2

حضورؐ اور عید کا دن

سب سے پہلے عید آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہؓ کے ساتھ یکم شوال ۲ہجری بمطابق ۲؍مارچ ۶۲۴ء؁ کو منائی۔ دن منگل کا تھا۔ حضور ﷺ صحابہ کرامؓ کے ہمراہ مدینہ سے باہر ایک ہزار گز کے فاصلے پر کھلے میدان میں تشریف لے گئے اور عیدالفطر کی نماز ادا فرمائی اور یہی جگہ بعد میں عیدگاہ بن گئی۔

صدقۂ فطر کی ادائیگی

عید کا چاند دیکھ کر سب سے پہلا کام جو آنحضرت ﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ کرتے تھے وہ یہ تھا کہ صدقۂ فطر ادا کرتے تھے اور عیدگاہ پہنچنے سے پہلے تقسیم کردیتے۔ یعنی بہرحال نماز پڑھنے سے قبل ضرور صدقہ فطر کی ادائیگی کردیتے۔ آنحضرت ﷺ نے یہ صدقہ ہر مسلمان پر واجب کیا ہے۔ خواہ مرد ہو یا عورت، بوڑھا ہو یا بچہ، جوان ہو یا نابالغ، نابالغ کا صدقہ اس کے والد یا سرپرست کو ادا کرنا چاہیے۔ یہ صدقہ آنحضرت ﷺ نے اس لیے قائم کیا کہ رمضان کے روزوں میں اگر کچھ نقص رہ گیا ہو تو اس کی تلافی اس صدقہ سے ہوسکے۔ یہ صدقہ یتیموں، بیواؤں، معذوروں، لاچاروں، غریبوں اور مسکینوں کا حق ہے۔ اپنے غریب رشتہ داروں کو بھی یہ صدقہ خاموشی سے دے سکتے ہیں۔ اور حاجت مندوں پر بھی تقسیم کرسکتے ہیں۔

حضرت رسول کریمؐ اورصحابہؓ ایک صاع فی کس دیا کرتے تھے، اور صدقہ، جو، گیہوں، خشک چھوہارے، خشک انگور اور پنیر وغیرہ ہوا کرتا تھا۔ ایک صاع ڈھائی سیر ڈھائی چھٹانک ہوا کرتا تھا۔ اس بات کی اجازت ہے کہ اگر پورا صاع کوئی ادا نہیں کرسکتا تو نصف صاع دے دے، مگر دے ضرور۔ ہاں جو صحابہؓ بہت ہی غریب ہوتے تھے اور نصف صاع بھی نہیں دے سکتے تھے، ان کے لیے صدقہ فطر معاف تھا۔ عام طور سے اس وقت یہ قاعدہ تھا کہ ہر بڑے شہر میں عید کی صبح بہت سویرے صدقہ دینے کا اعلان آنحضرت ﷺ یا خلیفہ تمام بازاروں اور گلیوں میں ایک شخص کے ذریعہ کروایا کرتے تھے۔ اسی طرح صدقہ فطر وصول کرنے کے لیے بھی ایک شخص مقررکردیا جاتا تھا کہ یہ تمام صدقہ فطر ایک انتظام کے تحت ضرورت مندوں میں تقسیم ہوسکے اور یہ نہ ہو کہ کسی غریب کو ڈھیروں مل گیا اور کسی غریب کو ذرا سا بھی نہ ملا۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ صدقہ جمع کرنے کا کام حضرت ابوہریرہؓ کے سپرد کردیا تھا۔ صدقہ میں بجائے جنس کے اس کی قیمت بھی دے سکتے تھے۔‘‘

دوگانہ عید

عید کے روز آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرامؓ غسل اور وضو کرتے اور اعلیٰ کپڑے پہنتے۔ آنحضرت ﷺ کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ عید کے روز حضورؐ بہت عمدہ کپڑا پہنا کرتے تھے۔ ایک چادر جو کہ قیمتی اور خوشنما کپڑے کی ہوتی، جس پر سرخ اور سبز دھاریاں پڑی ہوتیں۔ جس کو میسر ہوتا کپڑوں میں خوشبو لگاتا، سر میں تیل ڈالتا اور کھجوریں یا کوئی میٹھی چیز کھا کر یہ تکبیر پڑھتے ہوئے گھروں سے باہر نکل پڑتے۔

اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد۔

نمازِ فجر اورنمازِ عید کے درمیان کوئی نماز نہ پڑھتے، عیدگاہ پیدل جاتے وقت، آہستہ آہستہ تکبیریں پڑھتے۔ عیدگاہ پہنچ کر جب سورج سوا نیزہ بلند ہوجاتا یعنی جب چاشت کا وقت ہوجاتا، اس وقت آنحضورؐ صحابہ کرامؓ کو با جماعت نماز پڑھاتے اور برخلاف دوسری نمازوں کے دونوں عیدوں میں نہ تو نماز کے لیے اذان دیتے اور نہ نماز شروع کرتے وقت اقامت کا حکم دیتے یعنی عیدین کی نماز بغیر اذان اور بغیر اقامت کے ادا فرماتے۔ مگر بہرحال نماز با جماعت ادا فرماتے۔ قرأت عموماً لمبی کرتے۔ مگر کمزوروں اور عورتوں اور بچوں کا ضرور خیال رکھتے۔

دو رکعت پڑھ چکنے اور سلام پھیرنے کے بعد فوراً آنحضورؐ کھڑے ہوتے اور مجمع کی طرف منہ کرکے لوگوں کو کچھ وعظ و نصیحت کرتے، کوئی خاص حکم دینا ہوتا تو ارشاد فرماتے اور اگر کہیں فوج بھیجنی ہوتی تو اس کی روانگی کے متعلق احکامات جاری فرماتے۔ یہ خطبہ حضورؐ بغیر کسی منبر کے کھڑے ہوکر پڑھتے اور خطبہ کے اختتام پر دعا فرماتے۔

مردوں میں خطبہ دینے کے بعد آنحضرتؐ عورتوں میں آتے تو اس وقت آپؐ کے غلام حضرت بلال رضی اللہ عنہ حضورؐ کے ساتھ ہوتے۔ حضور ﷺ عورتوں کو نصیحت فرماتے، پھر ان کو صدقہ کا حکم دیتے اور اس پر عورتیں اپنی بالیاں اور دوسرے زیور حسبِ توفیق ڈال دیتیں اور حضرت بلالؓ سب چیزیں جمع کرکے حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کردیتے۔

یاد رہے کہ یہ صدقہ، صدقۂ فطر کے علاوہ ہوتا تھا، صدقۂ فطر نماز سے پہلے ہی دیتے، اس کے بعد اور جو صدقہ دیتے، وہ معمولی سا دیتے۔

ان دونوں خطبوں سے فارغ ہوکر حضرت نبی کریم ﷺ واپس شہر کو تشریف لاتے لیکن ساری عمر حضورؐ کا یہ دستور رہا کہ ایک راستے سے جاتے اور دوسرے راستے سے واپس آتے۔ یہ اس لیے تھا کہ مدینہ کے دوسرے باشندوں عیسائیوں اور یہودیوں پر اسلام کی شوکت اور عظمت کا احساس ہو جب وہ بہت سے آدمیوں کی اس شان کے ساتھ اکٹھے آتے اور جاتے دیکھیں۔

حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام اور آپؐ کے خلفائے کرام ہمیشہ عید کی نماز میدان میں شہر کے باہر پڑھاتے رہے مگر ایک بار ایسا اتفاق ہوا کہ بارش سخت ہوتی جارہی تھی اور باہر میدان جانے کا موقع نہ تھا، تو آنحضرت ﷺ نے مسجد نبوی ہی میں نماز عید ادا فرمائی تھی۔

اس مجبوری کے سوا آپؐ نے اور آپؐ کے خلفاء نے کبھی مسجد میں عید کی نماز نہیں پڑھی۔

اظہار مسرت کا طریقہ

نمازِ عید ادا کرنے کے بعد ہی اظہار مسرت کا روحانی طریقہ بتاتے آنحضرت ﷺ نے اپنے صحابہؓ کو اس امر کی اجازت دے دی کہ بے شک ظاہری طور پر تم اس دن خوشی اور مسرت مناؤ، اپنے دوستوں اور عزیزوں کو دعوت دو اور ان کی دعوتیں کھاؤ۔ تم ان کو تحفہ دو اور وہ تمہیں تحفے دیں اور کھیل تماشوں میں بھی اگر مشغول رہو تو کوئی حرج نہیں۔

چنانچہ صحیح بخاری میں لکھا ہے کہ عید کے روز ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دو لڑکیوں کو پاس بٹھا رکھا تھا جو بڑی خوش الحانی کے ساتھ گا رہی تھیں۔ یہ گانے جنگ بعاث کے متعلق تھے۔ اتنے میں حضور نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے اور بچھونے پر دوسرے طرف منہ کرکے لیٹ گئے لڑکیاں گاتی رہیں اور حضرت صدیقہؓ محظوظ ہوتی رہیں۔

یکایک ان کے والدِ محترم حضرت صدیق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے اور یہ نظارہ دیکھ کر آپ نے بیٹی کو جھڑکا اور فرمانے لگے پیغمبر خدا ﷺ کے گھر یہ شور۔ اس پر حضرت رحمۃ للعالمین ﷺ نے منھ پھیر اور ارشاد فرمایا۔ ابوبکرؓ ان کو کچھ نہ کہو، آج عید کا دن ہے ان کو بھی خوشی منا لینے دو۔

ایک دوسرے موقع پر اسی عید کے دن نٹ اور بازیگر تماشہ کرنے آگئے اور انھوں نے ڈھالوں اور برچھیوں کے کرتب دکھانا شروع کردئے۔ جب ان ڈھالوں اور ڈھول ڈھمکیوں کی آوازیں حضرت صدیقہ محترمہؓ کے کانوں میں پڑیں تو عمر کے تقاضے سے ان کی طبیعت بے چین ہوگئی یا تو انھوں نے خود درخواست کی یا ان کی اس وقت کی بے چینی دیکھ کر خود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے پوچھا، کیوں عائشہ! کیا تماشہ دیکھنے کو دل چاہتا ہے؟

حضرت صدیقہؓ نے جواب دیا ’’جی ہاں حضورؐ چاہتا ہے۔‘‘ اس پر خدا کا مقدس ترین نبیؐ اپنے تمام تقدس کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور بازی گروں کو حکم دیا کہ قریب آجاؤ اور یہاں آکر میرے سامنے کھیلوں کا مظاہرہ کرو۔ وہ حکم کی تعمیل میں آگے آگئے اور انھوں نے اپنے تماشے اور کرتب دکھانا شروع کیے۔

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام دروازے میں کھڑے ہوگئے، اور ان کے پیچھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کھڑی ہوگئیں، خود فرماتی ہیں کہ میں نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیچھے کھڑی ہوگئی۔

شیئر کیجیے
Default image
ماریہ کوثر