2

عزیزؔ بگھروی

بالآخر عزیز بگھروی بھی۲۸؍اکتوبر کی شام اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ اللہ ان کی قبر کو نور سے بھردے۔ عزیز بگھروی کا پورا نام عزیز احمد اور قلمی نام عزیز بگھروی تھا۔ وہ مظفر نگر (یوپی) کے ایک قصبہ بگھرہ میں ۲۳؍جون ۱۹۳۲ء کو پیدا ہوئے۔ علی گڑھ سے بی اے، بی ایڈ کیا اور دہلی کے قدیم ترین اینگلو عربک اسکول میں انگریزی کے استاذ کی حیثیت سے پڑھاتے رہے یہاں تک کہ اس عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ عزیز صاحب غالباً اپنی ملازمت کے زمانے ہی سے دہلی میں مستقل سکونت اختیار کرچکے تھے۔

عزیز بگھروی اس دور کے کہنہ مشق اور پختہ فکر شاعر تھے اور ہر حلقہ میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

عزیز صاحب کے پانچ مجموعے شائع ہوچکے ہیں۔ ۱۹۸۸ء میں پہلا غزل کا مجموعہ جہاد حرف منظر عام پر آیا۔ دوسرا مجموعہ ناموس قلم کے نام سے ۱۹۹۳ء میں اور تیسرا مجموعہ ۱۹۹۸ء میں ’حرمت فن‘ کے نام سے شائع ہوا۔ چوتھا مجموعہ ’قندیل حرم‘ جو کہ نعتوں کا مجموعہ ہے، ۲۰۰۱ء میں منظر عام پر آیا۔ پانچواں ’’تقدیس ہنر‘‘ کے نام سے ۲۰۰۲ء میں آیا۔

عزیز صاحب طویل عرصے تک ادارہ ادب اسلامی کے ترجمان ’’پیش رفت‘‘ کے مدیر بھی رہے۔ اس سے قبل ’’نمائندہ نئی نسلیں‘‘ کے معاون مدیر بھی رہے۔ وہ ایک سادہ مزاج مگر زندہ دل اور حوصلہ مند آدمی تھے دیکھنے والوں کو اس کا کم ہی اندازہ ہوپاتا تھا کہ اس نحیف و نزار جسم میں ایسا زندہ اور حوصلہ مند دل ہے۔ ان کی وفات سے ادب اسلامی کے حلقہ میں تو خلا ہوا ہی ہے، تعمیر پسندانہ نظریہ رکھنے والا حلقہ بھی ایک اچھے شاعر و ادیب سے محروم ہوگیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ آمین!

شیئر کیجیے
Default image
...

تبصرہ کیجیے