محفلیں، مقابلہ حسن و آرائش گیسو وغیرہ، کھیلوں کے عالمی مقابلے، کلچرل شو اور ثقافتی طائفے وغیرہ اور اسی طرح بے دینی و فحاشی پھیلانے والے رسالے، اخبارات و جرائد اور ڈائجسٹ وغیرہ۔

فلموں اور ڈراموں وغیرہ سے انسان کے دل میں زن، زر یا عورت ، دولت اور شہرت کی اتنی شدید محبت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ اولاً بے غیرت ہوکر دین و شریعت کی پابندیاں توڑنے پر دلی طور پر آمادہ ہوجاتا ہے۔ پھر اس کا عادی اور پھر ملحد بن جاتا ہے۔

اسی طرح فنکاروں، اداکاروں، کھلاڑیوں اور حیا باختہ عورتوں کی تصاویر، حالات، مشاغل کی تفصیلات چھاپنے والے رسائل و جرائد کے مطالعہ سے انسان کی آئیڈیل شخصیات یہی گندے لوگ بن کر رہ جاتے ہیں۔ اور پھر وہ ساری زندگی انہیں کی پیروی و اتباع کرنے میں لگا رہتا ہے۔ جب کہ انبیائے عظامؑ، صحابہ کرامؓ، ائمہ اسلامؒ اور اسلامی تاریخ کے دیگر ہیرو کی شخصیات اس کی نگاہ سے یکسر اوجھل ہوکر رہ جاتی ہیں اور یوں ان کے مثالی کردار کے علم سے محروم ہوجاتا ہے۔

برائیوں کے اس طوفانی دور میں خود کو اور اپنی نسلوں کو بچانے کی ذمہ داری خود ہماری ہے۔ ماحول اور معاشرہ تو اس وقت خود بتدریج فساد کی طرف جارہا ہے۔ اگر ایسے میں ہم انفرادی طور پر اپنے اپنے رول کو نہ سمجھیں اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی کوشش نہ کریں تو انجام کار وہی ہوگا جو آج کی دجالی قوتیں چاہتی ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ان کے مقابلہ کے لیے کمربستہ ہوں اور عملی جدوجہد کے میدان میں کود پڑیں۔

شیئر کیجیے
Default image
فرزانہ امین

تبصرہ کیجیے