BOOST

بچوں کی تعلیم و تربیت:کچھ عملی مشورے

نئے زمانے میں ہی نہیں اسلامی نہج پر بچوں کی تعلیم و تربیت ہمیشہ مشکل کام رہا ہے۔ ہاں فی الوقت چونکہ اسلامی اقداراور اطاعت و فرماں برداری روبہ زوال اور آئوٹ آف فیشن ہورہی ہیںاور کئی دہائیوں سے ہمارے بڑوں نے اصلاح معاشرہ کی غرض سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر چھوڑدیا ہے نیز دنیا پرستی میں اکثریت ملوث ہوچکی ہے۔ لہذا یہ کام یعنی بچوں کی اسلامی نہج پر تعلیم و تربیت زیادہ مشکل ہوگئی ہے ۔ مادّہ پرستی ہر طبقے میں سرایت کر گئی ہے۔جماعتوں میں ، مدرسوں میں ، اسکولوں اور کالجوں میں ،گھروں ،خاندانوں میں بھی۔

الغرض غیر اسلامی افکارو نظریات فضا ء میں رچ بس گئی ہیں ۔اکثر بچہ پیدا ہوتے ہی جس فضاء اور ہوا میں سانس لیتا ہے وہ ملحدانہ ، مشرکانہ، مادّہ پرستانہ، مغربیت ذدہ اور اسلام بے زار ہوتی ہے۔نر سری سے بچے اسکول اور کالج میں پہونچ جاتے ہیں ، مگر انکو حقیقی ایمان کی لذت نصیب نہیں ہوتی ہے۔وہ اسلا م کی بنیادی باتوں سے بے بہرہ رہتے ہیں ۔

پھر یہی بچے استاذاور ماں باپ بنتے ہیں ، اور جوکچھ انہوں نے حاصل کیا وہ اگلی نسلوں کو سونپ کر چلے جاتے ہیں۔ کئی نسلیں گزرگئیں دنیا تباہی کے دہانے پر ہے مگر چونکہ وقتا فوقتا جگہ جگہ کہیں کہیں اسلام کے علمبردار کھڑے ہوتے رہتے ہیں اور ایسے چراغ روشن کرتے رہتے ہیںجن کی روشنی قرب وجوار میں ہی نہیں دور دراز پھیل جاتی ہے ۔ اور عرصے تک ماحول جگمگا تا رہتاہے۔اسی لئے دنیا ابھی تک قائم ہے۔لیکن اب عرصہ ہوا بڑوں میں بڑکپن ختم ہوئے ، اکثر استاد دولت کے پُجاری ہوگئے ہیں اور وہ اپنے شاگردوں کو بینک بیلنس بڑھا نے کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔

لوٹ پیچھے کی طرف!

اسلامی نہج پر بچوں کی تعلیم و تربیت کا کام سب سے زیادہ خلوص اور قربانی چاہتا ہے، بڑا محنت طلب کام ہے۔اور بہت دیرپا اور صبر آزما بھی،اس کے لئے جگہ جگہ دینی تعلیم کہ مراکز قائم کئے جائیں ، جس بندے یا بندی کو احساس ہوگیا ہے کہ نئی نسل اور آنے والی نسلیں بگڑرہی ہیں ۔ وہ کمر کس لے اور اپنے اند ر تقوی کی اسپرٹ پیدا کرلے ،اور دل جمعی کے ساتھ قرآن و حدیث کا مطالعہ کرے، خصوصاًسیرت رسول ﷺ اور سیرت صحابہؓ اور تاریخ اسلام کا ،اوردنیا میں کم پر راضی ہوجائے ، اور خود کو لگا دے، بلکہ کھپا دے نسل نو کی آبیا ری کے لئے۔ ہمیشہ اس حدیث کو یا د رکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے علیؓ اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص بھی اللہ پر ایمان لے آئے ، تو یہ تمہارے لئے سو سرخ اونٹ سے بہتر ہے۔‘‘

ہماری سوسائٹی میں کچھ مخلص لوگوں نے اس حدیث پر عمل کرنا شروع کیا ہے کہ بچوں کی شادی کے سلسلے میں دین داری کو ترجیح دین گے، کیوں کہ نکاح نہ صرف مردوعورت کے ملاپ کا اسلامی اور جائز طریقہ ہے۔ بلکہ نئی نسل کے وجود میں لانے کا بھی طریقہ ہے۔ دین دار جوڑے کی اولاد موروثی طور پر بھی دین دار ہوگی اور صالح والدین اس کی تعلیم و تربیت بھی اسلامی نہج پر کریںگے۔ماں کی گود کے بعد اسکول کا مرحلہ بھی سمجھ داری چاہتا ہے۔ابتدائی تعلیم مادری زبان میں اور اسلام کی بنیادی تعلیم ہونی چاہئے۔ مائیں بچوں کو اسلامی کہانیاں ،اور نبیوں کے قصّے سنائیں۔ سلف صالحین کا کردار ماں باپ اور استاد کے کردار میں نمایا نظر آنا چاہئے ۔

یا د رکھنا چاہئے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ’’وہ مومن نہیں جس کا پڑوسی اسکی شرارتوں سے امن میں نہیں۔‘‘ ہم اللہ تعالی کو کیا منہ دکھائیں گے اگرآس پا س کے لوگ ہم سے خوش نہیں۔بچوں کی تربیت اسلامی نہج پر کرنے کے لئے شوہر اور بیوی کو مثالی کردار ادا کرنا پڑے گا آپس میں میل محبت ایک دوسرے کے لئے قربانی کا جذبہ، سب سے بڑھ کر تقوی، اسکے لئے نوافل، ذکرو تسبیح، روزے وغیرہ کا اہتمام کرنا ہوگا ۔ ہمہ وقت ایک بنئے کی طرح چوکس رہنا ہوگاجو اپنے کاروبار کی ترقی کے لئے فکر مند او ر کساد بازاری کے خوف سے پریشان رہتا ہے۔ بچوں میں حیا ء پیدا کرنے کیلئے ماں باپ کو اپنے اندر شدید حیا ء پیدا کرنی ہوگی ۔ ناجائز فیشن پرستی ، فلم بینی ، فحش سیریل، اور لڑائی جھگڑے سے سخت پر ہیز کرنا ہوگا۔ دس سال تک تو بچہ خواہ لڑکا ہو یا لڑکی نہایت اخلاقی حِس رکھتا ہے۔لہٰذا یہ دور شدید احتیاط کا متقاضی ہے۔ محفوظ ہونے کا احساس اور خود اعتمادی یہ وہ خوبیاں ہیں کہ اگر کسی بچے کو مل جائیں تو سمجھوکہ وہ خوش نصیب ہے ۔ کیوں کی ماں باپ بچوں کو سمجھتے ہی نہیں جس کے نتائج غلط نکلتے ہیں۔ پیار محبت سے بچے کو سمجھے اور سمجھائیں۔

بچوں کی تعلیم و تر بیت کے لئے بڑوں کی تعلیم و تربیت بہت ضروری ہے۔اور اقراء کے ساتھ باسم ربّک الذیہ الخلق ضروری ہے۔لڑکے اور لڑکی کی شادی کے وقت سے سوچاجائے کی آنے والی نسل کے یہ ماں اور باپ ہیں، جیسے یہ ہونگے آنے والی نسل ویسی ہی ہوگی ۔ اللہ قوموں کو بگڑنے اور نسلوں کو تباہ ہونے سے بچائے۔ اس کے لئے بچوں کے قلب وذہن میں توحید، للہیت، خلوص، اور محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،بھرنے اور اپنا رشتہ بھی قرآن حدیث سے جوڑنے کی ضرورت ہے اور معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کو سچ مچ میں صمیم قلب سے ختم کرنے کا سوچو ۔ انسان کی سوچ ہی اس کا قول و فعل بن جاتا ہے۔ فرض کیجئے پوری دنیا میں سو خوبیا ںیا اچھائیاں ہوں۔ تو ان میں سے یقینا پچاس فیصد اچھائیاں، بچہ والدین اور استادوں سے سیکھتا ہے۔ بھائی، بہن، اور اڑوس پڑوس، دوست، اور ساتھی اسکے بعد اثر انداز ہوتے ہیں ۔فطری طور پر والدین سے جسمانی اور استاد سے روحانی رشتہ ہوتا ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسلامی تعلیم و تربیت دینا والدین اور استاد کا فرض ہے تاکہ برائیوں سے محفوظ رہے۔ بس فرض ادا کرو۔اس لئے کہ فر ض سے کوتاہی قوموں کے زوال کا سبب بنتی ہیں ،دینی تعلیم و تربیت سے کوتاہی تو اُخروی ناکامی اور ہمیشہ کی ناکامی کا سبب بن جائے گی ۔

جب ایک عام عورت یوٹیوب کے ذریعہ نئی نئی تکنیک، اور فیشن، گھر کا ڈیکوریشن ،وغیر ہ کرسکتی ہے ، تو وہ عورت قرآن و حدیث کے ذریعہ بچے کی بہترین تربیت کیوں نہیں کرسکتی ۔؟ جب تم M.B.A.کے ذریعہ اپنا بزنس چمکا سکتے ہو تو مومن مرد ،عالم، فاضل ،بنکر اپنی اولاد کو اللہ اور اسکے رسول کے احکام کو کیوں نہیں بتا سکتے؟اور معاشرہ صالح کیوں نہیں بنا سکتے۔ ؟lll

شیئر کیجیے
Default image
عارفہ محسنہ

تبصرہ کیجیے