نیپولین

شکست خوردہ فاتح نیپولین

فرانس کے فاتحِ اعظم نیپولین کی شادی جوزیفائن کے ساتھ ۹؍مارچ ۱۷۹۶ء کو ہوئی تھی۔ جنگجو نیپولین کے دل میں بیوی کے پیار کا سمندر مخفی تھا۔وہ اپنی محبت اور جیون ساتھی کے سامنے رکھنے کو بیتاب رہا۔ مگر لاکھوں پر حکومت کرنے والا اپنی بیوی پر فتح حاصل نہ کرسکا، کیونکہ جوزیفائن ایک بدخصلت عورت تھی۔ وہ ہمیشہ نیپولین سے متنفر رہی اور ہمیشہ اس کے پیار کو مسترد کرتی رہی۔

نیپولین کی زوجیت میں آنے سے پہلے جوزیفائن کی شادی بیوہارنس نامی شخص سے ہوئی تھی جسے ملک فرانش کا باغی ہونے کے جرم میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔ اس کی شادی شدہ زندگی مسرت آمیز نہ تھی۔ اس کا شوہر اس کے چال چلن سے ہمیشہ مشکوک رہتا تھا۔ اس سے جوزیفائن کے دو لڑکے ہوئے تھے۔

شوہر کے انتقال کے بعد جوزیفائن کی حالت دگر گوں ہوتی چلی گئی۔ مگر اس کے دو دوست وارس اور ویئلیئن نے اسے اونچی سوسائٹی میں شرکت کا موقع دیا۔ جوزیفائن اتنی خوبصورت تھی کہ لوگ اس کی قربت حاصل کرنے کے متمنی رہتے تھے۔ عین اس زمانے میں جب وہ لوگوں کو اپنے حسن و شباب سے مخمور کررہی تھی، اچانک اس کی ملاقات نیپولین سے ہوئی۔ نیپولین کا دل اس پر نچھاور ہوگیا۔ آغاز میں عیاش جوزیفائن اس سے ظاہراً محبت جتاتی رہی مگر اندر ہی اندر نفرت کی آگ بھڑکتی رہی۔ بالآخر کچھ عرصے کے بعد ۹؍مارچ ۱۷۹۶ء؁ کو وہ دونوں شادی کے بندھن میں منسلک ہوگئے۔

نیپولین اپنی پاکیزہ محبت کو ظاہر بھی نہ کر پایا تھا کہ اسے شادی کے دوسرے ہی دن جنگ پر روانہ ہونا پڑا۔ اس کی خواہش تھی کہ جوزیفائن بھی اس کے ہمراہ جنگ پر چلے مگر وہ اس سے منکر رہی۔ نیپولین نے شادی کے دو ہفتے بعد جوزیفائن کو لکھا:

’’صبح کاذب ہی اٹھا ہوں… تمہارے وصل کی رات اور تمہاری تصویر نے شب کی نیند حرام کردی ہے۔ پیاری! تم نے مجھ پر بے انتہا اثرڈالا ہے۔ کیا تم ناراض ہو؟ پژمردہ و مضمحل ہو؟ غم سے میرا دل پاش پاش ہوا جارہا ہے۔ تمہارے عشق کی وارفتگی میں چین و آرام کہاں؟‘‘

شادی کے فوراً بعد پہلے ہی خط میں اس عظیم شہنشاہ نے ایک خط میں اپنے غم کا اظہار یوں کیا:

’’تمہارا خط پاکر میں بے حد خوش ہوں۔ میرا دل اب تک تمہارے حسن کی اس پھبن سے محروم ہے جس سے تمہارا کومل چہرہ منور رہتا ہے… کچھ خوشبودار چیزیں اور نارنگیاں بھیج رہا ہوں۔ قبول کرنا۔‘‘

دو ہفتے بعد—

’’کافی دن ہوگئے تم نے ایک خط بھی ارسال نہیں کیا آخر تم کیا کرتی رہتی ہو؟ میری ملکۂ دل! میں بے حد مضطرب ہوں۔ جلد از جلد آؤ۔ بلکہ پنکھ لگا کر فلک کی نیلی لا محدود وسعتوں میں پرواز کرو اور مجھ تک پہنچ جاؤ۔ بہتر ہے کہ ہوشیاری سے روانہ ہو۔ سفر لمبا اور تکلیف دہ ہے۔ فوراً چلی آؤ تاکہ میرے دل کو تسکین ملے۔‘‘

کوئی جواب نہ پاکرپھر محبت سے مجبور ہوکر اس نے لکھا:

’’میں نے تمہیں بے حد تکلیف دی۔ تم پیرس میں رہ گئیں۔ کیونکہ تم بیمار تھیں۔ اس لیے تمہیں قصور وار نہیں ٹھہراتا۔ مگر تمہاری علالت نے میرے دل کے تمام طیش کو مٹا دیا ہے۔ پیاری! مجھے حیاتِ نو دو۔ تمہاری محبت نے میرے ذہن کو بھٹکا دیا ہے۔ تمہارے سوا میں کسی دوسری عورت کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ ان کی سندرتا میں تمہارا ہی حسن غالب آجاتا ہے۔ اور میں تم سے ملنے کے لیے بیقرار ہوجاتا ہوں، میری خوشی کو صرف تم ہی لوٹا سکتی ہو۔‘‘

لیکن اس کی منکوحہ بیوی جوزیفائن نے ایک دو خط کے علاوہ کسی خط کا بھی جواب نہ دیا۔ اس کے دل میں نیپولین کی محبت کا شائبہ تک نہ تھا۔ وہ تو ادھر ایم، چارلس نامی ایک افسر کے ساتھ دادِ عیش دے رہی تھی۔

جب نیپولین جنگ سے واپس لوٹا تو اس کی آوارگی دیکھ کر اس کا دل رنج و غم سے بھر گیا۔ وہ تلملا اٹھا مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔ طلاق دینی چاہی تو جوزیفائن کے بطن سے پیدا شدہ لڑکے اس کے ارادوں میں حائل ہوگئے۔ اتنا کچھ ہونے پر بھی جوزیفائن اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی۔ اسی وجہ سے نیپولین کے رشتہ دار اس سے ناخوش تھے۔ انجام کار نیپولین نے بھائی بہنوں کے مشورے پر شادی کے بارہ سال بعد اگست ۱۸۰۹ء میں اس سے قطع تعلق کرلیا۔ نیپولین کے دل پر اپنی بیوی کی بے وفائی سے ایسا گہرا زخم لگا تھا کہ طلاق کے دوسرے ہی سال ۱۸؍جون ۱۸۱۰ء کو واٹرلو کے میدان میں وہ دورانِ جنگ شکست کھا گیا اور قیدی بنا لیا گیا۔

دنیا کو فتح کرنے کا خواب دیکھنے والا اور سیکڑوں سلطنتوں کو تاراج کرڈالنے والا یہ عظیم فاتح محض ایک عورت کے ہاتھوں ایسی شکست سے دوچار ہوا کہ پھر اٹھ نہ سکا اور زندگی عزائم حوصلوں اور امنگوں سے خالی ہوگئی۔

اللہ کے رسول ﷺ نے کتنی بڑی حقیقت سے آشنا کرایا ہے یہ کہہ کر:

الدنیا کلہا متاع و خیر متاع الدنیا المرأۃ الصالحۃ۔

(پوری دنیا ایک دولت کے مانند ے اور اس دنیا کی بہترین دولت نیک عورت ہے۔)

اگر نیپولین کو یہ حقیقت معلوم ہوتی تو شاید وہ اس مکار عورت کے ہاتھوں شکست سے دوچار نہ ہوتا۔

شیئر کیجیے
Default image
شہم مبارکپوری

تبصرہ کیجیے